ڈسکہ میں مجسمے کی توڑ پھوڑ: بچی کا سر، استاد کا ہاتھ کس نے اور کیوں کاٹا؟

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ڈسکہ میں لڑکوں کے ایک ڈگری کالج کے سامنے بچیوں کی تعلیم کے سلسلے میں آگاہی کی غرض سے حال ہی میں ایک مجسمہ تعمیر کروایا گیا تھا۔

قدِ آدم مجسمے میں کتابوں کے ڈھیر کے ساتھ کھڑی ایک چھوٹی بچی ایک کتاب پر اپنے ہاتھ کا نشان بنا رہی تھی اور پاس کھڑے استاد کا ہاتھ اس کے سر پر رکھا تھا۔ چند روز قبل نامعلوم افراد نے مجسمے کی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے بچی کا سر اور استاد کا بازو کاٹ دیا تھا۔

مجسمے کو توڑے جانے کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سامنے آئیں اور پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے بحث کا موضوع بن گئیں۔

ٹویٹر پر کئی صارفین نے مجسمے کو توڑنے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان صارفین کے خیال میں مجسموں کی تخریب کے پیچھے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں تنگ نظری کا شکار عناصر ہو سکتے ہیں۔

سلمیٰ کوثر نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'افسوس! مگر یہ ہی تصویر ہمارے گھناؤنے چہرے کی اصل عکاس ہے۔'

ایک اور صارف کلیم بخاری کا کہنا تھا کہ 'یہ تنگ نظری نہیں ہے، یہ وہ دہشت گردی ہے جو انسانوں کے ہاتھ کاٹنے سے شروع ہو کر عورت کا سر کاٹنے پر ختم ہوتی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ لڑائی میں بہت سارے ہاتھ اور سر قلم ہو سکتے ہیں۔'

امداد ملک نامی صارف کے خیال میں 'مجرمانہ اور جاہلانہ سوچیں جب ہکجا ہو جائیں تو تخریب ایک کھیل اور شغل بن جاتا ہے۔'

تاہم ٹوٹے ہوئے مجسمے کی ان تصاویر پر ہونے والے 'تنگ نظری' کے تبصرے سے تمام صارفین اتفاق نہیں کرتے تھے۔

مجسمے سالم حالت میں
،تصویر کا کیپشنمجسمے سالم حالت میں

طلحہ ریاض نامی ٹویٹر صارف نے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ 'میرے نزدیک ڈسکہ میں وومن کالجز زیادہ ہیں مردوں کے کالجوں کی نسبت اور گوجرانولہ بورڈ میں ہر سال ڈسکہ سے دو یا تین خواتین ٹاپ دس لوگوں میں ہوتی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اسے تنگ نظری نہیں بلدیہ کی نا اہلی کہا جائے جس نے اس مجسمے کی حفاظت نہ کی۔

ایم ڈبلیو شیخ نامی ایک صارف نے بھی ان کی تائید کی۔ ان کے خیال میں 'یہ ضروری نہیں کہ یہ لڑکیوں کی تعلیم دشمنی کا تنیجہ ہے۔ یہ اس جہالت کا شاہکار بھی ہو سکتا ہے جس کی نظر ہمارے بیشتر پارکس، ریسٹورنٹس، سڑک کے اطراف کی دیواریں اور پبلک ٹائلٹ ہو جاتے ہیں۔'

یہ مجسمہ کس نے اور کیوں بنوایا تھا؟

یہ مجسمہ ڈسکہ کے ایک رہائشی احمد فاروق ساہی نے ذاتی حیثیت میں گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں تعمیر کروایا تھا۔ مجسمہ چھ نمبر چونگی کے علاقے میں ایک مرکزی شاہراہ پر چوک تعمیر کروا کر بنوایا گیا تھا۔

مجسمے ڈسکہ میں لڑکوں کے سکول کے سامنے نصب کیے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنمجسمے ڈسکہ میں لڑکوں کے کالج کے سامنے نصب کیے گئے تھے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد فاروق ساہی نے بتایا کہ مجسمہ لاہور کے ایک فنکار نے تیار کیا تھا جو ڈسکہ اور دیگر کئی شہروں میں اس نوعیت کے مجسمے پہلے بھی بنا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجسمہ بنوانے کے پیچھے ان کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔

'ڈسکہ جیسے پسماندہ علاقے میں پہلے ہی لوگوں میں بچیوں کو تعلیم دلوانے کا رجحان کم تھا۔ اسی سوچ کے ساتھ یہ مجمسہ لڑکوں کے ایک سکول کے سامنے نصب کیا گیا تھا تاکہ اس بارے میں شعور بھی اجاگر ہو اور علاقے کی خوبصورتی بھی بڑھے۔‘

مجسمہ کس نے توڑا تھا؟

احمد فاروق ساہی کے مطابق مجسمے کو توڑنے کا واقعہ پیر کے روز پیش آیا تھا۔ انھوں نے مقامی تھانے میں ایسا کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواست دے رکھی ہے جس میں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انھیں معلوم ہوا تھا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت پولیس ایسا کرنے والے شخص کو گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ 'لیکن بعد میں جب پولیس سے اس بارے دریافت کیا تو انھوں ایسی کسی گرفتاری سے لا علمی کا اظہار کیا۔'

تاہم احمد فاروق ساہی کا کہنا تھا پولیس چاہے تو ایسا کرنے والے افراد کو باآسانی گرفتار کر سکتی ہے کیونکہ 'سامنے واقع ڈگری کالج کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اس شخص کی نشاندہی کی جا سکتی تھی۔'

پولیس کا کیا کہنا تھا؟

سٹی پولیس تھانہ ڈسکہ میں مجسمہ توڑنے کے خلاف درخواست دی گئی تھی، تاہم تھانے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کے روز تک اس درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا اس طرح کسی قسم کی کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی تھی۔‘

اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے متعلقہ تفتیشی افسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔

احمد فاروق ساہی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک تھے اور ساتھ ہی ایک سیاسی جماعت کے رکن بھی تھے۔

ان کے خیال میں مجسمہ توڑنے کے پیچھے 'ان کے خلاف کاروباری حسد یا سیاسی عناد ایک وجہ ہو سکتی ہو سکتی ہے۔ تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کرنے میں 'تنگ نظر' یا 'انتہا پسند' عناصر کا ہاتھ ہو گا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *