ڈراؤنے خواب سے سہانے خواب تک!

میں اپنےگھر کے لائونج میں ریلیکسنگ چیئر پر نیم خوابیدہ بیٹھا تھا کہ باہرسے ڈھول کی آواز سنائی دی مجھے ڈھول کی تھاپ بہت ہانٹ کرتی ہے کہیں دور سے بھی سنائی دے رہی ہو تو میرے قدم ادھر کو اٹھ جاتے ہیں کئی ایک دفعہ ایسے بھی ہوا کہ گھر کو جا رہا ہوں اور کسی چوک میں ڈھول والے گاہک کے انتظار میں بیٹھے نظر آتے ہیں جو انہیں اپنی کسی خوشی کی تقریب میں ساتھ لے جانا چاہتے ہوں میں اپنی گاڑی کو سڑک کے خالی حصے میں بریک لگاتا ہوں اور ان میں سے کسی کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے کہتا ہوں اور چند منٹ ڈھول کے مزے لینے کے بعد اس کے ہاتھ میں کچھ رقم دے کر دوبارہ گھر کی سمت روانہ ہو جاتا ہوں اندازہ لگائیں کہ صرف ڈھول کی محبت میں میں اصل قصہ درمیان ہی میں چھوڑ بیٹھا ہوں بہرحال میں فوراً گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کچھ لوگ ایک پارٹی کے پرچم اٹھائے ایک گھر کے باہر کھڑے ہیں میں سمجھا شائد اس گھر میں کوئی ’’منڈا‘‘ ہوا ہے مگر پھر خیال آیا کہ مبارک باد کہنے والے پارٹی پرچموں کےساتھ کیوں نظر آ رہے ہیں تاہم تحقیق پر معلوم ہوا کہ جس گھر کے سامنے ڈھول بجایا جا رہا ہے وہ ان کی کسی مخالف جماعت کے فعال کارکن کا گھر ہے اور ڈھول بجانے والوں نے اس کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے ۔میرا گھر مین روڈ پرواقع ہے چنانچہ کچھ ہی دیر بعد ٹریفک سلو ہونا شروع ہوئی اور پھر جام ہو گئی کسی نے پولیس کال کرلی مظاہرین سے مذاکرات کئے گئے اور کچھ دیر بعد جو ڈیڑھ درجن مظاہرین تھے وہ اپنے گھروں کو واپس ہو گئے۔

دوسرے دن سڑک ایک بار پھر جام تھی اب کسی اور جماعت کے فعال کارکن کے گھر کے باہر احتجاج ہو رہا تھا اور اس نوع کا تماشا آئے روز شروع ہو گیا ۔اخبارات اور ٹیلی ویژن پر ان مظاہرین کی خوب کوریج ہوئی، جس سے مظاہرین کو شہ ملتی اور یوں یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہو تا چلا گیا ایک دن ایک اسی طرح کے جلوس کے مظاہرین پر دس بارہ لوگ پل پڑے اور ان کی خوب دھلائی کی اگلے روز اس سے بڑا جلوس اس گھر کے سامنے بینر اٹھا کر مظاہرہ کر رہا تھا اور جلوس میں شامل کچھ لوگ ہوائی فائرنگ کر رہے تھے ایک راہگیر ایک بلٹ کی زد میں آیا اور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اس کے بعد شہر بھر میں مخالفین پر حملے کئے جانے لگے اور پھر یہ ہنگامے بڑھتے بڑھتےملک گیر ہو گئے اب فورس متحرک ہوئی اور ایسے لوگوں کے خلاف کارروائیاں کی جانے لگیں درجنوں لوگ گرفتار ہوئے انہیں رہا کروانے کے لئے تھانوں پر حملے شروع ہو گئے اور ان میں دن بدن شدت آنے لگی جن شدت پسندوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمے دائر ہوئے ان کے حامی عدالتوں کے باہر مظاہرہ کرنے لگے پورے ملک میں افراتفری کا سماں تھا پرامن شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے ہسپتال زخمیوں سے بھرگئے تھے اور اب انٹرنیشنل پریس میں بھی بہت خوفناک قسم کی خبریں چلنے لگیں اور یوں دنیا بھر میں پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک تصور کیا جانے لگا۔

امن وامان کی صورتحال دگر گوں دیکھ کر جرائم پیشہ لوگ بھی میدان میں آ گئے دن دہارے گھروں پر ڈاکوں اور لوٹ مار کا آغاز ہوا خواتین کی بے حرمتی بھی کی جانے لگی صورتحال اس درجہ بگڑ گئی کہ لوگ مارشل لا کا مطالبہ کرنے لگے پھر ایک دن ٹی وی پر پہلے قومی ترانہ نشر ہوا اور اس کے بعد ’’میرے پیارےہم وطنوں‘‘ کا الفاظ سنائی دینے لگا ملک بھر سے سیاسی قائدین کی گرفتاری کا عمل شروع ہوا اور پھر جیلیں قائدین اور کارکنوں سے بھر گئیں۔

اس کے ساتھ ہی میں بڑبڑا کر اٹھ بیٹھا مجھ پر خوف سے کپکپی طاری تھی میں نے آنکھیں ملیں اور کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف میرا ڈرائونا خواب تھا ملک میں کچھ نہیں ہوا تھا یہ سارے مناظر مجھے حالت خواب میں ملک میں بڑھتی ہوئی آئینی خلاف ورزیوں اور سیاسی جماعتوں کے پس منظر میں دکھائی دیئے لیکن یہ سب کچھ اگرچہ خواب میں ہوا تھا لیکن اگر ہم لوگوں نے سیاست میں جارحانہ رویوں کی مذمت نہ کی اور ان لوگوں سے اعلان لاتعلقی نہ کیا تو پھر سب کچھ ممکن ہے ایک دوسرے کا نقطہ نظر برداشت کریں اور جان لیں کہ جو لوگ کسی جماعت کی حمایت میں مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں وہ خود اپنے گھروں کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں پاکستان ہم سب کا ہے ہم سب نے اسے ایک عظیم ملک بنانا ہے اگر ہم یہ سب تماشا دیکھتے رہے بلکہ اس کے بڑھائو میں اپنا حصہ ڈ التے رہے تو خواب کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب حقیقت اختیار کر لے !اب ہم نے تہیہ کرنا ہے کہ ڈرائونے خواب کو ایک سہانے خواب میں بدل کر ہی دم لیں گے۔

اور اب آخر میں صاحب طرز شاعر محمد اظہار الحق کی ایک غزل

گھر گھر تھے طاق طاق صحیفے پڑے ہوئے

پھر کیا ہوا کہ شہر تھے اوندھے پڑے ہوئے

کاندھے پہ ہیں سفر کی دعائیں رکھی ہوئیں

تھیلے میں ہیں جدائی کے قصے پڑے ہوئے

ہر یاد اپنا حصہ الگ مانگنے لگی

دل میں ہیں جائیداد کے جھگڑے پڑے ہوئے

اولاد میری سات سمندر کے اس طرف

اجداد میرے خاک کے نیچے پڑے ہوئے

اے رنج روزگار! کڑکتی تری دوپہر

دالان سارے عشق کے سُونے پڑے ہوئے

چلہ ہے اور چاند کی تاریخ کا حساب

عاشق کے گرد ورد وظیفے پڑے ہوئے

ساون میں آنسوئوں کا ہے ٹپکا لگا ہوا

باغوں میں حسرتوں کے ہیں جھولے پڑے ہوئے

گدڑی میں ہیں لگے ہوئے پیوند خاک کے

کشکول میں ہیں صبر کے سکے پڑے ہوئے

تقویم کھانستی ہوئی لیٹی ہے کھاٹ پر

کونے میں سال اور مہینے پڑے ہوئے

قالین خشک گھاس کا مٹی کے فرش پر

باہر وضو کی ناند میں کوزے پڑے ہوئے