چین اور خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی قربت کیا امریکہ کے لیے بڑا چیلنج ہو گا؟

ایک طرف چین اور روس علاقائی سکیورٹی پر بات چیت کر رہے ہیں اور امریکی اتحاد کو چیلنج کر رہے ہیں تو دوسری طرف چین نے خلیجی ممالک سے اپنی قربت بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

چین خلیجی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے لیے مجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالک (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل نائف بن فلاح الحجرف اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں اس ملاقات کے بعد جی سی سی نے چین کو ایک اچھا دوست قرار دیا اور چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین ’علاقائی سکیورٹی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

رواں برس جی سی سی کے قیام کو 40 برس ہو جائیں گے اور اسی طرح جی سی سی اور چین کے تعلقات کو بھی 40 سال ہو جائیں گے۔

اقتصادی و سکیورٹی کے شعبوں میں تعلقات

دونوں فریقین نے اس ملاقات کے دوران اقتصادی سطح اور سکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعلقات بہتر کرنے پر اتفاق کیا۔ وانگ یی نے کہا ہے کہ دونوں فریقین نے یہاں کافی ترقی کی ہے اور وہ تاریخ کے نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے چین اور جی سی سی فری ٹریڈ معاہدے (ایف ٹی اے) پر مذاکرات مکمل کر لیں گے تاکہ جی سی سی کے اراکین پر عالمی معیشت کا دباؤ کم ہو سکے اور معیشت کی بحالی ہو سکے۔‘

الحجرف نے کہا کہ جی سی سی اور اس کے رکن ممالک چین کی جانب سے سٹریٹیجک تعاون کو سراہتے ہیں۔ جی سی سی کی فہرست میں ایف ٹی اے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے چین سرِفہرست ہے۔

انھوں نے ڈیجیٹل اکانومی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ذریعے باہمی مفاد اور تعاون بڑھانے کی بھی بات کی۔ جی سی سی نے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے چین کے اہم کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چین سے مزید تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

چین کے وزیر خارجہ سعودی عرب، ترکی، ایران، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں۔

سعودی عرب

چین کی خلیجی ممالک میں دلچسپی

ماضی میں چین کی خلیجی ممالک میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی لیکن معاشی و سکیورٹی کے تعاون کے معاملے پر جی سی سی کے رکن ممالک کے ساتھ چین کا رویہ اب بدل رہا ہے۔ امریکہ کے جارحانہ رویے اور ایشیا پیسیفک علاقے میں نئے اتحادیوں کی تلاش کو اگر مدنظر رکھا جائے تو چین اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آتا ہے۔

جی سی سی کیا ہے؟

جی سی سی چھ ممالک کے درمیان تعاون کا اتحاد ہے جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں۔ یہ ریاض میں واقع ہے اور باہمی رابطے کے لیے اس کی بنیادی زبان عربی ہے۔

سنہ 1981 میں اسے سیاسی، معاشی، سماجی اور علاقائی تنظیم کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ان چھ خلیجی ممالک کے درمیان روابط، اتحاد اور تعاون قائم کرنا تھا تاکہ مشترکہ فوج اور مشینری کا قیام ہو سکے۔

ان تمام ملکوں میں تیل کی پیداوار سب سے زیادہ ہے اور چین یا انڈیا جیسے ممالک کے لیے یہ توانائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔

ایک طویل عرصے سے خلیجی ممالک پر امریکہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ یہ ملک فوجی سکیورٹی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک میں چین کی دلچسپی کافی سوال کھڑے کر سکتی ہے۔

چین کی توانائی کی ضروریات

چین اور خیلجی ممالک کے تعلقات میں توانائی، انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری نمایاں موضوع رہے ہیں۔ چین اپنی 35 فیصد خام تیل کی ضروریات خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے اور اس دہائی کے آخر تک امکان ہے کہ یہ تعداد 60 فیصد تک جا سکتی ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جنوبی ایشین مطالعے کے پروفیسر سنجے کے بھردواج کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں چین کی دلچسپی کی دو وجوہات ہیں۔ توانائی کی ضروریات کے علاوہ چین امریکہ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔

’چین تیز ابھرتی اور بڑی معیشت ہے۔ وہ اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی توانائی کی کچھ ضروریات ہیں۔ خلیجی ممالک توانائی سے بھرپور ہیں، اس صورتحال میں چین کی ان میں دلچسپی قدرتی عمل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بھی اس کی ایک کڑی ہے جسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اس میں دو طرح سے کاروبار ہو سکتا ہے۔ چینی کمپنیوں کی مصنوعات پوری دنیا میں پہنچ سکیں گی اور چین کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی۔‘

چین کے وزیر خارجہ

اس منصوبے کے تحت چین ایشیا اور یورپ میں سڑکوں اور بندرگاہوں کا ایک جال بچھانا چاہتا ہے تاکہ چینی مصنوعات دنیا بھر کی مارکیٹوں تک پہنچ سکیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اس منصوبے پر چین کی حمایت کی ہے۔

اسے مدنظر رکھتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ بنائی گئی ہے۔ چین سمندری راستے پر کوئی رکاوٹ نہیں چاہتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ چین اور خلیجی ممالک کے درمیان اچھے تعلقات ہوں۔

ترکی میں یلدرم بیاضد یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر عمیر انس کا کہنا ہے کہ یہ بات محض یکطرفہ تعلقات کی نہیں۔ خلیجی ممالک بھی تیل کی برآمد کے لیے نئی منڈیاں تلاش کر رہے ہیں۔ وہ تیل پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انڈیا اور چین جیسے گنجان آباد ممالک کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بڑھانا چاہتے ہیں۔

’ان ملکوں کے لیے تیل مسائل کھڑے کر رہا ہے۔ امریکہ جیسے ملک نے توانائی کے لیے خلیجی ممالک پر دار و مدار کم کر دیا ہے۔ کئی ملکوں نے توانائی کے لیے تیل کے علاوہ دوسرے ذرائع کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ ان حالات میں خلیجی ممالک سیاحت اور دوسرے ملکوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ چین سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں ڈرون، فوجی ٹریننگ اور سٹریٹیجنک تعاون میں یہ اشتراک بڑھا ہے۔ کئی بار دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے کردار کو سراہا ہے۔‘

چین اور امریکہ

چین کا امریکہ کو چیلنج

تاہم یہ دوستی صرف مالی وجوہات کے لیے نہیں ہے۔ چین کی ان کوششوں کے پیچھے ایک وجہ امریکہ بھی ہے۔

گذشتہ کچھ برسوں کے دوران چین پر امریکی دباؤ بڑھا ہے۔ امریکہ کی صدارت ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ہو یا بائیڈن انتظامیہ کے پاس، چین کی طرف امریکہ کا رویہ بدلا نہیں ہے۔ حال ہی میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا نے ایک سکیورٹی اتحاد قائم کیا ہے جس کا ہدف چین کو سمجھا جا رہا ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کئی عرصے سے جاری ہے اور امریکہ نے اویغور مسلمانوں سے بدسلوکی اور ہانگ کانگ میں مظاہروں سے متعلق تشویش ظاہر کی ہے۔

سنجے بھردواج کہتے ہیں کہ ’چین امریکہ سے مقابلے کے لیے نئے اتحادی ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ ترکی، پاکستان اور ملائیشیا پر مشتمل نیا گروہ بنانا چاہتا ہے جس سے مسلم ممالک کی نئی قیادت نظر آتی ہے۔ وہ مسلم ممالک پر امریکہ اور سعودی عرب کا اثر و رسوخ ختم کرنا چاہتا ہے۔‘

امریکہ کا خلیجی ممالک پر اثر و رسوخ رہا ہے۔ امریکہ انھیں فوجی سکیورٹی فراہم کرتا ہے اور اس طرح وہاں کی اندرونی سیاست متاثر ہوتی ہے۔ اگر چین خلیجی ممالک اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے تو اس سے امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے فوجی امداد

امریکی تاریخ دان اور بحریہ کے افسر ایڈمرل ایلفریڈ مہان نے ایک بار کہا تھا کہ جو کوئی بھی بحیرۂ ہند پر اثر و رسوخ قائم رکھے گا وہی دنیا پر اثر و رسوخ رکھے گا۔

متحدہ عرب امارات

سنجے بھردواج نے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین سپر پاور بننے کی خواہش پوری کرنے کے لیے اپنے گرد اتحادیوں کو اکٹھا کر رہا ہے۔ یہ موجودہ سپر پاور امریکہ کے اس خطے میں اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چین معاشی قوت کے ساتھ فوجی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ علاقائی سکیورٹی جس کے بارے میں جی سی سی کی میٹنگ میں بات ہوئی وہ کافی اہم ہے۔ تاحال سکیورٹی کے لیے خلیجی ممالک صرف امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن چین کی شکل میں انھیں ایک دوسرا آپشن مل سکتا ہے۔ اگر چین ان سے سکیورٹی تعاون کا آغاز کرتا ہے تو امریکہ کی بالادستی کو دھچکا لگے گا۔‘

تاہم امریکی دباؤ کے پیش نظر خلیجی ممالک کس حد تک چینی تعاون حاصل کر سکیں گے اور آیا چین امریکہ کا متبادل بن سکے گا؟

اس پر عمیر انس کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب خلیجی ممالک کا سربراہ ہے۔ امریکہ کا توانائی کے لیے سعودی عرب پر انحصار کم ہو چکا ہے۔ دونوں ملک اب ایک دوسرے سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے۔ اس حال میں سعودی عرب چین کی مدد سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن حاصل کر سکتا ہے۔

’لیکن وہ چاہتا ہے کہ کوئی بھی خطے پر مکمل اثر و رسوخ قائم نہ کر سکے۔ تمام بڑے ملک طاقت میں اپنا اپنا حصہ رکھتے ہوں تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے۔ اس لیے خلیجی ممالک جاپان، جنوبی کوریا، یوکرین اور جرمنی کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر کر رہے ہیں۔‘

سعودی عرب اور انڈیا کے درمیان گذشتہ کچھ برسوں میں تعلقات زیادہ بہتر ہوئے ہیں۔ انڈیا کے آرمی چیف نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی کیا تھا۔

عمیر انس کہتے ہیں کہ چین خلیجی ممالک میں نیا پلیئر ہے تاہم روس نے ادھر کافی دلچسپی دکھائی ہے۔ اس نے شام میں ہوائی اڈہ بنایا ہے، مصر سے تعلقات قائم کیے ہیں اور لیبیا میں بھی اپنی موجودگی ظاہر کی ہے۔ روس بھی امریکہ کے لیے اس خطے میں ایک چیلنج ہے تاہم روس اور چین کی دوستی سے یہاں ہونی والی تبدیلیاں ابھی دیکھنا باقی ہیں۔

دنیا بھر میں نئے اتحاد قائم ہو رہے ہیں۔ کچھ دوست ممالک دشمن اور کچھ دشمن ایک دوسرے سے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ اسی طرح چین اب نئے دوستوں کی تلاش میں ہے۔