چوہدری نثار علی خان: پاکستانی سیاست کے ’پراسرار کردار‘ اچانک حلف اٹھانے پر کیوں راضی ہوئے؟

یہ ستمبر 2014 کی بات ہے۔ پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت دباؤ میں نظر آ رہی ہے۔

اس دباؤ کی وجہ اس شخص کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کئی ہفتوں سے جاری دھرنا ہے جسے آگے چل کر وزیرِ اعظم عمران خان بننا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو جب یہ محسوس ہونا شروع ہوا کہ اس کے خلاف تحریک زور پکڑ رہی ہے تو اُس نے کسی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا ڈالا۔

اس اجلاس میں ویسے تو بہت سی تقریریں ہوئیں جن میں سیاست دانوں نے تحریکِ انصاف کے دھرنے سمیت مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم ایک بات ایسی تھی جسے سیاسی مبصرین نظر انداز نہ کر سکے۔

اس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نواز شریف سے اپنی قربت اور اپنی وزارت کی اہمیت کے باعث اکثر اسمبلی میں نواز شریف کے ساتھ بیٹھا کرتے اور اس دن بھی معاملہ یوں ہی تھا۔

اور اجلاس میں اس وقت تناؤ میں اضافہ ہو گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تو حکومت کو سپورٹ کریں گے مگر حکومت اپنے آستین کے سانپوں سے ضرور باخبر رہے۔‘

چوہدری نثار اس وقت نواز شریف کے بائیں جانب نشست پر براجمان تھے۔ وہ اعتزاز احسن کو جواب دینے کے لیے کئی بار اٹھے مگر نواز شریف نے انھیں تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔

اس ہلچل سے اندازہ ہونے لگا کہ اعتزاز احسن کا اشارہ چوہدری نثار ہی کی جانب تھا۔

اگلے دن چوہدری نثار نے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا مگر پھر کہا کہ انھیں وزیر اعظم نواز شریف نے پریس کانفرنس ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے لہٰذا وہ اپنے اوپر عائد کیے گئے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔

نواز لیگ کی حکومت قائم رہی، دوبارہ کئی مشکلات کی شکار ہوئی، چوہدری نثار حکومت میں بھی رہے، مگر پھر 2018 میں منظرنامہ تبدیل ہو گیا۔

اب نواز شریف وزیرِ اعظم نہیں رہے، اُنھیں دھرنوں سے چیلنج کرنے والے عمران خان وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ گئے، اور قومی اسمبلی میں اعتزاز احسن کی تنقید کا نشانہ بننے والے چوہدری نثار پنجاب اسمبلی کا انتخاب تو جیت گئے مگر قومی اسمبلی میں واپس نہ آ سکے۔

لیکن وہ صوبائی اسمبلی سے بھی انتخاب جیتنے کے باوجود دور ہی رہے مگر اب شاید وہ موقع آنے والا ہے کہ چوہدری نثار علی خان ایک مرتبہ پھر ایوان میں نظر آئیں۔

چوہدری نثار علی خان نے تین سال کی طویل خاموشی کے بعد اتوار کو اعلان کیا کہ وہ پیر کو پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیں گے۔

حال ہی میں تحریک انصاف کی حکومت نے ایک ایسا قانونی مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت اگر کوئی رکن منتخب ہونے کے بعد 90 دن حلف نہیں اٹھاتا تو پھر وہ نااہل تصور کیا جائے گا اور جس نشست سے وہ منتخب ہوا اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کا انعقاد کیا جائے گا۔

سیاسی مبصرین چوہدری نثار کے اس فیصلے کو تحریکِ انصاف کے اس اقدام سے منسلک کر رہے ہیں تاہم چوہدری نثار علی خان نے بذاتِ خود ایسا کوئی تاثر نہیں دیا ہے بلکہ اس کی دیگر وجوہات بیان کی ہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے اپنے ایک جاری کردہ تحریری بیان میں کہا کہ یہ عجیب منطق ہو گی کہ ایک طرف سیٹ خالی چھوڑ دی جائے اور پھر دوسری ہی سانس میں ضمنی انتخاب میں حصہ لیا جائے۔ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اور سیٹ خالی چھوڑنا اس سے بھی بڑی سیاسی غلطی ہو گی۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب عام انتخابات ہونے میں ڈیڑھ دو سال باقی رہ گئے ہوں۔

