ڈاکٹر فرید پراچہ کی " عمر رواں "

چند ماہ پہلے کا ذکر ہے۔ میں سیاحت کی غرض سے خانس پور میں تھی۔ ایک صبح اس علاقے اور لوگوں کے طرز رہن سہن کا جائزہ لینے کیلئے گھوم پھر رہی تھی۔ سڑک کے پار ایک صاحب دکھائی دئیے۔ اپنے گھر کے لان میں کرسی میز ڈالے، کاغذوں کا پلندہ سامنے رکھے، کچھ لکھنے میں محو تھے۔ ان کی محویت دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ایسے پر سکون ماحول میں، اتنے خوشگوار موسم میں، لکھنے پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ کیا خوش نصیب آدمی ہیں جنہیں یہ علاقہ، گھر اور موسم میسر ہے۔ اتنے میں ان صاحب نے کاغذوں کے پلندے سے نگاہ اٹھائی اور میری طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے بھی انہیں پہچان لیا۔ یہ جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب تھے۔ میں نے دور سے ہاتھ ہلاکر انہیں سلام کیا اور سڑک پار کرنے لگی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے عمرہ کے سفر کا احوال کالموں میں لکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری نہایت حوصلہ افزائی فرمائی تھی۔مزید نوازش انہوں نے یہ کی کہ مجھے مولانا مودودیؒ کی کتابوں کیساتھ ساتھ اپنا سفرنامہ حج " سفر شوق " بھجوایا تھا۔خانس پور روانگی سے قبل میں نے ارادہ کیا تھا کہ دوران سفر " سفر شوق" پڑھوں گی۔لیکن اپنے بھلکڑپن کی وجہ سے میں یہ کتاب ہمراہ لانا بھول گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے سلام دعا کے بعد میں نے یہ بات ان کے گوش گزار کی۔انہوں نے خفگی کا اظہار کیا۔کہنے لگے کہ یعنی آپ نے ابھی تک وہ کتاب پڑھی ہی نہیں۔ اس پر تو جرمانہ بنتا ہے۔
میری بہن اور بھائی بھی اس وقت میرے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ملازم کو آواز دے کر مزید کرسیاں منگوائیں۔ ہم تینوں کو بٹھایا، چائے، نمک پاروں اور خانس پور کے مشہور گلاب جامنوں سے تواضع کی۔ فرمانے لگے کہ ابھی گھر میں خواتین موجود نہیں ہیں۔ورنہ آپ سے ضرور ملواتا۔ ڈاکٹرپراچہ صاحب سے میری آخری ملاقات نوائے وقت گروپ کے ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی مہربانی، میرے گھر والوں کے سامنے میرے جمہوری نظریات اور اس سیمینار میں میری تقریر کا نہایت اچھے الفاظ میں تذکرہ کیا۔انہوں نے ہمیں خانس پور کی تاریخ بتلائی۔ میں نے ان کے گھر کی تعریف کی تو انہوں نے گھر کی خریداری کا قصہ تفصیل سے سنایا۔ کچھ دیر ہم نے ملکی سیاست پر بات کی۔ خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ کے سیاسی اور سماجی حالات پر۔ بہرحال آدھ پون گھنٹہ بعد ہم نے ڈاکٹر صاحب سے رخصت لی۔ لاہور واپس آکر " سفر شوق" تو میں نے پڑھ لیا۔ لیکن اس پر تبصرہ نہیں لکھ سکی۔وجہ یہ کہ سیاست پر تو کچھ انٹ شنٹ لکھ لیتی ہوں۔ تاہم خالص دینی موضوعات اور ایسے عمدہ روحانی تجربات پر لکھتے ہوئے میرا قلم لڑکھڑا نے لگتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ارادہ کیا ہے کہ انشااللہ جلد " سفر شوق " پر ایک تبصرہ لکھوں گی۔
فی الحال میں ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب کی سوانح عمری " عمر رواں " کا ذکر کرنا چاہتی ہوں۔ چند دن پہلے ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ کتاب موصول ہوئی تو ایک دو نشستوں میں پڑھ ڈالی۔ سچ پوچھیے تو ڈاکٹر صاحب نے محض اپنی داستان حیات نہیں لکھی بلکہ ملک کی سیاسی تاریخ قلمبند کی ہے۔ وہ تاریخ جس کا انہوں نے بذات خود مشاہدہ کیا ہے۔ اہل سیاست کی سوانح عمریاں یوں بھی اپنے عہد کی تاریخ ہوتی ہیں۔ قارئین کو ان کی ذاتی زندگی کے واقعات سے دلچسپی ہو یا نہ ہو، ان کی سیاسی زندگی کے مشاہدات اور تجربات انہیں نہایت دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب کی تو خیر ذاتی زندگی بھی کثیرالجہت رہی ہے۔ ان کا خاندانی پس منظر بھی ایک نہایت عظیم شخصیت کا حامل ہے۔ یعنی ان کے والد گرامی محترم مولانا گلزار احمد مظاہریؒ۔ سنتے ہیں کہ وہ نہایت بلند پایہ علمی شخصیت تھے۔ بہت اچھے مقرر تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی ڈاکٹر حسین پراچہ، جو صف اول کے کالم نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، نے حال ہی میں مولانا گلزار مظاہری ؒ پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اگرچہ یہ میری نگاہ سے تو نہیں گزری۔ لیکن چرچا ہے کہ نہایت عمدہ کتاب ہے۔اپنے والد محترم ہی کی طرح ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب بھی دانشور شخصیت ہیں۔فن تقریر اور تحریر پر کامل عبور رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ نہایت عمدہ سفر نامہ نگار ہیں۔یہ کتاب" عمر رواں " بھی ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا ایک سفر نامہ ہی معلوم ہوتی ہے۔

اس کتاب میں ڈاکٹر پراچہ اپنے خاندانی پس منظر،بچپن، گھر کے ماحول، والدین کی تربیت اور تعلیم کا احوال تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ جامعہ پنجاب میں گزرا دور طالب علمی، طلباء سیاست اور پھر پہلی اور دوسری شادی کے واقعات بھی کتاب میں شامل ہیں۔ اپنی گرفتاریوں اور جیل میں گزرے شب و روز کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ایوب اور یحیی کے آمرانہ ادوار کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر 1970 کے انتخابات کے بعدمتحدہ پاکستان کے خاتمے تک تمام واقعات اور سیاسی صورتحال کا نہایت خوبی سے احاطہ کیا ہے۔ قومی تاریخ کے اس افسوس ناک سانحے کے اسباب و محرکات بھی انہوں نے بیان فرمائے ہیں۔ بھٹو دور، جنرل ضیا کا مارشل لاء، جہاد افغانستان، آئی۔جے۔آئی کی تشکیل اور جماعت کی اس سے علیحدگی، واجپائی کی پاکستان آمد، مشرف دور آمریت، عدلیہ بحالی تحریک، کرونا وائرس کے اثرات کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنات اور روحانی تجربات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔جماعت اسلامی اور اپنے سیاسی نظریات سے محبت ان کی تحریر میں جا بجا دکھائی دیتی ہے۔ بہت سی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا احوال بھی انہوں نے بیان کیا ہے۔خاص طور پر مولانا مودودیؒ، جنرل ضیا ء الحق اور جیل میں جنرل رانی سے ہونے والی ملاقاتوں کے واقعات دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر فرید پراچہ صاحب نے روشنی نہیں ڈالی۔ عمر رواں واقعتا پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ نوجوان جو سیاست اور خاص طور پر نظریاتی سیاست کو پسند کرتے ہیں، انہیں یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم اور معروف شاعر اور نقاد خورشید رضوی صاحب نے کتاب کے بارے میں تعارفی کلمات تحریر کئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق لکھتے ہیں کہ" یہ کتاب اس طرح ترتیب دی گئی ہے جس سے ہماری قومی و ملی تاریخ کے نمایاں بلکہ بعض خفیہ گوشے بھی سامنے آتے ہیں "-جماعت اسلامی کے رہنما امیر العظیم نے فلیپ میں بجا طور پر لکھا ہے کہ…" " عمر رواں " صرف جماعت اسلامی ہی نہیں، بلکہ قومی زندگی کے اور دائروں میں بھی دلچسپی سے پڑھی جائے گی"۔ معروف علمی اور ادبی شخصیت خورشید رضوی کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ" فرید پراچہ کا اسلوب تحریر قارئین کی توجہ کو بہت جلد گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کا سبب ان کی عبارت آرائی نہیں، راست بیانی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ عمر رواں کو قارئین کی فراواں پذیرائی ملے گی۔ "
کتاب کے آخر میں ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب کے بچپن اور عہد جوانی سے اب تک کی یادگار تصاویر دی گئیں ہیں۔ اس عمدہ کتاب کی اشاعت پر " قلم فاونڈیشن "، اسکے عہدیداران علامہ عبدالستار عاصم صاحب اور فاروق چوہان صاحب یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ" سفر شوق " ہی کی طرح " عمر رواں " کے بھی کئی ایڈیشن شائع ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: