ڈیپریشن کی مریضہ کا برقی آلے کے ذریعے علاج کا ’کامیاب تجربہ‘

شدید ذہنی دباؤ اور افسردگی کی ایک مریضہ پر پہلے حوصلہ افزا تجربے کے بعد امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کی کھوپڑی میں لگایا جانے والا ایک برقی آلہ نہ صرف شدید ڈیپریشن کا سراغ لگا سکتا ہے بلکہ اس کا علاج بھی کر سکتا ہے۔

ایک برس سے زیادہ عرصہ پہلے برقی تاروں سے لیس یہ آلہ 36 سالہ سارہ کے دماغ میں لگایا گیا تھا اور اب ان کا کہنا ہے کہ آلے نے ان کی زندگی بدل کے رکھ دی ہے۔ ماچس کی ڈبیا جتنا یہ برقی آلہ ہر وقت 'آن' رہتا ہے لیکن یہ دماغ کو پیغام صرف اسی وقت بھیجتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اب سارہ کو اس کی ضرورت ہے۔

اپنی نوعیت کے اس پہلے تجربے کی تفصیل نیچر میڈیکل جرنل نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے منسلک محققین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ آلہ سارہ کے علاوہ ان دیگر افراد میں بھی کام کرے گا جو شدید افسردگی کا شکار ہیں، تاہم ماہرین پرامید ہیں اور اس حوالے سے مزید تجربات کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

ڈیپرشن سرکٹ

یہ آلہ لگوانے سے پہلے سارہ ذہنی دباؤ کے علاج کے لیے ڈیپریشن کی ادویات اور پھر الیکٹرو کانولسِو تھراپی سمیت کئی حربے آزما چکی تھیں لیکن یہ تمام علاج ناکام ہو چکے تھے۔

دماغ میں برقی آلہ اور تاریں لگانا ایک خوفزدہ کر دینے والا آپریشن دکھائی دیتا ہے، لیکن سارہ کہتی ہیں کہ ذہنی دباؤ سے 'کسی بھی قسم کی نجات' کی امید اس تاریکی سے بہرحال بہتر تھی جس سے وہ گزر رہی تھیں۔

سارہ
،تصویر کا کیپشنسارہ بتاتی ہیں کہ جب انھیں ہوش آیا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں

'میں تمام ممکنہ علاج کروا چکی تھی۔ میری روز مرہ زندگی بہت زیادہ محدود ہو چکی تھی۔میں ہر روز ایک عذاب سے گزر رہی تھی۔ میں ہلنے جلنے سے لاچار تھی اور کوئی کام نہیں کر پا رہی تھی۔'

سارہ کو جس آپریشن سے گزرنا پڑا اس میں ان کی کھوپڑی میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کیے گئے جن کے راستے برقی تاریں لگائی گئیں جن کا کام سارہ کی دماغی کیفیت کا مسلسل جائزہ لینا اور ضرورت پڑنے پر ان کے دماغ کو برقی پیغام کے ذریعے جگانا تھا۔ آلے کی بیٹری اور برقی پیغام پیدا کرنے والے پلس جنریٹر کو ایک ڈبیا میں رکھ کر سارہ کے سر کی ہڈی کے اندر رکھا گیا اور اسے جِلد اور بالوں سے ڈھانپ دیا گیا۔

اس سارے عمل میں ڈاکٹروں کو ایک پورا دن لگا جس دوران سارہ کو مکمل بےہوشی میں رکھا گیا۔

سارہ بتاتی ہیں کہ جب انھیں ہوش آیا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔

'جب اس اِمپلانٹ کو پہلی دفعہ چلایا گیا تو میری زندگی یک دم بلندیوں کی جانب پرواز کرنے لگی۔ میری زندگی ایک مرتبہ پھر خوشگوار ہو گئی۔'

'چند ہی ہفتوں کے اندر خودکشی کے خیالات میرے ذہن سے غائب ہو گئے۔'

'جب میں شدید ذہنی دباؤ میں ڈوبی ہوتی تھی تو مجھے صرف بھدی چیزیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔'

ایک سال بعد بھی اب سارہ کی صحت اچھی ہے اور اس آپریشن کے کوئی برے اثرات بھی سامنے نہیں آئے ہیں۔

’اس آلے نے ذہنی دباؤ کو مجھ سے دور رکھا ہے، اس کی وجہ سے مجھے اپنی بہترین زندگی کی جانب لوٹنے کا موقع ملا اور ایک ایسی زندگی کی تعمیر نو کا موقع ملا جو واقعی جینے کے قابل ہے۔'

جب دماغ میں لگے ہوئے اس آلے سے برقی پیغام نکلتا ہے تو سارہ کو کچھ محسوس نہیں ہوتا، لیکن وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے تقریباً پندرہ منٹ میں معلوم ہو جاتا ہے اب یہ آلہ 'آف' ہو گیا ہے کیونکہ مجھے اپنے اندر محسوس ہوتا کہ میں جاگ گئی ہوں اور مجھے ایک نئی توانائی اور مثبت سوچ کا احساس ہو جاتا ہے۔'

یہ آلہ کام کیسے کرتا ہے؟

اس تجربے سے منسلک، ذہنی امراض کی ماہر ڈاکٹر کیتھرین سکاگوس کا کہنا ہے کہ سارہ کے دماغ میں یہ انوکھا آلہ لگانا اس لیے ممکن ہوا کہ ہم نے ان کے دماغ میں موجود 'ڈیپریشن سرکٹ' کا پتہ لگا لیا تھا۔

'ہمیں سارہ دماغ کے اندر ایک ایسا مقام ملا، جسے وینٹرل سٹرائیٹم کہتے ہیں، اس مقام پر مسلسل تھرتھراہٹ پیدا کرنے سے سارہ میں ذہنی دباؤ کا احساس ختم ہو جاتا تھا۔'

'اس کے علاوہ ہم نے ان کے دماغ کے اندر اس جگہ کی نشاندہی بھی کر لی تھی جس سے معلوم ہو جاتا تھا کہ اب ان میں ڈیپرشن کی علامات بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔'

سائنسدانوں کے مطابق اس تجرباتی علاج پر مزید بہت سی تحقیق کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ حتمی طور پر معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ علاج شدید ڈیپرشن اور شاید اس قسم کی دیگر علامات میں مبتلا دوسروں لوگوں کے لیے بھی کارآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔

ہر شخص کے لیے مخصوص علاج

ڈاکٹر کیتھرین سکاگوس نے اس تجرباتی علاج کے لیے دو مزید افراد کا اندراج کر لیا ہے اور انھیں امید ہے کہ 9 مزید افراد کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ 'ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مختلف مریضوں میں یہ سرکٹ کیسے مختلف ہوتے ہیں اور پھر اس سارے عمل کو کئی مرتبہ دُہرانا ہوگا۔'

'ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ علاج کے دوران کسی شخص کے مخصوص بائیو مارکر اور اس کا دماغی سرکٹ تبدیل ہوتا یا نہیں۔'

'سارہ کا ڈیپرشن اتنا شدید تھا کہ ہمیں امید نہیں تھی کہ ہم ان کا علاج کر پائیں گے۔'

'اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم اس کامیاب تجربے پر بہت پُرجوش ہیں۔ اس چیز کی ہمارے شعبے میں اس وقت بہت شدید ضرورت ہے۔'

سارہ کے دماغ میں آلہ لگانے والے سرجن، ڈاکٹر ایڈورڈ چنگ کے بقول 'ایک بات بڑی واضح ہے کہ اس تجربے سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ یہ علاج ہر لحاظ سے ٹھیک ہے۔'

'یہ کسی شخص کے( دماغ کے اندر) کوئی چیز لگانے کا پہلا تجربہ ہے اور اس سے پہلے کہ ہمارا شعبہ اس علاج کو تسلیم کرے، ہمیں بہت سا کام کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ آیا یہ طریقہ دوسرے طریقوں جتنا دیرپا ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اس نئی تحقیق کے حوالے سے یونیورسٹی کالج لندن سے منسلک نیورو سائنس کے ماہر، پروفیسر جوناتھن روئزر کا کہنا تھا کہ ' اگرچہ (دماغ کے اندر آلہ لگانے والا) اس قسم کا پیچیدہ علاج صرف ان لوگوں کو تجویز کیا جائے گا جن میں شدید ڈیپریشن کی نہ ختم ہونے والی علامات پائی جاتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ ایک بہت بڑا قدم ہے کیونکہ اس میں ہر شخص کو اس کے دماغ کے مطابق آلہ لگایا جاتا ہے۔ یہ امکان موجود ہے کہ جب یہ تجربہ کچھ دیگر مریضوں پر کیا جائے تو اس کے لیے ہمیں ان کے دماغ کے اندر کسی دوسرے مقام کو تلاش کرنا پڑے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف لوگوں میں علامات کے پس منظر میں کام کرنے والا سرکٹ مختلف جگہ پر واقع ہو سکتا ہے۔'

'چونکہ یہ تجربہ ابھی تک صرف ایک مریض پر کیا گیا ہے، اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس قسم کے حوصلہ افزا نتائج مزید طبی تجربات میں دکھائی دیتے ہیں یا نہیں۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: