پیگاسس اور موبائل ہیکنگ

سنتے ہیں کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ جس کا اندازہ یوں ہوا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو اسکول کے دنوں میں اکثر کوئی ہمارے گھر والوں کو ہماری شکایت کر کے ہمیں ڈانٹ سنواتا تھا۔خیر ڈانٹ سننے کے بعد ہم اسی بات میں الجھے رہتے کہ آخر فلاں بات کیسے میرے گھر والوں کو پتہ چلی اور کس نے بتائی۔تاہم یہ معمہ کبھی نہیں سلجھا اور اب تو ایک عرصہ گزر گیا ان باتوں کو ہوئے۔

لیکن آج بھی دفتر ہو یا گھر کبھی نہ کبھی کچھ باتیں ادھر سے ادھر ہوتی رہتی ہیں۔ مثلاً دفتر میں کسی نے مینیجر سے شکایت کر دی یا گھر میں کسی نے کسی کو کوئی بات بتا دی۔ جس کے بعد دفتر سے لے کر گھر کا ماحول کبھی کبھی میدانِ جنگ بن جا تا ہے اور بات اتنی پیچیدہ اور سیریس ہوجاتی ہے کہ جس کا نتیجہ کافی افسوس ناک ہوتا ہے۔

صدیوں سے دنیا میں خفیہ طور پر دوسروں کی بات جاننے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ہیں۔ پہلی جنگ ِ عظیم میں برطانیہ سمیت کئی ممالک نے جاسوسی کا کام خوب سر انجام دیا تھا۔ جس میں کوڈ ورڈ کے ذریعہ ٹیلی گرام کے ذریعہ باتوں کو پہنچایا جاتا تھا۔تاہم اس سے قبل بھی مغلیہ حکمراں سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں بھی لوگوں نے خوب جاسوسی کی ہے۔ یہی نہیں تمام مذاہب کی تاریخ میں بھی منافق اور خفیہ طور پر لوگوں نے خلفشار پھیلانے کے لئے ادھر کی بات ادھر کی ہے۔ جس کا ذکر تاریخ کے کئی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔

حال ہی میں دنیا بھر میں ایک خبر زوروں پر ہے کہ ایک بڑے پیمانے پر ڈیٹا لیک ہونے کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی نگرانی کمپنی این ایس او گروپ کے ذریعہ فروخت کیے جانے والے ہیکنگ سافٹ وئیر کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور وکلا کو نشانہ بنایا ہے۔

برطانیہ کا معروف قدیم اخبار گارڈین اور 16دیگرمیڈیا تنظیموں کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ای ایس او کے ہیکنگ اسپائی وئیر، پیگاسس کے بڑے پیمانے پر اور مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔جب کہ کمپنی کو اصرار ہے کہ ایسا سافٹ وئیر صرف مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف استعمال کے لئے ہے۔یہ بات تو درست ہے لیکن ہندوستان میں جن لوگوں کا نام لیا جارہا ہے ان میں راہل گاندھی سے لے کر کئی ایسی اہم شخصیات ہیں جن کا دہشت گردی اور مجرمانہ کام سے دور کا بھی رشتہ نہیں ہے۔تو پھر کس وجہ سے اسرائیلی گروپ خفیہ طور پر ان لوگوں کے فون کے پیغام اور باتوں کو سن رہا تھا۔ اور کون سے لوگ اس کام میں ملوث ہیں جو دنیا بھر کے لوگوں نے فون کو ہیک کر کے ان کی باتوں کو سن رہے ہیں۔ ایسے کئی سوالات ہیں جس سے پیگاسس پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔

آئیے جانتے ہیں پیگاسس کیا ہے۔ پیگاسس ایک ایسا ما ل وئیر ہے جو آئی فون اور اینڈروئیڈ آلات کو متاثر کرتا ہے۔تاکہ آلے کے آپریٹرز کو پیغامات، تصاویر اور ای میلز نکالنے، ریکارڈ کالز نکالنے اور مائکروفون کو خفیہ طور پر چلا سکے۔ جو دستاویز لیک ہوئے ہیں اس میں 50,000سے زیادہ فون نمبر وں کی ایک فہرست ہے۔ جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی شناخت 2016کے بعد این ایس او کے مؤکلوں نے دلچسپی رکھنے والے افراد کی ہے۔پیرس میں مقیم ایک غیر منفعتی میڈیا تنظیم، اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کو شروع میں، ممنوعہ کہانیاں، وغیرہ دستیاب ہونے کے بعد اس معاملے کو لے کرمیڈیا تک رسائی حاصل کی گئی۔

گارڈئین اخبار اور اس کے میڈیا پارٹنر آنے والے دنوں میں ان لوگوں کی شناخت ظاہر کریں گے جو فہرست میں شامل ہیں۔ان میں سیکڑوں کاروباری، ماہر تعلیم، این جی او ملازمین، یونین کے عیدیدار اور سرکاری ملازم شامل ہیں، جن میں کابینہ کے وزرا، صدور اور وزرائے اعظم بھی شامل ہیں۔ اس فہرست میں ایک ملک کے حکمراں کے قریبی کنبہ کے افراد کی تعداد بھی شامل ہے۔

پیگاسس کے انکشاف کا آغاز اتوار سے ہوا۔ 180سے زائد صحافی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی نگرانی کی گئی۔ جن میں فینانشیل ٹائمز، سی این این، نیو یارک ٹائمز، فرانس 24، اکانومسٹ، ایسو سی ایٹ پریس کے رپورٹر، ایڈیٹر اور ایگزیکٹیو شامل ہیں۔ اس فہرست میں فری لانس میکسیکن نامہ نگار، سیسیلیو پائینیڈا برٹو کا فون نمبر بھی پایا گیا ہے۔

اپنے وکلاء کے ذریعہ جاری کردہ بیانات میں، این ایس او نے اپنے مؤکلوں کی سرگرمیوں کے بارے میں کیے جانے والے ’جھوٹے دعووں‘ کی تردید کی، لیکن کہا کہ وہ ’غلط‘ استعمال کے تمام معتبر دعوؤں کی چھان بین جاری رکھے گااور مناسب کاروائی کرے گا۔پیگاسس نے مزید کہا کہ یہ فہرست ان نمبروں کی فہرست نہیں ہوسکتی ہے جو ’حکومتوں نے پیگاسس کو استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا ہے‘، اور 50,000کے اعداد و شمار کو’مبالغہ آمیز‘ قرار دیا ہے۔یہ کمپنی 40نا معلوم ممالک میں صرف فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فروخت کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جاسوسی کے اوزار استعمال کرنے کی اجازت دینے سے قبل اپنے صارفین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ وں کو سختی سے جانچتی ہے۔اسرائیلی وزارت دفاع این ایس او پر گہری نظر رکھتی ہے اور کسی ملک کے ساتھ نئے کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے لائسنس کو فراہم کیا جاتا ہے۔

لیک ڈاٹا کے تحت کم از کم دس ممالک کی حکومتوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو این ایس او کے صارفین ہیں۔ ان میں آذربائیجان، بحرین، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا، سعودی عرب، ہنگری، ہندوستان اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ ڈیٹا میں کسی نمبر کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فون کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ این ایس او کا کہنا ہے کہ فہرست میں نمبروں کے اندراج کے دوسرے اور بھی ممکنہ مقاصد تھے۔وہیں روانڈا، مراکش، ہندوستان اور ہنگری نے اس فہرست میں شامل افراد کے فون ہیک کرنے کے لئے پیگاسس کا استعمال کرنے سے انکار کیا۔

ہندوستان میں پیگاسس ہیکنگ نے سیاسی ماحول کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کے روز پارلیمانی مانسون اجلاس کی ابتدا کے بعد، ایجنڈے میں حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی، متعدد وزراء، صحافی، کارکنان اور ایک قائم مقام جج کے موبائل فون نمبروں کی اطلاع پر ہنگامہ ہوا۔ کانگریسی ارکان نے نریندر مودی کی حکومت پر ’غداری‘کا الزام عائد کیا اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔اب تو یہ بات صاف عیاں ہے کہ کیوں ہندوستانی وزیراعظم مودی نے اسرائیلی پیگاسس سے ہاتھ ملا رکھا ہے۔

پیگاسس موبائل ہیکنگ سے جو شور شرابہ شروع ہوا ہے مجھے لگتا ہے کہ دھیرے دھیرے وہ غائب بھی ہوجائے گا۔ آپ کو تو یاد ہوگا اس سے قبل ’پنامہ‘ پیپر بھی لیک ہوا تھا۔ کچھ دن ہنگامہ رہا پھر نہ کسی کو پنامہ یاد ہے اور نہ وہ لوگ جنہوں نے کروڑوں کا غبن کرکے اب بھی آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ نہ جانے آج کے دور میں لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر جھوٹ کی طرفداری کرنے لگتے ہیں اور آخر کار سارا معاملہ ٹائے ٹائے فش ہو جاتا ہے۔اسی طرح پیگاسس کا شور شرابہ ہوگا، پارلیمنٹ سے ٹیلی ویژن پر کچھ باتیں ہوں گی اور پھر نہ پیگاسس کا چرچہ ہوگا نہ کوئی مخالفت ہوگی۔

کچھ سال قبل جب سوشل میڈیا اور اسمارٹ موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم اور ایساضروری حصہ بن گیا کہ اب ہمارا اس کے بنا جینا محال ہے۔ لیکن وہیں مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ اب اسمارٹ موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پیگاسس جیسی خفیہ سافٹ وئیر ہماری ہر بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ میں گارڈئین اخبار کے ان صحافیوں کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی پیگاسس کو ننگا کر کے انسانی حقوق کی حفاظت کی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *