ڈاکٹر آصفہ اختر: انسانی جین کی گتھیاں سلجھانے والی انعام یافتہ پاکستانی نژاد محقق اور سائنسدان

’ایک سائنسدان بننے کے لیے ارادے کا مضبوط اور مستقل مزاج ہونا ضروری ہے۔ تحقیق کے دوران اگر آپ کو سازگار ماحول دستیاب نہیں تو یہ اکتاہٹ اور بددلی کا سبب بنتا ہے۔ بار بار ناکامی یا غیر متوقع نتائج سے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے مفروضات کی از خود جانچ کر کے اسے درست کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔‘

اپنی اسی مستقل مزاجی اور محنت کی وجہ سے جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصفہ اختر کو سنہ 2021 کے لائبنس انعام سے نوازا گیا ہے۔ دنیا بھر سے دس سائنسدانوں کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جسے جرمنی میں سائنسی تحقیق کا اعلیٰ ترین ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ مزید تحقیق کے لیے ڈاکٹر آصفہ کو تقریباً 25 لاکھ یورو کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔ یہ سائنسی تحقیق کے لیے مختص بلند ترین گرانٹس میں سے ایک ہے۔

وہ جرمنی کے مشہور زمانہ تحقیقی ادارے میکس پلانک سوسائٹی سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر آصفہ اختر مائیکرو بائیالوجی میں اپنی تحقیق کے باعث اس سے پہلے بھی بہت سے عالمی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ اختر کی پیدائش اور تعلیم

ڈاکٹر آصفہ اختر

ڈاکٹر آصفہ اختر سنہ 1971 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پیشے کے لحاظ سے بینکر تھے۔ وہ جب صرف سات یا آٹھ برس کی تھیں تو ان کی فیملی متحدہ عرب امارات منتقل ہو گئی مگر کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ کراچی آ گئے اور یہیں آصفہ اختر نے اپنا اے لیول مکمل کیا۔ اسی برس ان کی فیملی پیرس منتقل ہو گئی اور تب سے ان کے والدین پیرس میں ہی مقیم ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ کہتی ہیں ’پاکستانی معاشرے میں کچھ ایسا رجحان ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ بار بار دوسری جگہ منتقل ہونے سے بچوں کی نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے اور انھیں نئی جگہ اور نئے سکول میں ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

’مگر میرے لیے ہرگز ایسا نہیں تھا بلکہ میں نے پاکستان، عرب امارات، پھر پیرس اور لندن منتقلی سے بہت کچھ سیکھا جو آگے مستقبل کی پیش رفت میں میرے بہت کام آیا۔ اب میں خود دو بچوں کی ماں ہوں اور چاہتی ہوں کہ میرے بچے دوسرے ممالک جائیں اور وہاں کے ماحول سے سیکھیں۔‘

’میری نوجوانی کی ساری تربیت لندن میں ہوئی جہاں یونیورسٹی کالج لندن سے میں نے بائیالوجی میں بی ایس اور 1997 میں ایمپیریئل کینسر ریسرچ فنڈ انگلینڈ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ بعد ازاں پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے جرمنی میں یورپین مولیکیولر بائیالوجی لیبارٹری میں فیلو شپ اختیار کی۔‘

آصفہ کہتی ہیں ’پی ایچ ڈی وہ بہترین وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی صلاحیتوں اور طاقت کو آزما سکتے ہیں اور اسی وقت ایک سائنسدان کی مستقبل کی سمت کا تعین بھی ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر آصفہ اختر نے جرمنی کا انتخاب کیوں کیا

وہ بتاتی ہیں ’میں نے جب لندن کالج یونیورسٹی سے مائیکرو بائیالوجی میں پی ایچ ڈی مکمل کی تو میرے پاس پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے کئی آپشنز تھے۔ 90 کی دہائی کے اواخر میں آج کل کی طرح کیریئر کاؤنسلنگ کے ادارے، تھیسز ایڈوائزری کمیٹی اور مینٹورشپ پروگرامز نہیں ہوتے تھے جن سے موجودہ دور میں طلبا و طالبات کو بہت مدد مل جاتی ہے۔‘

’میں نے جرمنی کا انتخاب اس لیے کیا کہ ایک تو وہاں کا تحقیقی ماحول سازگار اور متاثر کن تھا۔ اس کے علاوہ جرمن ایک بہت منظم قوم ہے۔ ہائیڈل برگ میں اپنے ابتدائی دنوں میں مجھے بہت حیرت ہوتی تھی جب بس صرف ایک منٹ لیٹ ہو جانے پر لوگ اس کی شکایت کرتے نظر آتے۔‘

’کہنے کو یہ ایک چھوٹی سے مثال ہے لیکن اگر آپ غور کریں کہ زندگی میں اس طرح کا منظم نظام دستیاب ہو تو ہماری روزمرہ کی بہت سی پریشانیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ سائنسدانوں اور محققین کے لیے اس طرح کا ماحول خاص طور پر آئیڈیل ہوتا ہے کیونکہ ذاتی زندگی کے مسائل انسان کی کارکردگی پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔‘

جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصفہ اختر مائیکرو بائیولوجی میں اپنی تحقیق کے باعث بہت سے عالمی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ اختر کی کامیابیاں اور اعزازات

ڈاکٹر آصفہ اختر

سنہ 2020 میں ڈاکٹر آصفہ اختر کو میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف امیونو بائیالوجی کا منتظم اور میکس پلانک سوسائٹی کا نائب صدر بھی منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اس اہم ترین عہدے تک پہنچنے والی پہلی خاتون سائنسدان ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ اختر پاکستان سے تعلق رکھنے والی ان چند خواتین سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جو کئی عالمی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ وہ سنہ 2001 سے اپنے تحقیقی گروپ اور لیب کی سربراہی کر رہی ہیں اور جرمن سائنس کمیونٹی میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ کو سنہ 2008 میں یورپین لائف سائنسز آرگنائزیشن ایوارڈ اور سنہ 2017 میں ان کی گراں قدر تحقیق پر فیلڈ برگ پرائز دیا گیا۔ فی الوقت میکس پلانک سوسائٹی کی نائب صدر کی حیثیت سے وہ 27 اداروں اور سات مختلف تحقیقی تجربہ گاہوں کا انتظام سنبھالتی ہیں اور جرنل آف سیل سائنسز سمیت کئی معروف سائنسی جریدوں کی ایڈیٹر بھی ہیں۔

’آج جو آسانیاں ہیں وہ ہمیں میسر نہیں تھیں‘

اتنے زیادہ عالمی اعزازات کی حامل ڈاکٹر آصفہ کا کہنا ہے کہ وہ آج جس مقام پر ہیں وہاں تک پہنچنا ہرگز نہیں تھا۔

’نوے کی دہائی میں جب میں اپنا بی ایس کا تھیسز لکھ رہی تھی تو اس وقت ہر جگہ کمپیوٹر کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ ڈیجیٹلائزیشن نے تحقیق کے میدان میں آج جو آسانیاں فراہم کی ہیں وہ ہمیں میسر نہیں تھیں۔ اسی طرح دوسرے ممالک سے آنے والوں کے لیے جرمن زبان سیکھنا ایک اور بڑا مسئلہ ہوتا ہے جس کا سامنا ابتدائی دور میں مجھے بھی رہا۔‘

وہ کہتی ہیں ’نئی نسل کو یہ بات ذہن نشین کرنی ہو گی کہ ایک سائنسدان بننے کے لیے ارادے کا مضبوط اور مستقل مزاج ہونا ضروری ہے۔ تحقیق کے دوران اگر آپ کو سازگار ماحول دستیاب نہیں تو یہ اکتاہٹ اور بددلی کا سبب بنتا ہے۔ بار بار ناکامی یا غیر متوقع نتائج سے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے مفروضات کی از خود جانچ کر کے اسے درست کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

سائنسی تحقیق کے میدان میں خواتین کی نمائندگی

ڈاکٹر آصفہ اختر

ڈاکٹر آصفہ اختر بتاتی ہیں کہ ’میں جب لندن سے پی ایچ ڈی کے بعد پوسٹ ڈاکٹورل کے لیے جرمنی منتقل ہوئی تو کچھ عرصے بعد مجھے احساس ہوا کہ مرد و خواتین کے کام کے حوالے سے یہاں ابھی رویے قدامت پسندانہ ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’حالیہ برسوں کے ایک سروے کے مطابق جرمنی میں تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں خواتین عہدیداران کی تعداد 20 فیصد بھی نہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ یقیناً صنفی امتیاز ہے۔ اگرچہ مجھے اپنی فیملی کی مکمل سپورٹ حاصل رہی اور وہی روزانہ ڈھیروں کام سر انجام دینے کے لیے مجھے توانائی دیتے ہیں مگر ہر کسی کے لیے ماحول ایسا نہیں۔‘

ڈاکٹر آصفہ صنفی امتیاز کے بڑے مخالفین میں سے ایک ہیں اور سمجھتی ہیں کہ جرمن معاشرے کو ابھی اس حوالے سے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

سائنسی تحقیق میں خواتین کو آگے لانے، شادی شدہ اور بچوں والی ماؤں کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جیسے بچوں کی دیکھ بھال کے سینٹر اور گھر سے کام کی سہولت وغیرہ فراہم کرنے سے متعلق ڈاکٹر آصفہ کافی سرگرم ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ کی تحقیق

ڈاکٹر آصفہ اختر اور ان کی ٹیم کی تحقیق جینیات پر ہے جو موجودہ دور میں ایک ابھرتا ہوا سائنسی تحقیقی میدان ہے۔ اس کا ایک براہ راست تعلق انسان کو وراثت میں والدین سے ملنے والی خوبیوں اور خامیوں سے ہے۔

اگرچہ ہمارے جسم میں موجود تمام خلیے ایک جیسی معلومات رکھتے ہیں مگر یہ معلومات مختلف خلیوں میں مختلف طریقے سے ترجمہ کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر آصفہ اختر

مثال کے طور پر ہمارے ہاتھ آنکھوں کو مختلف دکھائی دیتے ہیں جو ایک آلہ یا ٹول باکس کی طرح ہیں کوئی اس سے کرسی بناتا ہے، کوئی پیانو بجاتا ہے، تو کوئی انھی ہاتھوں سے لکھنے کے فن میں مہارت حاصل کر لیتا ہے۔ انسانی خلیوں میں معلومات کے اس ترجمے اور تبادلے کا عمل کس طرح ہوتا ہے یہ سب بہت دلچسپ اور حیران کن ہے۔

آصفہ کہتی ہیں کہ ’ڈی این اے کو انسانی جسم کی ساخت اور بناوٹ سے متعلق تمام تر تفصیلات کا مرکب سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک آرکیسٹرا کی طرح ہے جس سے ایک دل موہ لینے والی دھن تشکیل دینے کے لیے ضروری ہے کہ موسیقی کے تمام آلات درست انداز میں صحیح وقت پر بجائے جائیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک آلہ بھی صحیح آواز پیدا نہ کرے تو دھن اپنی لطافت کھو دے گی۔‘

سائنسدان انسانی جین اور بالخصوص کروسومز پر تحقیق کر کے جسم کی ساخت اور بناوٹ کی باریک ترین تفصیلات کو جان کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسم میں کسی نقص یا بیماری کی جڑ کہاں ہے۔

ڈاکٹر آصفہ کی تجربہ گاہ میں ایسے میکنزم پر بہت کام ہوتا رہا ہے جس سے یہ پتا چلایا جا سکے کہ جین کو کیسے ریگولیٹ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ماڈل سسٹمز بروئے کار لاتے ہوئے پھلوں پر بیٹھنے والی مکھیوں اور چوہوں پر تجربات کیے گئے ہیں۔

حال ہی میں ان کی لیب میں ایک ہیومن سنڈروم ’پروگریسو ڈیویلپمنٹ ڈیلے‘ کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین مکمل صحت مند تھے۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس طرح کے امراض کی نیچر ایپی جینیٹک یا موروثی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر آصفہ کا کہنا ہے کہ جب تک ہمیں انسانی جسم کے نارمل میکنزم کا پتا نہ ہو تب تک ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کے وہ کون سے عناصر ہیں جن میں نقص ہونے کے سبب کوئی ڈس آرڈر یا بیماری جنم لیتی ہے۔

جینیات میں جدید پیشرفت سے سائنسدانوں کو یہ امید ہو چلی ہے کہ وہ انسانی جین میں موجود خرابی کو رفع کر کے آنے والی نسلوں کے لیے بہت سی بیماریوں کے ختم ہونے کی نوید دے سکیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *