پیٹرولیم بحران رپورٹ: کمیشن کی اوگرا تحلیل کرنے کی سفارش

اسلام آباد: آئل سپلائی چین کے پورے سلسلے میں پالیسی سازوں سے ریگولیٹرز اور مارکیٹ کے پلیئرز سے خوردہ دکانوں پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے جون کے پیٹرولیم بحران کے سلسلے میں قائم 15رکنی انکوائری کمیشن نے پیٹرولیم ڈویژن میں محکمہ جاتی سطح پر کے اعلٰی سطح کی تحقیقات اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی تحلیل اور ریفائنری اور آئل مارکیٹنگ کمپنی بائیکو کا کام روکنے کی سفارش کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمیشن کی 163 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ایران سے 250 ارب روپے مالیت کی تیل سمگلنگ کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تیل کے شعبے میں وسیع پیمانے پر خلا اور کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہونے کے سبب بڑے پیمانے پر قوانین اور قواعد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اوگرا کے امور کو دیکھ کر کمیشن کو تمام ریگولیٹری اداروں (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) کے پرفارمنس آڈٹ کی "سفارش کرنے" پر مجبور ہو گیا ہے۔‎

انکوائری کمیشن کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ابوبکر خدابخش کر رہے تھے جہاں یہ کمیشن وزیر اعظم نے قائم کیا تھا، اس میں اصل میں سات اراکین شامل تھے جن میں تفتیشی ایجنسیوں، اوگرا کے سابق اراکین اور اٹارنی جنرل شامل تھے لیکن بعد میں اس کام کو مکمل کرنے کے لیے آٹھ دیگر ماہرین کا انتخاب بھی کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن کا مارچ میں پیٹرول کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ اسٹریٹجک اور پالیسی کے نقطہ نظر سے پہلی غلطی تھی لیکن آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) نے اس کی خلاف ورزی کی، اس میں کہا گیا تھا کہ جب یہ پابندی عائد کی گئی تھی تو پیٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں سب سے کم سطح پر تھیں اور پاکستان اور اس کے صارفین کو اس کے فائدے سے محروم کیا جا رہا تھا، پیٹرولیم ڈویژن اور ڈی جی آئل او ایم سی کے ذریعے فروری سے اپریل 2020 تک اسٹاک کی بحالی کو یقینی بنانے میں ناکام رہے، او ایم سی نے مقامی ریفائنریوں کے کوٹہ فارم اٹھانے سے محض انکار کردیا۔

کمیشن نے اوگرا کو الزام تراشی کی فہرست میں صف اول پر رکھا اور کہا کہ تیل کی صنعت میں پائی جانے والی بہت سی گندگی اور غلطیاں اوگرا اور اس سے متعلقہ قوانین/قواعد سے متعلق ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوگرا کو 2002 میں تشکیل دیا گیا اور 2006 میں تیل کی صنعت کو باقاعدہ بنانے کے لئے کچھ اختیارات دیے گئے لیکن اس کے قواعد وضع کرنے میں اوگرا کو 14 سال کا عرصہ لگا(پاکستان آئل رولز 2016)، ریگولیٹر کبھی بھی ان قواعد کو عملی جامہ پہنانے اور نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اور اوگرا آرڈیننس 2002 کے توسط سے اس کو جو ذمہ داری عطا کی گئی تھی اس سے مسلسل انکار کیا جاتا رہا، اس سفید ہاتھی کا کردار پیٹرولیم بحران سے پہلے یا اس کے دوران خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں تھا، معائنہ اور نگرانی صفر ہے۔

اس نے اوگرا پر رواں سال جون کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیز(او ایم سی) پر اپنی خوردہ دکانوں کے خالی ہونے پر جرمانے عائد کرنے، او ایم سی کو غیر قانونی غیر منقولہ مارکیٹنگ لائسنس جاری کرنے، او ایم سی کے مابین غیر قانونی مشترکہ منصوبوں پر تعزیری کارروائی نہ کرنے اور کسی قسم کے بھی لائسنس منسوخ نہ کرنے کے الزام بھی عائد کیے، کمیشن اوگرا کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے 6 ماہ کے اندر تحلیل کرنے کی سختی سے سفارش کرتا ہے۔

کمیشن کو پتہ چلا ہے کہ وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) گزشتہ دہائی کے دوران اور خاص طور پر جون کے بحران میں زیادہ بہتر کام نہیں کرسکی ہے، اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کی کہانی بھی بے حسی، نااہلی کے ساتھ بد سلوکی اور غلط قوانین / قواعد نظرانداز کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی پر مبنی ہے، تاہم اس کی خواہش ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن وزارت قانون کے ساتھ مل کر پیٹرولیم سیکٹر کے تمام قوانین اور قواعد پر 6ماہ کے اندر نظرثانی کرے، انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی صنعت کے سنگین مسائل کو صرف اتحاد کے ذریعے ہی درست کیا جاسکتا ہے۔

