پڑھنے والوں سے رہنمائی کی درخواست

دنیا کی کل آبادی کا موجودہ تخمینہ 7 ارب 80 کروڑ سے زائد ہے۔ مسلمانوں کی تعداد ایک ارب90 کروڑ سے زیادہ ہے گویا دنیا کا ہر چوتھا شہری مسلمان ہے۔ بدقسمتی سے دنیا کی اس 25 فیصد آبادی کے سیاسی، تمدنی، علمی اور معاشی خد و خال قابلِ رشک نہیں ہیں۔ بیشتر مسلم اکثریتی ممالک کے شہری آمریتوں، غیر شفاف حکومتوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ملک کا حال ہم سے بہتر کون جانتا ہے لیکن ہمارے مشرق میں 18کروڑ اور شمال میں دس کروڑ مسلمان اقلیت اپنے اپنے ملک میں اکثریت کے اندھے جبر کا شکار ہے۔ ہمارے مغرب میں چار کروڑ باصلاحیت، دیانتدار اور ذہین افغان چار دہائیوں سے جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں۔ عراق، شام، یمن اور لیبیا کی بستیاں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں کھنڈر ہو چکی ہیں۔ مسلمان علم میں دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں، معاشی اور سیاسی انصاف سے محروم ہیں۔ سنجیدگی سے تراشی ہوئی عملیت پسند سوچ کی مدد سے یہ دو ارب انسان خود اپنے اور باقی دنیا کیلئے ایک قیمتی اثاثے میں ڈھل سکتے تھے لیکن داخلی اور بیرونی پیوستہ مفادات نے انہیں احیا پسندی کے پتھر سے باندھ رکھا ہے۔ جاننا چاہئے کہ سیاسی اور معاشی بندوبست کا جو سانچہ ارتقا کے سفر میں زوال کا شکار ہو جائے، اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے دو سبب ہیں، زوال کا شکار ہونے والا نظام کسی حادثے یا سازش کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اپنے داخلی تضادات کا حل ڈھونڈنے میں ناکام ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وقت کے کسی اگلے نقطے پر معروض میں اس قدر تبدیلیاں آ چکی ہوتی ہیں کہ پرانے نمونے کی بحالی ممکن نہیں رہتی۔ ہم عصر علم، اقدار اور ٹیکنالوجی سے لڑنے کی بجائے اپنے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے موجودہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آئیے آپ کو ایک قصہ سنائیں۔

1910 میں سلطنت عثمانیہ کے جنوب مشرقی کونے میں خلیج فارس اور بحیرہ قلزم کے درمیان واقع ایک لق و دق خطے پر دو حکومتیں قائم تھیں۔ نجد کا حاکم ابن سعود انگریزوں کا حامی تھا اور حجاز کا حکمران شریف مکہ عثمانی ترکوں کا اتحادی تھا۔ پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کو شکست ہوئی تو ابن سعود نے حجاز پر قبضہ کر لیا۔ ہندوستانی مسلمان جذباتی عقیدت میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ تحریک خلافت کی دنیا میں بسنے والے ہندوستانی مسلمانوں کو جزیرہ نما عرب میں مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کیے جانے کی خبر پہنچی تو اماکن مقدسہ کی بے حرمتی پر اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز روانہ کیا گیا۔ وفد میں مولانا ظفر علی خاں بھی شامل تھے۔ مولانا نے ارکان وفد کی مخالفت کے باوجود ابن سعود سے تنہائی میں ملاقات کی اور واپس آ کر خلافت وفد سے الگ رپورٹ پیش کی۔ دو جملے ملاحظہ ہوں۔ ’خالص دینی زاویہ نگاہ سے عبدالعزیز ابن سعود میرے نزدیک دنیائے اسلام کا بہترین فرد ہے۔ وہ ایک روشن ضمیر مدبر، اولوالعزم جرنیل، خدا کا سپاہی، معاملہ فہم حکمران، پرجوش مذہبی مبلغ اور قوم کا سچا خادم ہے۔‘ (اگر آپ کو اس اقتباس سے حالیہ ایام میں کچھ پاکستانی صحافیوں کے ارشادات یاد آ جائیں تو درویش کا قصور نہیں۔ آپ کا حافظہ ناقابلِ اصلاح طور پر فتنہ پسند واقع ہوا ہے۔)

مولانا ظفر علی خاں کی اس رپورٹ کے بعد مسلمانانِ ہند میں پھوٹ پڑ گئی۔ خلافت کمیٹی اور مجلس احرار کے راستے الگ ہو گئے۔ مورخ رئیس احمد جعفری کے مطابق، ابن سعود کی کھلی حمایت کے صلے میں ظفر علی خاں کو بھاری معاوضہ ملا۔ اس رقم کی تقسیم پر جھگڑے میں مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک نے زمیندار سے الگ ہو کر 1927 میں ’روزنامہ انقلاب‘ نکالا۔ اب ’زمیندار‘ اور ’انقلاب‘ میں قلمی جنگ چھڑ گئی۔ مولانا کو اختلاف کی تاب نہیں تھی۔ کسی قدر سبک لہجے میں طعنہ دیا کہ ’میرے سکھائے ہوئے میرے منہ آتے ہیں‘۔ جواب میں سالک صاحب نے لکھا کہ ’مولانا کی تعلیم میں ایسی ہی تاثیر تھی تو اختر علی خان کو بھی کچھ سکھا لیا ہوتا‘۔ اختر علی خان مولانا ظفر علی کے صاحبزادے تھے اور خاصے کم سواد واقع ہوئے تھے۔ بات یہ ہے کہ والدین اور اولاد میں ایک نسل کا بعد ہوتا ہے۔ ماحول اور وسائل کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ضروری نہیں کہ والدین اور اولاد کی سوچ یا اہلیت ایک جیسی ہو۔ معذرت کے ساتھ ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔ درویش کی صاحبزادی نے اپنے لئے شریک حیات چنا تو دونوں گھرانوں میں ملاقات طے پائی۔ معلوم ہوا کہ صاحب زادے کا نام سید علی مقتدر اور والد محترم کا اسم گرامی سید علی اقتدار ہے۔ سنجیدہ نشست تھی لیکن صحافی کی زبان فقرہ ضائع نہیں کرتی۔ بے ساختہ کہا کہ خاتون خانہ کا نام تو مقتدرہ ہونا چاہئے۔ وضع دار گھرانا ہے۔ یہ گستاخی آئی گئی ہو گئی۔ درویش کا دماغ مگر’ مقتدرہ ‘کی لغوی اور اصطلاحی تفصیل میں الجھ گیا۔ ہمارے ہاں اب اسٹیبلشمنٹ یا مقتدرہ کا ذکر دھڑلے سے ہونے لگا ہے۔ مقتدرہ کسی قوم کی فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم پر ان کہے، غیر دستوری اور ناجائز اجارے کا نام ہے۔ کسی ملک میں اس مظہر کی نمود نسلیں برباد کر دیتی ہے۔ از برائے خدا اس لفظ کو ایسی بے احتیاطی سے استعمال مت کریں کہ آئندہ نسلیں اسے جسد اجتماعی کا جائز یا ناگزیر حصہ سمجھنے لگیں۔ ارے آپ سے جو رہنمائی درکار تھی۔ اس کا ذکر رہا جاتا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ درویش کی انگریزی بوجوہ کمزور ہے تاہم آپ کی دعائوں کے طفیل درویش انگریزی دان طبقے میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ گزشتہ بدھ سے گوجر خان سے لے کر مارگلہ کی ترائیوں تک ایک انگریزی ترکیب کی بازگشت بار بار سنائی دی۔ جیسے تیسے اس کا اردو ترجمہ تو کر لیا ہے لیکن مفہوم نہیں سمجھ پایا۔ پڑھنے والا لکھنے والے سے زیادہ ذہین اور نکتہ رس ہوتا ہے۔ اگر کوئی مہربان اس انگریزی کہاوت کا مفہوم سمجھنے میں رہنمائی فرمائیں تو ممنون ہوں گا۔ بادشاہ مر گیا۔ بادشاہ زندہ باد

پڑھنے والوں سے رہنمائی کی درخواست” پر ایک تبصرہ

  • October 11, 2021 at 6:48 am
    Permalink

    محترم جناب میں نہیں سمجھتا کہ یہ سوال واقعی آپ کے لئے لاینحل ہے. لیکن ارشاد کو ادب پر فوقیت حاصل ہے اس لئے کچھ عرض کرتاہوں. یہ محاورہ اقتداراعلی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے. یورپ میں بادشاہوں کے مرنے پر بالعموم یہی سرخی جمائ جاتی ہے. اس کا تاریخی پس منظر فرانسیسی زبان میں پایا جاتا ہے.
    le roi est mart' vive le roi.
    فرانس کے بادشاہ چارلس ہفتم کے تخت نشیں ہونے پر ایک شاہی منصبدار ںے ادا کئے تھے جب چارلس ہشتم فوت ہؤا تھا.
    انجمن اقوام کے بانیوں میں سے ایک Robert Cecil نے انجمن کے خاتمے پر کہے تھے
    The league is dead' long live united nation.(یہ معلومات
    نیٹ سے لی گئ ہیں)
    کوئ مملکت اقتدار اعلی کے بغیر ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رہ سکتی. بعض حلقے نبی کریم کے وصال کے موقعہ پر سقیفہ بنو ساعدہ کے اجلاس کو خواہش اقتدار کا نام دیتے ییں لیکن اڈ کی اصل حکمت تسلسل اقتدار اعلی تھا. کینیڈی کے کے قتل کے موقع پر لنڈن بی جانسن نے جہاز میں دوران پروازحلف اٹھایا تھا. قائد اعظم کی وفات پر بھی یہ اعتراض غلط تھا.

تبصرہ کرنے کی سہولت موجود نہیں۔

error: