ڈاکٹر جاوید اکرم، ڈاکٹر اسد اسلم، ڈاکٹر خاور عباس!

ڈاکٹروں کے بارے میں میری رائے کو مستند سمجھا جانا چاہئے کہ میں ایک پرانا مریض ہوں، گائنا کالوجسٹ کے علاوہ ہر ڈاکٹر کے آستانے پر حاضری دینا پڑتی ہے، مگر میں اس وقت صرف تین ڈاکٹروں کا ذکر کر رہا ہوں کہ حوالہ کورونا کا ہے۔ میں ایک عذاب سے گزر چکا ہوں اور اس دوران میں نے جن ڈاکٹروں کو قوم کو اس مرض سے نجات دلانے کیلئے دن رات کام کرتے دیکھا ہے، یہاں صرف ان کا ذکر ہے ۔

ان میں سے ایک تو ڈاکٹر جاوید اکرم ہیں جو صف اول کے فزیشن ہیں۔ ان دنوں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ہیں جس کے بورڈ آف گورنرز کا میں بھی رکن رہا ہوں، انہوںنے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے معاملات پر جس طرح کڑی نظر رکھی ہے اور ان کے دو نمبر کام پر جس طرح گرفت کی ہے، میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ سبھی نہیں پر بعض پرائیویٹ لا کالج، پرائیویٹ میڈیکل کالج اور اس طرح کے دوسرے ادارے امتحانات کے بہتر نتائج سے زیادہ مال و متاع کو ترجیح دیتے ہیں جو انہیں ڈگریاں بانٹنے کی صورت میں میسر آتا ہے۔ قارئین سے معذرت کہ میں موضوع سے تھوڑا بھٹک گیا ہوں۔ جاوید اکرم نے کورونا کے سدباب کے لئے بھی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان دنوں وہ طبی سائنس دانوں کے ساتھ پاکستان میں کورونا ویکسین کی تیاریوں میں مشغول ہیں ، ﷲ کرے ہم اس میں کامیاب ہوں!

جس طرح دشمن کے ساتھ جنگ کے دوران زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ اپنے اپنے طور پر ’’سپاہی‘‘ کا کردار انجام دیتے ہیں، میں نے کورونا ایسے عالمی دشمن کے خلاف جنگ میں ڈاکٹر اسد اسلم کو فرنٹ لائن پر جہاد کرتے دیکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ویسے تو میرے نزدیک سب سے معتبر اور نامور آئی اسپیشلسٹ ہیں، مگر انہوں نے کورونا کے خلاف کام کرنے والی ٹیم کے ساتھ دن رات کام کیا ہے۔ میں یہاں بھی چشم دید گواہ کے طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ جب مجھے کورونا ہوا تو میں میوہسپتال کے کورونا وارڈ میں زیر علاج تھا۔ اس وقت ڈاکٹر اسد اسلم میواسپتال کے ایم ایس تھے۔ وہ روزانہ انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے کورونا وارڈ کا چکر لگاتے، چنانچہ مجھے یہ اطمینان رہتا کہ میں محفوظ ہاتھوں میں ہوں۔ اس اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں عالی شان شخصیت کے مالک اس شخص کو کافی عرصے سے جانتا ہوں اور ان کی انسان دوستی کی مثالیں دوستوں کو سناتا رہا ہوں۔

میں اس کالم میں اپنے محسنوں کا ذکر کر رہا ہوں چنانچہ ڈاکٹر خاور عباس کے ذکر کے بغیر یہ کالم ادھورا رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب پلماکالوجسٹ ہیں اور میرے خاندان کے بہت سے ’’کورونا ہولڈرز‘‘ کا علاج انہی نے کیا اور ہر ایک نے ان کے دست شفا سے شفا پائی۔ موجودہ وبا کے دوران کئی ایک ڈاکٹر اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ گئے اور انہوں نے کسی کورونا کے مریض کا فون سننے سے بھی احتراز کیا کہ کیا پتہ فون کے ذریعے وائرس ان تک پہنچ جائے، مگر ڈاکٹر خاور عباس نے اپنی جان پر دوسروں کی جان کو فوقیت دی اور رات کے بارہ بجے تک مریضوں کو دیکھتے رہے۔ اس وقت تک دیکھتے رہے جب تک یہ وائرس خود ان تک نہیں پہنچا۔ الحمد للہ اب وہ خیریت سے ہیں، ﷲ تعالیٰ انہیں اور ان جیسے دوسرے حکماء کو تادیر ہمارے درمیان زندہ و تابندہ رکھے!

ان نامور اطباء کے علاوہ میں اپنے ایک کالم میں ڈاکٹر مسعود صادق کا ذکر بھی تفصیل سے کر چکا ہوں، میری خواہش ہے کہ میں مختلف اوقات میں ان شخصیات کا ذکر کروں جو اس مقدس پیشے سے وابستہ ہیں اور اس کے تقدس کو برقرار رکھ رہی ہیں۔ میں کبھی ڈاکٹر زاہد پرویز کا تفصیلی ذکر بھی کروں گا جو ایڈمنسٹریشن سے تعلق رکھتے ہیںاور ہر وقت غریب و لاچار مریضوں کی دعائیں سمیٹتے رہتے ہیں۔ میں ڈاکٹر امیر الدین مرحوم کے بارے میں تفصیلات حاصل کر کے کبھی ان کی خدمات کا ذکر بھی کروں گا۔ وہ میو ہسپتال کے ایم ایس رہے ہیں۔ میں جب بچہ تھا تو میری دائیں ٹانگ میں ایک پھوڑا سا نکل آیا، جسے آپریٹ خود ڈاکٹر امیر الدین نے کیا کہ یہ ایک طرح سے ہڈیوں کی ٹی بی کا شاخسانہ تھا۔ چنانچہ میری ٹانگ کے اس حصے میں جو ہڈی ہے وہ ابھی تک کچی ہے اور زخم کا اتنا حصہ تھوڑا سا گہرا ہے۔ چنانچہ کاغذوں میں میرا شناختی نشان دائیں ٹانگ کا یہ نمایاں حصہ ہے۔ ڈاکٹر امیر الدین جب وارڈز کے معائنے پر نکلتے تو غریب مریضوں کے سرہانے کے نیچے کچھ رقم رکھ دیتے۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ میں نے آج کے کالم میں جن ڈاکٹروں کی کورونا کے حوالے سے خدمات کا ذکر کیا ہے، میں نہیں جانتا کہ وہ اپنی نیک کمائی کا کتنا حصہ ایسے کاموں پر خرچ کرتے ہیں مگر ان میں وہ لالچ کہیں دور دور تک نظر نہیں آتا جو اس شعبے سے وابستہ ان افراد میں نظر آتا ہے جن کی نظر مریض کی جیب پر ہوتی ہے تاہم نام انہی کا زندہ رہے گا جو خلق خدا کی خدمت صدق دل سے کرتے ہیں!