پی ٹی وی کو طویل عرصے بعد رواں برس ایک ارب سے زائد منافع ہوا، وزیراطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) طویل عرصے بعد ایک اعشاریہ 3 ارب روپے منافع پر آگئی ہے جبکہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کی جانب سے دورہ منسوخ کرنے پر ذاتی نقصان ہوا۔

اسلام آباد میں معروف اسپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ کرکٹ ملک میں شاید واحد چیز ہے جو پورے پاکستان کو جوڑتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوائے کرکٹ کے کوئی اور چیز پاکستان کو اکٹھا نہیں کرتی، کراچی سے پشاور تک اور گلگت بلتستان کے پہاڑوں سے لے کر گوادر کے سمندر تک اگر کوئی ایک چیز پاکستان کو اکٹھا کرتی ہے تو وہ کرکٹ ہے، اس لیے ہمارے دل اپنی ٹیم اور کھلاڑیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے دورہ منسوخ کیا تو ہمیں اپنا نقصان ہوا، پی ٹی وی کا 25، 30 روپے بننے تھے اس کا نقصان ہوا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ یہ سال بھی ایسا ہے کہ پی ٹی وی طویل عرصے بعد پہلی مرتبہ ہم ایک اعشاریہ تین ارب روپے کے منافع پر آئے ہیں اور یہ پیسے بھی جڑ جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مایوسی ہوئی تھی جو پاکستان پر ایک اثر پڑا تھا، کرکٹ کے دورے ہم پر کتنا اثر ڈالتے ہیں اس کا انداز اس بات سے لگائیں کہ جب نیوزی لینڈ نے دورہ منسوخ کیا تو ہم دو شنبے میں تھے اور مجھے وزیراعظم کو آگاہ کرنے کے لیے اطلاع دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف کو بتایا اور ہم تینوں کا یہ خیال تھا کہ وزیراعظم کی تقریر تک انہیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا جائے ورنہ یہ تقریر متاثر ہوگی۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ اس سے اندازہ لگائیں کہ ہمارے معاملات پر کرکٹ کا کتنا اثر ہے اور اس موقع پر نعمان نیاز کی جانب سے ترتیب دی گئی کرکٹ لائبریری کی تعریف کی اور کہا کہ اس کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔

ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ احسن اقبال پہلے فیصلہ کریں کہ مسلم لیگ (ن) کو چلا کون رہا ہے اور ان کا لیڈر کون ہے، پہلے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر کا اعتماد کا ووٹ لیں پھر باہر والوں سے کہیں کہ اعتماد کا ووٹ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو صرف قومی اسمبلی نہیں بلکہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام کا اعتماد حاصل ہے اور اسی اعتماد کے بل پر وہ حکومت کرتے ہیں۔

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مسلم لیگ (ن) ہر وقت اپنے کرپشن سے چین کو کیوں ملاتی ہے، شریف خاندان کے کرپشن کا سی پیک سے کوئی تعلق نہیں ہے، کرپشن کا تعلق ان سے ہی سی پیک سے نہیں ہے اور اس کی تحقیقات ہوں گی۔

error: