Site icon Dunya Pakistan

ڈاکٹر طاہر مصطفی کا غیر منقوط ترجمہ قرآن

مذہب کا تعلق ایمان کی مضبوطی اور عقیدے کی پختگی سے ہے۔ اسے عقل، دلیل اور منطق وغیرہ سے ہٹ کر روح اور جذبے سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ اسلام غور و فکر کی تلقین کرتا، اللہ تعالیٰ کی کائنات کے مختلف مظاہر پر غور کرنے کا درس دیتا ہے۔ وہ عقل اور دلیل کے دروازے ہر گز بند نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے گہری محبت، اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ؐ کے ساتھ لازوال عقیدت اور دین کی تمام علامات کے ساتھ مضبوط روحانی وابستگی ہمارے ایمان اور عقیدے کو مضبوط کرتی ہے۔ محبت اور عقیدت کا یہ جذبہ جب عشق اور لگن میں تبدیل ہوتا ہے تو ہر مسلمان کا دل چاہتا ہے کہ وہ اس کا اظہار کرئے۔ اس اظہار سے اسے روحانی تسکین ملتی ہے۔ یہی تسکین اس کی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے۔ ہم مختلف شکلوں میں اس عقیدت و محبت کا اظہار صدیوں سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ اسلامی طر ز تعمیر، عظیم الشان مساجد، قرآن کریم کی خطاطی کے سینکڑوں خوبصورت انداز، دیواروں اور چھتوں پر آیات قرآنی کی نقاشی، مصورانہ خطاطی، تلاوت کلام پاک کے کئی کئی آہنگ اور انداز، غرض اپنے دین اور اس کی علامات سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت ایک ثقافت میں ڈھل چکی ہے۔
قرآن کریم، اللہ پاک کی طرف سے نبی آخرا لزماں ؐ پر نازل ہونے والا آخری صحیفہ ہے۔ حضور ؐ کے زمانے سے لے کر آج تک، قرآن کریم خطاطی اور کتابت کے کئی مرحلوں سے گزرا ہے۔ اس عظیم الہامی کتاب کے ساتھ کئی معجزے جڑے ہیں۔ چودہ صدیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کامتن ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف بلکہ اعراب کی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہے اور اس میں بال برابر تبدیلی نہیں آئی۔ یہ بات بھی کسی معجزے سے کم نہیں کہ دنیا بھر میں لاکھوں انسان ایسے ہیں جنہوں نے کلام پاک کو حفظ کر رکھا ہے۔ تصور کیجئے کہ کس طرح ایک کم سن بچہ 86 ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل کتاب الہیٰ کو زبانی یاد کر لیتا ہے اور یہ کلام ساری زندگی اس کے سینے میں محفوظ رہتا ہے۔ کیا کسی بھی موضوع پر لکھی گئی اتنی ضخیم کتاب کو یاد کرنا ممکن ہے؟
قرآن کریم کی خطاطی، مسلم اہل فنون کا خصوصی میدان رہی ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ اردو میں درجنوں تراجم اور تفاسیر موجود ہیں۔ یہ سب جید علمائے کرام کی لکھی ہوئی ہیں اور ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے۔ خطاطی میں کئی تجربات بھی کئے گئے ہیں۔ طباعت کے اعتبار سے بھی کوئی دوسری کتاب قرآن پاک کی خوبصورتی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کے معنی واضح کرنے کے لئے رنگین متن کے کلام پاک بھی شائع ہوئے ہیں۔میں نے معروف عالم دین ولی محمد رازی کی سیرت نبویؐ پر لکھی گئی کتاب " ہادی عالم" کے بارے میں پڑھا تھا کہ یہ غیر منقوط ہے۔ یعنی پوری کتاب میں کوئی نقطہ استعمال نہیں ہوا۔ اسی طرح سنتے ہیں کہ عربی زبان میں ابوالفیض فیضی نے " سواطع الالہام " کے نام سے قرآن پاک کی غیر منقوط مختصر تفسیر تحریر کی۔ میں ہمیشہ سو چا کرتی تھی کہ یہ کس قدر محنت کا کام ہے۔ محنت سے کہیں ذیادہ محبت اور عقیدت کا کام۔ قرآن کریم کی محبت اور عقیدت پر مبنی ایسا ہی ایک کارخیر ڈاکٹر طاہر مصطفی صاحب نے بھی سر انجام دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب علوم اسلامیہ کے پروفیسر ہیں۔ کم وبیش دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر دینی پروگراموں میں بطور میزبان اور مہمان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ڈاکٹریٹ اسمائے نبیؐ پر ہے۔ انہوں نے قرآن پاک کا غیر منقوط تفسیری ترجمہ تحریر کیا ہے۔

چند دن قبل ڈاکٹر صاحب میرے دفتر تشریف لائے۔ درس کلام اللہ کا تحفہ وصول کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ اس عظیم کار ثواب کے متعلق ان سے گفتگو رہی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ اس غیر منقوط تفسیری ترجمے کے ظہور پذیر ہونے میں جہاں اللہ پاک کی توفیق شامل رہی وہاں میری یہ آرزو بھی یقینا کارفرما تھی کہ اللہ رب العزت میری ذات کو پوری دنیا میں ایک الگ امتیازی اعزاز عطا فرمائے اور اس اعزاز کی نسبت قرآن سے ہو۔فرمانے لگے کہ الحمدوللہ قرآن پاک سے میری امتیازی نسبت اس غیر منقوط تفسیری ترجمے سے ہوگئی ہے۔ اللہ کے فضل سے میری یہ محنت قیامت تک ادب قرآن کریم میں ایک امتیازی پہچان کے طور پر تراجم اور تفاسیر کی کہکشاں میں ایک ستارے کی مانند روشن رہے گی۔ معلوم یہ ہوا کہ بھارت میں قرآن پاک کے تراجم پر پی۔ایچ۔ڈی ہو رہی ہے۔اس تحقیقی مقالے میں اس غیر منقوط ترجمے کی بابت ایک مکمل باب شامل کیا جا رہا ہے۔

یہ بھاری بھرکم کام ڈاکٹر صاحب نے محض دو برس کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔بتانے لگے کہ بعض اوقات ایک دن میں دو آیات کا ترجمہ ہو جاتا تھا اور بسا اوقات کئی کئی دن تک ایک منقوط لفظ کا غیر منقوط متبادل نہیں ملتا تھا۔ پھر اللہ پاک میرے ذہن میں وہ لفظ ڈال دیتا۔ میں نے معلوم کیا کہ دو برس میں ترجمہ کرنے کے بعد، اس کی اشاعت میں سات سال کیوں لگ گئے؟ ڈاکٹر صاحب جواب دینے سے گریزاں تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اشاعت کے لئے سرمایہ درکار تھا۔ جو دستیاب نہیں تھا۔ آخر کار دوستوں نے مل کر سات آٹھ لاکھ روپے کی رقم عطیہ کی۔ ڈاکٹر صاحب کے ایک شاگرد نے بارہ لاکھ روپے ہدیہ کئے۔ اس کے بعد اشاعت ممکن ہو سکی۔ ڈاکٹر طاہر مصطفی صاحب کہنے لگے کہ ایسے دینی، علمی اور تحقیقی کاموں کی سرپرستی ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ بہرحال ان کی یہ بات سن کرمجھے یہ خیال بھی آیا کہ کچھ ذمہ داری تو اس نجی درسگاہ کے ارباب اختیار کی بھی بنتی ہے جس میں ڈاکٹر طاہر برسوں سے فریضہ تدریس سر انجام دے رہے ہیں۔ معروف اینکر سید بلال قطب کے پروگرام میں ایک عالم دین نے تجویز دی ہے کہ ڈاکٹر طاہر مصطفی صاحب کو قرآن پاک کے غیر منقوط ترجمے پر صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ملنا چاہیے۔ یہ ایک عمدہ تجویز ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر طاہر مصطفی صاحب کا یہ کار ثواب کسی دنیاوی ایوارڈ کا محتاج نہیں۔ اللہ پاک خود ان کو اجر و ثواب سے نوازے گا۔اس کے باوجود ا یسے اچھے کام کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کو اس کار خیر کی جزا عطا فرمائے۔ مجھ جیسوں کو بھی اللہ کے کلام کو سمجھنے، عمل کرنے اور اسکی نشر و اشاعت کی توفیق عطا کرئے۔ آمین۔

Exit mobile version