چوہدری برادران: عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں کے دوران ہر کوئی گجرات کے چوہدریوں کے پاس کیوں جا رہا ہے؟

پاکستان میں ان دنوں حزبِ اختلاف کی جماعتیں موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے در پے ہیں۔ اس کے لیے وہ تحریکِ عدم اعتماد کا طریقہ آزمانے کا بھی سوچ رہے ہیں۔

اس کے لیے موزوں ماحول بنانے کے لیے حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں نے حال ہی میں مشاورت کی اور اس کے بعد حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے بعد چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سربراہان کا تانتا بندھ گیا۔ لگ بھگ 14 برس بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی چوہدری برادران سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔

شہباز شریف واپس جاتے ہوئے انھیں کھانے کی دعوت بھی دے گئے۔ اس سے قبل ن لیگ 'گجرات کے چوہدریوں' سے ملنے اور بات نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کارفرما رہی ہے۔

ان ملاقاتوں کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حزبِ اختلاف کے رہنما حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے لیے چوہدری برادران کا ساتھ چاہتے ہیں۔

یعنی اگر چوہدری برادران ان کا ساتھ دیں تو نہ صرف پنجاب بلکہ مرکز میں بھی وہ موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے اپنے منصوبے کو کامیاب بنا سکتے تھے۔

یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی ہیں جبکہ سابق نائب وزیرِاعظم اور سابق وزیرِاعلٰی پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بننے والی ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق سنہ 2002 سے سنہ 2007 تک برسرِاقتدار رہی تھی۔

اس کے بعد سے یہ کہا جا رہا تھا کہ ’چوہدریوں کی سیاست ختم ہوگئی۔‘ تاہم ماضی میں بھی کئی بار اور اب ایک مرتبہ پھر صرف حزبِ اختلاف ہی نہیں، حکومت کو بھی ان کے پاس جانا پڑا۔

حال ہی میں وزیرِاعظم عمران خان خود چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر گئے۔ وہ ق لیگ کے رہنما 'چوہدری شجاعت حسین کی تیمار داری کے لیے گئے تھے۔'

تاہم وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک مقامی نجی ٹی وی کو بتایا کہ ’سیاست پر بھی بات ہوئی۔۔۔ چوہدری برادران نے وزیرِاعظم سے کہا کہ وہ ان کے اتحادی تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘

تاہم سوال یہ ہے کہ گجرات کے چوہدریوں کے پاس ایسی کیا طاقت ہے جس کے لیے حزبِ اختلاف اور حکومت دونوں کے رہنماؤں اور خود موجودہ وزیرِاعظم کو ان کے پاس جانا پڑا؟

چوہدریوں کے پاس ایسا کیا ہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس کی وجہ ان کی جماعت ق لیگ کی عددی طاقت کے ساتھ ساتھ ملک کے سب سے بڑے اور انتخابی سیاست میں سب سے اہم صوبے پنجاب میں گجرات کے چوہدریوں کا سیاسی اثرورسوخ بھی ہے۔

انھوں نے اس کا مظاہرہ ماضی میں بھی کئی مواقع پر کیا ہے تاہم مظہر عباس ایک حالیہ مثال سے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔

'سنہ 2018 کے انتخابات میں پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف ان کی حمایت کے بغیر حکومت نہیں بنا سکی تھی۔'

ق لیگ کی محض دس نشستیں تھیں اور ن لیگ کے خلاف یہ ساری تحریکِ انصاف کے کام آئیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مظہر عباس نے یہ نشاندہی بھی کی کہ سنہ 2018 میں پنجاب اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات میں ’چوہدری پرویز الٰہی نے خود اور ان کے حمایتی امیدوار نے پی ٹی آئی اور ق لیگ کے کل ممبران کی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔‘

اس کا مطلب یہ تھا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں خصوصاً ن لیگ کے کئی ممبران نے بھی انھیں ووٹ دیا تھا۔ یعنی جماعتی وابستگیوں سے ہٹ کر چوہدری پرویز الٰہی کا ذاتی اثر و رسوخ اس قدر تھا کہ کئی ممبران نے اپنی جماعت کی ان سے ناراضی کے باوجود اپنا ووٹ انھیں ہی دیا۔

شہباز شریف، چوہدری برادران ملاقات

کیا حزبِ اختلاف کی نظر اسی 'اثرورسوخ' پر ہے؟

ن لیگ غالباً ان کے اس اثر و رسوخ سے آگاہ تھی۔ تو کیا حزبِ اختلاف اور خصوصاً ن لیگ اسی وجہ سے چوہدری برادران کے پاس گئے ہیں؟ کیا چوہدری برادران کا ساتھ ہی انھیں یہ گارنٹی دے سکتا ہے کہ اگر وہ پنجاب یا مرکز میں تحریکِ عدم اعتماد لاتے ہیں تو وہ ناکام نہیں ہو گی؟

ن لیگ نے بظاہر اس تاثر کی تردید کی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ پر سامنے آنے والے ان کے رہنماؤں کے بیانات کے مطابق وہ ’حکومت کے اتحادیوں کے بغیر بھی تحریکِ عدم اعتماد لا سکتے ہیں۔‘

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی بھی یہ مانتے ہیں کہ چوہدری برادران کے سیاسی اثرورسوخ نے انھیں حزبِ اختلاف اور حکومت دونوں کے لیے اہم بنا دیا ہے۔ تاہم ان کے خیال میں حزبِ اختلاف کو چوہدری برادران سے زیادہ توجہ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں پر دینی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں 'پاکستان تحریکِ انصاف کے وہ ناراض اراکین جو تحریکِ انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہیں وہ حزبِ اختلاف کے لیے زیادہ آسان ہدف ثابت ہو سکتے ہیں۔'

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ چوہدری برادران کے پاس اس وقت اتنی طاقت ضرور موجود ہے کہ وہ اگر حزبِ اختلاف کا ساتھ دیں تو حکومت کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرنے پر راضی ہوں گے؟

چوہدری اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے پر اعتماد کریں گے؟

صحافی سلمان غنی کے مطابق 'چوہدریوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ حکومت (کے اتحاد) کو نہیں چھوڑتے۔ یہاں تک کہ جب ان سے وزارتِ اعلٰی کا وعدہ کر کے نہیں دی گئی تھی تو بھی وہ سپیکر کی کرسی پر ہی اکتفا کر گئے تھے لیکن حکومت کے ساتھ رہے تھے۔'

سلمان غنی سنہ 1997 کی طرف اشارہ کر رہے تھے جب چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کے امیدوار کے طور اعلان کر کے بھی انھیں وزارت نہیں دی گئی تھی۔

'اور یہی ایک وجہ ہے کہ ان کے اور موجودہ ن لیگ کی قیادت کے درمیان عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے۔ چوہدری برادران شہباز شریف پر آسانی سے اعتماد نہیں کریں گے۔'

صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کے مطابق اعتماد کا فقدان دونوں طرف پایا جاتا ہے۔ 'ان دونوں کے درمیان ایک انتہائی برا ماضی حائل ہے۔'

سنہ 1999 کے مارشل لا کے بعد ق لیگ بنانے اور ان کی جماعت کو توڑنے کی کوشش کے لیے شریف خاندان چوہدریوں کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا ہے۔

چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الہٰی

کیا حزبِ اختلاف اب اعتماد کے فقدان کو ختم کر سکتی ہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ماضی کو ایک طرف رکھ کر چوہدری برادران مستبقل کی منصوبہ بندی کرنے کو ترجیح دیں گے۔

'موجودہ تبدیلی لانے سے زیادہ ان کی دلچسپی اس میں ہوگی کہ مستقبل میں ان کے لیے کیا ہو گا۔ انھیں اس کی گارنٹی چاہیے ہوگی کہ اس وقت وقتی تبدیلی نہیں بلکہ اگلے انتخابات کے بعد انھیں کیا ملے گا۔'

مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ اس وقت ن لیگ پنجاب میں ایک بڑا حصہ دار ہونے کے باوجود چوہدریوں کو زیادہ پیشکش کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ چوہدری برادران کے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ نسبتاً اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن ان کے مطابق تاہم پیپلز پارٹی ازخود بھی انھیں کچھ زیادہ بارگین دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

'اس صورتحال میں چوہدریوں کے لیے زیادہ فائدہ مند یہی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ رہیں اور اگلے انتخابات کے بعد کے لیے اپنے لیے کوئی گارنٹی حاصل کر سکیں۔'

یہی وجہ ہے کہ مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ اس وقت اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ گجرات کے چوہدری کسی ممکنہ تحریکِ عدم اعتماد میں حزبِ اختلاف کا ساتھ دیں گے۔

زرداری

حکومت کے لیے خطرہ ٹل گیا؟

تاہم سوال یہ تھا کہ کیا حکومت کو انھیں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے کوئی 'گارنٹی' دینا ہوگی۔ صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ اس کا دارومدار اس بات پر بھی ہوگا کہ 'فیصلہ ساز قوتیں کیا فیصلہ کرتی ہیں اور کس طرف جاتی ہیں۔'

تاہم ان کے خیال میں اس وقت بھی محض ملاقاتوں کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حزبِ اختلاف کو عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کی گارنٹی مل گئی ہے یا حکومت کے سر سے خطرہ ٹل گیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق حزبِ اختلاف پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کو توڑنے کی کوشش کرے گی لیکن اس کو گارنٹی صرف ق لیگ یا حکومتی اتحادیوں ہی سے مل سکتی ہے۔

اس وقت تک حزبِ اختلاف کوئی چال چلنا نہیں چاہے گی۔ اس لیے چال اب بھی چوہدریوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