ڈالر مزید مہنگا، انٹربینک میں روپے کی قدر میں 2 روپے 18پیسے کی کمی

انٹربینک مارکیٹ میں آج تجارت کے آغاز کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 2 روپے 18 پیسے کی کمی آگئی۔

مقامی کرنسی صبح 12 بج کر 49 منٹ تک 232 روپے فی ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی تھی جو کہ گزشتہ روز 229 روپے 82 پیسے پر بند ہونے کے بعد 0.94 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔

دریں اثنا اوپن مارکیٹ میں روپیہ اس وقت 238 سے 242 روپے فی ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

چیئرمین فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) ملک بوستان نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے درآمدی بل پر دباؤ بڑھا ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال کپاس اور گندم کی فصلیں کم ہوں گی جس سے درآمدی بل بڑھ سکتا ہے اور ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ آسکتا ہے۔

ملک بوستان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں پر باہر جانے اور بیرون ملک سے فارن کرنسی لانے پر ڈیکلریشن کی پابندی ختم نہ کی گئی تو اس کا دباؤ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا فرق مزید بڑھا سکتا ہے اس لیے وزارت خزانہ کو ہمارے تحفظات دور کرنے ہوں گے۔

سابق صدر کراچی چیمبر عبداللہ ذکی نے کہا کہ سیلابی صورتحال کے بعد سے ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے سب سے زیادہ پریشانی ہمیں ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روز ڈالر نئے ریٹ پر مل رہا ہے، ایسی صورتحال میں درآمدات کس طرح ممکن ہوگی، قیمت مقرر نہ ہونے کی صورت میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، ہماری لاگت بڑھے گی تو صارفین پر منتقل کریں گے۔

عبداللہ ذکی نے کہا کہ کمرشل بینکس ایل سی بھی مشکل سے کھول رہے ہیں، خدشہ ہے کہ ایل سی کھولنے میں حائل رکاوٹیں دور نہ کی گئیں تو برآمدی صنعت کے لیے جو خام مال درآمد ہوتا ہے اس کی درآمد بند ہوجائے گی جس سے برآمدی آڈرز کی تکمیل میں مشکلات آئیں گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ فوری طور پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں اور روپے کی قدر میں استحکام لانے کے جامع پالیسی بنائیں تاکہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوسکے۔

واضح رہے کہ روپے کی قدر میں 2 ستمبر سے ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمی آرہی ہے، گزشتہ ہفتے کے دوران یہ 9.2 روپے گر کر 228.18 روپے پر بند ہوا جبکہ رواں ہفتے کے ابتدائی سیشن میں یہ مزید ایک روپیہ 64 پیسے گر گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.