پنجاب پولیس کے اہم عہدوں پر خواتین کی تعیناتی: ’والدین بیٹیوں کو جہیز نہیں اعتماد اور تعلیم دیں‘

’ہمیشہ اپنے فرائض ایمانداری سے پورے کرنے کی کوشش کی اور کبھی کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔ پیچیدہ معاملات میں بھی احسن طریقے سے راستہ نکالنے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی حساس کیسز کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔‘

یہ کہنا ہے حال ہی میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ میں بحیثیت ڈی پی او چارج سنبھالنے والی پولیس افسر شازیہ سرور کا۔ شازیہ سرور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون پولیس افسر ہیں جو پنجاب کے کسی ضلع میں پولیس کی قیادت کر رہی ہیں۔

پنجاب پولیس کے ترجمان وقاص نذیر کا کہنا تھا کہ شازیہ سرور پنجاب میں تعینات ہونے والی چوتھی خاتون ڈی پی او ہیں۔

’انھوں نے چارج بھی لیہ کی ایک خاتون پولیس افسر ڈاکٹر ندا عمر چٹھہ سے لیا۔ ان سے پہلے مختلف اضلاع میں ماریہ محمود، شائستہ ندیم، عمارہ اطہر کے علاوہ ڈاکٹر انوشہ لاہور میں ایس ایس پی آپریشنل کی خدمات انجام دے چکی ہیں۔‘

شازیہ سرور ہی نہیں بلکہ پہلی مرتبہ فیصل آباد کے پولیس سٹیشن ریلوے بازار میں فرخ بتول کو ایس ایچ او تعنیات کیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس کے ترجمان وقاص نذیر کہتے ہیں کہ خواتین افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتیاں پنجاب حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب پولیس میں خواتین افسران کی کارگردگی کو صنف کی بنیاد پر نہیں بلکہ فورس کے ایک افسر کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔‘

فرخ بتول، شازیہ سرور

والدین کی حوصلہ افزائی کامیابی کا سبب بنی

شازیہ سرور کا تعلق بلوچستان کے علاقے بولان سے ہے۔ وہ بولان سے پہلی خاتون پولیس افسر ہیں۔ انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

شازیہ سرور نے بتایا کہ اُن کے والد غلام سرور کسٹم افسر تھے۔ ’میرے والد چاہتے تھے کہ میں سی ایس ایس کر کے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کروں۔‘

’میرا تعلق ایک قبائلی خاندان سے ہے مگر میں اپنے خاندان میں پہلی خاتون ہوں جس کو والد نے کو ایجوکیشن میں داخل کروایا، پڑھایا اور پھر ملازمت کروائی۔ یہاں تک کے ملازمت کے شروع کے دنوں میں وہ میرے ساتھ رات کو گشت کیا کرتے تھے۔‘

’مجھے دیکھ کر دقیانوسی تصور ٹوٹے، پھر میرے خاندان میں میری کزنز نے بھی تعلیم حاصل کی اور اب کئی خواتین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔‘

فرخ بتول کے والد ایک ریٹائرڈ پولیس انسپیکٹر ہیں اور فرخ بچپن ہی سے ان سے متاثر تھی۔

فرخ بتول نے بتایا کہ والد کی حوصلہ افزائی کے سبب انھوں نے سنہ 2009 میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد پولیس فورس میں بحیثیت اسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) شمولیت اختیار کی۔

’جب میں نے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت زیادہ خواتین نہیں تھیں۔ اس دور میں کام کرنا تھوڑا مشکل تھا جس کے لیے بہت محنت کرنا پڑی۔‘

شازیہ سرور

’ایس ایچ اوز کا خیال تھا کہ میں رات کو گشت نہیں کروں گی‘

شازیہ سرور کا بھی ماننا ہے کہ دوران سروس مشکلات تو ہوتی ہیں لیکن ان مشکلات پر قابو پانا ہی ہمت کی نشانی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری پہلی تعیناتی ساہیوال میں تھی۔ وہاں پر ایس ایچ او صاحبان کا خیال تھا کہ میں رات کو گشت نہیں کروں گی۔ ان خیالات اور سوچ کے برعکس میں رات کو خود گشت کرتی تھی۔ چھاپے بھی مارتی اور تفتیش کرتی تھی۔‘

’کئی مرتبہ کچھ بااثر لوگوں نے تیز بننے کی کوشش کی مگر میرا رویہ دیکھ کر جلد ہی اپنی جگہ پر آ جاتے۔‘

فرخ بتول کہتی ہیں کہ سنہ 2017 میں ان کی سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی ہوئی۔

’اس دوران میں نے پرائیوٹ طور پر پنجاب یونیورسٹی سے بی اے بھی کر لیا تھا۔ کئی حساس کیسز کی تفتیش کی، جس میں کئی اندھے واقعات کے ملزمان کو گرفتار کیا۔‘

’ملزماں کی گرفتاری کی خود منصوبہ بندی کرنے کے علاوہ ان کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے چھاپوں کی بھی خود قیادت کرتی ہوں۔‘

فرخ بتول
،تصویر کا کیپشن2017 میں فرخ بتول کی سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی ہوئی

’خود کرائم سین پر جا کر تفتیش کا آغاز‘

شازیہ سرور نے بتایا کہ انھوں نے لاہور کے شعبہ تفتیش میں کئی سال فرائض انجام دیے۔

’میرے لیے ہر کیس ہی اہم ہوتا ہے۔ ہر کیس کو میرٹ پر حل کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘

’میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کرائم سین کا خود دورہ کروں اور وہاں سے تفتیش کا آغاز کروں۔ کرائم سین کا خود معائنہ کرنے کی بدولت مجھے کئی پیچیدہ کیسز کو حل کرنے میں مدد ملی تھی۔‘

شازیہ سرور کہتی ہیں کہ ایک مشہور زمانہ کیس میں ایک کم عمر گھریلو ملازمہ کو تشدد کر کے پھینک دیا گیا تھا۔

’یہ بڑا عجیب وغریب اور سفاکانہ کیس تھا۔ اس کیس میں مقتولہ کے والد کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بنیادی معلومات حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا تھا لیکن کیس کی تفتیش کا آغاز میں نے خود کیا۔‘

’ابتدائی تفتیش ہی میں، میں اس نتیجے پر پہنچ گئی تھی کہ یہ قتل اس گھر کے مالکان نے کیا ہے مگر مسئلہ یہ تھا کہ ثبوت کہاں سے تلاش کیے جائیں۔ ثبوت کی تلاش کے لیے میں نے منصوبہ بندی کی اور ملزماں کے گرد پورا جال بچھایا اور ان کو تھوڑے عرصے بعد بمعہ ثبوت گرفتار کر لیا۔‘

شازیہ سرور کہتی ہیں کہ ایک اور قتل کے کیس میں ایک نوجوان کی لاش ملی تھی۔

’اس کیس کا کوئی سرا نہیں مل رہا تھا۔ واقعہ اتنا ہولناک تھا کہ میں نے خود اس کی تفتیش کا فیصلہ کیا اور کرائم سین سے ملزماں کی تلاش شروع کی اور پھر کچھ ہی دنوں میں کیس حل کر لیا تھا۔ مقتول کو اس کے دوستوں نے پیسوں کی خاطر قتل کیا تھا۔‘

ان پیچیدہ کیسز کو حل کرنے پر شازیہ سرور کو کئی سرٹیفکیٹ اور ایوارڈز کے علاوہ افسران کی جانب سے حوصلہ افزائی کے خطوط بھی ملے ہیں۔

شازیہ سرور

’با اثر ملزم صدمے کی حالت میں تھا‘

فرخ بتول کہتی ہیں کہ ایس ایچ او تعینات ہونے سے پہلے انھوں نے مختلف تھانوں میں بحیثیت تفتیشی انچارج کام کیا۔

حال ہی میں فیصل آباد میں ایک لڑکی کو ایک بااثر شخص کی جانب جسمانی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کیس بہت مشہور ہوا تھا۔ یہ ایک بہت ہائی پروفائل کیس تھا۔ اس کیس کی تفتیش کی ذمہ داری فرخ بتول کو سونپی گئی تھی۔

فرخ بتول کہتی ہیں کہ ’مجھے افسران نے حکم دیا کہ اس کی تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے۔‘

’اس کیس میں سب سے پہلا خطرہ تو یہ تھا کہ ملزم فرار نہ ہو اور اس کو ایسا کوئی موقع نہ مل جائے کہ وہ ثبوت مٹائے اور کیس پر اثر انداز ہو۔‘

’میں نے بہت محتاط انداز میں ملزم کی گرفتاری کی منصوبہ بندی کی۔ ہر ایک پہلو کو مدنظر رکھا۔ ملزم کی مکمل ریکی کروائی گئی۔ گرفتاری سے پہلے اس بات کا یقین کیا گیا کہ ملزم کس مقام پر موجود ہے۔ جس کے بعد اعلیٰ افسران کی موجودگی میں خود چھاپے کی قیادت کی تھی۔‘

’ملزم کو مقدمہ درج ہونے کے بعد دو گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا۔ ملزم صدمے کی کیفیت میں تھا اور یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ اسے ایک خاتون افسر اس طرح گرفتار کر سکتی ہیں۔‘

فرخ بتول کہتی ہیں کہ ان کی ڈکشنری میں ملزموں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔

فرخ بتول
،تصویر کا کیپشنفرخ بتول کہتی ہیں کہ خواتین پر تشدد اور قتل کے ہر واقعے نے انھیں بہت غمگیں کیا

’بیٹیوں کو جہیز نہیں اعتماد اور تعلیم دیں‘

شازیہ سرور کہتی ہیں کہ وہ پنجاب میں جینڈر کرائم شعبہ کی پہلی افسر تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس دوران اور اب بھی خواتین کے گھریلو مار پیٹ، تشدد، زیادتی کے کیس سامنے آتے ہیں۔ ایسے کیسز کی تفتیش کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ عموماً ایسے واقعات کی وجہ خواتین کا معاشی طور پر خود کفیل نہ ہونا ہوتا ہے۔‘

شازیہ کہتی ہیں کہ کئی شادی شدہ خواتین کے والدین اپنی بیٹیوں پر ظلم کی وجہ سے ہمارے پاس روتے ہوئے آتے ہیں۔

’اس موقع پر میں ان کو اپنی مثال دیتی ہوں کہ میرا تعلق ایک قبائلی خاندان سے ہے مگر مجھے میرے والدین نے پڑھا لکھا کر دوسروں کی مدد کے قابل کیا۔ اگر بیٹوں کو اعتماد دیں گے تو ان کی مستقبل کی زندگی محفوظ رہے گی۔‘

فرخ بتول کہتی ہیں کہ خواتین پر تشدد اور قتل کے ہر واقعے نے انھیں بہت غمگیں کیا۔

’میں اپنے ملک کے تمام والدین سے کہتی ہوں کہ بیٹی کے بچپن ہی سے جو پیسے بچا کر اس کے لیے جہیز کا سامان جمع کیا جاتا ہے، اس کی جگہ وہ پیسے اپنی بیٹی کی تعلیم پر خرچ کر کے اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.