چند پاکستانیوں کے دورۂ اسرائیل کے چرچے

پیٹرول کی قیمتوں میں یکمشت بھاری بھر کم اضافے کے اعلان کے بعد مہنگائی کی جو جان لیوا لہر نمودار ہوگی اس کی بابت سوچتے ہوئے بھی خوف آرہا ہے۔ بلی کو اِردگرد دیکھ لینے کے بعد کبوتر اپنی آنکھ بند کرلیا کرتے ہیں۔دورِ حاضر کے انسانوں کی توجہ مگر حقیقی مشکلات سے غافل رکھنے کے لئے سوشل میڈیا ایجاد ہوچکا ہے۔ پاکستان میں اس پر مقبول ہوئے عنوانات کو نگاہ میں رکھیں تو اس وقت اہم ترین مسئلہ چند پاکستانیوں کا دورئہ اسرائیل بن چکا ہے۔اسرائیل کے صدر نے اس کی خیرمقدمی تصدیق بھی کردی ہے۔سوشل میڈیا کے ’’جہادیوں‘‘ کو اب یہ طے کرنا ہے کہ مذکورہ دورے کا دوش کس کے ذمے لگایا جائے۔

تحریک انصاف کے ’’مجاہدوں‘‘ پر اعتبار کریں تو ’’امریکی سازش‘‘ کی بدولت نازل ہوئی ’’امپورٹڈ‘‘ حکومت متنازعہ دورے کی حقیقی ذمہ دار ہے۔حکومتی ترجمان یہ تاثر زائل کرنے کے لئے وضاحتیں جاری کئے جارہے ہیں۔بات اگرچہ بن نہیں رہی۔ تحریک انصاف کا لگایا ہوا لزام مقبول ہورہا ہے۔

جو پاکستانی اسرائیل گئے تھے دوہری شہریت کے حامل ہیں۔انہوں نے ایک رضاکارانہ تنظیم بنارکھی ہے۔وہ اسرائیل کے ساتھ مسلم ممالک کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی حامی ہے۔خاصی تحقیق کے باوجود میں ایسے شواہد تلاش کرنے میں ناکام رہا ہوں جو مذکورہ تنظیم کے نواز شریف کے نام سے منسوب پاکستان مسلم لیگ سے سرسری روابط کی بھی نشان دہی کریں۔ سارا قضیہ احمد قریشی نام کے صحافی کی وجہ سے کھڑا ہوا ہے۔وہ پاکستان کا عالمی دُنیا کے روبرو ’’سافٹ‘‘ چہرہ دکھانے کے لئے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان ٹیلی وژن کا پلیٹ فارم استعمال کررہے ہیں۔

احمد قریشی ایک متحرک آدمی ہیں۔ٹی وی سکرین پر رونق لگانے کی صلاحیتوں سے مالا مال۔ خوب صورت اور رواں انگریزی لکھتے اور بولتے ہیں۔عربی زبان پر کامل گرفت کے بھی حامل ہیں۔جنرل مشرف کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد بطورصحافی نمایاں ہوئے تھے۔1975سے صحافتی دھندے سے وابستہ ہونے کے باوجود اس سے قبل میں نے ان کا نام نہیں سنا تھا۔2000کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں تاہم ایک روز مجھے پی ٹی وی سے ایک ’’نئے پروگرام‘‘ میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔مجھے بتایا گیا کہ ایک ذہین وفطین صحافی دریافت ہوئے ہیں ۔وہ قوم کو اہم ترین عالمی امور کی بابت اپنے پروگرام کے ذریعے آگاہ رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ان کی شدید خواہش ہے کہ وہ اپنے پروگرام کے لئے جو ’’پائلٹ‘‘ ریکارڈ کروارہے تھے میںاس میں شریک ہوں۔

پی ٹی وی سے میرا بچپن سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اس کے لئے بے تحاشہ ڈرامے بھی لکھے ہیں۔وہاں سے کسی پروگرام میں شرکت کی دعوت آئے تو مجھے انکار کا حوصلہ نہیں ہوتا۔بہرحال جب مذکورہ ’’آزمائشی‘‘ پروگرام کی ریکارڈنگ کے لئے سٹوڈیو پہنچا تو احمد قریشی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی۔وہ بہت گرم جوشی اور اشتیاق سے ملے اور محبت بھرے الفاظ میں بتایا کہ چونکہ میں خارجہ امور خاص طورپر بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی بابت رپورٹنگ کی وجہ سے جانا جاتا ہوں وہ اپنا ’’پہلا پروگرام‘‘ میرے ساتھ ’’ون آن ون‘‘ انٹرویو سے کرنا چاہ رہے ہیں۔

اپنی تعریف ہر شخص کو بھاتی ہے۔ میرا دل بھی موم ہوگیا۔ احمد قریشی صاحب نے مگر سوالات کا آغاز کیا تو اندازہ ہوگیا کہ وہ درحقیقت میری رائے جاننا نہیں چاہ رہے۔ مجھے بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار رکھنے کا حامی تصور کرتے ہوئے ’’غدار‘‘ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔موصوف کو اندازہ نہیں تھا کہ ایسے الزامات کے ذریعے مجھے سکرین پر گھیرنا کافی مشکل ہے۔لاہور کی گلیوں نے مجھے بے بنیاد الزامات لگانے والوں کے ساتھ ’’سیدھا ہوجانا‘‘سکھارکھا ہے۔ان کے سوالات کے جواب میں بدتمیزی اختیار کرنے کے بجائے بطور صحافی ’’اطلاع‘‘ دینا شروع ہوگیا کہ جنرل مشرف صاحب کے قریب ترین اور طاقت ور مصاحب جناب طارق عزیز صاحب بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اہم ترین بھارتی پیغامبروں سے خفیہ مذاکرات کررہے ہیں۔بہتر یہی ہوگا کہ قریشی صاحب اپنے ذہن میں موجود سوالات ان کے روبرو اٹھائیں۔

پروگرام ریکارڈ ہوگیا مگر ’’آن ایئر‘‘ نہیں گیا۔ ٹی وی ہی نہیں بلکہ وزارت اطلاعات کے اعلیٰ ترین افسروں نے بھی قریشی صاحب کی سرزنش کی کہ انہوں نے مجھ جیسے ’’پاگل‘‘کو گھیرنے کے لئے کیوں مدعو کرلیا تھا۔ اس کے بعد میری قریشی صاحب سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ پاکستان ٹیلی وژن سے جدا ہوکر تاہم وہ مقبول ترین نجی چینلوں کے لئے پروگرام کرتے ہوئے مشہور سے مشہور تر ہوتے چلے گئے۔صحافیانہ حلقوں میں تاثر یہ پھیلا کہ وہ ’’محبان وطن‘‘‘کی سرپرستی کرنے والے حلقوں کے چہیتے ہیں۔میں ایسے ’’چہیتوں‘‘ سے ہرگز حسد محسوس نہیں کرتا۔خلوص دل سے بلکہ ان کے لئے مزید ترقی کا خواہاں رہتا ہوں۔

کافی برس گزرگئے تو میں 2006میں ضیا شاہد کے فرزند اور انتہائی پرخلوص انسان عدنان شاہد کے نکالے انگریزی اخبار کااسلام آباد میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہوگیا۔ ان دنوں شوکت عزیز صاحب ہمارے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ میری تنقید کو خندہ پیشانی سے نظرانداز کرتے اور اکثر آف دی ریکارڈ ملاقاتوں کے لئے مدعو کرتے۔ایسی ہی ایک ملاقات میں ان کے وزیر اطلاعات عظیم طارق صاحب بھی موجود تھے۔وہاں بیٹھے ہوئے خبر آئی کہ اسرائیل نے حزب اللہ کو تباہ کرنے کے ارادے سے لبنان پر حملہ کردیا ہے۔طارق صاحب نے مشورہ دیا کہ مجھے اس جنگ کی رپورٹنگ کے لئے لبنان جانا چاہیے۔وزیر اعظم شوکت عزیز کو یہ تجویز پسند آئی۔فیصلہ سنایا کہ اگر میں آمادہ ہوجائوںتو پاکستان ٹیلی وژن مجھے ’’خصوصی نمائندہ‘‘ کے طورپر لبنان بھیج سکتا ہے۔میں فوراََ رضا مند نہ ہوا۔ عدنان شاہد مرحوم کو لیکن یہ خبر ملی تو تڑپ اٹھے۔ان کا خیال تھا کہ چند ہی ہفتے قبل نکالے اخبار کے لئے میری لبنان پر ہوئے حملے کی برسرزمین جاکر ہوئی رپورٹنگ دھواں دھار Exclusiveثابت ہوسکتی ہے۔میں آمادہ ہوگیا۔لبنان روانگی سے چند گھنٹے قبل مگر خبر آئی کہ احمد قریشی بھی میرے ہمراہ ہوں گے۔میں ان کے نام کی بابت ہرگز حیران نہیں ہوا۔

ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ قریشی صاحب کی وجہ سے لبنان میں قیام بہت آسان ہوگیا۔وہ عربی زبان بہت روانی سے بولتے ہیں۔ان کی مصاحبت لوگوںسے گفتگو میں بہت مددگارثابت ہوئی۔ جنگ میں مگر جب شدت آئی تو وہ اس ہوٹل میں مزید قیام کور ضامند نہ ہوئے جو بیروت کے جنوبی علاقوں کے قریب ترین تھا۔یہ علاقے حزب اللہ کے گڑھ ہیں۔وہاں چلے جائیں تو گماں ہوتا ہے کہ آپ لبنان نہیں ایران کے کسی شہر میں گھوم رہے ہیں۔مذکورہ علاقوں کی اسرائیلی ڈرون کڑی نگرانی کرتے۔شام ڈھلتے ہی وہاں وحشیانہ بمباری کا آغاز کردیا جاتا۔ہمارے ہوٹل کی کھڑکیاں پوری رات زلزلے کی زد میں آئی محسوس ہوتیں۔ وہاں مقیم مسافروں کو رات گئے اسرائیل کے متعارف کردہ نظام کے ذریعے ٹیلی فون آتے جن میں متنبہ کیا جاتا کہ حملہ آور فوج ہوٹل کے قریب پہنچ چکی ہے۔اسے فوراََ خالی کردیا جائے۔ میں اگرچہ ڈٹا رہا اور بالآخر نوبت بہ ایں جارسید کہ اس ہوٹل میں واحد ’’مسافر‘‘ رہ گیا۔

قریشی صاحب البتہ ایسے ہوٹل منتقل ہوگئے جو مسیحی آبادی سے مختص مشرقی بیروت میں واقع تھا۔وہاں زندگی جنگ کے پورے ایک ماہ کے دوران بھی پررونق رہی کیونکہ اسرئیلی طیارے اور بم وہاں کا رخ ہی نہیں کرتے تھے۔قریشی صاحب میری ’’ضد‘‘ کو نہایت احترام سے ’’بے وقوفی‘‘ ٹھہراتے رہے۔جان بچی سولاکھوں پائے مگر مجھ بدبخت نے کبھی سیکھا ہی نہیں۔عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد اگرچہ اب ’’لسا‘‘ پڑگیا ہوں۔

جو داستان لکھی ہے بنیادی مقصد اس کا آپ کو یہ سمجھانا ہے کہ بھائی احمد قریشی بہت تگڑے انسان ہیں۔وہ اسرائیل گئے ہیں تو کچھ سوچ کر ہی ’’گرے‘‘ ہوں گے۔ وہ مگر اسرائیل جانے والے پہلے پاکستانی صحافی نہیں۔آج سے چند برس قبل تک کاروباری اعتبار سے بہت کامیاب تصور ہوتے ایک صاحب اخبارات کے لئے دفاعی تجزیہ کاری والے مضامین بھی باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔ میں ان کا نام جان بوجھ کر نہیں لکھ رہا۔ یہ ’’دفاعی تجزیہ‘‘ کار بھی جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل گئے تھے اوروہاں کی قومی اسمبلی کی خارجہ کمیٹی سے ملاقات بھی کی تھی۔ ان کے ’’خفیہ دورے‘‘ کی خبر مجھ بدنصیب ہی نے بریک کی تھی۔ وہ صاحب اس کی وجہ سے بہت چراغ پا ہوئے۔تردید کی مگر ہمت نہ دکھاپائے۔ کالم ختم کرتے ہوئے یاد آپ کو یہ بھی دلانا ہے کہ جنرل مشرف ہی کے دور میں ہمارے ان دنوں کے وزیر خارجہ خورشید قصوری صاحب نے ترکی کی مدد سے اسرائیل کے وزیر خارجہ سے گرم جوش ہاتھ بھی ملایا تھا۔ بات اس کے بعد مگر آگے نہیں بڑھ پائی تھی۔