چودھری نثار کے سر پر ’’ہما‘‘ بٹھانے کی ناکام کوششیں

’’صحافت‘‘ کے نام پر ان دنوں ہمارے ہاں یاوہ گوئی کا جو شور برپا ہے اس میں حصہ ڈالنا میرے بس کی بات نہیں۔پرانی وضع کا رپورٹر رہا ہوں۔ہمارے سینئر نہایت شفقت سے ہمیشہ سمجھاتے رہے کہ ’’خبر‘‘ برسرزمین ہوتی ہے۔اسے بہت لگن سے ڈھونڈنا ہوتا ہے۔گھر بیٹھے قیاس آرائی کا شوق لاحق ہے تو صحافت کے بجائے شاعری کا رُخ کرو۔شعر لکھنا ممکن نہ ہو تو افسانہ کی صنف پر توجہ دو۔

جبلت کا حصہ بنی اس سوچ کی بدولت میں روایتی اور سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے چودھری نثار علی خان صاحب کے حوالے سے پھیلائی ’’خبروں‘‘ کی بابت حیران وپریشان ہوتا رہا۔ چودھری صاحب نے جولائی 2018میں بطور آزاد امیدوار اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی کوشش کی تھی۔ ان کے دیرینہ حریف غلام سرور خان نے تاہم انہیں قومی اسمبلی کے لئے ہوئے مقابلے میں ہرادیا۔صوبائی اسمبلی کی نشست مگر وہ جیت گئے۔

چودھری صاحب 1985سے ہوئے ہر انتخاب میں قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوتے رہے ہیں۔جب انہیں اپنے آبائی چکری سے منتخب ہونے کا یقین نہ ہوتا تو اس سے ملحق راولپنڈی کے ایک حلقے سے بھی کھڑے ہوکر قومی اسمبلی میں لوٹنے کو یقینی بناتے۔ 2018میں وہ دونوں حلقوں سے ناکام ہوئے تو ’’جھرلو‘‘ کا الزام لگایا۔غصیلے آدمی ہیں۔پنجاب اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بجائے ناراض ہوکر گھر میں گوشہ نشین ہوگئے۔ اچھے وقت کا انتظار کرتے نظر آئے۔

آج سے چند دن قبل تاہم میڈیا میں قیاس آرائی شروع ہوگئی کہ چودھری صاحب نے پنجاب اسمبلی کا حلف اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔چودھری صاحب کے ’’قریبی ذرائع‘‘ نے پہلے اس خبر کی تردید کرنا چاہی۔ بعد ازاں پتنگ یہ اُڑائی گئی کہ وہ حلف تو اٹھائیں گے مگر اس کے فوری بعد اپنی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیں گے۔ ان کی چھوڑی نشست پر ضمنی انتخاب ان کے بجائے فرزند چودھری نثار لڑیں گے۔ یوں تیمور علی خان کی سیاسی میدان میں انٹری ہوجائے گی۔

چودھری صاحب جب 1985میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن ہوئے تو میں ضرورت سے زیادہ متحرک رپورٹر ہوا کرتا تھا۔وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری نامزد ہونے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں اکثر اس وزارت کی بابت اٹھائے سوالات کے جواب دیتے تھے۔ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم ان دنوں ہمارے وزیر خزانہ تھے۔وہ عالمی شہرت کے حامل ماہر معیشت تھے۔ اقتصادی امور کے بارے میں اٹھائے ہر سوال کا جواب انہیں ’’منہ زبانی‘‘ یاد ہوتا تھا۔ چودھری نثار علی خان کے لئے برگد کا درخت ثابت ہوسکتے تھے۔ان کے سائے میں رہتے ہوئے بھی چودھری صاحب مگر انتہائی اعتماد سے وقفہ سوالات کے دوران اپنا رنگ جماتے رہے۔

محمد خان جونیجو مرحوم 1985میں وزیر اعظم نامزد ہوئے تھے۔ سندھڑی سے اُبھرے ایک خاموش طبع آدمی تھے۔ وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد مگر نہایت مہارت سے اقتدار کے کھیل میں شاطرانہ چالیں چلنا شروع ہوگئے۔ انہیں نامزد کرنے والے جنرل ضیاء ان کے پھیلتے پروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کو مجبور ہوگئے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ جونیجو صاحب کو ’’لگام‘‘ ڈالی جائے۔سیاسی اعتبار سے یہ ’’لگام‘‘پنجاب کے جواں سال وزیر اعلیٰ نواز شریف کی صورت نمودار ہوئی۔پنجاب کے چند حلقوں سے منتخب ہوئے جواں سال اراکین قومی اسمبلی ان کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے۔ان اراکین میں سے دو کو مگر اہم ترین سمجھا جاتا تھا۔ ملک نعیم مرحوم اور چودھری نثار علی خان۔یہ دونوں اپنے تئیں پڑھے لکھے اور معاشی اعتبار سے صاف ستھرے افراد تھے۔درباری سیاست کے عادی اراکین کی نظر میں اہم حقیقت مگر یہ تھی کہ دونوں کا تعلق فوجی گھرانوں سے تھا۔ان کے قریبی عزیز واقارب پاک فوج میں اہم ترین عہدوں پر فائز تھے۔یہ فرض کرلیا گیا کہ لاہور سے اُبھرے صنعت کار کو فوجی حلقوں میں مقبول کروانے کے لئے یہ دونوں ’’پل‘‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ملک نعیم مرحوم مگر 1993میں ایک جان لیوا بیماری کی زد میں آکر مفلوج ہوکر گوشہ نشین ہوگئے۔ چودھری نثار علی خان کی ’’پل‘‘ والی شہرت اس کی بدولت مزید پکی ہوگئی۔یہ ’’پل‘‘ مگر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں نواز شریف کی پہلی حکومت کو برطرفی سے روکنے میں ناکام رہا۔آرمی چیف کا منصب سنبھالنے کے بعد جنرل آصف نواز مرحوم بھی چودھری صاحب سے شاکی رہے۔

داستان طویل ہوجائے گی۔اس لئے ٹی وی کی زبان میں ’’فاسٹ کٹ‘‘ لگاکر 1997تک چلے جاتے ہیں۔اس برس نواز شریف ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ وزیر اعظم کے منصب پر واپس لو ٹ آئے۔چودھری نثار علی خان کو تاہم کئی مہینوں تک ویسے اختیارات میسر ہوئے نظر نہیں آئے جو نواز شریف کے پہلے دور اقتدار میں گج وج کو نظر آتے تھے۔ کئی افراد تو ان دنوں چودھری صاحب کو ’’ڈپٹی وزیر اعظم‘‘بھی تصور کرتے تھے۔ نواز شریف کے دوسرے دورِ اقتدار میں اختیار کے حوالے سے اصل ’’دہشت‘‘ فقط سیف الرحمن کے لئے مختص رہی جو احتساب بیورو کے جنونی مدارالمہام تھے۔ عمران خان صاحب کی طرح ہر ’’کرپٹ‘‘ شخص کو عبرت کا نشان بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ نواز شریف کے وفاداروں کو خدشہ لاحق رہا کہ سیف الرحمن ’’ہمیں مروائے گا‘‘۔مصلحت یا موقعہ پرستانہ خاموشی اختیارکرنے کو مجبور ہوگئے۔چودھری نثار علی خان مگر اس وجہ سے ان دنوں بھی اہم رہے کیونکہ وہ شہباز شریف کے قریب ترین ہوگئے۔ 

شہباز-نثار کی جوڑی کارگل کے بعد مزید اہم ہوگئی۔ کارگل کی وجہ سے جنرل مشرف اور نوازشریف کے مابین بدگمانیوں کا آغاز ہوا۔شہباز-نثار کی جوڑی جنرل مشرف کو ’’دوست‘‘ رکھنے میں مصروف ہوگئی۔ان کی دلجوئی کے لئے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کا منصب بھی آرمی چیف کے حوالے کردیا گیا۔یہ دلجوئی بھی لیکن 12اکتوبر1999کی ہونی کو روک نہیں پائی۔

1993اور 1997کے برس نواز شریف کے ساتھ غلام اسحاق خان اور جنرل مشرف کا رویہ یہ ثابت کرنے کو کافی شمارہونا چاہیے کہ اقتدار کے سفاک کھیل میں ’’پل‘‘ کسی کام نہیں آتے۔ریاست کے طاقت ور اداروں کے سربراہان کے مابین ’’تخت یا تختہ‘‘ والی صورت پیدا ہوجائے تو حتمی ’’جیت‘‘ بالآخر کسی ایک فریق ہی کی ہوا کرتی ہے۔ہماری سیاسی تاریخ میں عموماََ جو فریق بالادست رہتا ہے اس کا نام لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔

بحیثیت قوم ہم مگر سازشی کہانیاں گھڑنے کے بہت شوقین ہیں۔ایسے سیاستدانوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں جو ’’ان‘‘ کے بہت قریب تصور ہوتے ہیں۔سیاسی میدان میں اٹھائے ان کے ہر قدم میں ’’اصل گیم‘‘ تلاش کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔

میں ذاتی طورپر ایک کمزور مڈل کلاسیا ہوں۔ ’’آنکھ کا لحاظ‘‘ اکثر اشخاص کی بابت خاموش رہنے کو مجبور کردیتا ہے۔اسی باعث گزشتہ چند دنوں سے چودھری صاحب کے بارے میں پھیلائی کہانیوں سے گریز کا رویہ اختیار کئے رکھا۔ بدلحاظ منہ پھٹ ہوتا تو چودھری صاحب کے بارے میں پراسرار کہانیاں پھیلانے والوں کو یاد دلانے کی جرأت دکھاتا کہ چکری کے راجپوت ’’ان‘‘ کے اتنے ہی قریب ہوتے تو جولائی 2018کے انتخاب میں قومی اسمبلی کی نشست سے محروم نہ ہوتے۔ایچی سن کالج کے دنوں میں چودھری نثاراور پرویز خٹک عمران خان صاحب کے قریب ترین دو ست رہے ہیں۔اس تعلق کو نگاہ میں رکھتے ہوئے چودھری نثار علی خان کے لئے مناسب تو یہی تھا کہ نواز شریف سے ناراض ہوجانے کے بعد وہ تحریک انصاف میں شامل ہوجاتے۔ عمران خان بھی اس کے شدید متمنی تھے۔ چودھری نثار علی خان کو مگر بخوبی علم تھا کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد وہ جہانگیر ترین جیسا مقام بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

ہمارے سیاست دانوں کی ’’محدودات‘‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے چودھری صاحب کو یہ گماں رہا کہ بالآخر ’’ان‘‘ کو بھی نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کی ضرورت محسوس ہوگی۔ ’’مائنس نواز‘‘ ہوگیا تو ان کی جگہ شہباز شریف کے علاوہ کوئی اورشخص لے نہیں سکتا۔ شہباز صاحب کی ’’لاٹری‘‘ نکل آئی تو وہ ماضی کی طرح چودھری نثارکی فراست سے رجوع کرنے کو مجبور ہوپائیں گے۔

’’مائنس نواز‘‘ مگر ہو نہیں پایا ہے۔فرض کیا ہوبھی ہوگیا تو ان کی جانشینی مریم نواز کے سوا  کسی کو نصیب نہیں ہوگی۔ شہباز صاحب کی راہ میں ویسے بھی عمران خان کی ضد بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ایسے ماحول میں یہ فرض کرنا احمقانہ خام خیالی تھی کہ پنجاب کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے چند ہی دن بعد چودھری نثار شہبازشریف کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے پاکستان کے آ بادی کے اعتبارسے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوجائیں گے۔ نواز شریف کو رضا مند کئے بغیر مسلم لیگ (نون) میں موجود چودھری نثار علی خان کے دوست اور خیرخواہ انہیں وزیر اعلیٰ منتخب کروانہیں سکتے۔فرض کیا مختلف وجوہات کی بدولت نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے 25سے 30اراکین پنجاب اسمبلی چودھری صاحب کو وزیر اعلیٰ منتخب کروانے کا فیصلہ کرلیں تب بھی تحریک انصاف کی حمایت درکار ہوگی۔ اس جماعت میں پہلے ہی سے علیم خان اور سبطین خان جیسے تگڑے امیدوار موجود ہیں۔چودھری پرویز الٰہی کی خواہش ،فراست اور حامیوں کا گروہ بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ان سب کے ہوتے ہوئے چودھری صاحب کے سرپر ’’ہما‘‘ بٹھانا ممکن نہیں۔روایتی اور سوشل میڈیاپر حاوی ’’ذہن ساز‘‘ مگر ’’ہما‘‘ کو اپنی گرفت میں لے کر چودھری صاحب کے سربٹھاتے رہے اور پیر کے دن چودھری صاحب کے ساتھ ’’اڑنے بھی نہ پائے تھے…‘‘ والا واقعہ ہوگیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: