پی ٹی اے کی جانب سے پاکستان میں پانچ ڈیٹنگ ایپس پر پابندی

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں پانچ ڈیٹنگ ایپس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ان ڈیٹنگ ایپس میں ٹِنڈر، ٹیگڈ، سکاؤٹ، گرائنڈر اور ’سے ہائے‘ شامل ہیں۔

پی ٹی اے کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایپس کے ذریعے ’غیر اخلاقی اور غیر مہذب منفی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ مذکورہ پلیٹ فارمز کی انتظامیہ کو ڈیٹنگ خدمات کو ختم کرنے اور لائیو مواد کو پاکستان کے مقامی قوانین کے مطابق ماڈریٹ کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ ان پلیٹ فارمز کی انتطامیہ کو کسی ’اخلاقی اور قانونی دائرے‘ میں لانے کے لیے کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ان پلیٹ فارمز نے مقررہ وقت کے اندر نوٹسز کا جواب نہیں دیا لہٰذا اتھارٹی نے مذکورہ ایپس کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

ادارے کے مطابق کمپنیوں کی انتظامیہ کی جانب سے ’مناسب لائحہ عمل کے تحت غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کو مقامی قوانین پر عمل کرتے ہوئے ماڈریٹ کرنے کی یقین دہانی کرائے جانے پر‘ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔

پی ٹی اے کا پابندی عائد کرنے کا نظام کیا ہے؟

ترجمان پی ٹی اے خرم مہران نے بتایا کہ پی ٹی اے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے سیکشن 37 کے تحت غیر اخلاقی اور فحش مواد کے خلاف کارروائی عمل میں لاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ کارروائی عوامی شکایات پر بھی شروع کی جاتی ہے تاہم اس حوالے سے پی ٹی اے کا اپنا بھی مانیٹرنگ کا میکنزم موجود ہے۔

پی ٹی اے کے اندر تین بااختیار حکام پر مشتمل کمیٹی کو اتھارٹی کہا جاتا ہے جو پابندی عائد کرنے یا ہٹانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرتی ہے۔

یہ کمیٹی چیئرمین پی ٹی اے ریٹائرڈ میجر جنرل عامر عظیم باجوہ، پی ٹی اے کے ممبر فنانس محمد نوید اور ممبر کمپلائنس اینڈ انفورسمنٹ ڈاکٹر صدیق کھوکر پر مشتمل ہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق اس کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل یہ کمیٹی خود ہی سنتی ہے اور اگر کوئی فریق اپیل کے بعد بھی فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو پھر وہ پی ٹی اے کے فیصلے کو صرف ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے کیونکہ یہ اتھارٹی ایک عدالتی فورم کی طرح ہی کام کرتی ہے جس کے فیصلوں کو ماتحت عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی اے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ ان پلیٹ فارمز کی انتطامیہ کو کسی اخلاقی اور قانونی دائرے میں لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بندش عارضی طور پر کی گئی ہے تاہم اگر ان ڈیٹنگ پلیٹ فارمز کی انتظامیہ نے پی ٹی اے کو تسلی بخش جواب نہ دیا تو پھر یہ پابندی مستقل طور پر عائد رہے گی۔

ان کے مطابق ان ڈیٹنگ ویب سائٹس پر لڑکے اور لڑکیاں اپنے پروفائل بناتے ہیں۔ پابندی کا فیصلہ اس وقت لیا گیا جب ان سائٹس کی انتظامیہ کو کچھ قابل اعتراض مواد ہٹانے کا کہا گیا اور انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

یاد رہے کہ آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے والا یہ قانون مسلم لیگ نواز کے دور میں بنایا گیا تھا جس پر سول سوسائٹی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کی گئی تھی۔

اس قانون کے تحت ایف آئی اے کو بھی سوشل میڈیا کے مواد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ماضی میں اس قانون کو بلاگرز اور سماجی اور سیاسی کارکنان کے خلاف استعمال کرنے کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پی ٹی اے نے یوٹیوب اور چینی ویب سائٹ ٹک ٹاک کی انتظامیہ کو فحش مواد ہٹانے کے بارے میں نوٹسز جاری کیے تھے۔

پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک اور بیگو جیسی سوشل میڈیا ایپلیکیشنز پر موجود ’فحش اور غیراخلاقی مواد‘ اور اس کے پاکستانی معاشرے اور نوجوان نسل پر منفی اثرات کے حوالے سے شکایات ملی ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ان شکایات کے بعد مذکورہ بالا سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے لیکن تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اب فوری طور پر بیگو کو بند کرنے اور ٹک ٹاک کو ایک حتمی نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پی ٹی اے نے ایک ہفتے کے اندر ہی بیگو پر عائد پابندی اٹھا لی تھی اور ٹک ٹاک کے جواب پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

پی ٹی اے کے ترجمان کے مطابق 28 اگست کو چیئرمین پی ٹی اے نے چینی ویب سائٹ ٹک ٹاک کے سینیئر حکام سے ایک آن لائن میٹنگ کی اور ان کی طرف سے پاکستانی قوانین کے احترام میں ویب سائٹ سے قابل اعتراض مواد ہٹائے جانے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کمپنی آئندہ بھی مانیٹرنگ کا کڑا نظام یقینی بنائے تاکہ غیر قانونی مواد پاکستان میں کہیں بھی دیکھا نہ جا سکے۔

error: