پی ڈی ایم کا جلسۂ لاہور

جلسے،جلوسوں اور سیاسی تحاریک کی بابت میرا رویہ اب ’’دیکھے ہیں بہت ہم نے…‘‘ والا ہوچکا ہے۔گزشتہ دو برسوں سے ’’گوشے میں قفس کے‘‘ والے آرام کی لت میں بھی مبتلا ہوچکا ہوں۔کرونا کی وجہ سے نازل ہوئی سماجی دوری نے بلکہ اسے عادت بنا ڈالا۔چند بہت ہی پیارے دوست مگر مجھے تنہائی کے سپرد کرنے کو ہرگز آمادہ نہیں۔حیلوں بہانوں سے اگرچہ انہیں ٹالنے میں کامیاب رہتاہوں۔ہفتے کی صبح البتہ ’’’بچنا‘‘ مشکل ہوگیا۔ایک صحافی دوست کے لئے PDMکا لاہور والا جلسہ دیکھنا لازمی تھا۔وہ مجھے اسلام آباد سے تقریباََ ’’اغوائ‘‘ کرکے لاہور لے آئے۔ آٹھ مہینوں کے طویل وقفے کے بعد اپنے آبائی شہر آیا ہوں۔ یہاں داخل ہوتے ہی بچپن کی یادوں کے سبب اداس وپریشان ہوگیا۔

صحافتی تجسس کا تقاضہ تھا کہ موٹروے سے نکلتے ہی مینارِ پاکستان کا رُخ کیا جائے جہاں اتوار کے دن PDMنے اپنا جلسہ منعقد کرنا تھا۔ راوی روڈ سے اس جانب کار چلی تو میٹرو بس اور ٹریفک کی سہولت کے لئے بنائے فلائی اوورز سرپر نازل ہوئے محسوس ہوئے۔مینارِ پاکستان تک لے جانے والا راستہ مجھے اجنبی ہونے کے علاوہ ان تمام نشانیوں یا سنگ میل سے قطعاََ محروم نظر آیا جو مجھے اپنے شہر میں ا ٓنکھ بند کرتے ہوئے کسی بھی منزل تک پہنچادیا کرتے تھے۔

’’تاریخی‘‘ عمارتوں سے وابستہ ایک مخصوص لینڈ سکیپ Landscape ہوا کرتا ہے جو ایسی عمارتوں کو ایک مخصوص پس منظر میں ’’دیکھنے کی چیز‘‘ بناتا ہے۔ مینارِ پاکستان کی اصل ’’شان‘‘ یہ تھی کہ وہ ’’منٹو پارک‘‘ کے نام سے پھیلے وسیع وعریض چمن کے گویا قلب میں سراٹھاکر’’کھڑا‘‘ ہوتے ہوئے آسمان کو چھونے کی کوشش کرتا نظر آتا تھا۔مینارِ پاکستان کے گرد سانپوں کی طرح رینگتے فلائی اوورز نے مگر اس ’’کاوش‘‘ کی Feelکو چھپا دیا ہے۔بادشاہی مسجد کے مینار البتہ اب بھی پوری شان وشوکت سے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔’’جدید‘‘ طرزِ تعمیر آج سے کئی سو برس قبل تعمیر ہوئی اس مسجد کے پرشکوہ اثر کو معدوم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لوہے کے جنگلے کی مدد سے بنائی دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے بالآخر ایک دروازے سے مینارِ پاکستان کے ’’باغ‘‘ میں داخل ہوا تو مزید لوہا اور ’’پکے فرش‘‘ سے بنا ’’کارپارک‘‘ اس باغ کو جو کبھی حد نگاہ تک پھیلا ہوا نظر آتا تھا کاملاََ تباہ کرتا دکھائی دیا۔

جہاں جلسہ ہونا تھا وہاں سب سے نمایاں مختلف ٹی وی نیٹ ورکس کی پہنچائی DSNGsکا ہجوم تھا اور مواصلاتی رابطے کو یقینی بنانے والی تاروں کے جال۔ ہفتے کی سہ پہر چار بجے PDMکا جلسہ شروع ہونے سے تقریباََ 24گھنٹے قبل اس کے انعقاد کی تیاری ہورہی تھی۔ ’’انتظامات‘‘ کا جائزہ لینے مختلف جماعتوں کے مقامی رہ نما اپنے کارکنوں کے گروہ کے ہمراہ ٹولیوں کی صورت گھوم رہے تھے۔ کرونا کی دوسری اور پہلے سے زیادہ خطرناک تصور ہوتی لہر کے ہوتے ہوئے بھی میں یہ نوٹس کرنے کو مجبور ہوا کہ دس فی صد سے زیادہ لوگوں نے چہرے پر ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔ اپنے چہرے پر ’’سرجیکل ماسک‘‘ چڑھائے بلکہ خود کو ’’کمزور‘‘ محسوس کرنا شروع ہوگیا۔

جلسے سے ایک دن قبل نظر آئی گہماگہمی واضح الفاظ میں پیغام دے رہی تھی کہ اس کے لئے Momentumبن چکا ہے۔انتظامیہ کے لئے اسے روکنا ایک احمقانہ عمل ہوگا۔ میڈیا میں لگائی بڑھکوں کے برعکس ریاست مذکورہ Momentumکے روبرو یقینا سرنگوں نظر آئی۔

مینارِ پاکستان کے ابتدائی مناظر دیکھنے کے بعد تھوڑا آرام ضروری تھا۔ شام ہوئی تو مزید دوست جمع ہوگئے۔طویل گپ شپ کے بعد رات کے بارہ بجے کے قریب فرمائش ہوئی کہ خود کو ’’جماندرو لاہوری‘‘ کہتا شخص انہیں لکشمی چوک کا ’’گائیڈڈٹور‘‘‘ کروائے۔ چوک کے کسی گوشے میں بیٹھ کر ٹکاٹک بنانے کے لئے توے پر ہوئے شور سے بھی لطف اندوز ہوا جائے۔ 

لکشمی چوک سے پی ٹی وی کی عمارت والی سڑک پر دائیں اور بائیں پرانے سینما ہائوسز کی طویل قطار ہوا کرتی تھی۔ اب وہاں مختلف کاروباری اداروں کے دفاتر بن چکے ہیں۔ اس سڑک کے آغاز میں ایک بینک کے بند دروازے کے سامنے میز اور کرسیاں لگوائیں۔ کھانے کا انتظار شروع ہوگیا۔

میں اپنے خیالات میں گم تھا تو ایک دوست نے حیران ہوتے ہوئے اعلان کیا کہ جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس سڑک پر ہی موجود کسی دفتر میں داخل ہوئے ہیں۔مولانا کی رات کے اس سمے لکشمی چوک میں موجودگی مجھے یاوہ گوئی محسوس ہوئی۔تھوڑا وقت گزرنے کے بعد مگر ان کی جماعت کے ایک کارکن میرے پاس تشریف لائے اور بہت احترام سے بتایا کہ مولانا یاد فرمارہے ہیں۔

اپنے کارکنوں کے ایک بڑے ہجوم کے ساتھ مولانا ایک بڑی میز کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اُٹھے اور گرم جوشی سے گلے لگایا۔ میں صحافتی پھکڑپن سے انہیں مسکرانے کو مجبور کرتا رہا۔میرے دوستوں کو مگر مولانا کی صورت میں Exclusieveملنے کی اُمید نظر آرہی تھی۔ موبائل فون کے ذریعے ان کا برجستہ انٹرویو ریکارڈ ہونا شروع ہوگیا۔

ایک عالمی نشریاتی ادارے کے لئے ریکارڈ ہوئے انٹرویو کے سوالات بہت ٹھوس اور تھوڑا تلخ بھی تھے۔ مولانا نے مگر کمال اعتماد اور اطمینان سے ان کا بھرپور جواب دیا۔ اتوار کے روز ہونے والا جلسہ ان کے لئے مذکورہ انٹرویو کی بدولت Make or Breakوالی اہمیت کا حامل نظر نہیں آیا۔تمام تر توجہ ان کی یہ پیغام دینے کو مرکوز رہی کہ ’’جعلی نظام‘‘ کے خاتمے کی تحریک شروع ہوچکی ہے۔عمران خان سے ’’نجات‘‘ اس کا پہلا ہدف تو ہے مگر حتمی منزل ہرگز نہیں۔ ’’عوام کی بھرپور شرکت سے حقیقی جمہوریت کا قیام‘‘ اب مؤخر کیا ہی نہیں جاسکتا۔

مولانا کا انٹرویو سنتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ PDMدرحقیقت 1977 میں نو جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے چلائی تحریک جیسی کوئی اور تحریک شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔وہ تحریک مگر اس برس کے مارچ میں ہوئے انتخابات کے فوراََ بعد ان میں ہوئی مبینہ’’دھاندلی‘‘ کے خلاف شروع ہوگئی تھی۔ عمران حکومت کو اقتدار میں لانے والا انتخاب جولائی 2018میں ہوا تھا۔ دو برس گزرجانے کے بعد اس کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہوئے 1977جیسی تحریک کا ماحول کیسے بنایا جاسکتا ہے۔اس سوال کے بارے میں سوچتے ہوئے کوئی تشفی بخش جواب نہیں ڈھونڈپایا ہوں۔

مولانا سے گفتگو نے مگر کھانے کے بعد مینارِ پاکستان کا دوسرا چکر لگانے کو اُکسایا۔دھند میں لپٹے مینارکے احاطے میں سٹیج کے لئے کنٹینر لگ چکا تھا۔جلسے کو روشن بنانے کیلئے بندوبست بھی جاری تھا۔جلسے میں ہوئی تقاریر کو بڑی سکرینوں پر دکھانے کے انتظامات ہورہے تھے۔

سرد رات کے آخری لمحات میں نوجوانوں کی ٹولیاں موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر مسلم لیگ (نون) کے جھنڈے لہراتی اور ’’ایک واری فیر…‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جلسہ گاہ کا ’’چکر‘‘‘لگانے آرہی تھیں۔بطور صحافی میرے لئے مگر اہم بات یہ بھی تھی کہ مینارِ پاکستان کے اِردگرد پھیلے قدیم لاہور کے محلوں سے مختلف خاندان عورتوں اور بچوں سمیت رات کے اس سمے وہاں پہنچ کر گہماگہمی میں ’’حصہ‘‘ ڈالتے نظر آرہے تھے۔ان خاندانوں پر مشتمل ٹولیوں کی جانب سے کئی بار حمزہ شہباز شریف کی حمایت میں جذباتی وارفتگی کے ساتھ نعرے بھی لگائے جاتے۔ رات کے اس سمے یہ منظر دیکھنے کے بعد بآسانی یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ لاہوریوں کی ایک مؤثر تعداد نے PDMکے لاہور والے جلسے کو بڑے مان سے Ownکرلیا ہے۔اتوار والا جلسہ ان کے جذبات کو کس جانب موڑے گا اس کے بارے میں قبل از وقت قیافہ شناسی سے گریز مگر لازمی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *