چاند زمین کے موسم پر اثر انداز کیوں ہوتا ہے؟

آج سے ساڑھے چار ارب سال قبل دو قدیم سیارے آپس میں ٹکرائے اور مل کر اُس سیارے کو جنم دیا جس پر آپ اور ہم رہتے ہیں۔

ان دو سیاروں پروٹو ارتھ اور تھییا کے اس ملاپ کے دوران ایک چٹان الگ ہو کر ہمارا چاند بن گئی۔

کائنات کی اس اتھاہ گہرائی اور تاریکی میں ہمارا قریب ترین ساتھی ہمارے وجود سے بہت قریبی طور پر منسلک ہے اور ہماری زندگی کے ردھم چاند کی گردش کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

چاند ہماری زمین پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے، سائنسدان اس گتھی کو آج تک مکمل طور پر سلجھا نہیں پائے ہیں۔ چیلنج یہ ہے کہ دیومالائی کہانیوں کو سچائی سے الگ کر کے یہ جانا جائے کہ ہمارے اس ساتھی کا ہماری زمین پر واقعتاً کیا اثر ہوتا ہے۔

زمین پر چاند کا جو اثر سب سے واضح انداز میں دیکھا جا سکتا ہے، وہ جوار بھاٹا ہے یعنی سمندری لہروں کا چڑھنا اور اترنا۔

زمین دن میں ایک مرتبہ اپنے ہی محور پر گھومتی ہے اور اس دوران چاند کی کششِ ثقل زمین کے قریب ترین حصے پر موجود سمندر کے پانی کو اپنی جانب کھینچتی ہے جس سے زمین کی سطح پر ایک طرح کا ابھار پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی طرح زمین کے گھومنے کے باعث پیدا ہونے والی قوّت سینٹری فیوگل فورس جو کسی چیز کو مرکز سے دور دھکیلتی ہے، سمندر کے پانی کو دوسری جانب سے بھی اٹھاتی ہے چنانچہ یہ ابھار زمین کے دوسری طرف بھی پیدا ہوتا ہے۔

زمین ان دونوں ابھاروں کے درمیان گھومتی ہے جس کے باعث دن میں دو مرتبہ ہائی ٹائید یا جوار یعنی اونچی لہریں اور دو مرتبہ لو ٹائیڈ یا بھاٹا یعنی کم سطح کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔

ہر 18.6 سال کے دوران چاند کا مدار بھی زمین کے خطِ اُستوا یعنی ایکوئیٹر کی بہ نسبت پانچ ڈگری اوپر سے لے کر پانچ ڈگری نیچے تک جاتا ہے۔

اس چکر کو سب سے پہلے سنہ 1728 میں دستاویزی شکل دی گئی تھی اور اسے لونر نوڈل سائیکل کہا جاتا ہے۔

جب چاند کا مدار زمین کے خطِ استوا سے دور جانے لگتا ہے تو جوار بھاٹا کی شدت میں کمی آنے لگتی ہے اور جب یہ ایکویئٹر سے ہم آہنگ ہونے لگتا ہے تو جوار بھاٹا کی شدت بڑھ جاتی ہے۔

اب امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سطحِ سمندر بڑھنے کے اثرات اس لونر نوڈل سائیکل کے ساتھ مل کر سنہ 2030 تک جوار بھاٹا کے باعث آنے والے سیلابوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ کر سکتے ہیں۔

ناسا کی سطحِ سمندر میں تبدیلی پر نظر رکھنے والی سائنسی ٹیم کے سربراہ بینجمن ہیملنگٹن جائزہ لے رہے ہیں کہ سطحِ سمندر کیسے قدرتی اور انسانی عوامل پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا ساحلی علاقوں کی آبادیوں پر کیا اثر ہو گا۔

کیلیفورنیا منتقل ہونے سے قبل بینجمن امریکہ کی ساحلی ریاست ورجینیا میں رہتے تھے جہاں سیلاب پہلے سے ہی ایک بڑا مسئلہ تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بلند لہروں سے پیدا ہونے والے سیلاب ساحلی آبادیوں کی زندگی پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے ملازمت پانے کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے اور کاروبار کھلا رکھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ ابھی یہ صرف ایک دقت ہے لیکن وقت کے ساتھ اسے نظرانداز کرنا اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔‘

چاند
،تصویر کا کیپشنسنہ 2030 میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا

بینجمن کہتے ہیں کہ ان سیلابوں سے ساحلی پٹیوں کی ساخت تبدیل ہو گی، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچے گا اور چاند کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔

’ہر اگلی دہائی کے ساتھ سیلابوں کی شدت میں چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ لونر نوڈل سائیکل دنیا بھر میں ہر جگہ اثرانداز ہوتا ہے اور سمندری سطح بھی پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے۔ اس لیے ہم دنیا بھر میں بلند لہروں کے باعث پیدا ہونے والے سیلابوں کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوتا دیکھیں گے۔‘

چاند کے اس نوڈل سائیکل کے باعث انسانوں کے لیے کئی ایک مشکلات پیدا ہوں گی تاہم ساحلی علاقوں میں پائی جانے والی جنگلی حیات کے وجود کے لیے یہ ایک خطرہ بن سکتا ہے۔

رٹگرز یونیورسٹی کی ایلیا روشلن لونر نوڈل سائیکل اور نمکین دلدلی علاقوں میں مچھروں کی آبادی کے درمیان تعلق کو پرکھ رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب یہ نوڈل سائیکل اپنے عروج پر ہوتا ہے تو اونچی لہریں زمین میں کافی اندر تک موجود مچھروں کی آبادیوں کو متاثر کرتی ہیں۔‘

اس دوران اونچی لہروں سے سب سے زیادہ سیلاب پیدا ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ کِل فش لاتے ہیں۔

کِل فش نمکین اور تازہ پانی میں پائی جانے والی مچھلیاں ہوتی ہیں اور ان کے ایک گروہ میں کئی سو مچھلیاں ہو سکتی ہیں۔

یہ مچھلیاں مچھروں کی اُن آبادیوں کو ختم یا کم کر دیتی ہیں جو ابھی انڈے، لاروے یا پیوپا کی شکل میں ہوتے ہیں، چنانچہ انھیں نشونما پا کر پانی سے باہر اُڑنے کا موقع نہیں مل پاتا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عام طور پر چاند کے اس سائیکل کے عروج پر مچھروں کی آبادیاں کم ہوتی ہیں مگر جب یہ چکر اپنے زوال پر ہوتا ہے تو لہریں مچھروں کی آبادیوں کو اتنا متاثر نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے مچھروں کو نشونما پانے کا موقع مل جاتا ہے اور اُن کی آبادی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

اور اس سے صرف مچھر ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اُن کی بہتات سے کئی دیگر جانداروں کے لیے خوراک دستیاب ہوتی ہے۔

نمکین دلدلوں میں بڑے ممالیہ سبزی خور نہیں ہوتے مگر اُن کی جگہ جھینگے، کیکڑے، گھونگھے، ٹڈے اور دیگر کیڑے موجود ہوتے ہیں اور یہ سب جاندار سمندری پرندوں اور مچھلیوں کے لیے خوراک کا بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔

روشلن کہتی ہیں کہ ’سمندر کی سطح میں اضافہ اور لونر نوڈل سائیکل کا عروج مل کر نمکین دلدلوں کو ڈبو سکتے ہیں۔‘

دلدلی علاقے
،تصویر کا کیپشننمکین دلدلی علاقے میں حیاتیاتی تنوع بہت زیادہ ہوتا ہے اور ان میں کاربن کی بھاری مقدار جذب ہو سکتی ہے

اور جب نمکین دلدلوں میں رہنے والے یہ جاندار مر جائیں گے تو ان پر منحصر سمندری پرندے، مچھلیاں اور دیگر انواع کو بھی نقصان پہنچے گا۔

ان میں انسان بھی شامل ہیں کیونکہ نمکین دلدلیں عالمی معیشت میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں طرح طرح کی سمندری حیات پائی جاتی ہیں جو ماہی گیری میں پکڑی جانے والی تمام انواع کا 75 فیصد ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ نمکین دلدلیں بے پناہ ماحولیاتی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ زمین پر موجود کسی بھی دوسرے ایکو سسٹم کے مقابلے میں زیادہ کاربن جذب کر سکتی ہیں۔

ان کے مقابلے میں تازہ پانی والے دلدلی علاقے ان نمکین دلدلی علاقوں کی بہ نسبت 10 گنا زیادہ کاربن جذب کرتی ہیں اور اس کی ایک وجہ ان کی بہتات ہے۔

جب چاند کے اس چکر اور سمندری سطح میں اضافے کے باعث سیلابوں میں اضافہ ہو گا تو میٹھے دلدلی علاقے بھی زبردست تبدیلی سے گزر سکتے ہیں۔

کرسٹین ہوفینسپرگر ناردرن کینٹکی یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنسدان ہیں اور وہ میٹھے دلدلی علاقوں میں سیم و تھور کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تازہ پانی کی ساحلی دلدلیں ایک پورے دن کے دوران لہروں کی زیادہ تبدیلیوں سے گزرتی ہیں اور ان میں نمکین دلدلوں کے مقابلے میں زیادہ حیات پائی جاتی ہیں۔‘

اُن کے مطابق ’ان میں سے کئی انواع اپنے کام میں سپیشلسٹ ہیں۔ پودے خوراک کی اس کڑی میں سب سے اوپر ہوتے ہیں اور جب وہ خود کو تازہ پانی کے پودوں سے بدل کر نمکین پانی برداشت کرنے والے پودوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں تو ان پر منحصر جاندار مثلاً پرندے، خشکی پر پائے جانے والے کیڑے وغیرہ بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ تازہ پانی کی انواع کھارے پن میں اضافے اور تازہ پانی میں رہنے کے لیے بہاؤ میں مزید اوپر جانے سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔‘

’میٹھی ساحلی دلدلوں میں کھارا پن سطحِ سمندر میں اضافے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا اور سیلاب جتنے زیادہ آئیں گے، میٹھی دلدلیں کھارے پن کی اتنی ہی زیادہ زد میں آئیں گی۔‘

چاند

جوار بھاٹا کے بغیر دنیا کا موسمی نظام بہت مختلف ہوتا۔ جوار بھاٹا کی وجہ سے ہی سمندری بہاؤ چلتا ہے جو گرم اور ٹھنڈا پانی پوری دنیا میں گھماتا ہے۔

گرم سمندری بہاؤ گرم اور مرطوب موسم لاتا ہے جبکہ ٹھنڈا سمندری بہاؤ ٹھنڈا اور خشک موسم لاتا ہے۔

لونر نوڈل سائیکل کے باعث زمین پر موسم پیدا کرنے والا ایک بہت ہی اہم عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

عام طور پر خطِ استوا پر تیز ہوائیں گرم، سطحی پانی کو مغرب کی جانب دھکیلتی ہیں جس سے یہ برِ اعظم جنوبی امریکہ سے انڈونیشیا کی جانب جاتا ہے اور اس کی جگہ ٹھنڈا، گہرا پانی اوپر کی جانب اٹھتا ہے۔

ایل نینیو کے دوران یہ ٹریڈ ونڈز یا تجارتی ہوائیں معمول سے زیادہ تیز ہوتی ہیں اور گرم پانی کو ایشیا کی جانب زیادہ سے زیادہ دھکیلتی ہیں۔

وہ ٹھنڈا پانی جو برِ اعظم شمالی اور جنوبی امریکہ کے ساحلوں پر موجود ہوتا ہے وہ تیزی سے شمال کی جانب جانے لگتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زمین کے جنوبی حصوں میں سردیاں نسبتاً گرم ہونے لگتی ہیں جبکہ شمال میں معمول سے زیادہ ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔

ایل نینیو اور لا نینیا کے عوامل مجموعی طور پر اُس موسمی سائیکل کا حصہ ہیں جسے ایل نینیو سدرن اوسیلیشن (ای این ایس او) کہا جاتا ہے۔ سدرن اوسیلیشن کا مطلب خطِ استوا پر بحرالکاہل میں سطحِ سمندر پر ہوا کے دباؤ میں تبدیلی ہے۔

اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ایل نینیو اور لا نینیا کا ایک دوسرے میں تبدیل ہونے پر چاند کی کششِ ثقل سے پیدا ہونے والی ایک زیر سطحی سمندری لہر بھی اثرانداز ہوتی ہو۔

اسی طرح یونیورسٹی آف ٹوکیو کے محققین کے مطابق چاند کے 18.6 سال کے لونر نوڈل سائیکل کو دیکھ کر ایل نینیو کے بارے میں پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔

برطانیہ کے نیشنل اوشینوگرافی سینٹر کے سائنسدان فل ووڈورتھ کے مطابق ’لونر نوڈل سائیکل کا واقعتاً سطحِ سمندر کے درجہ حرارت پر اثر ہوتا ہے۔‘

ووڈورتھ کہتے ہیں کہ چاند کی کششِ ثقل جوار بھاٹا کے ساتھ ساتھ سطحِ سمندر کی بالائی تہوں کے آپس میں ملنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اُن کے مطابق ایسا خاص طور پر شمالی بحرالکاہل میں ہوتا ہے۔

زمین برف اور ہوا

جہاں لونر نوڈل سائیکل آئندہ دہائیوں میں یقینی طور پر بے پناہ تبدیلیاں لائے گا، وہیں اگر مختصر عرصے کی بات کریں تو چاند زمین پر ایسے بھی اثرات کا سبب بنتا ہے جن کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

چاند کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قطبی درجہ حرارت اور آرکٹک خطے کی برف کے پھیلاؤ میں کمی اور زیادتی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

مگر یہاں چاند کا اثر اُس کے 18.6 سال کے سائیکل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے ماہانہ سائیکل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

سیٹلائٹ سے کی جانے والی پیمائش سے معلوم ہوا ہے کہ قطبین مکمل چاند کے دوران 0.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ چاند کی کششِ ثقل سے پیدا ہونے والی قوت برف کی چادروں کو توڑتی ہے اور سمندروں میں گرمی کے بہاؤ میں تبدیلی لاتی ہے جس سے بحرِ آرکٹک میں برف کی مقدار بھی بدلتی ہے۔

برطانیہ کے نیشنل اوشینوگرافی سینٹر میں ماہرِ بحری فزکس کرس ولسن کہتے ہیں کہ چاند سمندر کی سطح اور گہرائی دونوں میں ہی بہاؤ اور لہریں پیدا کرتا ہے۔

’یہ بہاؤ اور لہریں گرم پانی کے مکس ہونے یا دباؤ ڈالنے والی حرکت کی وجہ سے سمندری برف کو پگھلا سکتے ہیں یا توڑ سکتے ہیں۔ برف اس سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور یوں اس کا پگھلنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔‘

آرکٹک
،تصویر کا کیپشنآرکٹک کی برف پر چاند کا بہت اثر پڑتا ہے

مگر صرف سمندر کی برف اور پانی ہی جوار بھاٹا سے متاثر نہیں ہوتیں بلکہ چاند کی کششِ ثقل کا اثر خشکی اور فضا پر بھی ہوتا ہے۔

زمین میں جوار بھاٹا بھی سمندر کی طرح ہی ہوتا ہے۔ زمین کی ساخت بھی سمندر کی طرح ہی تبدیل ہوتی ہے تاہم اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے آتش فشانی سرگرمی اور زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔

اسی طرح فضا پر ہونے والے اثر کے باعث توانائی بالائی فضا سے نچلی جانب منتقل ہوتی ہے اور فضا کے دباؤ میں تبدیلی آتی ہے۔

چاند کے باعث فضا کے دباؤ میں تبدیلی کا پتا سب سے پہلی مرتبہ سنہ 1847 میں لگایا گیا تھا۔

چاند کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی فضا میں بھی سمندر کی طرح ابھار اور تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔

رائل میٹرولوجیکل سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹیو لِز بینٹلی کہتی ہیں کہ ’فضا کے دباؤ میں تبدیلی کا تعلق بلند درجہ حرات سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کے مالکیول اپنے اندر بخارات کی صورت میں زیادہ نمی سما سکتے ہیں جس سے زمین پر نمی اور نتیجتاً بارش کے امکان میں کمی واقع ہوتی ہے۔‘

چنانچہ فضا کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے سرد اور خشک موسم پیدا ہوتا ہے جبکہ زیادہ دباؤ پرسکون اور خوشگوار موسم کو جنم دیتا ہے مگر فضا میں تبدیلی کی وجہ سے بارش پر چاند کا اثر سورج کی گرمی کے باعث پیدا ہونے والے اثر سے کم ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محققین کے مطابق چاند کی کشش سے بارشوں کی مقدار صرف ایک فیصد تک ہی متاثر ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں فضائی سائنسز کے پروفیسر جان والیس کہتے ہیں کہ ’جب ہمارا سورج اور چاند ایک ساتھ کھینچ رہے ہوں تو یہ چھ گھنٹے پہلے یا بعد کے مقابلے میں کچھ زیادہ بارش کو جنم دیتا ہے۔ چنانچہ چاند کی کشش سے بارش کی مقدار پر نہیں بلکہ صرف بارش کے وقت پر فرق پڑتا ہے۔‘

چاند کا اثر زمین پر کبھی کم تو کبھی زیادہ ہوتا ہے مگر اس کا زمین پر زندگی کے وجود میں اہم کردار ہے۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ چاند ہی ہے جس کے باعث زمین پر زندگی ممکن ہوئی ہے۔

زمین جب اپنے محور پر گھوم رہی ہوتی ہے تو چاند کی کشش اسے متوازن رکھتی ہے جس کے باعث ہمیں ایک مستحکم آب و ہوا میسر ہوتی ہے۔

اس کی عدم موجودگی میں زمین پریشان کن حد تک ڈگمگاتی رہتی اور موسم، دن اور راتیں سب نہایت مختلف دکھائی دیتے۔

مگر جن لہروں نے ممکنہ طور پر زمین پر زندگی کو جنم دیا، وہ یقینی طور پر چاند کو ہم سے دور دھکیل رہی ہیں۔

ہر سال چاند زمین پر پیدا ہونے والی لہروں کے باعث ہم سے چار سینٹی میٹر دور جاتا جا رہا ہے۔

زمین چاند کے مدار کے مقابلے میں اپنے محور پر زیادہ جلدی گھوم جاتی ہے اس لیے چاند کی کشش سے پیدا ہونے والا لہروں کا ابھار چاند کو زمین کی طرف زیادہ شدت سے کھینچتا ہے اور چاند کی اس شدت کی وجہ سے یہ اپنے مدار سے تھوڑا ہٹ جاتا ہے اور یوں اس کا مدار بڑا ہوتا جا رہا ہے۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر آپ کسی جھولے میں بیٹھے ہوں تو جھولا جتنا زیادہ تیز چلے گا، آپ کو اتنا ہی زیادہ محسوس ہو گا جیسے آپ باہر گرنے والے ہیں۔

اس پوری کائنات میں چاند ہمارا قریب ترین ساتھی ہے اور اس کے بغیر زمین بہت تنہا سی ہوتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *