'پنجاب میں کورونا وائرس کی مختلف اقسام موجود ہیں'

محکمہ پرائمری اینڈ سیکریٹری ہیلتھ ڈپارٹمنٹ پنجاب نے برطانیہ کی ایک ویب سائٹ پر اپنی تازہ تحقیق اپلوڈ کی ہے جس کے مطابق پنجاب کو کورونا وائرس کی مختلف اقسام کا سامنا ہے جن میں برطانوی قسم غالب ہے۔

 رپورٹ کے مطابق مذکورہ تحقیق پنجاب پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری (پی پی ایچ آر ایل) میں طبی اور صحت کے ماہرین اور وائرولوجسٹ نے کی۔

تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا کہ فروری 2021 میں پی پی ایچ آر آیل نے جدید سیکوینسر نصب کیا تا کہ پاکستان میں(SARSCoV2) کے اثرات کو واضح کیا جاسکے جہاں ہم نے کووِڈ کیسز میں جین ٹارگٹ فیلیئر (جی ایف ٹی) کو اسکرین کرنے کی حکمت عملی تیار کی۔

تحقیق کے مطابق سانس کی شدید تکلیف والا سنڈروم کورونا وائرس 2 (SARSCoV2) وائرس ہے جو کووڈ 19 کا سبب بنتا ہے یعنی سانس کی وہ بیماری کو کووِڈ 19 عالمی وبا کی ذمہ دار ہے۔

فروری کے وسط میں پہلے مرحلے کے دوران وائرس کا رویہ، ڈبلیو آر ٹی اسٹرین اور مختلف نتائج کو سمجھنے کے لیے ٹارگٹڈ سیکوینسنگ انجام دی گئی۔

تحقیق میں ہدف بنائے گئے افراد میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے مشتبہ کیسز شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری کے وسط سے آخری ہفتے کے دوران پی سی آر پینل اسکریننگ کی بنیاد پر پنجاب کی 50 فیصد آباد میں ایس جین ٹارگٹ فیلیئر(ایس جی ٹی ایف) دیکھا گیا۔

'بعدازاں ہم نے ایس جی ٹی ایف کے مصدقہ کیسز میں جی ٹی 75 فیصد سرکولیشن تک اضافہ دیکھا جو برطانوی وائرس کے مصدقہ کیسز کی تصدیق کا سبب بنا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم نے کچھ نوول تبدیلیوں کے علاوہ وائرس کی برطانوی وسم اور جی ٹی؛90 فیصد سیکوینسڈ کیسز دیکھے۔

وائرس عمومی طور پر وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور نئی اقسام بڑھتی رہتی ہیں، مثال کے طور پر حال ہی میں نائیجیریا اور ٹرپل انڈین قسم کی صورت میں ایک نئی قسم سامنے آئی۔

پی پی ایچ آر آیل اس اسٹرین کی بھی نگرانی کررہی ہے لیکن اس وقت اس میں صحت عامہ کے ماہرین کے لیےکوئی تشویشناک خصوصیات نہیں دکھیں۔