چھتیس گڑھ: نابالغ بیٹے کے ختنے کروانے اور تبدیلی مذہب کی درخواست دینے پر ماں گرفتار

انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع جشپور میں ایک عورت کو اپنے نابالغ بیٹے کے ختنہ کروانے اور اس کے تبدیلیِ مذہب کی درخواست دینے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

منگل کے روز پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ ملزم خاتون کے ساتھ ان کی ماں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس سٹیشن انچارج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بچے کے والد چترنجن سون وانی کی درخواست پر دائر کیے جانے والے اس کیس میں ابھی تک دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کچھ لوگ فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

الزامات کیا ہیں؟

پولیس کے مطابق تقریباً دس سال قبل 32 سال کے چترنجن سون وانی کی شادی مہدی انصاری کی بیٹی ریشما کے ساتھ ہوئی تھی اور یہ شادی ہندو رسم و رواج کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس شادی سے ان کے دو بچے ہیں۔

چترنجن کا دعویٰ ہے کہ گھر میں ہندو رسم و رواج پر ہی عمل ہوتا ہے۔

پولیس کو کی گئی شکایت کے مطابق ریشما نے گذشتہ سال انیس نومبر کو اپنے شوہر کو بتائے بغیر ہی اپنے آٹھ سالہ بیٹے سورب کے ختنے کروا دیے جس میں ریشما کی ماں نے اس کا ساتھ دیا تھا۔

’اس کے ساتھ ہی ریشما نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر بچے کا مذہب تبدیل کرنے کی درخواست بھی دے دی اور بچے کا نام شمشاد رکھ دیا گیا۔‘

چترنجن سون وانی کا الزام ہے کہ ان کی بیوی اور سسرال والوں نے کئی مرتبہ ان پر مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالا تھا۔ حالانکہ چترنجن سون وانی کے سسرال کے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بچے کے ختنے چترنجن سے پوچھ کر ہی کروائے گئے تھے۔

ان کا الزام ہے کہ چترنجن سسرال والوں پر پیسے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا اور جب اس کی بات نہیں سنی گئی تو اس نے پولیس میں رپورٹ درج کروا دی۔

ادھر پولیس حکام کا بھی کہنا ہے کہ چترنجن ’بری عادتوں‘ کا شکار ہے اور اسی مہینے کی چھ تاریخ کو چترنجن کے خلاف جوا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

error: