پی ٹی آئی نے امریکا میں اپنے ایجنٹس کو 'غیر قانونی فنڈنگ کا ذمہ دار ٹھہرادیا

اسلام آباد: بظاہر امریکا سے غیر قانونی فنڈنگ سے انکار کے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نہ اب یہ وضاحت پیش کی ہے کہ اگر عمران خان کی تحریری ہدایت کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی دو امریکی کمپنیوں نے کوئی فنڈز غیر قانونی طور پر اکٹھے کیے ہیں تو اس کی ذمہ داری ان کمپنیوں کا انتظام سنبھالنے والے ایجنٹوں پر عائد ہوتی ہے۔

باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی نے یہ تازہ مؤقف الیکشن کمیشن پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے سوال نامے کے تحریری جواب میں اپنایا۔

 رپورٹ کے مطابق ای سی پی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کا عمل تیز کرنے کی حالیہ ہدایات کے بعد ملاقات کی جو مارچ 2018 سےجاری ہے۔

تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اس جماعت کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں دائر کیا تھا۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ بدھ کے اجلاس میں درخواست گزار کے وکیل سید احمد حسین شاہ نے کمیٹی کی جانب سے اپنے موکل کو پی ٹی آئی کی مالی دستاویز فراہم کرنے سے انکار پر احتجاج کیا۔

ان دستاویز میں پی ٹی آئی کی 23 بینک اسٹیٹمنٹس بھی شامل ہیں جو اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر موصول ہوئی تھیں اور الیکشن کمیشن کے پاس پوشیدہ ہیں۔

سید احمد حسین شاہ کی معاونت اقبال چودھری نے کی، احمد حسین شاہ کا کہنا تگھا کہ دستاویز دینے سے انکار کر کے کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے 30 مئی 2018 کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے دستاویزات اور اسکروٹنی کے عمل کو خفیہ رکھنے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا۔

کمیٹی کے چیئرمین نے آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزات پی ٹی آئی کے تحفظات پر درخواست گزار کو نہیں فراہم کیے جارہے۔

جس پر درخواست گزار اکبر ایس بابر نے شکایت کی کہ اگر جن کے خلاف تفتیش کی جارہی ہو وہ ہی اس سارے عمل کا انتظام سنبھالیں تو اسکروٹنی اور تحقیقات کس طرح شفاف اور آزادانہ ہوسکتی ہے۔

اسکروٹنی کمیٹی کا آئندہ اجلاس آج بروز جمعرات ہوگا، اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار نے 80 اجلاسوں کے باوجود اس عمل میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ 'جب زیر تفتیش لوگ تفتیشی عمل پر اثر انداز ہونے لگیں تو پیش رفت کس طرح ہوسکتی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'کمیٹی نے انہیں پی ٹی آئی کی بینک دستاویز فراہم کرنے سے اس لیے انکار کیا کہ کہ فریق (پی ٹی آئی) نے اس کی مخالفت کی تھی اور حتیٰ کہ 'آڈیٹر کو بھی پی ٹی آئی کے دباؤ پر تبدیل کردیا گیا'۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا کہ 'ایجنٹ کی اکٹھا کی گئی کوئی بھی کنٹری بیوشن جو قابل پوچھ گچھ ہوسکتی ہے وہ بنیادی (فریق) کی دی گئی ہدایات/ذمہ داری/ کام کے دائرہ کار سے ماورا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *