ڈی ایچ اے کوئٹہ ایکٹ 2015: بلوچستان اسمبلی نے اراضی خریدنے کا اختیار غیر حکومتی اتھارٹی کو کیوں دیا؟

محمد سبحان (فرضی نام ) کوئٹہ کے اُن شہریوں میں شامل ہیں جنہوں نے شہر کے شمال میں چمن شاہراہ کے نزدیک کچلاک کے علاقے میں زیر تعمیر کاسی بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم میں ایک پلاٹ حاصل کیا۔

شہر سے دور ہونے اور اس علاقے میں تاحال سہولیات کی کمی کی وجہ سے ابتدا میں اس ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ انتہائی کم اقساط پر مل رہے تھے تاہم محمد سبحان کی خوشی کی اس وقت انتہا نہیں رہی جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ کوئٹہ میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی بھی پہلی سکیم کاسی بحریہ ٹاؤن کے ساتھ شروع ہو رہی ہے۔

ان کی خوشی کی وجہ یہ اندازہ تھا کہ اب ڈی ایچ اے کی تعمیر کی وجہ سے لوگوں کا رجحان پلاٹ حاصل کرنے کے لیے اس علاقے کی جانب بڑھے گا جس کے نتیجے میں کاسی بحریہ ٹاؤن کے پلاٹوں کی قیمتیں بھی اوپر جائیں گی۔

تاہم ان کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہی کیونکہ جس ہاؤسنگ سکیم میں ان کا پلاٹ تھا اس کے بارے میں انھیں اطلاع ملی کہ اس کے بعض حصے ڈی ایچ اے کی سکیم کا حصہ بن گئے ہیں اور کاسی بحریہ ٹاؤن کا اجازت نامہ یعنی این او سی منسوخ ہو گیا ہے۔

محمد سبحان اکیلے اس صورتِ حال سے دوچار نہیں تھے بلکہ ان کی طرح کاسی بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ حاصل کرنے والے سبھی لوگ پریشان ہو گئے اور سرمایہ ڈوبنے کے خدشے کے پیش نظر کوئٹہ میں احتجاج بھی ہوتے رہے۔

لیکن بدھ 16 دسمبر کو ڈی ایچ اے کوئٹہ کے بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے سے محمد سبحان میں ایک بار پھر امید کی ایک کرن پیدا ہوگئی ہے کہ شاید ان کا پلاٹ متاثر نہیں ہوگا۔

سنہ 2015 میں ڈی ایچ اے کوئٹہ کے لیے بلوچستان اسمبلی سے پہلی قانون سازی

پانچ برس قبل بلوچستان میں ڈی ایچ اے کے قیام کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ تاہم پاکستان فوج کے اس وقت کی جنوبی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر جنجوعہ نے اپنے دور میں کوئٹہ میں ڈیفنس ہاؤسنگ سکیم بنانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور ڈی ایچ اے کوئٹہ کا قانون ان کی ریٹائرمنٹ سے صرف چند روز قبل منظور کر لیا گیا تھا۔

کوئٹہ

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کوئٹہ ایکٹ 2015ء کے نام سے اس قانون کو یکم اکتوبر 2015ء کو بلوچستان اسمبلی سے صرف پانچ سے آٹھ منٹ کے دوران منظور کروایا گیا اور اگلے ہی روز گورنر بلوچستان نے اس کی توثیق بھی کی۔

ماضی میں بلوچستان اسمبلی سے بہت سارے قوانین عجلت میں منظور کیے جاتے رہے ہیں لیکن جتنی تیزی سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے قانون کی منظوری دی گئی، اس کی مثال نہیں ملتی۔

لیکن اس سال ڈی ایچ اے کوئٹہ کے خلاف دو درخواستوں کی وجہ سے معاملہ صوبے کی اعلیٰ عدالت تک گیا اور ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ نے اس کی بعض شقوں کو نہ صرف غیر آئینی قرار دیا بلکہ ہائی کورٹ کے ایک لارجر بینچ کو یہ ریمارکس تک دینے پڑے کہ یہ قانون سابق حکومت اور اسمبلی کے اراکین کی نااہلیت کا مظہر تھا۔

ڈی ایچ اے کوئٹہ ایکٹ 2015ء کو کس بنیاد پر چیلنج کیا گیا؟

بلوچستان ہائی کورٹ میں ڈی ایچ اے کوئٹہ کے خلاف رواں سال دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

ان میں سے ایک درخواست کاشف کاکڑ ایڈووکیٹ کی جانب سے تھی جبکہ دوسری کوئٹہ ریذیڈینشل سکیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

کوئٹہ

درخواست دہندگان کی جانب سے جہاں ڈی ایچ اے کے قیام کے قانون کو چیلنج کیا گیا تھا وہاں ان کی جانب سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کی جانب سے 30 مئی 2018ء کے ایک نوٹیفیکیشن کو بھی چیلنج کیا گیا تھا ۔

اس نوٹیفیکیشن کے تحت کوئٹہ شہر میں 45 ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل علاقے کو 'مخصوص علاقہ' قرار دیتے ہوئے اس پر کسی کام یا منصوبہ شروع کرنے کے لیے کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور لوکل باڈیز سمیت کسی بھی شخص یا ادارے کے لیے ڈی ایچ اے سے اجازت نامہ حاصل کرنے کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔

حبیب طاہر ایڈووکیٹ سمیت درخواست دہندگان کے وکلا نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ڈی ایچ اے کا ایکٹ آئین کے آرٹیکل 3 ،4، 15، 19، 23، 24 اور 25 کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ میں آرمڈ فورسز کے تھری اسٹار جنرل کو جو بہت سارے فرائض تفویض کیے گئے ہیں وہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر یلغار کے مترادف ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ ڈی ایچ اے کوئٹہ کے ایکٹ کی بعض شقوں کے تحت شہریوں کے جائیداد رکھنے اور ان کے استعمال پر پابندیاں لگائی گئی ہیں جبکہ بعض حکومتی اداروں تک کو کہا گیا ہے کہ وہ مخصوص قرار دیے گئے علاقوں میں کوئی بھی کام شروع کرنے کے لیے ڈی ایچ اے سے اجازت نامے لیں۔

درخواست گزاران کا موقف تھا کہ اس حکم کے تحت نہ صرف نجی اور کاروباری افراد پر اپنی جائیداد کو استعمال میں لانے پر پابندی عائد کی گئی ہے بلکہ بعض سرکاری اداروں کو بھی ایک غیر حکومتی اتھارٹی کے ماتحت کردیا گیا ہے۔

انھوں نے ان دلائل کو پیش کر کے آئین سے متصادم ہونے پر ڈی ایچ اے کوئٹہ ایکٹ 2015ء کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

حکومتی دفاع کیا تھا؟

کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے وزیر اعلی جام کمال نے حال ہی میں ڈی ایچ اے کوئٹہ کا دورہ کیا

حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل ارباب طاہر ایڈووکیٹ اور ڈی ایچ اے کے وکلا نے ان درخواستوں کی مخالفت میں دلائل دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایکٹ 2015ء میں منظور ہوا لیکن اس کے خلاف 2020ء میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ اے کے تحت کوئٹہ میں ہاؤسنگ سکیم پر خطیر رقم خرچ کرنے کے علاوہ عوام نے اس میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔

ان وکلا کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے خلاف درخواستوں کو بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے جس کا مقصد اس سکیم کو سبوتاژ کرنا ہے اور انہوں نے عدالت سے ان درخواستوں کو خارج کرنے کی استدعا کی۔

عدالت کے فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے 30 نومبر کو ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تھی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر 16 دسمبر کو اس پر فیصلہ سنایا گیا۔

22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ڈی ایچ اے کوئٹہ ایکٹ 2015ء کے تحت ڈی ایچ اے کو اراضی حاصل کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے وہ غیر آئینی ہے۔

لارجر بینچ نے مختلف عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے ایک حکومتی ادارہ نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو لینڈ ایکویزیشن ایکٹ 1894 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مفاد عامہ میں اراضی حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس حکومتی اختیار کو ایک غیر حکومتی اتھارٹی کو تفویض نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے فیصلہ میں لکھا گیا کہ یہ دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سابق حکومت اور صوبائی اسمبلی نے ایک غیر حکومتی اتھارٹی کو آئین کے تحت بنائے گئے حکومتی اداروں پر بالادستی دلا دی۔

عدالت نے کہا کہ بلاشبہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے مگر کسی قانون کو آئین سے متصادم یا اس کے خلاف نہیں ہونا چائیے۔

عدالت نے کہا کہ جس انداز سے ڈی ایچ اے کے قانون کو بنایا گیا وہ اُس وقت کی حکومت اور اسمبلی کے اراکین کی نااہلی کا مظہر ہے۔

اگرچہ عدالت نے ڈی ایچ اے کوئٹہ ایکٹ 2015ء کو مکمل طور پر کالعدم تو قرار نہیں دیا تاہم اس کی بعض شقوں کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے ان کو کالعدم قرار دیا۔

وفاقی قوانین پر بالادستی دلانے کے باعث اس ایکٹ کے سیکشن 11 کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

کوئمہ

عدالت نے ڈی ایچ اے کی جانب سے 30 مئی 2018 کے نوٹیفیکشن کو بھی غیر قانونی قرار دیا جس میں مخصوص علاقہ قرار دیے جانے والے علاقے میں ڈی ایچ اے کے ایگزیکٹیو بورڈ سے اجازت نامے کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ اس صورتحال میں ڈی ایچ اے کوئٹہ کی گورننگ باڈی کو جو کہ ایک غیر حکومتی ادارہ ہے، لینڈ ایکویزیشن ایکٹ 1894کے تحت اراضی کے حصول کا اختیار دینا بھی غیر قانونی ہے۔۔

'ڈی ایچ اے کوئٹہ دیگر شہروں کی طرح نہیں ہے'

شیخ جعفر خان مندوخیل بلوچستان کی گذشتہ حکومت میں صوبائی وزیر ریونیو کے طور پر شامل تھے جس کے دور میں ڈی ایچ اے کا قانون منظور کیا گیا۔

بطور وزیر ریونیو ان کو اس قانون کو اسمبلی میں پیش کرنا چائیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کو اس قانون کی بعض شقوں سے اختلاف تھا اور ڈی ایچ اے کوئٹہ اس طرح نہیں ہے جس طرح کہ یہ لاہور یا دیگر شہروں میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالانکہ صوبائی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے اس کے مسودہ کو کابینہ میں پیش کیا اور اس کو خوش آمدید کہا لیکن بعد میں جب اس میں ایسی شقیں شامل کی گئیں جس سے لوگ متاثر ہو رہے تھے تو انھوں نے اس قانون کو اسمبلی میں پیش کرنے سے معذرت کر لی۔

شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ڈی ایچ اے کوئٹہ کو اس قانون کے تحت جو اختیارات دیے گئے تھے اس کی وجہ سے نہ صرف وہ لوگ متاثر ہوئے جن کے پاس کاسی بحریہ ہاؤسنگ سکیم کے لیے اراضی تھی بلکہ وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جو یہاں پر پلاٹ خریدنے کے خواہشمند تھے کیونکہ اس ایکٹ کی بعض شقوں کے باعث مسابقتی عمل ختم ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کا مفاد اس میں ہے کہ مسابقتی عمل ہو جس میں اس کو سستا پلاٹ ملنے کے مواقع پیدا ہوں لیکن اس ایکٹ کے باعث مسابقتی عمل کے ختم ہونے سے عام آدمی کو کسی مناسب علاقے میں پلاٹ کا ملنا مشکل ہو گیا تھا۔

شیخ جعفر خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے کی سکیمیں اچھی ہیں اور ان کے کوئٹہ میں آنے سے لوگوں کو بہتر کوالٹی کی ہاؤسنگ سکیمیں ملیں گی لیکن ایسا کوئی قانون نہیں ہونا چائیے جس سے مسابقتی عمل کا خاتمہ ہو اور لوگ متاثر ہوں۔

ہائیکورٹ کے فیصلے سے لوگوں میں خوشی کی لہر

کوئٹہ

محمد سبحان کی طرح غلام نبی بھی ہائی کورٹ کے فیصلے سے خوش ہیں۔ پلاٹوں کا کاروبار کرنے والے غلام نبی کہتے ہیں کہ جب ڈی ایچ اے کا قانون آیا تو اس میں کاسی بحریہ ٹاؤن سکیم سمیت بہت ساری دیگر سکیموں میں لوگوں کا سرمایہ ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں اپنے پلاٹوں کے حوالے سے لوگوں کے احتجاج کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ڈی ایچ اے کی قانون سے متاثر ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہائی کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس سے لوگ خوش اور مطمئن ہیں کیونکہ نہ صرف ان کا سرمایہ بچ جائے گا بلکہ ان کے پلاٹوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *