پیکا آرڈیننس: ’فیک نیوز شیئر کرنے پر سزا لیکن خبر غلط ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا؟‘

’واٹس ایپ پر کوئی پیغام، فیس بُک پر لگائی گئی تصویر یا انسٹاگرام پر شیئر کی گئی معلومات آپ کو جیل بھیج سکتی ہیں۔۔۔ حکومت ’فیک نیوز‘ کی تشریح کیے بغیر اظہار رائے کی آزادی ختم کرنا چاہتی ہے اور تنقید روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان میں صحافتی تنظیموں اور ہیومن رائٹس کمیشن کا جو حکومت کی جانب سے حال ہی میں سوشل میڈیا سے متعلق قوانین، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) میں نئی ترامیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو پیکا قانون کی ترمیم شدہ دفعہ 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رکن پارلیمان اور وفاقی وزیر امین الحق نے عمران خان کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے پیکا آرڈیننس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم حکومتی وزرا کا اصرار ہے کہ قوانین میں یہ ترامیم سوشل میڈیا پر غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص یا ادارے کو بدنام نہ کرے۔

پیکا آرڈیننس پر اعتراض کیوں؟

حکومت کی جانب سے یہ ترامیم چھٹی کے روز اتوار کو ایک صدارتی آرڈینینس کے تحت متعارف کروائی گئیں جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے آزادی رائے پر قدغن لگانے کی ایک حکومتی 'کوشش' قرار دیا گیا۔

قانون میں اس ترمیم کے تحت ’فیک نیوز‘ یعنی جعلی خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر اب نہ صرف پانچ سال تک کی قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے بلکہ اسے ناقابل ضمانت جرم بھی قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان، اسلام آباد ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشناسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو پیکا قانون کی ترمیم شدہ دفعہ 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا ہے

اس قانون کے تحت کارروائی کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتاری کے لیے کسی وارنٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ ترمیم شدہ قانون کے مطابق ضروری نہیں کہ یہ غلط خبر کسی شخص سے متعلق ہی ہو۔ اگر یہ خبر کسی ادارے، تنظیم یا کمپنی سے متعلق ہے تو بھی اس قانون کے تحت متاثرہ ادارہ یا تنظیم اس شخص کے خلاف کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے۔

اور کچھ صورتوں میں تو غلط خبر یا معلومات کے خلاف شکایت کرنے والا کوئی تیسرا فرد بھی ہوسکتا ہے جو اس خبر سے براہ راست متاثر نہ ہوا ہو۔

’فیک نیوز یا خبر کے جعلی ہونے کا تعین کون کرے گا؟‘

پیکا آرڈیننس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس ترمیم میں فیک نیوز کی تشریح نہیں کی ہے جس سے اس کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم 'بولو بھی' کی کارکن فریحہ عزیز کا کہنا ہے اس قانون میں یہ بھی نہیں واضح کیا گیا کہ اس کا تعین کون کرے گا کہ آیا سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی خبر یا معلومات 'غلط' ہیں یا نہیں۔ ’ضروری نہیں کہ جو چیز ایک شخص کے نزدیک 'غلط' ہو تو دوسرے بھی اسے ’غلط‘ سمجھیں۔‘

فریحہ نے سوال کیا کہ ’جب پاکستان میں ہتک عزت کے خلاف علیحدہ قانون موجود ہے تو پیکا قانون میں ہتک عزت کو قابل سزا جرم قرار دینے کیا ضرورت ہے؟‘

اپوزیشن کی سینیٹر شیری رحمان نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ’اگر آرڈیننس فیک نیوز کو روکنے کے لیے ہے تو اس میں فیک نیوز کی تشریح کیوں نہیں کی گئی؟ ۔۔۔ فیک نیوز کی آڑ میں تحریک انصاف کی حکومت مخالفین سے انتقام اور اظہار کی آزادی کو سلب کرنا چاہتی ہے۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی کی فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مین عدالتیں ہتک عزت کے قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں جس کی وجہ سے بہت سے پاکستانی ہتک عزت کا کیس برطانیہ میں دائر کرتے ہیں۔

’اگر عدالت یا ججوں سے متعلق بات ہو تو وہ توہین عدالت کے تحت حل کر لیے جاتے ہیں لیکن باقی اداروں سے متعلق اگر بات ہے تو لگتا یہ ہے کہ عدلیہ اس کے متعلق سنجیدہ ہی نہیں۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے قانون میں عدلیہ کو پابند بنایا ہے کہ وہ چھ ماہ میں کیسز نمٹائیں۔

میڈیا، پاکستان، سینسرشپ
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس قانون پر صحافیوں کے ساتھ مشاورت کریں گے

خیال رہے کہ ہتک کے قانون کے تحت عدالت کی کارروائی مکمل ہونے سے قبل پولیس یا کسی اور ادارے کو ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

فواد چوہدری سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ تنقید برائے اصلاح کرے اور یہ چاہے کہ اس قانون کے تحت اس پر کوئی کارروائی نہ ہو تو وہ کیا کرے، ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافیوں کے ساتھ اس متعلق مشاورت کریں گے تاکہ ایسے اقدامات کا تعین کیا جا سکے جس کے ذریعے اس قانون کا غلط استعمال روکا جا سکے۔

’فیک نیوز کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں سے رجوع کرنا بہتر ہے‘

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا پر غلط خبروں اور نفرت انگیز معلومات کا پھیلاؤ ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور دنیا بھر کی حکومتیں، انسانی اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیمیں، سوشل میڈیا کمپنیاں اور ماہرین اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

فریحہ عزیز سمجھتی ہیں کہ غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کے اپنے طریقۂ کار موجود ہیں جس کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مثلاً جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سوشل میڈیا پر مسلسل غلط معلومات شیئر کرنے کے الزامات سامنے آئے تو فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر نے ان کے بیانات کو 'فیکٹ چک' کیا۔ یعنی یہ دیکھا گیا کہ آیا وہ بیان یا معلومات درست ہیں یا نہیں۔ اور غلط خبر کی صورت میں سوشل میڈیا کمپنیوں نے ان مخصوص پوسٹوں کی نشاندہی کی۔

جب صدر ٹرمپ کی جانب سے غلط معلومات اور تشدد پر اُکسانے والے بیانات میں اضافہ ہوا تو فیس بک اور ٹوئٹر کی جانب سے ان کے اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی گئی اور ان کی جانب سے شیئر کیا جانے والا مواد ہٹا دیا گیا۔

تاحال سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان سے متعلق شیئر ہونے والے مواد کو 'فیکٹ چیک' نہیں کرتیں لیکن اگر کسی صارف کو کسی مواد پر اعتراض ہو تو وہ اسے اور اس کو شیئر کرنے والے اکاؤنٹ کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد کمپنی اس کی تحقیقات کر کے اس کے خلاف کارروائی کرتی ہے جس میں مواد کو پلیٹ فارم سے ہٹانے اور اس کو شیئر کرنے والے اکاؤنٹ کی بندش جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی خبروں کو فیکٹ چیک کرنے کے لیے متعدد ادارے بھی موجود ہیں جو کہ بین الاقوامی فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک سے تصدیق شدہ ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسا کوئی بھی ادارہ نہیں جو اس نیٹ ورک سے منسلک یا تصدیق شدہ ہو۔

’غلط خبر کا تعین کرنے والے کے لیے غیر جانبدار ہونا ضروری‘

وزارت اطلاعات پاکستان کی جانب سے ٹوئٹر پر غلط خبروں کو فیکٹ چیک کرنے کے لیے 'فیک نیوز بسٹر' نامی ایک اکاؤنٹ بنایا گیا ہے۔

تاہم بہت سے صحافیوں کا الزام ہے کہ یہ اکاؤنٹ صرف حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے مواد کو غلط قرار دیتا ہے اور اس بات کی وضاحت بھی نہیں دی جاتی کہ کوئی خبر غلط کیوں ہے جو کہ فیکٹ چیکنگ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

فیک نیوز کی نشاندہی کے لیے وزارت اطلاعات کا ٹوئٹر اکاؤنٹ
،تصویر کا کیپشنفیک نیوز کی نشاندہی کے لیے وزارت اطلاعات کا ٹوئٹر اکاؤنٹ

صحافیوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ حکومتی عہدیدار بغیر وضاحت ان کی خبر یا مواد کو غلط قرار دیتے ہیں جس سے سوشل میڈیا پر ان صحافیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے خلاف آن لائن مہم چلائی جاتی ہیں۔

انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کے مطابق غلط خبر کا تعین کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر جانبدار ادارہ ہو اور وہ تمام فریقین کے مواد کی جانچ پڑتال کرے۔

ان کے مطابق کسی خبر کو غلط یا فیک نیوز قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے متعلق صحیح حقائق بھی سامنے رکھے جائیں کیوںکہ محض کسی خبر کو جعلی قرار دینا کافی نہیں۔