کمیشن نے درآمد/مقامی کوٹہ مختص کرنے کے حوالے سے صریحاً غیر قانونی احکامات منظور کرنے پر موجودہ ڈی جی آئل ، جو پیشے سے ویٹرنری ڈاکٹر ہیں، کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سختی سے سفارش کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ عمران علی ابڑو اور دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی سخت محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جو پیٹرولیم ڈویژن میں غیر قانونی معاملات کے لیے جوڑ توڑ کر رہے تھے۔

عمران علی ابڑو مبینہ طور پر پیٹرولیم ڈویژن میں کرتا دھرتا تھے اور انہوں نے اپنے اعلیٰ افسران کی جگہ فیصلے کیے حالانکہ وہ پیٹرولیم ڈویژن کے ملازم نہیں تھے لیکن وہ 6سال سے بغیر قانونی کور کے کام کررہا ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے سیکریٹری کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، وہ بحران کے دور سے پہلے اور اس کے دوران بھی خلا میں ہی مقید رہی، اس بارے میں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا کہ کابینہ کے ذریعے منظور شدہ لفظ استدلال(ریشنلائزیشن) کو درآمدات پر پابندی یا منسوخی میں کیوں تبدیل کیا گیا؟۔

مزید یہ کہ اس رپورٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیز پر ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے اور پیٹرول کی بھرمار نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، او ایم سی بھی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت کی وجہ سے 20 دن کا لازمی پیٹرول اسٹاک برقرار رکھنے میں ناکام رہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ 90فیصد او ایم سی نے اضافی 20 دن کا مطلوبہ اسٹاک کی شرط کو برقرار نہیں رکھا، اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ او ایم سی نے اس کی واضح ضرورت کے باوجود اپنے درآمد کوٹہ کا پوری طرح سے استعمال نہیں کیا۔

کمیشن نے حب میں بائیکو کی دو ریفائنریوں کے کاموں پر پابندی کی سفارش کی، کمیشن کی ٹیم کے بائیکو کے دورے کے دوران دونوں کو غیر آپریشنل پایا گیا، کمیشن نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس طرح کی ریفائنریوں کو تعمیر کرنے کی اجازت کیوں دی گئی اور اگر یہ بند ہی رہتی ہیں تو یہ کس کام کی ہیں اور یہ واضح نہیں کہ اس کی سپلائی کہاں سے آتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مزید تحقیقات کا واضح معاملہ ہے، کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ بائیکو میں بہت سی دوسری چیزیں غلط ہو رہی ہیں جس میں بائیکو پورٹ ٹرمینل (بحیرہ عرب کے اندر 18 میل کے فاصلے پر سنگل پوائنٹ موورنگ) بحری جہازوں کی کسٹم کا معاملہ اور محکمہ میری ٹائم اور ایچ ڈی آئی پی کی عدم موجودگی کی وجہ سے بحری جہازوں کی تمام اور غیر منظم ڈی کینٹنگ بھی شامل ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بائیکو کے مالک عامر عباسی طویل مدت تک 23 ارب روپے سے زائد کے فراڈ میں مفرور رہے کیونکہ کمپنی نے خام تیل کی آڑ میں بہتر پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں اور حکومت کو بھاری رقم کا دھوکا دیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ بظاہر تو یہ ریکٹ ابھی بھی جاری ہے اور مزید کہا گیا کہ عامر عباسی نے اب ایک ارب روپے سے تھوڑی زیادہ ادائیگی پر نیب سے پلی بارگین کی درخواست کی ہے۔

کمیشن نے کہا کہ بائیکو سے متعلق گزشتہ پانچ سالوں کے ریکارڈ کی تحقیقات کی جانی چاہیے کیونکہ قانون کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والا کوئی شخص بھی مارکیٹنگ لائسنس کے لیے درخواست نہیں دے سکتا تھا لیکن اوگرا کے نفاذ کی بدولت عامر عباسی ابھی بھی بائیکو ریفائنری اور او ایم سی دونوں کے مالک اور سی ای او ہیں۔

اس رپورٹ میں بے ضابطگیوں کے ایک سلسلے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جس میں پوری سپلائی چین میں قیمتوں کے طریقہ کار میں ہیرا پھیری، ملاوٹ، غلط بیانی اور ٹیکسوں کی چوری، اعداد و شمار کی غلطی شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: