چین کا آخری شہنشاہ آئسین گیورو پوئی: تین سال کی عمر میں تخت پر بیٹھنے والا بادشاہ جو اپنی ’تاج پوشی کے دن رو رہا تھا‘

جو بھی ہو اُن کی کہانی غیر معمولی ہونے والی تھی۔۔۔ اُن کے مقدر میں لکھا تھا کہ وہ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی والی ریاست کے شہنشاہ بنیں گے مگر اُن کا انجام اپنے آباؤ اجداد جیسا نہیں تھا۔

آئسین گیورو پوئی کی کہانی 20 ویں صدی سے شروع ہوتی ہے۔ ان کی پیدائش فروری 1906 میں ہوئی۔ تب پوئی کے چچا گوانگشو چین کے شہنشاہ ہوا کرتے تھے تاہم شہنشاہ گوانگشو ایک کمزور بادشاہ تھے اور پوئی کی چچی ملکہ تسشی نے انھیں گھر میں نظربند کر رکھا تھا۔

بعد میں ملکہ تسشی نے پوئی کو تخت پر بٹھایا اور خود ان کے نام پر حکمرانی شروع کر دی۔ اپنی کم عمری کے باوجود ملکہ تسشی کا خوفناک چہرہ پوئی کے ذہن میں رہا۔

برسوں بعد انھوں نے لکھا کہ ’یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب میں نے انھیں پہلی بار دیکھا تو خوف سے میری چیخ نکل گئی۔ میرے پاؤں کانپ رہے تھے۔ ملکہ تسشی نے کسی سے مٹھائی لانے کے لیے کہا۔ میں نے مٹھائی زمین پر پھینک دی اور زور سے چیخا اور پوچھا میری آیا کہاں ہیں۔‘

شہنشاہ گوانگشو اور ملکہ تسشی کی وفات کے بعد اپنی تیسری سالگرہ سے دو ماہ قبل پوئی کو چین کا شہنشاہ قرار دیا گیا۔ برسوں بعد پوئی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ ’تاجپوشی کے دن میں بُری طرح رو رہا تھا۔‘

پوئی
،تصویر کا کیپشنگیارہ سال کی عمر میں پوئی

پوئی کا شاہی خاندان

پوئی کا تعلق مانچو قبیلے سے تھا جس نے منگ خاندان کو شکست دی اور سنہ 1644 میں چنگ خاندان کی بنیاد رکھی۔ اس خاندان کی حکمرانی کے تحت چین کا دائرہ پھیل کر دوگنا ہو گیا۔ اس وقت چین کی توسیع سنکیانگ اور منگولیا سے لے کر تبت تک تھی۔ چین کی موجودہ شکل کافی حد تک ویسی ہی ہے۔

اس نئے خاندان میں مختلف مذہبی گروپوں اور ذاتوں کے لوگوں کو پنپنے کا موقع ملا۔ 18 ویں صدی کے آخر تک چین کو ایک بڑی معیشت کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کی بھرپور ثقافت نے اس کی کامیابی کی عکاسی کر رہی تھی۔

چنگ خاندان کے شہنشاہ دارالحکومت بیجنگ کے مرکز میں شاندار محلات میں رہتے تھے۔ شاہی سکیورٹی اہلکار ان کی حفاظت کرتے تھے۔ ان کے دربار میں مانچو سماج کے معزز خاندانوں کے نمائندے ہوا کرتے تھے۔

لیکن 19 ویں صدی میں چنگ خاندان کمزور ہونا شروع ہو گیا۔ چنگ خاندان برطانیہ، امریکہ، جرمنی، فرانس اور جاپان کی افواج کے فوجی حملوں کے باعث چین کا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔

تائی پِنگ کی بغاوت

سنہ 1850 میں عیسائیت کو اپنانے والے چینی ہانگ شیکوان نے خود کو ایک نئے خاندان کا بادشاہ قرار دیا۔ ان کے حامیوں نے چنگ کے خلاف ایک ریلی نکالی اور انھیں عوام کی طرف سے بے پناہ حمایت ملی۔

اس کے بعد چین میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی جو 14 سال تک جاری رہی۔ تقریباً دو کروڑ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آخر میں چینی فوجیوں کو اس جنگ میں یورپی افواج کا مقابلہ کرنا پڑا۔

تائی پِنگ بغاوت 19 ویں صدی کی چین کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ اس بغاوت میں شامل چین کے شمالی صوبوں کے دیہی لوگوں کا خیال تھا کہ غیر ملکی ان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں اور انھوں نے غیر ملکیوں کو چین سے نکالنے کی مہم شروع کی۔

1898 میں بغات دوبارہ پھوٹ پڑی اور 1900 عیسوی کے موسم گرما میں انھوں نے بیجنگ کا محاصرہ کر لیا لیکن اس تحریک کو ستمبر 1901 میں بے دردی سے کچل دیا گیا۔

پوئی اپنے والد کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنپوئی کا تعلق مانچو قبیلے سے تھا

چنگ شاہی خاندان کا زوال

یہ تب کا چین تھا۔ پوئی کو جہاں ایک طرف شاہی پرورش مل رہی تھی وہیں دوسری طرف ان کے خاندان کے خلاف ایک انقلاب شروع کیا جا رہا تھا۔ بہت سے چینی یہ ماننے لگے کہ چنگ خاندان خدا کی جانب سے حکومت کرنے کا حکم کھو چکا ہے۔ انقلاب سنہ 1911 میں شروع ہوا تھا۔

پوئی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ ’کمرے کے ایک کونے میں مہارانی ڈووا گور لونگیو رومال سے اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ ایک موٹا بوڑھا آدمی ان کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا۔ میں وہاں کھڑکی کے ایک طرف بیٹھ گیا۔میں نے سوچا کہ دونوں بڑے لوگ آخر کیوں رو رہے ہیں۔‘

وہ رو رہے تھے کیونکہ 267 سال قدیم چنگ خاندان کی حکومت کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو رہا تھا لیکن چھ سال کے پوئی ان حقائق سے انجان تھا۔

درمیان میں ملکہ تسشی
،تصویر کا کیپشنپوئی کی چچی ملکہ تسشی نے پوئی کو تخت پر بٹھایا اور ان کے نام پر حکومت کرنے لگیں

جمہوریہ چین کا قیام

جمہوریہ چین کے قیام کے وقت تک صورتحال اسی طرح رہی۔ سب کے لیے سب کچھ نیا تھا۔ چین میں دو ہزار سال کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ چنگ خاندان کے لوگوں کے ساتھ کیا کیا جائے جو اقتدار سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

سوال یہ اٹھا کہ کیا انھیں منچوریا بھیج دیا جائے یا بیجنگ میں رہنے دیا جائے۔

فیصلہ کیا گیا کہ چنگ خاندان کے بادشاہوں کے ساتھ غیر ملکی بادشاہوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ بیجنگ کے ’فوربِڈن سٹی‘ یعنی ’ممنوعہ شہر‘ جہاں شاہی خاندان رہتا تھا انھیں وہاں رہنے کی اجازت دی گئی۔ شاہی محل، باغات اور تمام سہولیات پہلے کی طرح جاری تھیں۔

تو پوئی کے لیے زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ کسی نے انھیں یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اب شہنشاہ نہیں رہے۔ وہ ایک عرصے تک شاہی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

پوئی نے لکھا کہ ’جب چین کو جمہوریہ قرار دیا گیا اور ملک 20 ویں صدی میں ترقی کی جانب گامزن تھا تب بھی میں ایک شہنشاہ کی زندگی گزار رہا تھا۔‘

پوئی کے زمانے کی ایک پینٹِنگ
،تصویر کا کیپشنپوئی کے زمانے کی ایک پینٹِنگ

سنہ 1917

لیکن ایک وقت آیا جب سنہ 1917 میں پوئی کو دوبارہ چین کا شہنشاہ بنایا گیا۔ بادشاہت کے حامی جنرل ژانگ شون نے ایک کامیاب بغاوت کے بعد خود کو ’شہنشاہ کا مقرر کردہ حکمران‘ قرار دیا۔

لیکن جنرل ژانگ شون کی یہ کامیابی صرف دو ہفتے تک ٹِک پائی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ پوئی اور ان کے قریبی لوگوں کو بغاوت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

پوئی کی پرورش اس عجیب و غریب ماحول میں ہو رہی تھی۔ انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ اپنے خاندان سے الگ ہو گئے تھے۔ ان کی آیا وانگ ہی ان کے ساتھ تھیں۔

لیکن پوئی کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا رہا جیسے وہ کوئی مقدس شخص ہوں۔ کوئی انھیں تنگ نہیں کر سکتا تھا۔ یہاں تک کہ جب وہ شرارتیں کرتے تھے تب بھی لوگ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ وہ کون ہیں۔

’میرے ملازمین میں جو خواجہ سرا تھے انھیں کوڑے مارنا میرا روز کا کام تھا۔ ظلم اور طاقت کا میرا نشہ اتنا مضبوط تھا کہ کسی کے سمجھانے سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔

پوئی 11 سال کی عمر میں

سنہ 1919 میں برطانوی سکالر رینالڈ جانسٹن نے قلیل مدت کے لیے پوئی کے استاد کی حیثیت سے کام کیا۔

انھوں نے برطانوی حکومت کو پوئی کے بارے میں لکھا تھا کہ ’وہ ایک زندہ دل، خوش مزاج اور ذہین لڑکا ہے۔ اسے سلیقہ آتا ہے اور طاقت کا ذرا بھی غرور نہیں۔‘

آہستہ آہستہ پوئی ایک نوعمر لڑکا بن گیا جس کی سرکش فطرت اسے ممنوعہ شہر سے باہر لے آئی۔ پوئی نے چشمے پہننا شروع کیے اور منچو لوگوں کی روایتی چوٹی رکھنا چھوڑ دیا۔

تاہم شہنشاہوں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے دھوم دھام سے شادیاں کیں۔ پوئی لکھتے ہیں کہ ’میں نے کل چار شادیاں کیں لیکن سچ یہ ہے کہ وہ میری حقیقی بیویاں نہیں تھیں۔ وہ صرف دکھاوے کے لیے تھیں۔‘

بطور 'مانچو کوؤ کا شہنشاہ' پوئی جاپان کی کٹھ پتلی بن گئے تھے
،تصویر کا کیپشنبطور ’مانچو کوؤ کا شہنشاہ‘ پوئی جاپان کی کٹھ پتلی بن گئے تھے

مانچو کوؤ کے شہنشاہ کے طور پر پوئی

ممنوعہ شہر سے باہر کی دنیا میں چین اب بھی بادشاہت کے نظام کے خاتمے کے بارے میں سوالات کے جوابات تلاش کر رہا تھا لیکن سنہ 1924 میں وار لارڈ فینگ یوشیانگ اقتدار میں آئے اور پوئی کو ممنوعہ شہر سے باہر نکلنا پڑا۔

19 سال کی عمر میں انھوں نے جاپانیوں کے پاس پناہ لی۔ جاپان نے سنہ 1931 میں منچوریا پر قبضہ کیا اور پوئی کو ’مانچو کوؤ شہنشاہ‘ مقرر کیا۔ جاپان نے شمال مشرقی چین کے تین تاریخی صوبوں کو ملا کر یہ صوبہ بنایا۔

اس وقت جاپان یہ پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ ایشیا کی پانچ نسلیں جاپانی، چینی، کورین، منچو اور منگول مانچو کوؤ کے جھنڈے کے نیچے متحد ہو رہے ہیں۔

ایڈورڈ بیہر نے اپنی کتاب ’دی لاسٹ ایمپرر‘ میں لکھا ہے کہ جاپانی اسے ایک نئی تہذیب کی پیدائش اور دنیا کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دے رہے تھے۔

بطور ’مانچو کوؤ کا شہنشاہ‘ پوئی جاپان کی کٹھ پتلی بن گئے تھے۔ جاپان ایشیا میں اپنے قدم جمانے کے لیے مانچو کوؤ کا استعمال کر رہا تھا۔

پوئی
،تصویر کا کیپشنسنہ 1960 میں ماؤ کی حکومت نے پوئی کو شہریت اور آزادی دی

سائبیریا میں قید

مانچو کوؤ میں پوئی کی زندگی جہنم میں بدل گئی۔ دنیا کا سب سے وحشی حکومتی نظام اس وقت مانچو کوؤ میں نافذ تھا۔

پوئی کے عوام ان سے نفرت کرتے تھے۔ ایڈورڈ بیہر کے مطابق پوئی اپنے ہی محل میں جاپان کے قیدی تھے۔

بحیثیت شہنشاہ ان کا واحد کام یہ تھا کہ وہ جاپانیوں کی ہر بات پر دستخط کریں۔

لیکن پوئی بعد میں بدھ بھکشو بن گئے۔ سوویت فوج نے انھیں نہیں پہچانا اور انھیں سائبیریا کے شہر چیتا لے جایا گیا اور ایک بار پھر قیدی بنا لیا گیا حالانکہ انھیں دیگر قیدیوں کے مقابلے میں زیادہ سہولیات میسر تھیں۔

پوئی نے کمیونزم کی تعلیم حاصل کی

چالیس سال کی جدوجہد کے بعد سال 1949 میں ماؤ زے تنگ نے چین میں ایک نئی جمہوریہ کا اعلان کیا۔ پوئی کے ملک واپس آنے کا وقت بھی آ گیا۔ انھیں خدشہ تھا کہ ماؤ کی حکومت کے دوران ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔

لیکن ماؤ نے پوئی کو ایک تعلیمی کیمپ میں بھیج دیا۔ وہاں پوئی نے دس سال ایک عام آدمی کی طرح گزارے۔ سنہ 1960 میں ماؤ کی حکومت نے پوئی کو شہریت اور آزادی دی۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی پر حکمرانی کرنے والے انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا جب وہ بیجنگ کے بوٹینیکل گارڈن میں باغبان بن گیا۔ سنہ 1964 میں انھیں چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے ایڈیٹر کی ذمہ داری دی گئی۔

بعد میں انھوں نے اپنی سوانح عمری ’شہنشاہ سے شہری تک‘ کے نام سے لکھی جسے کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں مثلاً ماؤ اور چو این لائی نے فروغ دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *