پی ایم آفس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ عمران خان کی انتظامیہ نے شہباز شریف انتظامیہ کو منتقل کیوں نہیں کیا؟

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر پاکستان کے وزیرِ اعظم کے آفس کے سرکاری اکاؤنٹ سے آخری پیغام رواں ماہ کی نو تاریخ کو دیا۔ اسی شب وہ تحریکِ عدم اعتماد میں شکست کے بعد وزیرِاعظم نہیں رہے۔

اپنے آخری پیغام میں انھوں نے شاہین تھری میزائل کی کامیاب لانچ پر پاکستان کی مسلح افواج کے اداروں کو مبارکباد دی۔ اس پیغام کو محض چند گھنٹوں میں 16 ہزار سے زائد لوگوں نے پسند کیا۔

وزیرِاعظم آفس (پی ایم او) کے نام سے پاکستان کے 22ویں وزیرِاعظم کا یہ اکاؤنٹ سنہ 2018 سے سابق وزیرِاعظم عمران خان انتظامیہ چلا رہی تھی اور اس پر 35 لاکھ فالوئرز موجود تھے۔

تاہم سابق وزیرِاعظم کے جاتے ہی پی ایم او کے اس مخصوص ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بند کر دیا گیا اور اس کے اوپر اس کے شروع ہونے سے ختم ہونے تک کے دورانیے کے ساتھ 'آرکائیوڈ' درج کر دیا گیا۔ یعنی اس اکاؤنٹ کو اب استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

عمران خان کے بعد نئے آنے والے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے لیے ایک نیا اکاؤنٹ کھولا گیا ہے۔

یہ بھی پی ایم او کے نام سے ہے تاہم اس کے ہینڈل میں تھوڑا سا ردوبدل کرنا پڑا۔ نئے اکاؤنٹ پر پاکستان کے 23ویں وزیرِاعظم کا ٹوئٹر ہینڈل لکھا گیا ہے جبکہ سر ورق پر تصویر پرانے اکاؤنٹ والی ہے۔

ایک دن میں اس پر فالووئرز کی تعداد گیارہ ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ تاہم پی ایم او کے آرکائیوڈ کیے جانے والے اکاؤنٹ کے 35 لاکھ فالورز نئے اکاؤنٹ کو میسر نہیں آئے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ سابق حکمران جماعت نے پی ایم آفس کے اکاؤنٹ کو اگلی حکومت کو منتقل کرنے کے بجائے بند کیوں کر دیا۔

انس ملک نامی ایک صحافی نے لکھا کہ 'یہ ڈیجیٹل اثاثے بنیادی طور پر ریاست کی پراپرٹی تھی۔۔۔ کہا جا سکتا ہے کہ منتقلی ہموار نہیں ہوئی۔'

عمران خان

ان کے اس سوال کے جواب ایک صارف اسمیر نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت یہ ریاستِ پاکستان کی پراپرٹی تھے؟ 'اگر یہ حکومت کی پراپرٹی تھے اور کسی قانون کے تحت بنائے گئے تھے تو پی ٹی آئی ان کی ملکیت نہیں لے سکتی، انھیں واپس لیا جا سکتا ہے۔'

ایک صارف نے اس جانب اشارہ کیا کہ گذشتہ حکومت کے اختتام پر اس وقت کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی حکومت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اگلی حکومت کو منتقل نہیں کیے تھے اور ان کو آرکائیو کر دیا تھا۔

'جب دباؤ زیادہ بڑھا تو انھیں ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔ میں آرکائیو کرنے کے عمل سے متفق ہوں لیکن یہ حکومت کے ڈیجیٹل ونگ کی ذمہ داری ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں کی نہیں۔'

سوشل میڈیا پر اس بحث پر جو سوال سامنے آئے وہ ان بنیادی نکات کے گرد گھومتے ہیں کہ کیا پاکستان کے اندر کوئی قانون یا قواعد ایسے موجود ہیں جو سوشل میڈیا پر موجود اس پراپرٹی کو 'سرکاری ڈیجیٹل اثاثے' کی حیثیت دیتا ہو؟ اگر نہیں تو ان اثاثوں کی منتقلی کیسے کی جاتی ہے؟

پی ایم او کے اکاؤنٹ کو آرکائیو کیوں کیا گیا؟

سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے جنرل مینیجر عمران غزالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'پی ایم او کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو باقی دنیا میں قائم بہترین مثالوں کے تحت آرکائیو کیا گیا۔'

انھوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں بھی صدر کا جو ٹوئٹر اکاؤنٹ ہوتا ہے وہ نئے صدر کے آنے پر آرکائیو کر دیا جاتا ہے جیسا کہ صدر باراک اوباما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی مثالوں سے واضح ہے۔

عمران غزالی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی انتظامیہ نے پہلے ہی نئے وزیرِاعظم کا پی ایم او کا اکاؤنٹ بنا لیا ہے جس نے کام بھی شروع کر دیا ہے۔

تاہم امریکہ میں آرکائیو ہونے والے ڈیجیٹل اکاؤنٹ آرکائیو ہونے کے بعد امریکہ کی نیشنل آرکائیوز اینڈ ریکارڈز ایڈمنسٹریشن کے کنٹرول میں چلے جاتے ہیں اور اس حوالے سے ایک واضح پیغام اس اکاؤنٹ پر لکھ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ تاہم عمران غزالی کا کہنا تھا کہ 'آرکائیو کیے جانے والے اکاؤنٹ تک رسائی اب ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے پاس نہیں ہے۔'

'تمام سرکاری ڈیجیٹل اثاثے اگلی انتظامیہ کے حوالے کر دیے ہیں'

گذشتہ حکومت کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے جنرل مینیجر عمران غزالی نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ایم او کے اکاؤنٹ کے علاوہ حکومت کے باقی تمام اکاؤنٹس آرکائیو نہیں کیے جاتے اور اگلی انتظامیہ کو منتقل ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 'حکومتِ پاکستان کے وہ تمام ڈیجیٹل اثاثے جیسا کہ ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور لنکڈ ان جو کہ ڈیجیٹل میڈیا ونگ چلا رہا تھا وہ وزارتِ اطلاعات کے حکام کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور وہ اب وزارت کے کنٹرول میں ہیں۔'

پاکستان حکومت کا ٹوئٹر پر موجود اکاؤنٹ بدستور موجود ہے۔ اسے آرکائیو نہیں کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان کے نام سے قائم اس اکاؤنٹ کے 25 لاکھ فالوئرز ہیں۔

شہباز

پی ایم او اور باقی حکومتی اثاثوں میں فرق کیوں ہے؟

حکومتِ پاکستان اور باقی محکموں کے اکاؤنٹس کو بھی آرکائیو نہیں کیا گیا تو سوال یہ تھا کہ پی ایم او یعنی وزیرِاعظم کے دفتر کے اکاؤنٹ کو کیوں آرکائیو کر دیا گیا؟

صوبہ پنجاب میں سابق وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار کے سوشل میڈیا ایڈوائزر اظہر مشوانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں یہی پریکٹس اپنائی جاتی ہے۔

'لیکن امریکی صدر کی طرح پاکستان کا پی ایم او بھی ایک مخصوص سربراہ اور ان کے کاموں کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے بین الاقوامی سطح پر بھی ہر نیا آنے والا سربراہ نئے اکاونٹ کے ساتھ آتا ہے۔' اظہر مشوانی نے ٹوئٹر پر ہونے والی بحث میں یہی جواب ٹوئٹر پر ڈالا تھا۔

تاہم اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ (ن لیگ کی) حکومت نے سنہ 2018 میں جاتے ہوئے حکومت کے اکاؤنٹس بھی آرکائیو کر دیے تھے اور انھیں اگلی انتظامیہ کو منتقل نہیں کیا تھا۔' ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو نئے سرے سے تمام اکاؤنٹس دوبارہ بنانے پڑے تھے۔

پی ایم او کے لاکھوں فالوورز کا کیا ہو گا؟

سابق وزیرِاعظم عمران خان کے پی ایم او اکاؤنٹ پر لگ بھگ 35 لاکھ فالوئرز موجود تھے جو اکاؤنٹ کے آرکائیو ہونے کے بعد اسی اکاؤنٹ کے ساتھ ہی منسلک رہ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان کا ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ اس سے مختلف ہے جس کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہے۔ تو کیا وہ فالوئرز جو ان کے آرکائیو ہو جانے والے پی ایم او کے اکاؤنٹ کو فالو کر رہے تھے کیا وہ اگلی انتظامیہ کے پی ایم او اکاؤنٹ پر منتقل ہو سکتے تھے؟

صوبہ پنجاب میں سابق وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار کے سوشل میڈیا ایڈوائزر اظہر مشوانی کے مطابق نئی انتظامیہ ٹویٹر سے رابطہ کر کے اس حوالے سے درخواست کر سکتی تھی تاہم یہ اختیار ٹویٹر کے پاس ہے کہ وہ اس پر کیا فیصلہ کرتا ہے۔

کیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے کوئی قانون نہیں؟

صوبہ پنجاب میں وزیرِاعلٰی کے نام سے ان کا اکاؤنٹ ان کی جماعت کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ چلا رہا تھا۔ اظہر مشوانی نے بتایا کہ عثمان بزدار کے وزیرِاعلٰی نہ رہنے کے باوجود اُن کا اکاؤنٹ ڈیجیٹل میڈیا ونگ ہی چلا رہا ہے کیونکہ وہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے ممبر ہیں۔

پنجاب کے محکمہ اطلاعات اور کلچر کے سیکریٹری راجہ جہانگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے حوالے سے مقامی طور پر کوئی قانون موجود نہیں۔ اس لیے ان کو چلانے کے حوالے سے بہترین روایات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔

'حکومت کے محکمہ جات کے جتنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں ان کو سرکاری سطح پر چلایا جاتا ہے اس لیے کسی حکومت کے آنے یا جانے سے وہ ختم نہیں ہوتے۔ جبکہ کسی سیاسی شخصیت سے منسلک اکاؤنٹ کو ان کی جماعت خود دیکھتی ہے۔'

راجہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی یہی روایات ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی کی ذاتی سیاست کو ریاستی محکموں کے ساتھ نہ جڑنے دیا جائے۔