پینڈورا پیپرز: دنیا بھر میں ان دستاویزات میں ہونے والے انکشافات کی رپورٹنگ کیسے کی گئی؟

طاقتور افراد کی خفیہ دولت اور مالی لین دین کی تفصیلات ایک بڑے مالی سکینڈل سے متعلق دستاویزات کے سامنے آنے سے بے نقاب ہو گئی ہیں۔

پینڈورا پیپرز نے دنیا بھر میں سرخیاں بنائیں ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسے ممالک جن کے رہنماؤں کی دولت کے بارے میں ان دستاویزات میں انکشاف کیے گئے ہیں، وہاں اس معاملے کی رپورٹنگ کیسے کی گئی۔

پاکستان

ان دستاویزات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقے میں شامل افراد، جن میں ان کی کابینہ اور خاندان کے کچھ افراد شامل ہیں، خفیہ طور پر لاکھوں ڈالر کی کمپنیوں کے مالک ہیں۔

پاکستان کے تمام بڑے اخباروں نے ان انکشافات کی خبر دی ہے۔

پینڈورا پیپرز

اتوار کو دنیا ٹی وی کے ٹاک شو ’تھنک ٹینک‘ میں بھی اس معاملے پر بحث ہوئی۔ پاکستان کے سب سے پرانے انگریزی اخبار ’ڈان‘ نے بھی پیر کے روز پینڈورا پیپرز اور اس میں پاکستان سے متعلق انکشافات کے بارے میں سرخیاں لگائیں۔

جن لوگوں کے ان دستاویزات میں نام آئے ہیں، ان کی جانب سے میڈیا کوریج پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن شہریوں کے نام ان دستاویزات میں سامنے آئے ہیں، ان کے بارے میں تحقیقات کرائی جائیں گی۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا: ’ہم ٹیکس چوری اور بدعنوانی سےجمع کرکے منی لانڈرنگ کےسہارے بیرونِ ملک ٹھکانے لگائی جانے والی اشرافیہ کی ناجائز دولت بے نقاب کرنے والے پنڈورا پیپرز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔۔۔۔ میری حکومت اپنے ان تمام شہریوں کی پڑتال کرے گی جن کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں اور اگر کچھ غلط ثابت ہوا تو ہم مناسب کارروائی عمل میں لائیں گے۔‘

برطانیہ

برطانوی حکام کے متعلق انکشافات کو برطانوی میڈیا میں بڑے پیمانے پر کوریج دی گئی۔

دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ نے ایک آف شور کمپنی کے ذریعے لندن میں ایک جائیداد خریدی جس سے سٹیمپ ڈیوڈی کی مد میں ان کے تین لاکھ 12 ہزار پاؤنڈ بچے۔

ٹونی بلیئر کی اہلیہ کا کہنا ہے عمارت فروخت کرنے والوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسے آف شور کمپنی کے ذریعے خریدا جائے۔

شیری بلئیر کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ جائیداد برطانیہ کے قوانین کے تحت خریدی اور اگر وہ مستقبل میں اسے فروخت کرتے ہیں تو ان اثاثوں کی مالیت بڑھنے پر اسی اعتبار سے ٹیکس ادا کریں گے۔

پینڈورا لیکس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کہ کس طرح کنزرویٹو پارٹی کے ممتاز ڈونر محمد آمرسی نے سویڈن کی ایک ٹیلی کام کمپنی کے لیے متنازعہ سودوں کی ایک سیریز پر کام کیا جسے بعد میں امریکی پراسیکیوشن میں 700 ملین پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا تاہم محمد آمرسی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اخبار ’دا گارڈین‘ اور ’دا آئی‘ نے اپنے فرنٹ صفحات پر پینڈوار پیپرز کے بارے میں خبریں شائع کی ہیں۔

ٹونی بلیئر اور چیری بلیئر
،تصویر کا کیپشنپینڈورا پیپرز میں برطانوی حکام کے متعلق انکشافات کو برطانوی میڈیا میں بڑے پیمانے پر کوریج دی گئی

روس

پینڈورا پیپرز میں روسی صدر ولادمیر پوتن کے موناکو میں خفیہ اثاثوں کا بھی ذکر ہے لیکن اتوار کو روس کے شام کے ٹی وی پروگرامز میں روسی صدر پر الزامات کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

انگریزی میں شائع ہونے والے اخبار ’ماسکو ٹائمز‘ کی ویب سائٹ پر سوموار کے روز پینڈورا پیپرز کی خبر ٹاپ سٹوری تھی جس کی سرخی کچھ یوں تھی: ’لیک ہونے والی دستاویزات پیوتن کے ساتھیوں کو بیرون ملک معاملات سے جوڑتے ہیں۔‘

روس کے سوشل میڈیا پر پینڈورا پیپرز میں ہونے والے انکشافات کے بارے میں بات کی جا رہی ہے تاہم کئی ذرائع ابلاغ نے اپنی خبروں کا رخ صدر پیوتن سے دور رکھا۔

سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ٹی وی چینل ’این ٹی وی‘ نے سوموار کو اس کے متعلق ایک مختصر سی رپورٹ تو چلائی لیکن ساری توجہ غیر ملکی حکام بشمول یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کے خلاف الزامات پر مرکوز رہی۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ نے امریکہ کو ٹیکس کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق انکشافات پر روشنی ڈالی۔

سوموار کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان انکشافات کو ’بے بنیاد دعووں کا مجموعہ‘ قرار دیا۔

وکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی
،تصویر کا کیپشنروس میں ’این ٹی وی‘ نے سوموار کو اس متعلق ایک مختصر سی رپورٹ تو چلائی لیکن ساری توجہ غیر ملکی حکام بشمول یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کے خلاف الزامات پر مرکوز رہی

یوکرین

پینڈورا پیپرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے سنہ 2019 کا الیکشن جیتنے سے قبل اپنا پیسہ خفیہ طور پر ایک آف شور کمپنی کو منتقل کر دیا تھا۔

یوکرین کی ویب سائٹ Slidstvo.info نے صحافیوں کی تحقیقاتی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) اور ان کے ساتھی میڈیا اداروں کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیق کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔

یوکرین کے انگریزی اخبار ’کائیف پوسٹ‘ نے سرخی لگائی کہ ’پینڈورا پیپرز نے زیلنسکی اور ان کے قریبی حلقے کے آف شور اثاثے ظاہر کر دیے۔‘

اردن

سامنے آنے والی ان دستاویزات کے مطابق اردن کے بادشاہ برطانیہ اور امریکہ میں خفیہ طور پر 100 ملین ڈالر کی پراپرٹی کے مالک ہیں۔

لیکن اردن کے میڈیا میں اس خبر کی کوریج نہیں دیکھی گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اردن کا مقامی میڈیا خود کو سینسر کرتا ہے اور ایسے موضوعات سے گریز کرتا ہے جو واضح طور پر حد سے باہر ہوتے ہیں۔

سوموار کو زیادہ تر اخباروں کی ٹاپ سٹوری پینڈورا پیپرز نہیں بلکہ اردن کے بادشاہ عبداللہ بن الحسین کا ملک میں جمہوری ریفارمز کے بارے میں بیان تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شاہ عبداللہ کی عالمی بینک کے صدر سے ملاقات اور ایک دہائی قبل شام کی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ پہلی فون کال جیسی خبروں کو ترجیح دی جا رہی تھی۔

شاہ عبداللہ کے وکلا کا کہنا ہے کہ تمام جائیدادیں ان کی ذاتی دولت سے خریدی گئی ہیں اور ایسا کرنے کے لیے غیر ملکی فرموں کا استعمال کرنے میں کچھ بھی غلط نہیں۔

اردن کے شاہی محل نے ایک بیان بھی جاری کیا کہ یہ کوئی راز نہیں کہ بادشاہ بیرون ملک متعدد جائیدادوں کے مالک ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کوئی بھی الزام جو ان نجی جائیدادوں کو عوامی فنڈز سے جوڑتا ہے وہ بے بنیاد اور حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔‘

شاہ عبد اللہ
،تصویر کا کیپشناردن کے شاہی محل نے ایک بیان بھی جاری کیا کہ یہ کوئی راز نہیں کہ شاہ عبداللہ بیرون ملک متعدد جائیدادوں کے مالک ہیں

کینیا

کینیا کے صدر اوہرو کینیاٹا اور ان کے خاندان کے چھ ممبران خفیہ طور پر آف شور کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک کے مالک ہیں۔ کینیا کے بیشتر ذرائع ابلاغ بھی اس بارے میں خاموش نظر آئے۔

اخبار ’دا سٹار‘ کی ویب سائٹ پر ٹاپ سٹوری کی ہیڈ لائن کچھ یوں تھی: ’کینیاٹا کی جانب سے سرکاری اثاثے چوری کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔‘

دیگر اخباروں میں یا تو اس سے متعلق بالکل کوئی خبر نہیں دی گئی یا خبر کا فوکس کینیا سے باہر رکھا گیا۔

کینیا کے ایک بڑے اخبار ’دا نیشن‘ نے ایک خبر لگائی جس کی شہ سرخی کچھ یوں تھی کہ ’پینڈورا پیپرز نے رہنماؤں کے غیر ملکی اثاثوں کو بے نقاب کر دیا۔‘ اس خبر کے ساتھ اردن کے بادشاہ کی تصویر لگائی گئی جبکہ صدر اوہرو کینیاٹا کے بارے میں صرف چار لائینیں لکھی گئیں۔

کینیا کے سب سے بڑے ٹی وی سٹیشن ’سٹیزن ٹی وی‘ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ایجنسی کی خبر شائع کی جس میں صدر کینیاٹا کے خاندان کے بارے میں انکشافات بالکل آخر میں تھے۔

تاہم کینیا کے سوشل میڈیا پر اس بارے میں خاصی گرما گرم بحث دیکھی گئی اور ہیش ٹیگ پینڈورا پیپرز ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔

صدر کینیاٹا کے خاندان کی جانب سے ابھی تک ان الزامات پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا گیا۔

Kenya's Star newspaper

ایکواڈور

ان دستاویزات میں لاطینی امریکہ کے تین صدور اور 11 سابق صدور کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

ان میں ایک نام ایکواڈور کے صدر گیلرمو لاسو کا بھی ہے جو سابق بینکر ہیں۔ ان کی پاناما میں موجود ایک کمپنی امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا کی ایک کمپنی کے ذریعے ان کے خاندان کو ماہانہ رقم فراہم کر رہی تھی۔

ان انکشافات پر ردعمل دیتے ہوئے گیلرمو لاسو نے کہا کہ ان کی تمام سرمایہ کاری قانونی طور پر جائز ہے۔

صدر کے پینڈورا لیکس میں نام آنے کی خبر اخبار ’ایکسپریسو‘ کی ویب سائٹ کی شہ سرخی میں تو دیکھی گئی تاہم ایکواڈور کے زیادہ تر ذرائع ابلاغ میں اس بارے میں بہت کم یا بالکل بھی کوریج نہیں کی گئی۔

اخبار ’ایل یونیورسو‘ کی ویب سائٹ نے اپنے فرنٹ پیج پر صدر کے بارے میں سامنے آنے والے انکشافات کی خبر دی تاہم زیادہ تر توجہ ہسپانوی گلوکار جولیو ایگلیسیاس کی جانب رہی کہ وہ امریکہ میں 120 ملین ڈالر کی جائیداد کے مالک ہیں۔

ایکواڈور کے صدر گیلرمو لاسو
،تصویر کا کیپشنایکواڈور کے صدر گیلرمو لاسو نے ان انکشافات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تمام سرمایہ کاری قانونی طور پر جائز ہے

قبرص

دستاویزات کے مطابق قبرص کے صدر نیکوس اناستاسیداس کی قائم کردہ لا فرم کے جعلی مالکان بتائے گئے ہیں تاکہ آف شور کمپنیوں کے اصل مالکان کو خفیہ رکھا جا سکے تاہم لا فرم ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اس خبر کو قبرص کے میڈیا میں خاصی کوریج دی گئی ہے۔

مسٹر اناستاسیداس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھیں اس بات کا کوئی علم نہیں کہ کمپنی نے کیا کیا تھا۔

آذربائیجان

دستاویزات کے مطابق آذربائیجان پر حکومت کرنے والے خاندان نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں خفیہ طور پر جائیداد خریدی۔

دستاویزات کے مطابق اپنے ملک میں ایک طویل عرصے سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے اس خاندان نے 17 جائیدادیں خریدی جن میں ایک جائیداد کی مالیت 33 ملین پاؤنڈ ہے جو صدر کے گیارہ برس کے بیٹے حیدر علیف کے نام پر ہے۔

لیکن ملک کے ذرائع ابلاغ میں اس خبر کو یا تو بہت ہی کم یا بالکل بھی کوریج نہیں دی گئی تاہم آذربائیجان کے روزنامہ ’آزادلق‘ جس کو ملک کے اندر رسائی حاصل نہیں، کی ویب سائٹ پر سوموار کو سب سے بڑی خبر یہ ہی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: