پنجاب کے کنویں سے ملنے والی ’انسانی باقیات 1857 کے 246 باغی فوجیوں کی ہیں‘

انڈیا کے سائنسی محققین نے پنجاب کے اجنالہ قصبے کے ایک کنویں سے آٹھ برس قبل دریافت ہونے والی انسانی باقیات کا سراغ ڈھونڈ لیا ہے۔ یہ ہڈیاں 246 فوجیوں کی ہیں، جن کی عمر 21 سے 49 برس کی تھی اور انھیں برطانوی فوجیوں نے سنہ 1857 کی بغاوت کے دوران ایذائیں دینے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

’فرنٹئیر اِن جینیٹکس‘ جریدے میں شائع ایک تفصیلی مضمون کے مطابق اجنالہ کے کنویں سے سنہ 2014 میں جو انسانی ڈھانچے ملے تھے وہ سنہ1857 کی بغاوت کے دور کے ہیں۔

اس مطالعے کے مطابق یہ فوجی برطانوی انڈین آرمی کی 26 ویں بنگال نیٹیو انفینٹری رجمنٹ کے تھے اور ان کا تعلق اترپردیش، بہار، بنگال اور اڑیسہ سے تھا۔

یہ باقیات پہلی بار سنہ 2014 میں بعض مقامی ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیں تھیں، جس کے بعد حکومت نے ان باقیات کی حقیقت جاننے کے لیے پنجاب یونیورسٹی کے فورنزک ماہر عمرانیت ڈاکٹر جے ایس سہراوت کی قیادت میں ماہرین ایک ٹیم مقرر کی تھی۔

ان انسانی باقیات کی دریافت ایک غیر معروف کتاب کی بنیاد پر ہوئی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک انگریز سول افسر نے لکھی تھی جو 1857 میں امرتسر کے کمشنر تھے۔

اس کتاب میں اجنالہ قصبے کے ایک مندر کے پاس واقع ایک کنویں کا ذکر تھا جس میں اجتما‏عی طور پر لاشیں دفن کی گئی تھیں۔

اس میں بنگال رجمنٹ کے 282 فوجیوں کو پکڑنے انھیں قید کرنے اور پھر قتل کرنے کا ذکر ملتا ہے۔

غدر 1857
،تصویر کا کیپشن10 مئی 1857 کو دو باغیوں کو پھانسی دی جارہی ہے

مئی 1857 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے انڈین فوجیوں نے کارتوس میں سور اور گائے کی چربی استعمال ہونے کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ یہ بغاوت بڑی تیزی سے ملک کی دوسری چھاؤنیوں میں پھیل گئی تھی۔

کتاب کے مطابق بنگال انفینٹری رجمنٹ کی بٹالین پنجاب کی میاں میر چھاؤنی میں مقیم تھی۔

یہ باغی فوجی کچھ برطانوی فوجیوں کو قتل کرنے کے بعد چھاؤنی سے فرار ہو گئے۔ ان میں سے 282 کو پنجاب کے اجنالہ قصبے کے نزدیک پکڑ لیا گیا۔

انھیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں ایک ویران کنویں میں ڈال کر دفن کر دی گئیں۔

اس طرح لاشیں دبانے کا قدم ایک تو اس کی حساس سیاسی نوعیت اور دوسرا بیماریاں پھیلنے کے خدشے کے تحت اٹھایا گیا تھا۔ یہ کتاب سامنے نہیں آ سکی تھی لیکن پنجاب کے ایک مؤرخ نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔

اس کتاب میں دی گئی تفصیلات کی روشنی میں آثار قدیمہ کے بعض مقامی ماہرین نے اپنے طور پر اس کنویں کی تلاش شروع کی اور بالآخر اسے تلاش کر لیا۔ کنویں سے ہاتھ اور پیر کی ہڈیاں اور ہزاروں دانت بھی نکلے تھے۔

ان باقیات کا جینیاتی مطالعہ کرنے والوں میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر گیانیشور چوبے بھی شامل تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جن لوگوں نے کنویں سے انسانی ڈھانچوں کی باقیات نکالی تھیں وہ اس کے ماہر نہیں تھے جس کے سبب ڈیڑھ سو برس پرانی ہڈیوں اور دانت کے نمونے کافی حد تک خراب ہو گئے تھے اور ان کا تجزیہ کرنا بہت مشکل کام تھا۔ انھوں نے بتایا کہ 'ہم نے پہلے پنجاب کے لوگوں کے سینکڑوں ڈی این اے کے نمونے لیے پھر ہم نے پٹھانوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔‘

غدر 1857

لیکن یہ ڈی این اے کنویں سے ملنے والی ہڈیوں کے ڈی این سے میچ نہیں کر رہے تھے۔

پھر ہم نے اتر پردیش، بہار، بنگال اور دوسری جگہ کے 20 ہزار سے زیادہ نمونے حاصل کیے۔ ان کا جب ہم نے تجزیہ کیا تو یہ ان سے کافی ملتے جلتے نظر آئے۔ بعد میں تاریخی دستاویزات سے جو اس مطالعے کی گمشدہ کڑیاں تھیں انھیں تلاش کیا اور پھر ان انسانی ڈھانچوں کی حقیقت سامنے آ گئی۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔'

مطالعے کے مطابق یہ باقیات 246 فوجیوں کی ہیں۔ ان سبھی فوجیوں کی کھوپڑیوں میں شدید نوعیت کے زخموں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھیں بہت قریب سے گولی ماری گئی تھی۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اجنالہ کا یہ کنواں سنہ 1857 کی بغاوت کے دوران کسی بھی واقعے میں ہلاک ہونے افراد کے باقیات کا سب سے بڑا مدفن ہے۔