Site icon Dunya Pakistan

پی ڈی ایم کو چھوڑنے والا سیاسی طور پر ختم ہوجائے گا، شاہد خاقان عباسی

لندن: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں دراڑ کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک جماعت اس اتحاد سے دور ہوتی ہے تو وہ خود کو سیاسی طور پر نقصان پہنچائے گی۔

 رپورٹ کے مطابق شاہد خاقان عباسی امریکا کا سفر کرنے کے بعد کچھ دنوں سے لندن میں ہیں، جہاں ان کی بہن اور بہنوئی کی طبعیت کووڈ 19 کی وجہ سے کافی خراب تھی، وہ کووڈ ٹیسٹ کے بعد رواں ہفتے پاکستان واپس آجائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے ان میڈیا رپورٹس کی تصدیق سے انکار بھی کیا کہ وہ لندن میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ملے تھے کیونکہ انہیں برطانیہ کے قرنطینہ قواعد کے تحت گھر چھوڑنے سے منع کیا گیا تھا۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ سیاست میں ’اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم ہونی ہے اور تمام جماعتیں اس پر تھک چکی ہیں، یہاں تک کہ اگر ایک جماعت کسی وجہ سے اتحاد سے دور ہوتی ہے تو وہ خود کو سیاسی طور پر تباہ کردے گی‘۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’اس مداخلت نے ہم سب کو نقصان پہنچایا ہے اور صاف بات ہے کہ یہ جاری نہیں رہ سکتی اور تمام سیاسی گروہ یہ جانتے ہیں‘۔

جب ان سے ایل این جی کرپشن ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے حالیہ وارنٹس جاری کرنے کی اطلاعات پر جواب چاہا تو سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’جیل سے مجھے ڈر نہیں لگتا، (اگرچہ) میں اس کا منتظر نہیں ہوں لیکن میں پہلے بھی وہاں تھا اور یہ مجھے دوبارہ ڈال سکتے ہیں‘۔

دوران گفتگو لانگ مارچ کے لیے پی ڈی ایم کے پلان سےمتعلق انہوں نے کہا کہ مارچ ہوگا لیکن یہ آخری کھیل نہیں، ’ہم وزیراعظم اور حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس سے کم کچھ نہیں، میں جانتا ہوں کہ ایک احتجاجی تحریک خود سے حکومت کی تبدیلی نہیں کرسکتی لیکن اس سے عمران خان کو لانے والوں کو پیغام جائے گا کہ ان کا وقت ختم ہوچکا‘

اس موقع پر انہوں نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بیک چینل ڈائیلاگ (پس پردہ مذاکرات) کو بھی مسترد کیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میری رائے میں یہ ’فضول‘ تھے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اس حکومت سے بات جیت کا کوئی فائدہ نہیں، اسے بس جانا ہے‘۔

Exit mobile version