پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست اور جمہوری سوال

پہلی عالمی جنگ میں چار بڑی سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ روس میں زار نکولس رومانوف اور جرمن – پرشین سلطنت میں قیصر ولہلم کے عہد تمام ہوئے، ترکی میں عثمانی سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی۔ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کا نام و نشان مٹ گیا۔ قدیم یورپ کے بطن سے نیا یورپ جنم لے رہا تھا۔ جنگ معمولات زندگی کے تعطل اور تمدن کے ہموار ارتقا سے انحراف کا نام ہے۔ آگ اور لہو کے اس کھیل میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر توازن قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جس طرح ورسلیز معاہدے میں شامل فاتح قوتیں برطانیہ، فرانس اور اٹلی نئی دنیا کے خدوخال سے بے خبر پرانے استیصالی ہتھکنڈوں پر بھروسہ کئے ہوئے تھیں، اسی طرح شکست خوردہ قومیں اپنا مستقبل مرتب کرنے کی بجائے اپنی شکست کے جواز ڈھونڈ رہی تھیں، انتقام کی آگ میں جل رہی تھیں۔ روس میں انقلاب اکتوبر جلد ہی اسٹالن کی آمریت میں بدل گیا۔ اٹلی مسولینی کی فسطائیت کے ہتھے چڑھ گیا۔ جرمنی میں وائیمر ریپبلک کی طوائف الملوکی نے ہٹلر کے نازی استبداد کا عفریت مسلط کیا۔ ترکی نے اپنے مقبوضات سے محرومی کا مداوا اتاترک کی شخصیت پرستی میں تلاش کیا۔ نتیجہ یہ کہ ٹھیک بیس برس کے اندر دوسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ 1918 سے 1939 تک کے بیس برس کی عالمی تاریخ میں ہمارے لئے بہت سے سبق ہیں۔

1947 میں ہمیں آزادی ملی تو ہمارے سیاسی اثاثے مخدوش اور غیر آزمودہ تھے۔ مسلم لیگ ایک منظم سیاسی جماعت سے زیادہ ایک ہنگامی تحریک کا رنگ لئے تھی۔ دوسری طرف نوآبادیاتی حکمرانوں کے پروردہ ریاستی ادارے کم و بیش ایک صدی کی تاریخ رکھتے تھے۔ انہیں عوام پر حکمرانی کی تربیت دی گئی تھی جو ناگزیر طور پر بالادست ذہنیت سے مملو تھی۔ قائد اعظم کی فراست سے انکار نہیں لیکن قیام پاکستان تک ان کی صحت بگڑ چکی تھی اور وہ نئے ملک میں سیاسی تنہائی کا شکار تھے۔ لیاقت علی خان کی ذہنی افتاد تعلقہ دار سیاست کی تھی اور ان کی جمہوریت پسندی پر سوالیہ نشان تھے۔ لیاقت علی ایک منفرد جغرافیائی ہیئت کے حامل ملک میں ریاست اور جمہور کے درمیان اقتدار کی کشمکش سمجھ ہی نہیں سکے۔ پیوستہ سیاسی مفادات اور ریاستی اہل کاروں نے باہم گٹھ جوڑ کر کے انہیں شہید کر ڈالا۔ 16 اکتوبر 1951 لیاقت علی کا یوم شہادت نہیں، اہل پاکستان کی آزادی سلب ہونے کا دن تھا۔ اس تناظر میں 15 برس بعد ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی منظر پر آمد ایک نئے عہد کا اعلان تھی۔ پیپلز پارٹی نے پاکستانی سیاست میں پہلی مرتبہ عوام کو ایک مستند سیاسی فریق کا درجہ دیا۔ بھٹو صاحب کے دو بڑے کارنامے تھے اور دو بڑی غلطیاں۔ انہوں نے عوامی تحرک پیدا کیا اور قوم کو ایک متفقہ دستور دیا۔ ان کی پہلی غلطی عوامی تائید پر اعتماد کی بجائے مقتدرہ سے درپردہ تعاون کی خواہش تھی۔ 60کی دہائی کے اواخر تک مشرقی پاکستان کی علیحدگی نوشتہ دیوار بن چکی تھی لیکن مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کی مخالفت نہ کرنا بھٹو صاحب کی ہمالیائی غلطی تھی۔ بھٹو صاحب کو اپنی سیاسی تقویم میں اندازے کی غلطیوں کا خمیازہ اٹھانا پڑا لیکن وہ اپنی بہادرانہ موت سے قومی تاریخ میں ایک سنگ میل مرتب کر گئے۔ سیاسی اور تمدنی ادارے ایک خاص مدت کے بعد کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں رہتے، قومی اثاثہ بن جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے قیام کو54 برس گزر چکے۔ اس جماعت کی قیادت اور کارکنوں نے جمہوری حقوق کے لئے مزاحمت کی شاندار روایات قائم کی ہیں۔ یہ جماعت ہمارے وفاقی بندوبست، عمرانی معاہدے اور جمہوری منظر کا لاینفک حصہ ہے۔

1977 سے 2006 تک تین عشرے ہماری سیاسی کوتاہ اندیشی اور جمہور دشمن قوتوں کی بالادستی سے عبارت تھے۔ اس دوران قوم نے لسانی، فرقہ وارانہ اور مذہبی دہشت گردی کا تاوان ادا کیا۔ مئی 2006 میں میثاق جمہوریت ہمارے سیاسی ارتقا میں دستور پاکستان کی تدوین کے بعد اہم ترین قدم تھا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کسی دہشت گرد کی ازخود کارروائی نہیں تھی، یہ میثاق جمہوریت کے امکانات کو سبوتاژ کرنے کی جامع سازش تھی۔ اس کے باوجود سیاسی قوتوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم سے دستور کا پارلیمانی تشخص بحال کیا، وفاقی اکائیوں کو بااختیار کیا۔ ان گنت سازشوں کا حتی المقدور مقابلہ کرتے ہوئے جی ڈی پی کا حجم 152 ارب ڈالر سے 315 ارب ڈالر تک بڑھایا۔ دہشت گردی اور توانائی کے بحرانوں پر قابو پایا۔ یہ بے سبب نہیں کہ عمران خان اپنی تقریروں میں 2008 سے 2018 کے عشرے پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ 2018 کے بعد سے سیاسی انتظام کی بدحالی اور معاشی بحران نے اختلاط اقتدار کی ناگزیر ناکامی کو آشکار کر دیا۔ اس دوران 20 ستمبر 2020کی آل پارٹیز کانفرنس نے جمہوری امیدوں کے نئے چراغ روشن کئے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو واضح مقبولیت حاصل ہے۔ یہ دونوں جماعتیں اپنی مقبولیت ہی کے باعث زیر عتاب ہیں۔ وفاقی اکائیوں میں ارتباط کا تقاضا ہے کہ بڑے دھارے کی جمہوری جماعتوں کو وفاقی سطح پر متوازن رسوخ حاصل ہو۔ 2018میں نواز شریف نے رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کا متفقہ امیدوار بنانے کی پیشکش کر کے اس طرف قدم بڑھایا تھا لیکن تب آصف زرداری بلوچستان میں جوڑتوڑ کر کے سندھ حکومت بچانے کی دھن میں تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے قیام سے کچھ پہلے بھی نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں تعاون کا سنجیدہ پیغام دیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے ووٹوں سے سینیٹر منتخب ہوئے اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے ارکان کے ووٹ مسترد ہوئے۔ اس کے بعد ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کا تقاضا کرنا پیپلز پارٹی کے شان شایان نہیں تھا۔ اگر پی ڈی ایم منہدم ہوتی ہے تو تاریخ اس کا الزام پیپلز پارٹی پر رکھے گی۔ اس سے بلاول بھٹو کے قومی سطح پر قائدانہ کردار کے امکانات بھی مجروح ہوں گے۔ سوچنا چاہیے کہ حکمران قوتیں پی ڈی ایم میں حالیہ انتشار پر کیوں خوش ہیں اور کسے مفاہمانہ اشارےدیے جا رہے ہیں۔ کراچی کے ضمنی انتخاب نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ڈی ایم کی بڑی جماعتیں ہی حقیقی جمہوری قوتیں ہیں۔ کسی وقتی مفاد کے لئے پی ڈی ایم کے جمہوری ایجنڈے سے منہ موڑنا ایک تاریخی غلطی ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: