ڈراما نگار اسما نبیل انتقال کر گئیں

خانی، باندی، دمسی، خدا میرا بھی ہے اور سرخ چاندنی‘ جیسے ڈراموں کی کہانی لکھنے والی ڈراما نگار اسما نبیل انتقال کر گئیں۔

اسما نبیل میں 2013 میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم اس کے باوجود وہ جہاں کینسر سے جنگ لڑتی آ رہی تھیں، وہیں وہ شوبز میں بھی مصروف دکھائی دیتی تھیں۔

چند سال زیر علاج رہنے کے بعد اسما نبیل نے کینسر کو تقریبا شکست دے دی تھی مگر بعد ازاں موضی مرض نے دوبارہ انہیں جکڑا اور وہ 2018 کے بعد دوبارہ زیر علاج رہیں۔

کینسر کے علاج کے دوران اسما نبیل اپنے سر کے بالوں سے بھی محروم ہوگئی تھیں، تاہم اس کے باوجود وہ شوبز تقریبات میں دکھائی دیتی تھیں۔

کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد اسما نبیل نے کینسر کی آگاہی، جلد تشخیص اور اس کے علاج کے حوالے سے بھی کئی تشہیری مہموں میں حصہ لیا جب کہ 2019 میں انہوں نے فیشن ڈیزائنر علی ذیشان کے ساتھ بھی ایک تشہیری مہم کی تھی۔

اسما نبیل نے 2019 میں علی ذیشان کے ساتھ گلابی رنگ کا دوپٹہ متعارف کرانے کی مہم میں حصہ لیا تھا، مذکورہ دوپٹے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو شوکت خانم میموریل ہسپتال کو عطیہ کیا گیا تھا۔

اسما نبیل نے کینسر سے جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق آگاہی، تشخیص اور علاج کے لیے بھی ایک طرح سے جنگ لڑی اور انہوں نے اس ضمن میں ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بھی شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

اسما نبیل کو امید تھیں کہ وہ دوسری بار بھی کینسر کو شکست دے دیں گی مگر بد قسمتی سے وہ موضی مرض سے یکم جولائی کو زندگی کی جنگ ہار گئیں۔

اسما نبیل کے انتقال کی تصدیق ان کے فیس بک پوسٹ پر بھی کی گئی جب کہ متعدد شوبز شخصیات نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

کئی شخصیات نے ان کے موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اسما نبیل کم عمری میں چلی گئیں، ابھی ان کے جانے کی عمر نہیں تھی۔

کئی شخص نے اسما نبیل کو بہادر قرار دیا اور لکھا کہ انہوں نے دلیری سے 8 سال تک بریسٹ کینسر کا مقابلہ کیا اور اس دوران شوبز انڈسٹری کو کئی مقبول ڈرامے بھی دیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: