پیارے ابو جان

"محمد آصف طاہر"

ڈھونڈو گے اگرملکوں ملکوں
ملنے کہ نہیں نایاب ہیں ہم


دل گرفتہ بوجھل دل کے ساتھ اپنے عظیم والد محترم رؤف طاہر صاحب کی عظمت پرکہاں سے لکھنا شروع کروں، میرے الفاظ ختم ہو جایئں گے لیکن انکی شفقت اور بے لوث محبت کو بیان نہیں کر پاؤنگا۔ میرے محترم والد شفیق باپ کے ساتھ ساتھ بہترین انسان تھے۔ہر رشتے کو نبھانا خوب جانتے تھے، عزیز و اقارب ہوں یا دوست احباب سب کے ساتھ خندہ پیشانی، محبت اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا انکے اوصاف میں شامل تھا۔ اپنے والد صاحب کی کیا کیاخصوصیات بیان کروں جس کی وجہ سے سب انکے گرویدہ اور دوست ہوجاتے تھے۔والدمحترم کی ہستی ہی ایسی تھی کہ ملنے والا انکے اخلاق اور خلوص کا دیوانہ ہوجاتا اور بار بار ملنے کی خواہش کے ساتھ عمر بھر کا تعلق بنا لیتا۔
چار جنوری بروزپیر کی صبح میں ایک عظیم،شفیق، نفیس اور بیحد پیار کرنے والے والد محترم سے ہمیشہ کے لئے محرو م ہوگیا۔ایک رات پہلے ہم سب نے کھانا ایک ساتھ کھایا، اپنی سالگرہ کے کیک کا کہا کہ وہ بھی لے آؤ منہ میٹھا کر لیتے ہیں۔پھر اپنے کمرے میں جاتے ہوئے کہا کہ آصف بیٹا کل میری آن لائن کلاس ہے،میں نے کہا جی ٹھیک ہے،صبح لیپ ٹاپ آن کیا تو کہا کہ ساڑھے دس بجے خاضری لگا دینا،بظاہر ٹھیک لگ رہے تھے،والد محترم کا کمرہ نچلی منزل میں ہے چناچہ والد صاحب سوادس بجے کے قریب اوپر میرے پاس آئے میں ٹی وی لاؤنج میں تھا کہا کہ آصف۔۔۔یہ کہتے ہوئے پاس صوفہ پر بیٹھ گئے اور طبیعت ناساز سی ہونے لگی میں نے دیکھا تو سانس میں دشواری محسوس کررہے تھے میں فورا انکے پاتھ پاؤں ملنے لگا،،میری آواز سے گھر والے بھی گھبرا کر اپنے اپنے کمروں سے باہر آگئے، جلد ہی ایمبولینس کال کی۔ایمبولینس آنے تک وہ بے ہوشی کے عالم میں رہے ہم سمجھ رہے تھے کہ شوگر لیول گر گیا اسی سوچ میں ہم نے کچھ میٹھا دینا چاہا لیکن وہ کچھ بھی نہ لے سکے۔ ہم ہاتھ پاؤں ملتے اور انکو بلاتے رہے لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔کہتے ہیں کہ نیک روحیں کسی تکلیف کے بغیر ہی پرواز کرجاتی ہیں، یہی بات والد صاحب کے نیک ہونے کی دلیل ثابت ہوئی کہ اس دوران ان کے چہرے پر کسی قسم کی تکلیف کے کوئی آثار نہ تھے،گویا کہ وہ آرام کر رہے ہوں،ایمبولینس پانچ منٹ میں آگئی اس دوران انکل مجیب الرحمن شامی صاحب کو بھی کال کردی انہوں نے جلد ہی ہسپتال کے ایم ایس کا نمبر دیدیا۔ والد صاحب کے قریبی دوست اجمل بھائی بھی ڈائریکٹ ہسپتال پہنچ گئے۔ہسپتال پہنچنے پر معلوم ہوا کہ محترم والد بیس منٹ پہلے ہی دل کا دورہ پڑنے کے باعث اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ایسا لگا کہ قیامت صغری برپاء ہوگئی ہو۔
اپنے عظیم باپ کو کن الفاظ میں خراج عقیدت پیش کروں ایسی عظیم ہستی،ہر پل ہر لمحہ مسکرانے والے،دوسروں کی مشکل اپنی سمجھ کر اسے حل کرنے کرنے والے، والد محترم بے مثال خدمت خلق کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔وہ میرے ساتھ ہی آفس جاتے تھے،طویل مسافت کے باعث ہر موضوع پر ان کے ساتھ گفتگو رہتی۔ زیادہ تر موضوعات سیاسی اور صحافتی ہوا کرتے تھے۔میں انکی ہی سنتا اور اپنے علم میں اضافہ کرتا رہتا۔وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا تھے،اتنے ذہین کہ تاریخ کے دریچوں سے موافقت میں اپنی مثال آپ تھے۔ وہ اپنے نظریات میں پکے تھے،سچے مسلمان،محب وطن،بہترین صحافی،جمہوریت کے پرزور حامی،ہر وقت باوضو رہنے والے، نماز اور روزے کے پابند،ہمیں بھی ہمیشہ نماز کی تلقین کرتے اور کہتے کہ درود شریف لازمی پڑھا کرو اللہ پاک خاص کرم فرماتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ، والدہ محترمہ کا سات برس قبل انتقال ہوا تو ان کے بعد باپ میں ہی ماں کو دیکھا اور والد محترم نے باپ ہونے کے ساتھ ساتھ ماں کی طرح محبت کی۔جس طرح ماں اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی اسی طرح وہ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے،ہم میں سے اگرکسی کو ہلکا سا بخار بھی ہوجاتا تو بار بار پوچھتے اور جب تک ٹھیک نہ ہوجاتے انکو چین نہ آتا۔ والد محتر م کی صحافتی زندگی مثالی تھی، ان کے جنازے میں شریک انکے تمام دوست احباب نے مجھ سے تعزیت کے دوران گواہی دی کہ آصف آپ کے والد دیانتدار، مخلص اور درویش انسان تھے،ہمارے نہایت پیارے دوست جن کے جانے سے ایک خلاء پیدا ہوگیا ہے، وہ لاہور کی صحافتی محفلوں کی جان تھے۔ان کے بغیر اب صحافتی محفلیں ویران ہوگئی ہیں۔
ابو جان گھر میں دوستانہ ماحول رکھتے تھے،مجھے اور بہن کو نام سے جبکہ چھوٹے بھائی کو چودھری صاحب کہہ کر بلاتے،تو کبھی تینوں کو چاند بیٹا کہتے،اپنی بہو کے ساتھ بھی بالکل بیٹی جیسی شفقت کرتے۔ہماری ابو جان کے ساتھ بہت انسیت تھی، انکا بہت خیال رکھتے تھے، ابو جان کا اوڑھنا پہننا اپنے بچوں کی پسند کے مطابق ہوتا، بہت خوش خوراک تھے،کھانے کے بعد میٹھا ضرور لیتے۔ کھانے کی میز پر گفتگو کے دوران مختلف موضوعات پر بات ہوتی تو ہماری رائے کو بخوبی سنتے اور منطق کے ساتھ اپنی بات کو شامل کرتے۔ ان کی تاریخی معلومات کے خزانے سے ہم سب ہی استفادہ کرتے ہوئے کہتے کہ آپ تو چلتی پھرتی کتاب ہیں۔ ان میں بات کرنے کا سلیقہ کمال کا تھاہر ایک کی ذہنی سطح کا وہ بہت جلد ہی اندازہ لگا لیتے اور اسی کے مطابق ہی بات کا جواب اس انداز میں دیتے کہ مخاطب کو گراں نہ گزرے۔وہ اپنا ذاتی تعلق کسی بھی صورت خراب نہ ہونے دیتے۔امی جان کے جانے کے بعد انہوں نے ہمیں یہی تلقین کی کہ والدہ کے رشتے داروں سے حسن سلوک ویسا ہی رکھیں جیسا کہ پہلے تھا۔وہ ہر رشتہ کا خیال کرنے والے تھے۔ کبھی بھی کسی کے لئے دل میں برے خیال نہ رکھتے۔ہمیشہ مثبت سوچتے اور مثبت رہنے کو ہی ترجیح دیتے۔ہمارے ساتھ نرم مزاجی کا یہ عالم تھا کہ غصہ دور کی بات کبھی لہجے میں تلخی بھی نہ آتی۔
مجھے پہلے بھی علم تھا لیکن ان کے جانے کے بعد کچھ لوگوں کی کالز آئیں جن میں وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ آپ کے ابو سے ہم کبھی ملے نہیں لیکن انہوں نے کسی کی وساطت سے ہماری ہر طرح سے مدد کی ہے۔یہ سن کر مجھے انکی عظمت کا اندازہ شدت سے ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدمت خلق میں بڑھ چڑھ کر کا م کیا اور انجان لوگوں کے بھی کام آئے۔ ہمیں بھی صدقہ کرنے کی تلقین کرتے رہتے۔ ہمیشہ کہتے کہ ہم تو اللہ پاک کے دیے ہوئے میں سے دے رہے ہیں یہ اللہ کا ہی فضل اور توفیق ہے۔
والد محترم کو میں نے ہمیشہ متحرک دیکھا، شام کو چہل قدمی انکا معمول تھا، ہمیں بھی کہتے کہ سہل پسندی نہیں ہونی چاہیے۔ اپنے ہر کام کو خود ہی انجام دیتے، کسی کو بھی چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے بھی زحمت نہ دیتے۔صحافت میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ سادہ زندگی کو اپنائے رکھا اور ایسی عزت کمائی جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔والد محترم باکردار اور باوقار انسان تھے۔میرے والد محترم نے اپنے صحافتی تعلقات کو کبھی بھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا،حالات جیسے بھی ہوں ہمیشہ رزق حلال کمایااور کھایا، جب میں نے پروفیشنل زندگی شروع کی تو مجھے کہا کہ بیٹاہمیشہ دیانت اور سچائی کے راستے پر چلنا،صحافت میں دامن بچا کہ چلنا کسی جہاد سے کم نہیں، زرق حلال کمانا، اسی میں عزت اور برکت ہے۔انکی یہ باتیں ہمیشہ میرے لئے سنہری اصول کی مانند ہیں۔ہمارے لئے انکی فکر کا عالم یہ تھا کہ میں اپنے دفتر سے واپسی پر اکثر ابو جان کو انکے ٹرسٹ دفتر سے گھر کے لئے پک کر لیتا، طے شدہ وقت سے ایک دو منٹ اوپر ہوجاتے تو انکی کال آجاتی کہ بیٹا کہاں رہ گئے پہنچے نہیں اب تک، گھر کا بھی معمول ہوتا کہ رات کا کھانا ایک ساتھ کھاتے، اگر ابو جان کہیں مصروف ہوتے تو کھانے کے لئے انکی واپسی کا انتظار کیا جاتا۔
ابو جان اکثر کہا کرتے تھے کہ ”بچوں میں چلتے پھرتے ہی آپ کی امی کے پاس چلا جاؤں گا“ تو ہم کہتے کہ ابو ایسے نہ کہیں،کہتے ایک دن تو جانا ہی ہے۔ ابو جان کی کوئی میڈیکل ہسٹری نہیں تھی، دل کا عارضہ نہ بلڈ پریشر، شوگر تھی لیکن کنٹرول میں تھی۔ابو جان کے ساتھ تو جیسے ہاتھوں سے نکلنے والا معاملہ ہوا ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ ایک دن کیا ایک لمحہ کی بھی محتاجی نہ دیکھی اور چند منٹوں میں ہی اپنے اللہ پاک کو پیارے ہوگئے۔ سمجھ نہیں آتی کہ کیسے یقین کریں کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے، اس دکھ کا عمر بھر مداوا نہیں ہوسکے گا، گھر کی رونق،شان، آن تھے،گھر انہی کے دم سے آباد تھا،اب تو دل بوجھل اور گھر ویران سا لگتا ہے جیسے جنگل بیابان،وہ ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند تھے جس کی چھاؤں ہمیں ہر قسم کی سختیوں سے محفوظ رکھتی تھی۔انکا دست شفقت ہمیں ہر قسم کے حالات سے لڑنے کا حوصلہ اور ہمت دیتا۔وہ ہمیشہ اپنے رب تعالی کی رضا میں راضی رہتے تھے۔ابوجان ہم سب آپکو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور آپکی ہر نصیحت پر عمل پیرا رہیں گے۔دعاگو ہوں کہ جس مقصد کے لئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی اللہ پاک مجھے اور بھائی کو اسی رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ ہمارے رول ماڈل تھے۔انکی زندگی کھلی کتاب کی مانند تھی۔جس کے ہر صفحے پر انکی ایمانداری اور صداقت سنہرے الفاظ میں درج ہے۔اللہ پاک میرے مرحوم والدین کی قبروں کو نور سے بھر دے، جن کے والدین حیات ہیں اللہ پاک ان کے بچوں کو انکی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں سلامت رکھے آمین۔آخر میں والد محترم کے ان تمام دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اپنے کالموں اور پروگرامز میں انکوبھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے والد محترم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا۔جہاں گورنر پنجاب محمد چودھری سرور صاحب نے لیک سٹی میں ایک سڑک کا نام والد محترم کے نام سے منصوب کرنے کا اعلان بھی کیا۔
بے شک والد محترم ہمارا فخرہیں،وہ ہمیشہ اپنے چاہنے والو ں کے دلوں میں زندہ رہیں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *