پنجاب میں کس کی ماں کو ماسی کہیں؟

حقوق واختیارات سے قطعی محروم کسی بھی پاکستانی کی طرح مجھے یہ طے کرنے میں ہرگز کوئی دلچسپی نہیں کہ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے اور اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے صوبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کا اصل حقدار کون ہے۔ریاستی امور کا طالب علم ہوتے ہوئے مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرسکتا کہ دورِ حاضر میں سرکاری مشینری کو وزیر اعلیٰ کی نگہبانی درکار ہے۔اس کا انتخاب کرنے کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے نام سے ایک عمارت کھڑ ی ہے۔ نظر بظاہر اس نے چند دن قبل حمزہ شہباز شریف کو عثمان بزدار کی جگہ قائدِ ایوان منتخب کرلیا ہے۔مذکورہ عمل کو گزرے کئی دن گزرچکے ہیں۔عمران خان صاحب کے لگائے گورنر پنجاب مگر حمزہ شہباز سے حلف اٹھانے کورضا مند نہیں ہورہے۔ بیماری کا جواز تراشنے کے بعد انہوں نے قواعد وضوابط کی چھان بین سے ایسے نکات بھی ڈھونڈ لئے ہیں جو ان کی دانست میں حمزہ کے انتخاب کو آئینی اور قانونی اعتبار سے درست ثابت نہیں کرتے۔ عمران خان صاحب کے چنے صدر علوی اُن کی سوچ سے متفق نظر آرہے ہیں۔

صدر اور گورنر حمزہ شہباز شریف کو حلف سے روکنے کے لئے جن دلائل کا سہارا لے رہے ہیں ان کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے۔ وہ مگرتحریری آئین کی تشریح کرتے ہوئے کوئی فیصلہ صادر کریں تو متاثر فریق ’’پارلیمانی بالادستی‘‘کی دہائی مچانا شروع ہوجاتا ہے اور اپنی عزت ہر ادارے کو عزیز ہوتی ہے۔قصہ مختصر ایک تحریری ٓآئین،2018میں منتخب ہوئی پنجاب اسمبلی اور عدالتوں کے ہوتے ہوئے بھی پنجاب کے رہائشیوں کو علم ہی نہیں ہورہا کہ وہ کس کی ماں کو ماسی کہیں۔ سرکاری مشینری ڈرائیور کے بغیر محض خدا کے سہارے چلی جارہی ہے۔انتظامی بحران پر غور کرتا ہوں تو دل کانپ جاتا ہے۔

داستانوں میں سنا اور پڑھا تھا کہ زمانہ قدیم میں حکمران سے ’’اچانک‘‘ محروم ہوئے عوام کسی بھی ایسے شخص کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا کرتے تھے جو سورج طلوع ہوتے ہی دارالحکومت میں داخل ہوا نظر آئے۔لاہور مگر اب بارہ دروازوں تک محدود شہر نہیں رہا۔ وزارت اعلیٰ کے بارے میں فیصلہ نہیں ہورہا تو بہتر یہی ہے کہ نام نہاد معززین شہر وفد کی صورت حمزہ شہباز شریف اور عثمان بزدار کو اپنے ہمراہ بادشاہی مسجد لے جا ئیں۔وہاں کسی نہ کسی نوعیت کی فال نکلواکر طے کرلیا جائے کہ وزارت اعلیٰ کے منصب پر ان دونوں میں سے کون فائز ہوگا۔ یہ طے ہوجائے تو بادشاہی مسجد کے خطیب فال کی بدولت طے ہوئے وزیر اعلیٰ کا حلف لے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ میرے جھکی ذہن میں فیصلہ سازی کی کوئی اور صورت نظرنہیں آرہی۔یہ اصرار کرنے کو اگرچہ مجبور ہوں کہ پنجاب کو ایک بااختیار وزیر اعلیٰ فی الفور درکار ہے۔

روایتی اور سوشل میڈیا میں ’’امریکی سازش‘‘ کا سراغ لگانے کے جنون میں مبتلا افراد یہ ٹھوس حقیقت فراموش کئے ہوئے ہیں کہ مارچ اور اپریل میں ہمارے ہاں گندم کی کٹائی ہوتی ہے۔گندم ہمارے ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے۔اسے کاٹنے کے موسم میں سرکاری مشینری کو ہمہ وقت متحرک ہونا ہوتا ہے۔اس امر کو یقینی بنانا کہ کاشتکار گندم کو منافع خوری کے لالچ میں ذخیرہ نہ کرے۔اسے تھوک فروشوں کے ہاتھ بیچنے کے علاوہ حکومت کو ہنگامی حالات سے نبردآزما ہونے کی سہولت بھی فراہم کرے۔وزیر اعلیٰ کی جانب سے کڑی نگرانی کے بغیر یہ عمل بخیروخوبی پائیہ تکمیل ہو نہیں سکتا۔عثمان بزدار صاحب کی ’’گڈگورننس‘‘ کے دوران کم از کم دوبار گندم کی قلت اور آٹے کا بحران پیدا ہوا تھا۔اب کی بار نہ جانے کیا عالم ہوگا۔

اپنے گھروں میں بیٹھ کر موبائل فونوں اور لیپ ٹاپ کے ذریعے ’’قومی حمیت‘‘ کے دفاع میں مصروف محبان وطن کو شاید یہ خبربھی نہیں کہ اب کی بار ہماری گندم کا دانہ مارچ میں خلاف معمول حدت کی وجہ سے ’’باریک‘‘ رہ گیا ہے۔اس کی وجہ سے گندم کی فی ایکٹر پیداوار میں 5سے 7من کی کمی واقع ہوئی ہے۔ہم گندم کی جس مجموعی پیداوار کی امید باندھے ہوئے تھے وہ شاید نصیب نہیں ہوپائے گی۔جو گندم پک کر تیار ہوچکی ہے اسے کاٹنے کے لئے تھریشر کی ضرورت ہے۔ یہ مشین ڈیزل سے چلتی ہے اور ڈیزل ہمارے ہاں تقریباََ نایاب ہوچکا ہے۔

مارچ کا آغاز ہوتے ہی عمران حکومت خود کو تحریک عدم اعتماد سے محفوظ رکھنے میں مصروف ہوگئی تھی۔روس فروری کے آخری ہفتے میں یوکرین میں درآیا۔ روسی حملے کے بعد یوکرین کے حامیوں نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ اس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ یورپ کے ممالک اپنے مستقبل کی ضرورت کے لئے تیل ذخیرہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔افراتفری کے اس موسم میں عمران خان صاحب نے عوام کی محبت میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھانے کے بجائے منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔ انجماد کو برقرار رکھنے کے لئے قومی خزانے سے جو امدادی رقوم فراہم کی جارہی ہیں وہ موجودہ مقام پر برقرار رہیں تو ریاستِ پاکستان اپنے دیگر اخراجات پورے نہیں کر پائے گی۔

عمران حکومت کی تحریک عدم اعتماد کے ہاتھوں فراغت کے بعد شہباز حکومت نمودار ہوئی تو اس کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس حقیقت کی جانب توجہ دلانا شروع کردی۔یکے بعد دیگرے ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے واویلا مچایا کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کم از کم 50روپے کا اضافہ کرنا ہوگا۔ 50روپے کایکمشت اضافہ میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والے پاکستانیوں کے دل دہلا دیتا ہے۔مذکورہ اضافے کے امکان نے مگر منافع کی ہوس میں مبتلا سیٹھوں کو ذخیرہ اندوزی کی جانب مائل کیا اور گزشتہ تین دنوں سے ملک بھر میں ڈیزل تقریباََ نایاب ہوچکا ہے۔گندم کی فصل پک کر کٹنے کو تیار ہے۔دانے کو مگر بھوسے سے جدا کرنے کے لئے تھریشر میسر نہیں ہیں۔ وہ کسی ’’جذبے‘‘ سے نہیں فقط ڈیزل سے چلتے ہیں۔

گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا جو ذکر ہوا ہے اسے ذہن میں رکھیں تو یہ خدشہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ شاید اس بار ہمیں ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے بالآخر گندم درآمد کرنا پڑے گی۔پاکستان دنیا کے دیگرکئی ممالک کی طرح یوکرین سے بروقت ضرورت گندم خریدنے کا عادی ہے۔وہاں کی فصلوں کو مگر روسی بمباری اور ٹینکوں نے اجاڑدیا ہے۔روسی فضائیہ نے گندم کے بے تحاشہ گوداموں کو بھی سفاکی سے نشانہ بنایا۔ اس کے باوجود اگر وافر گندم دستیاب ہو بھی تو روس کے ساتھ مسلسل جنگ کی وجہ سے اسے عالمی منڈی تک پہنچانا انتہائی دشوار ہوگا۔یوکرین کے علاوہ روس بھی گندم کی پیداوار کے تناظر میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔وہ مگر اقتصادی پابندیوں کی زد میں آچکا ہے۔

دُنیا بھر میں خوراک کے امور پر نگاہ رکھنے والے ادارے فریاد کئے جارہے ہیں کہ روس اور جنگ کی وجہ سے غریب ممالک کی بے پناہ اکثریت غذائی قلت کا شکار ہوسکتی ہے۔ہم مگر کم از کم گندم کے حوالے سے خود کفیل ہونے پر توجہ دے سکتے تھے۔ ممکنہ غذائی قلت کے امکانات پر غور کرتے ہوئے اس کے تدارک کی ترکیب سوچنا مگر ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ربّ کریم ہمارے حال پر رحم کرے۔

error: