ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس: دنیائے کرکٹ کے پہلے سپر سٹار اور جدید بیٹنگ کے تخلیق کار جنھیں آؤٹ ہونا سخت ناپسند تھا

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کا نام آتے ہی ایک ایسے دراز قد کرکٹر کا خیال ذہن میں اُبھرتا ہے جو سر پر ہیٹ پہنے بڑی توجہ سے بیٹنگ میں مصروف ہیں۔ ان کی پہچان وہ لمبی داڑھی ہے جو ان کی شخصیت کو متاثر کن اور معتبر بنا دیتی ہے۔

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کی جتنی بھی تصاویر موجود ہیں ان میں ہمیں یہ سب کچھ واضح طور پر نظر آتا ہے۔

ایم سی سی کی آرکائیوز میں چند سیکنڈز کی نادر فوٹیج موجود ہے جس میں ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کو بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کرکٹ کی دنیا میں ’بابائے کرکٹ‘ کہلائے جاتے ہیں۔ وہ کئی اعتبار سے دلچسپ شخصیت کے مالک تھے جن کی زندگی کے کئی پہلو ابھی تک دنیا کی نظروں سے اُوجھل ہیں لیکن جتنا کچھ سامنے آ چکا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے دور کے سب سے مشہور کرکٹر تھے۔ کرکٹ کے مؤرخین اس بات پر متفق نظرآتے ہیں کہ وہ کرکٹ کے پہلے سپر سٹار ہیں۔

بیٹنگ کو نیا انداز دیا

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے کھلاڑی ہیں جنھوں نے بیٹنگ کو ایک انداز دیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے بیٹسمین تھے جنھوں نے بیک فٹ اور فرنٹ فٹ دونوں پر یکساں مہارت کے ساتھ بیٹنگ کی۔

آن اور آف دونوں اطراف اعتماد سے کھیلنے کا پہلا عملی مظاہرہ بھی انھی کی طرف سے دیکھنے میں آیا۔

پرنس رنجیت سنھجی نے جو رانجی کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب ’جوبلی بک آف کرکٹ‘ میں لکھا ہے کہ ڈبلیو جی گریس کرکٹ میں انقلاب لائے۔

انھوں نے جدید بیٹنگ کی کئی تکنیکوں پر کام کیا اور دنیا کے سامنے لائے۔ اس دور میں بیٹنگ میں جو بھی تبدیلیاں آئیں وہ ڈبلیو جی گریس کی سوچ کا نتیجہ تھیں۔

شہرہ آفاق کرکٹ کمنٹیٹر جان آرلٹ کہتے ہیں کہ ’ڈبلیو جی گریس نے جدید کرکٹ کو تخلیق کیا۔‘ ڈیوڈ فرتھ نے انھیں اپنے دور کا سب سے مشہور انگریز کرکٹر قرار دیا تھا۔

گریس

کرکٹ گھرانہ

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس میں کرکٹ اوڑھنا بچھونا تھی۔ ان کے والدین کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرتے تھے۔

ڈبلیو جی گریس کے علاوہ ان کے دو بھائیوں نے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی اور اگلی نسل کے پانچ افراد فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے۔ یہی نہیں بلکہ ماموں چچا اور ان کے بچے بھی کرکٹ سے وابستہ رہے۔

ڈبلیو جی گریس کا پورا نام اگرچہ ولیم گلبرٹ گریس تھا لیکن خاندان میں وہ گلبرٹ کے نام سے مشہور تھے۔

ان کی والدہ مارتھا نے انھیں ہمیشہ ’وِلی‘ کہہ کر پکارا اور جب وہ کرکٹ کی دنیا میں آئے تو ڈاکٹر کے نام سے پہچانے گئے۔

عمر کے ساتھ ساتھ یہ لقب ’اولڈ مین‘ میں بھی تبدیل ہوا اور اپنے کھیل کی وجہ سے ان کے پرستار انھیں چیمپیئن بھی کہتے تھے۔

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کی ابتدائی کرکٹ میں ان کے ماموں الفریڈ پوکاک کا عمل دخل نمایاں تھا جو ایک بہترین کوچ تھے۔

انھوں نے ڈبلیو جی گریس کے بچپن میں ان کے قد کے حساب سے چھوٹے سائز کے بیٹ تیار کرائے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ سیدھے بلے سے سٹریٹ ڈرائیوز آسانی سے کھیل سکیں کیونکہ بڑے بیٹ سے وہ آسانی سے نہیں کھیل پا رہے تھے۔

یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا کیونکہ اسی وجہ سے انھیں اپنے کریئر میں سٹریٹ ڈرائیو کھیلنے میں کبھی مشکل پیش نہیں آئی۔

والدہ کا مشہور خط

ٹیسٹ کرکٹ میں تین بھائیوں کے ایک ساتھ کسی ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کی پہلی مثال گریس برادران نے قائم کی جب سنہ 1880 میں اوول میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں ڈبلیو جی گریس ان کے بڑے بھائی ای ایم گریس اور چھوٹے بھائی فریڈ گریس ایک ساتھ کھیلے۔ یہ انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔

ڈبلیو جی گریس کی والدہ مارتھا کا ذکر بھی کتابوں میں نمایاں طور پر موجود ہے جو کرکٹ کی مکمل معلومات رکھتی تھیں۔

خاص طور پر ان کا وہ خط بہت شہرت رکھتا ہے جو انھوں نے انگلینڈ کے کرکٹر ولیئم کلارک کو لکھا تھا جنھوں نے آل انگلینڈ الیون کی بنیاد رکھی تھی اور اس کے کپتان بھی تھے۔

مارتھا گریس نے اس خط میں اپنے بیٹے ڈبلیو جی گریس کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اگرچہ اس وقت صرف بارہ سال کے ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ وقت آنے پر وہ اپنے بڑے بھائی سے بھی اچھے کھلاڑی ثابت ہوں گے کیونکہ وہ سیدھے بلے سے کھیلتے ہیں اور ان کے سٹروکس بہت عمدہ ہوتے ہیں۔

اس خط سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ڈبلیو جی گریس کی والدہ کو اپنے بیٹے کے کھیل پر کتنا بھروسہ تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ وہ انگلینڈ کی نمائندگی کریں۔

گریس

شوقیہ کرکٹر لیکن پیشہ ور ڈاکٹر

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پروفیشنل کرکٹر نہیں تھے لیکن کرکٹ کی سرگرمیوں میں انھوں نے کسی بھی پروفیشنل کرکٹر سے کہیں زیادہ پیسے کمائے۔ ان کے ناقدین کو ان کی یہی بات بری طرح لگتی تھی۔

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کوالیفائیڈ ڈاکٹر بھی تھے۔ وہ ایسے مریضوں کا علاج مفت کر دیا کرتے تھے جو ان کی فیس ادا نہیں کر سکتے تھے۔

ان کے مریضوں کو اکثر یہ شکایت رہتی تھی کہ وہ کلینک میں کم اور کرکٹ کے میدان میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔

لیکن کتابوں میں ایسے متعدد واقعات بھی ہیں جب کرکٹ کے میدان میں کسی کے زخمی ہو جانے کی صورت میں وہ کھیل چھوڑ کر اسے فوری طبی امداد پہنچانے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔

ایک مرتبہ انھوں نے اپنے گھر میں چوری کے دوران زخمی ہو جانے والے چور کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے اس کا علاج کرنے کو ترجیح دی تھی۔

ایک شرابی مریض کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ اس نے ڈبلیو جی گریس سے علاج کے نام پر شراب کی فرمائش کر دی جس پر انھوں نے اس سے کہا کہ اسے دوا کی نہیں بلکہ ورزش کی ضرورت ہے یہ کہہ کر انھوں نے اپنی ملازمہ کو آواز دی کہ میرے باکسنگ گلوز لانا۔

یہ سننا تھا کہ وہ شرابی مریض بڑبڑاتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اس سے فائٹ کرنا چاہتے ہیں۔

گریس
،تصویر کا کیپشنڈبلیو جی گریس کی 100ویں سنچری پر جاری کی گئی یادگار

کامیاب ایتھلیٹ

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کرکٹر کے ساتھ ساتھ ایتھلیٹ بھی تھے۔ ایک کرکٹ میچ کے دوسرے دن انھیں اس بات کی اجازت دی گئی تاکہ وہ کرسٹل پیلس میں ہونے والے نیشنل گیمز میں حصہ لے سکیں۔

انھوں نے وہاں چار سو میٹرز ہرڈلز ریس جیتی۔ انھوں نے فٹبال اور گالف بھی کھیلی۔

ایسٹ بورن میں ہونے والے ایک ایتھلیٹک مقابلے میں انھوں نے کرکٹ گیند کو ایک سو بارہ میٹرز دور پھینک کر سب کو بتا دیا کہ وہ تھرو کرنے میں کتنے ماہر ہیں۔

پرندوں کو کنکریاں مارکر فیلڈر بننا

بچپن میں ڈبلیو جی گریس کا ایک مشغلہ پرندوں کو پتھر اور کنکریوں سے نشانہ بنانا تھا۔ جب وہ اپنے کریئر میں بہترین فیلڈر کے طور پر مشہور ہوئے تو ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی جس پر ان کا جواب ہوتا تھا کہ بچپن کے اسی مشغلے کی وجہ سے وہ ایک اچھا فیلڈر بن پائے ہیں۔

ڈبلیو جی گریس اس بات پر کبھی یقین نہیں رکھتے تھے کہ کرکٹرز پیدائشی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹرز کوچنگ اور پریکٹس سے بنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی دفاعی انداز کے شاٹس کھیلنا پسند نہیں کرتے کیونکہ اس پر تین رنز ہی بنتے ہیں۔

آؤٹ ہونا سخت ناپسند تھا

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس سے منسوب ایسے کئی واقعات کتابوں میں موجود ہیں جن کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہو گا۔

مثلاً ایک واقعہ ہے کہ بیٹنگ کرتے ہوئے وہ بولڈ ہو گئے تو انھوں نے بیلز اٹھا کر دوبارہ سٹمپس پر رکھیں اور بیٹنگ شروع کر دی۔

کسی کو انھیں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آؤٹ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ امپائر نے انھیں آؤٹ دیا تو انھوں نے ان امپائر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ آپ کو نہیں بلکہ میری بیٹنگ دیکھنے آتے ہیں۔

ڈبلیو جی گریس کو کرکٹ قوانین پر اس قدر عبور حاصل تھا کہ وہ نئے امپائرز کو باقاعدہ ان کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔

مثلاً ایک امپائر سے انھوں نے کہا کہ شائقین میں جا کر فیلڈر کیچ کر لے تو یہ آؤٹ نہیں بلکہ چھکا ہوا کرتا ہے۔

گریس
،تصویر کا کیپشنلارڈز میوزیم میں محفوظ ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کی یادگاری اشیا

متنازع رن آؤٹ اور ایشیز کی ابتدا

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کے بارے میں ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان میں سپورٹس مین سپرٹ کا فقدان تھا جس کے ثبوت میں وہ سنہ 1882 کے اوول ٹیسٹ کی مثال دیتے ہیں جس میں ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس نے آسٹریلوی بیٹسمین سیمی جونز کو اس وقت رن آؤٹ کر دیا جب جونز یہ سمجھ رہے تھے کہ گیند ڈیڈ ہو چکی ہے اور وہ کریز سے باہر تھے۔

آسٹریلوی ٹیم کو اس بات پر سخت غصہ تھا کہ ڈبلیو جی گریس نے دھوکہ دہی سے بیٹسمین کو آؤٹ کیا ہے۔

یہ غصہ اس قدر شدید تھا کہ فریڈ اسپورفرتھ نے جوشیلے انداز میں بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو سات رنز کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کر دیا۔

انگلینڈ کی روایتی حریف کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر پہلی شکست پر اخبار سپورٹنگ ٹائمز نے طنزیہ لکھا کہ انگلش کرکٹ کی اوول میں موت واقع ہو گئی ہے اسے جلایا جائے گا اور اس کی راکھ آسٹریلیا بھیجی جائے گی۔ وہیں سے روایتی ایشیز سیریز کی ابتدا ہوئی تھی۔

شاندار فرسٹ کلاس کریئر

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کے فرسٹ کلاس کریئر کے بارے میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سنہ 1895 سے قبل کے میچوں کے باضابطہ ہونے پر اختلاف موجود رہا ہے۔

تاہم اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کا کریئر سنہ 1865 سے سنہ 1908 تک یعنی 44 سال پر محیط ہے۔

جو بھی ریکارڈز دستیاب ہیں ان کے مطابق انھوں نے 870 فرسٹ کلاس میچ کھیلے جن میں 124 سنچریوں اور 251 نصف سنچریوں کی مدد سے 54211 رنز بنائے۔

876 کیچز اور پانچ اسٹمپڈ کیے اور 2809 وکٹیں حاصل کیں جن میں ایک اننگز میں49 رنز دے کر تمام 10 وکٹوں کی شاندار کارکردگی بھی شامل ہے۔

یہ اعدادوشمار ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کے مکمل آل راؤنڈر ہونے کا ثبوت ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ایک ایسے دور میں کرکٹ کھیلی جب کرکٹ پچز بولرز کے لیے مددگار ہوا کرتی تھیں اور بیٹسمینوں کے لیے بہت بڑا خطرہ موجود ہوا کرتا تھا۔

انھوں نے اپنے کریئر میں انگلینڈ کی قیادت کرنے کے علاوہ گلوسٹرشائر۔ ایم سی سی، جنٹلمین، یونائٹڈ ساؤتھ آف انگلینڈ الیون اور لندن کاؤنٹی کی نمائندگی کی۔

گلوسٹر شائر کی ٹیم کی بنیاد ان کے والد ڈاکٹر ہینری گریس اور ماموں الفریڈ پوکاک نے ایک پرائیوٹ کلب کے طور پر رکھی تھی۔

گریس
،تصویر کا کیپشنڈبلیو جی گریس کی قبر

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی پہلی سنچری بنانے والے بیٹسمین ہیں۔

وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کھانے کے وقفے سے قبل سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بھی ہیں۔

انھیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ٹرپل سنچری سکور کی۔

وہ پہلے کھلاڑی ہیں جنھوں نے فرسٹ کلاس سیزن میں ہزار رنز اور سو وکٹوں کا ڈبل مکمل کیا۔

انھوں نے آٹھ مرتبہ ایک سیزن میں ہزار رنز بنائے اور سو وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ان کی موجودگی میں گلوسٹر شائر ایک کامیاب ٹیم ثابت ہوئی تھی۔

ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کا ٹیسٹ ریکارڈ ان کے فرسٹ کلاس کریئر کے مقابلے میں متاثر کن نہیں ہے۔

اگرچہ انھوں نے اپنے اولین ٹیسٹ میچ میں سنچری بنائی جو سنہ 1880 میں آسٹریلیا کے خلاف اوول میں تھا لیکن اپنے کریئر کے 22 ٹیسٹ میچوں میں وہ دو سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے 1098 رنز ہی بنا سکے تھے۔

عظیم کھلاڑیوں میں شامل

سنہ 1963 میں وزڈن کرکٹ المانک نے ڈبلیو جی گریس کو صدی کے چھ بڑے کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔

دیگر پانچ کرکٹرز سرڈان بریڈمین، سڈنی بارنس، سرجیک ہابس، ٹام رچرڈسن اور وکٹر ٹرمپر تھے۔

وزڈن کرکٹ المانک کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر ڈبلیو جی گریس کو آل ٹائم ٹیسٹ ورلڈ الیون میں شامل کیا گیا تھا۔

سنہ 1948 میں پلے فیئر کرکٹ نے اپنے پہلے شمارے میں ڈبلیو جی گریس کو اپنے حلقۂ اثر کا بادشاہ قرار دیا تھا۔

وزڈن المانک نے سنہ 1889 سے بہترین کرکٹرز کا انتخاب کرنا شروع کیا تھا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

لیکن اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزڈن نے تین مرتبہ سال کے صرف ایک بہترین کرکٹر کا انتخاب کیا ہے جن میں ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس وہ پہلے کرکٹر تھے جنھیں سنہ 1898 میں واحد بہترین کرکٹر کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *