چودھری صاحبان کی لگائی ماضی کی گیم اور اب؟

کوئی پسند کرے یا نہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت نے اس جماعت کے حامیوں کو بہت حوصلہ بخشا ہے۔اسد عمر اور فواد چودھری جیسے وزراء نے نتائج مرتب ہونے کے دوران ہی ٹویٹ لکھے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کو ان کے ذریعے یاد دلایا کہ وہ ’’اپنے گھر‘‘ کی فکر کریں اور عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کی بدولت فارغ کرنے کا خواب بھلادیں۔

یہ کالم لکھنے سے قبل سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی تو ’’مولانا ذرا گھبرا…‘‘ والا ٹرینڈ نمایاں نظر آیا۔تحریک انصاف کے حامیوں کو ایسے ٹرینڈ کی واقعتا ضرورت تھی کیونکہ ’’اندر کی خبر‘‘ رکھنے کے دعوے دار کئی سینئر ترین صحافی تواتر سے اصرار کئے جارہے ہیں کہ مبینہ ’’سرپرستوں‘‘ کی شفقت سے بقول ان تبصرہ نگاروں کے محروم ہوجانے کے بعد عمران حکومت کی کشتی بھنور کی زد میں آگئی ہے۔حکمران جماعت کے 20سے 30افراد ’’ڈوبتی‘‘ کشتی سے چھلانگ لگانے کو بے چین ہیں۔ایسے عالم میں عمران خان صاحب کے ایک منہ پھٹ وزیر-علی امین گنڈاپور- کے بھائی کا ڈیرہ اسماعیل خان شہر کا میئرمنتخب ہوجانا تحریک انصاف کے لئے یقینا حوصلہ افزا خبر ہے۔جشن منانے کی مستحق۔

ڈیرہ اسماعیل خان گئے مجھے دس سے زیادہ برس گزرگئے ہیں۔اپنے گھر تک محدود ہوجانے کے باوجود میں انتخابی حرکیات کا طالب علم ہوتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدوار کو کامیاب ہوتا دیکھ رہا تھا۔ علی امین گنڈا پور ایک تگڑے وزیر ہیں۔دل میں آئی بات کو لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دینے کے عادی۔ان کا لہجہ اور الفاظ متوسط طبقے کی اکثریت کو پسند نہیں آتے۔ اندھی نفرت وعقید ت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں تاہم علی امین تحریک انصاف کے جنونی حامیوں کو ’’جی دار‘‘ نظر آتے ہیں۔ان کے بھائی ڈیرہ اسماعیل خان کی میئرشپ کے امیدوار تھے۔اس شہر کے ووٹروں کو لہٰذا امید بندھی کہ ان کے حق میں استعمال ہوا ووٹ’’ضائع‘‘ نہیں ہوگا۔اپنے بھائی کے اثرورسوخ کی بدولت وہ شہر کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کماحقہ ترقیاتی فنڈز بھی حاصل کرپائیں گے۔

گنڈا پور خاندان کے خلاف الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے دوران تادیبی اقدامات کا اعلان کیا۔نظر بظاہر انہیں انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش ہوئی۔بالآخر عدالت میں ہوئی اپیلوں نے انہیں اکھاڑے میں موجود رکھا۔میری دانست میں الیکشن کمیشن کے مذکورہ فیصلوں نے گنڈا پور کے حامیوں کے دلوں میں ضد کی آگ بھڑکائی۔وہ مزید توانائی سے انہیں کامیاب کروانے میں جت گئے۔

تحریک انصاف کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان میں مزید آسانیاں اس وجہ سے بھی نمودار ہوئیں کیونکہ وہاں ان کا مولانا فضل الرحمن کے نامزد کردہ امیدوار سے ون آن ون مقابلہ نہیں تھا۔پیپلز پارٹی کے فیصل کنڈی جو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے ہیں بہت لگن سے ڈیرہ اسماعیل خان کا میئر منتخب ہونے کے بعد سیاسی منظر پر انگریزی والے ’’بینگ‘‘ کے ساتھ واپس آنا چاہ رہے تھے۔گنڈا پور کے مخالف یوں تقسیم ہوگئے۔سہ فریقی مقابلے میں تحریک انصاف کامیاب رہی۔جمعیت اور پیپلز پارٹی کے ووٹوں کو یکجا کیا جائے تو وہ تحریک انصاف کو ملے ووٹوں سے دو ہزار سے زیادہ کی تعداد میں ہیں۔ون آن ون مقابلے کی صورت میں شاید گنڈا پور خاندان کو جیتنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا۔جیت کا نشہ مگر ہمیں تفصیلات نظرانداز کرنے کو مجبور کردیتا ہے۔

تحریک انصاف کے لئے حوصلہ افزاء خبر یہ بھی ہے کہ عمران حکومت کی بابت چل چلائو کی سرگرشیوں کے رواں موسم میں شہباز شریف صاحب جب چودھری شجاعت حسین صاحب سے طویل عرصے تک پھیلی رنجشوں کے بعد ملاقات کو گئے تو وہاں سے تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں کوئی واضح پیغام نہیں ملا۔مسلم لیگ (نون) کے صدر سے قبل آصف علی زرداری صاحب نے بھی چودھریوں کے ہاں حاضری دی تھی۔ مولانا فضل الرحمن بھی ان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔گجرات کے چودھری مگر فی الوقت عمران خان صاحب کا ساتھ چھوڑنے کو آمادہ نظر نہیں آرہے۔دریں اثناء چودھریوں کے ایک دیرینہ وفادار کامل علی آغا نے اگر مگر کے بغیر ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کھل کر بیان کردیا کہ وہ عمران حکومت نہیں ’’ریاست‘‘ کے ساتھ ہیں۔ تاثر ان کی گفتگو سے یہ ملا کہ ’’ریاست‘‘ فی الحال عمران حکومت کی سرپرستی ترک کرنے کو تیار نہیں۔

کامل علی آغا صاحب کی گفتگو سنی تو یاد آیا کہ 2018ء کے انتخاب سے تقریباََ چھ ماہ قبل مجھے چکوال کے چند دوستوں کی بدولت خبر ملی کہ تحریک انصاف اور چودھریوں کی مسلم لیگ (قاف) کے مابین یہ طے ہوگیا ہے کہ تلہ گنگ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر عمران خان صاحب کسی امیدوار کو نامزد نہیں کریں گے۔مذکورہ ’’خبر‘‘ کااس وقت تک کسی اخبار یا ٹی وی چینل میں سرسری تذکرہ بھی نہیں ہورہا تھا۔ دونوں فریقین نے اپنے مابین طے ہوئے بندوبست کا انتخابی عمل شروع ہونے تک بھی اعلان نہیں کیا۔ انتخابی نتائج آجانے کے بعد ہی معاملات کھل کر ہمارے سامنے آئے۔

چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی انتہائی تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ اپنے گھر کے دروازے کھلے رکھتے ہیں اور سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے ہر ممکن اجتناب برتتے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی دوسری حکومت کے دوران ان دونوں نے ڈٹ کر نواز شریف صاحب کا ساتھ دیا۔ شہباز صاحب پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔جیل میں چند دن گزارنے کے بعد مگر علاج کروانے بیرون ملک چلے گئے۔ان کی عدم موجودگی میں چودھری پرویز الٰہی نے وٹو حکومت کو مسلسل گھیرے میں رکھا۔اپنی استقامت اور ثابت قدمی کی بدولت وہ خود کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا یک ونتہا امیدوار تصور کرنا شروع ہوگئے۔1997ء کے بعد مگر جب نواز شریف صاحب ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے منصب پر لوٹے تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ شہباز شریف صاحب کے سپرد کردی گئی۔

وفاق میں چودھری شجاعت حسین کو وزیر داخلہ بنایا گیا۔ اس وزارت کا ’’ڈنڈا‘‘ مگر احتساب کے لئے نامزد ہوئے سیف الرحمن کے ہاتھ میں تھمادیا گیا۔ چودھری صاحب موصوف کی پھرتیوں سے اکثر بجھے بجھے رہتے۔بالآخر اکتوبر1999ء ہوگیا جس کے بعد گجرات کے چودھریوں نے نہایت مہارت سے گیم لگائی۔ مسلم لیگ (ق) کی سربراہی میاں اظہر کے بجائے چودھری شجاعت کے سپرد ہوئی اور چودھری پرویز الٰہی پانچ برس تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان دنوں وہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں۔وفاق میں ان کی جماعت کو دو وزارتیں میسر ہیں۔پرویز الٰہی کی مہارت سے پنجاب اسمبلی وہ واحد اسمبلی تھی جہاں گزشتہ برس کے مارچ میں سینٹ کی خالی ہوئی نشستوں کے لئے انتخابی عمل کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔مسلم لیگ (نون) نے ایک نشست کے لئے پرویز رشید کو بھی نامزد کررکھا تھا۔موصوف کے بارے میں یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ وہ ’’تخریبی‘‘ مشوروں سے نواز شریف اور ان کی دختر کو ’’گمراہ‘‘ رکھتے ہیں۔انہیں انتخاب میں حصہ لینے سے نااہل ٹھہرانے کی گیم لگی۔ وہ فارغ ہوگئے تو پنجاب اسمبلی میں موجود ہرجماعت اپنے جثے کے مطابق حصہ لینے کو یک دم  تیار ہوگئی۔ اس کے لئے مذاکرات کو ’’کامیاب‘‘ کرواتے ہوئے پرویز الٰہی صاحب نے اپنے وفادار کامل علی آغاکو بھی سینٹ کے لئے منتخب کروالیا۔

سوال اٹھتا ہے کہ عمران خان صاحب سے تعلق ختم کرنے کے عوض آصف علی زرداری۔شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی صاحب کو ’’انعام‘‘ کی صورت کیا فراہم کرنے کو آمادہ ہیں۔جب تک اس کا تعین نہیں ہوجاتا مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف کے مابین موجود تعلق برقراررہے گا۔اس کے سوا روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی نظر آتیں تمام باتیں محض قیاس آرائیاں اور ذاتی خواہشات ہیں۔ ٹھوس ’’خبر‘‘ ہرگز نہیں۔