چوہدری نثار علی خان

اچانک چوہدری نثار حلف اٹھانے پر کیسے رضامند ہو گئے؟

تحریکِ انصاف کی حکومت کا مجوزہ قانون ایک آرڈیننس کی صورت میں جاری کیا جائے گا تاہم ابھی تک اس آرڈیننس کا اطلاق عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کلثوم نواز لاہور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں اور پھر وہ بیماری کی وجہ سے حلف نہیں اٹھا سکیں۔ اور ان کی موت کے بعد یہ نشست خالی تصور کی گئی اور پھر انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

ڈپٹی سیکریٹری قومی اسمبلی محمد مشتاق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت قانون میں یہ سُقم موجود ہے کہ اگر کوئی رکن منتخب ہونے کے بعد حلف نہ اٹھائے تو اس کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی اختیار نہیں کی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق ابھی قانون کی ضرورت اس وجہ سے ہی پیش آئی ہے کہ اس خلا کو پر کیا جائے اور منتخب ارکان کو حلف اٹھانے کا پابند بنایا جائے۔ ان کے مطابق حلف اٹھانے کے بعد اگر کوئی رکن 40 دن تک بغیر چھٹی لیے غائب رہتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے اور اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کا انعقاد ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

نثار

دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری نثار نے جہاں بڑے مارجن سے صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی وہیں اسی قدر بڑے مارجن سے انھیں قومی اسمبلی کی نشست پر شکست ہوئی۔ اس شکست سے چوہدری نثار اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ انھوں نے جیتی ہوئی نشست پر بھی احتجاجاً حلف لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ چوہدری نثار نے بالآخر 2018 کے بعد سے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ کیا کہ چوہدری نثار علی خان صرف حلف ہی اٹھاتے ہیں یا پھر وہ عملی سیاست میں بھی کوئی کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

مظہر عباس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی سپیکر پنجاب اسملبی چوہدری پرویز الہیٰ سے بات ہوئی ہے، جس سے انھیں ایسا لگا کہ شاید اب تین سال بعد چوہدری نثار حلف لینے کے اہل ہی نہیں رہے ہیں۔ اُن کے مطابق پرویز الہیٰ نے انھیں کہا کہ میرا نہیں خیال کہ وہ حلف اٹھا رہے ہیں اور اب یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔

صحافی نواز رضا کے مطابق چوہدری نثار کا حلف اٹھانے کا فیصلہ بہت ہی اچانک ہے اور وہ دو دن پہلے تک اس پر آمادہ نہیں تھے۔ ان کے مطابق حلقے کے لوگ یہ بات ضرور کرتے ہیں کہ اُن کے فیصلے کی تبدیلی میں کسی کا اہم کردار رہا ہے تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

اُن کے مطابق چوہدری نثار پنجاب کی سیاست پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جو کھچڑی لاہور میں پک رہی ہے وہ اس سے بھی باخبر ہیں لہٰذا یہ حلف صرف ایک حلقے کی نشست بچانے کے لیے نہیں اٹھایا جا رہا ہے بلکہ آنے والوں دنوں میں چوہدری نثار سیاست میں اپنا اہم کردار دیکھ رہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان: ایک پراسرار شخصیت

چوہدری نثار علی خان پاکستان کی سیاست میں ایک پراسرار کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اہم عہدوں پر بھی فائز ہوتے ہیں مگر اپوزیشن میں مزاحمتی سیاست سے دور بھی اور الگ تھلگ۔ اقتدار میں بھی ان سے رابطہ کرنا اہل اقتدار والوں کے لیے اتنا سہل نہیں ہوتا۔

چوہدری نثار انتخابات جیتنے کے بعد اپنے حلقے کی عوام کو بھی اتنی آسانی سے میسر نہیں آتے مگر اس کے باوجود وہ 1985 سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے میں کامیاب ضرور ہوتے رہے ہیں۔ ان کے حلقے میں ان کا نہ کوئی سیاسی دفتر ہے اور نہ ہی براہ راست وہ فون پر کسی کو دستیاب ہوتے ہیں۔

اہم مواقع پر عوام سے وہ خط کے زریعے بھی رابطے قائم رکھتے ہیں۔

لیکن ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب پارٹی پر کوئی مشکل وقت آتا ہے تو وہ سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر نہیں آتے۔ وہ اپنے بارے میں خود یہ کہتے ہیں کہ پارٹی میں وہ اتنے ہی سینیئر ہیں جتنے نواز شریف ہیں اور یہ کہ یہ پارٹی صرف کسی ایک شخص کی نہیں ہے۔

نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی اور پھر قومی احتساب بیورو (نیب) کی ایک عدالت میں ٹرائل کے دنوں میں وہ وزارت داخلہ سے مستعفی ہو گئے اور پھر نواز شریف اور مسلم لیگ ن سے بھی دوری اختیار کرتے چلے گئے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں وہ آزاد حیثیت سے میدان میں اترے۔

ان پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ جب پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 میں مارشل لا نافذ کر دیا تو چوہدری نثار نے اپنے آپ کو گھر تک ہی محدود کر لیا۔

اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے چوہدری نثار کہتے ہیں کہ انھیں ان کے فیض آباد والے گھر پر نظر بند کر دیا گیا تھا اور ان پر پارٹی چھوڑنے سے متعلق دباؤ ڈالا جاتا رہا مگر ان کے بقول انھوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

چوہدری نثار علی خان

سنہ 2013 میں جب انھیں ایک صوبائی اسمبلی کی نشست سے پارٹی ٹکٹ نہیں مل سکا تو پھر انھوں نے شیر کے بجائے گائے کے نشان پر اس حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا۔

چوہدری نثار کا تعلق راولپنڈی کے قریب چکری کے علاقے سے ہے جہاں سے اُنھوں نے پنجاب اسمبلی کی نشست بھی جیتی۔

وہ راولپنڈی کی سیاست میں بھی خاصے متحرک رہتے ہیں۔ جب سے مسلم لیگ ن وجود میں آئی ہے وہ اس جماعت کی صف اوّل کی قیادت میں رہے ہیں اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ن لیگ کے پلیٹ فارم سے ہی انتخابات میں حصہ لیا ہے۔

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں داخلے سے قبل ایچی سن کالج کے دنوں سے ان کی عمران خان سے دوستی چلی آ رہی ہے اور اب بھی دونوں رہنماؤں کے آپس میں اچھے روابط ہیں مگر چوہدری نثار علی خان نے کبھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

جب 2014 میں تحریک انصاف نے 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تو عمران خان نے خود فون کر کے اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ڈی چوک تک آنے کے لیے مدد مانگی تھی۔

نواز شریف نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چوہدری نثار کے مؤقف میں خاصی سختی ہوتی ہے اس وجہ سے بعض دفعہ اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتوں میں ان کو ساتھ لے کر ہی نہیں جاتے۔

مسلم لیگ کے سینیئر رہنماؤں کے مطابق نواز شریف نے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں چوہدری نثار علی خان کے مشوروں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔

ڈان لیکس کی انکوائری میں سابق سینیٹر پرویز رشید سے متعلق وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کو بھی پارٹی میں ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا گیا۔ اس رپورٹ میں پرویز رشید کو بھی ڈان اخبار میں اس خبر کے شائع ہونے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

پرویز رشید
،تصویر کا کیپشنپرویز رشید

پارٹی میں یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ نواز شریف کی نسبت چوہدری نثار کی زیادہ دوستی شہباز شریف سے ہے۔

چوہدری نثار کے نواز شریف سے سیاسی اختلافات کو سمجھنے کے لیے پہلے نواز شریف کی فیصلہ سازی میں ان کے اثر و رسوخ پر ایک نظر دوڑانا ضروری ہے۔

پرویز مشرف کی بطور آرمی چیف تعیناتی میں کردار

نواز شریف پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ آرمی چیفس تعینات کرنے والے وزیر اعظم ہیں۔ نواز شریف کو جب بھی کسی آرمی چیف کی تقرری کا اہم مرحلہ درپیش رہتا تو ایسے میں چوہدری نثار علی خان کی رائے کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی تھی۔

مسلم لیگ ن اور پاکستان کی سیاست میں یہ بات اب زبان زد عام ہے کہ پرویز مشرف کی آرمی چیف کی تقرری میں بھی چوہدری نثار علی خان کا اہم کردار رہا ہے۔

اُس وقت چوہدری نثار علی خان نواز شریف کی کابینہ کا حصہ تھے اور اسی دور حکومت میں ان کے بھائی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ افتخار علی خان سیکریٹری دفاع کے عہدے پر براجمان تھے۔

چوہدری نثار کے والد چوہدری فتح محمد فوج میں بریگیڈیئر رہے۔ ان کے دادا برطانوی دور میں انگریز فوج کا حصہ تھے اور ان کی عسکری خدمات کی بدولت انھیں برطانوی فوج نے پستول کا تحفہ بھی دیا تھا۔

اس وقت بھی چوہدری نثار علی خان کے خاندان کے اکثر افراد فوج کا حصہ ہیں اور ان ہی وجوہات کی بنا پر وہ حکومت اور فوج میں ایک پل کا کردار ادا کرنے والے کے طور پر سمجھے جاتے رہے ہیں۔

ان کی شہباز شریف کے ساتھ رات کے اندھیرے میں آرمی چیفس سے ملاقاتیں بھی اخباروں کی شہہ سرخیاں بنتی رہی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اہم سیکیورٹی اور ملکی معاملات پر مشاورت کے لیے ایسی ملاقاتیں کی جاتی ہیں۔

تاہم وہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا کے سخت ناقد رہے اور انھوں نے پارلیمنٹ کے فورم سے بھی ان پر خوب تنقید کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں چوہدری نثار علی خان قائد حزب اختلاف بھی رہے اور وہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے سے متعلق خاصی شہرت رکھتے ہیں۔

نواز شریف، آصف زرداری

نواز شریف اور آصف زرداری کی پارٹنر شپ توڑنے میں اہم کردار

عام طور پر وزیر اعظم عمران خان یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے نواز شریف اور آصف زرداری کی شراکت کا خاتمہ کیا ہے مگر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ چوہدری نثار کے باعث بھی ن لیگ سے اپنے فاصلے بڑھانے سے قبل آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان فاصلے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کہا جاتا ہے کہ جب آصف زرداری کے اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان کے بعد نواز شریف نے اُن سے ملاقات منسوخ کی تو نواز شریف کے اس فیصلے میں چوہدری نثار علی خان کی رائے کا اہم کردار تھا۔

چوہدری نثار نے کبھی اس واقعے پر باقاعدہ بات تو نہیں کی تاہم ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ 'میں نے نواز شریف کو کہا کہ اداروں کے خلاف باتیں نہ کریں۔‘

آصف زرداری سے ملاقات کی منسوخی کے نواز شریف کے فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت میں عدم اعتماد، گلے شکوے اور دوریاں پیدا ہوئیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک سابق وفاقی وزیر اور موجودہ رکنِ اسمبلی کہتے ہیں نواز شریف اپنے اس فیصلے کو ایک بُرے فیصلے کے طور پر یاد رکھتے تھے۔

اس کے علاوہ جب پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے یا نہ جانے دینے کا فیصلہ وفاقی حکومت پر چھوڑا تو اس وقت چوہدری نثار علی خان ہی وزیرِ داخلہ تھے جن کے ماتحت اس وقت ایگزٹ کنٹرول لسٹ آتی تھی۔

بعد میں وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تو چوہدری نثار علی خان بھی تنقید کی زد میں آئے کہ یہ اُن کا فیصلہ تھا۔ تاہم جب بھی ان سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ یہ عدالت کا فیصلہ تھا جس پر اُنھوں نے عملدرآمد کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک سابق وفاقی وزیر اور موجودہ رکنِ اسمبلی کے مطابق اُس وقت نواز شریف کو یہ بتایا گیا تھا کہ جب پرویز مشرف بیرون ملک چلے جائیں گے تو سول ملٹری تعلقات میں سرد مہری ختم ہو جائے گی اور حکومت بغیر دباؤ کے اپنے منشور کے مطابق عوام کی خدمت کرتی رہے گی۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشننواز شریف انتہائی شریف النفس انسان ہیں اور لوگ ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں: چوہدری نثار علی

چوہدری نثار کی مسترد شدہ تجاویز

مگر نواز شریف تیسری بار بھی وزارت عظمیٰ کی مدت مکمل نہ کر سکے اور پانامہ مقدمے میں سپریم کورٹ سے تا حیات نااہل قرار دیے گئے۔ یہ مقدمہ جب شروع ہوا تو چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو چھ رکنی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا اور جے آّئی ٹی کی تشکیل میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں پر اعتراض عائد کرنے کا بھی کہا۔

چوہدری نثار کی تجاویز کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ اب پارٹی کے اندر سے بھی یہ رائے زور پکڑ گئی تھی کہ چوہدری نثار کسی کی خواہش کو رائے کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔

تاہم بعد میں نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی اور پھر جے آئی ٹی رپورٹ نواز شریف کے لیے خوشگوار تجربہ نہیں رہا، جس پر چوہدری نثار نے صحافیوں سے متعدد ملاقاتوں میں بھی تذکرہ کیا کہ ان کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کی گئیں اور ان کے مشوروں اور تجاویز کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جس کا پارٹی اور قیادت کو اس کا نقصان ہوا۔

ایک بار جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ہر اہم معاملے پر خود کیوں بیان دے دیتے ہیں اور دفتر خارجہ یا دیگر وزارتوں کو خاطر میں کیوں نہیں لاتے تو ان کا جواب تھا کہ وہ وزیر سے پہلے ایک مسلمان بھی ہیں اور جب بھی وہ کوئی بات کرتے ہیں تو دل سے کرتے ہیں اور ویسے بھی پارلیمانی نظام میں اختیارات سانجھے ہوتے ہیں۔

’چوہدری نثار کی خاموشی بھی اہم ہوتی ہے‘

چوہدری نثار کی سیاست کو آغاز سے ہی قریب سے دیکھنے والے سینیئر صحافی نواز رضا نے بی بی سی کو بتایا چوہدری نثار کے سیاست میں کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق وہ خاموش بھی رہیں تو ان کی خاموشی بھی ایک خبر ہوتی ہے اور یوں وہ چپ رہ کر بھی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔

سینیئر صحافی نواز رضا کے مطابق چوہدری نثار نے اپنے حلقے کے 30 سے 32 لوگوں کو مشاورت کے لیے بلایا کہ کیا انھیں حلف لینا چاہیے یا نہیں مگر مشاورت میں رائے منقسم رہی۔ اس کے بعد چوہدری نثار نے یہ کہہ کر اجلاس ختم کر دیا کہ وہ اب اس پر خود فیصلہ کریں گے۔

ان کے مطابق چوہدری نثار نے بعد میں ایک تحریری بیان کی صورت میں اپنا فیصلہ سنایا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: