Site icon Dunya Pakistan

پنجگور اور نوشکی میں 15 دہشت گرد مارے گئے، مزید 5 گھیرے میں ہیں، وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں اور شہید فوجیوں کی تعداد سے متعلق تازہ معلومات فراہم کی ہیں۔

وزیر داخلہ نے ٹوئٹر پر جاری ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ نوشکی میں 9 دہشت گرد مارے گئے اور 4 فوجی شہید ہوئے، جبکہ پنجگور حملے میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو دونوں جگہوں سے پسپا کر دیا گیا اور پاک فوج نے اپنی روایت کو زندہ رکھا، پنجگور میں 4 سے 5 افراد فوج کے گھیرے میں ہیں جنہیں پاک فوج شکست دے گی، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج نے یہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔‘

وزیر داخلہ نے سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

13 دہشتگرد ہلاک، 7 جوان شہید ہوئے، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نوشکی اور پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 13 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ رات پنجگور اور نوشکی میں دہشت گردوں کے حملوں کو کامیابی سے ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا۔

—فوٹو: آئی ایس پی آر

نوشکی میں سیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مزید 5 دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد نوشکی میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 9 ہوگئی۔

اس حملے کو ناکام بناتے ہوئے ایک افسر سمیت 4 بہادر سپاہی شہید ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا کہ پنجگور میں فرار ہونے والے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔

پنجگور میں اب تک 4 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں جبکہ کم از کم 4 سے 5 دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لیا ہوا ہے، شدید لڑائی کے دوران 3 فوجیوں نے شہادت قبول کی جبکہ 4 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد اور ان کے ہینڈلرز بھارت اور افغانستان میں رابطے میں تھے۔

وزیراعظم کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں گزشتہ رات دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر بہادر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔

وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم اپنی بہادر سیکورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنایا، قوم ہماری سیکورٹی فورسز کے پیچھے متحد کھڑی ہے جو ہماری حفاظت کے لیے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔‘

حملوں کو ناکام بنانے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی سیکیورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گرد ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز کو بزدلانہ حملوں سے ڈرا نہیں سکتے، ہماری سیکیورٹی فورسز تاریخ رقم کر رہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا مقابلہ دنیا کی بہترین فوج سے ہے جو انہیں ہر محاذ پر شکست دے گی، ان کی قربانیاں ان کے شانہ بشانہ کھڑی قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔‘

انہوں نے شہید فوجی کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا تسلسل

گزشتہ رات ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

یہ واقعات بلوچستان میں جاری حملوں کے تازہ سلسلے کا حصہ ہیں جو کہ ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر دہشت گردانہ حملے میں 10 فوجیوں کی شہادت کے ایک ہفتے بعد ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کیچ میں دہشت گردوں کی جانب سے حملہ 25 اور 26 جنوری کی درمیانی شب اچانک ہوا تھا۔

بیان میں بتایا گیا تھا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے 10 فوجیوں نے شہادت قبول کی۔

اس حملے کے 2 دن بعد ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں 2 بم دھماکوں میں بگٹی قبیلے کے ایک بزرگ سمیت لیویز فورس کے 3 اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوگئے تھے۔

30 جنوری کو ضلع جعفر آباد کے شہر ڈیرہ اللہ یار میں دستی بم حملے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔

Exit mobile version