ژنگ خہ: جنسی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا مسلمان بچہ جو دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت کا سربراہ بنا

چین نے جنوب مشرقی ایشیا، بحرِ ہند، بحیرہ عرب، خلیج فارس، بحیرہِ احمر اور مشرق وسطیٰ کی دیگر بندرگاہوں کو جدید بنانے کا عمل کافی عرصے سے شروع کیا ہوا ہے اور وہ اسے ’تجارتی اور اقتصادی ترقی کا بنیادی انفراسٹرکچر‘ کہتا ہے مگر چین کے مخالف ممالک چین کی اس پالیسی کو فوجی قوت اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔

سنہ 2005 میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اپنی ایک رپورٹ میں بندرگاہوں کی اس تعمیر کے لیے ’سٹرنگ آف پرلز‘ یعنی ’موتیوں کی لڑی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذریعے چین اپنی بحری طاقت (نیوی) میں اضافہ کر رہا ہے۔

مگر چین کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ اُس کے سڑکوں، ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں جیسے بڑے منصوبوں کی تعمیر تجارتی اور اقتصادی مقاصد کے لیے ہے نہ کہ دیگر قوموں کو محکوم بنانے کے لیے۔

جب چین نے اپنے کھربوں ڈالر کے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا تو چین کی قیادت نے بندرگاہوں اور سمندر کے راستے سے تجارت کے لیے جو ماڈل پیش کیا تھا وہ 15ویں صدی کے چینی مسلمان ایڈمرل ژنگ خہ کا تیار کردہ تھا۔ ایڈمرل ژنگ نے اُس دور میں دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت تیار کی تھی لیکن اس کی مدد سے کسی بھی ملک کو زیرِ نگیں نہیں بنایا تھا۔ ماہرین اُن کی اس پالیسی کو اشتراک اور تعاون کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔

اس ایڈمرل کے بارے میں کئی داستانیں مشہور ہیں۔ کینیا میں ایک روایت کے مطابق اُن کے بحری بیڑے میں شامل ایک کشتی کے کینیا کے ساحل کے قریب تباہ ہو جانے کے بعد بچ جانے والے ملاحوں کو کینیا میں رُکنے اور مقامی خواتین سے شادی کی اجازت دی گئی تھی۔

ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ان شادیوں سے بچے بھی پیدا ہوئے تھے۔ اس ہی نسل سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان کینیائی خاتون وماکا شیرافو کو ماضی میں چین نے طب پڑھنے کے لیے شکالرشپ بھی دی گئی تھی۔

کئی تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ معروف کہانی ’سند باد‘ اسی چینی ایڈمرل کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔

ایڈمرل ژنگ خہ کا پس منظر

تاریخ میں آج ژنگ خہ کہلانے والے چینی ایڈمرل یوحنّان نامی علاقے میں سنہ 1371 میں چین کی مسلمان برادری ’ہوئی‘ میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ مسلم برادری آج بھی چین میں ’ہوئی‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور یہ وہ مسلمان تھے جو وسطی ایشیا کے مختلف خطوں سے چین میں یا تو خود سے پناہ لینے پہنچے تھے یا منگولوں کے ہمراہ حملہ آور بن کر آئے تھے۔

ژنگ خہ کا جنم اس دور میں ہوا تھا جب منگولوں کو مقامی مِنگ خاندان کے ہاتھوں شکست کا سامنا تھا۔ ژنگ خہ کا خاندان منگولوں کے لیے لڑا تھا۔ زنگ خہ کی عمر اس وقت 10 برس تھی جب مِنگ آرمی باغیوں کو ڈھونڈتی ہوئی اُن کے علاقے تک پہنچی۔ زنگ خہ کا خاندان مارا گیا مگر انھیں زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔

ژنگ کے ساتھ بھی وہی کیا گیا جو اُس دور میں کم عمر مرد قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا، یعنی اُن کی جنسی صلاحیت ختم کر دی گئی۔

ننجینگ یونیورسٹی کے پروفیسر لوئی ینگ شینگ کہتے ہیں کہ ژنگ خہ کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

اسی بچے نے بعد میں چین کی عظیم الشان بحریہ کا سربراہ بن کر انڈیا، خلیجِ فارس اور افریقہ تک اپنے وقت کے سب سے بڑے بحری بیڑے پر تجارتی، سفارتی اور ثقافتی نوعیت کے سات سفر کیے۔

ژنگ خہ یا ماہو کہلائے جانے والے اس بچے کا مسلمان نام محمود شمس تھا۔ بعض کتابوں میں ان کا نام محمد بھی لکھا گیا ہے۔ ان کے والد کا نام میر تکین اور دادا کا نام خرم الدین بتایا جاتا ہے۔ ان کے پڑدادا کے دادا کا نام سید اجّل شمس الدین تھا (بعض تاریخی ذرائع میں سید اجّل شمس الدین عمر بھی لکھا گیا ہے)۔ سید اجّل کا تعلق وسطی ایشیا کے شہر بخارا سے تھا اور انھیں منگول حکمران قبلائی خان نے گورنر نامزد کر کے یوحنان بھیجا تھا۔

مِنگ خاندان کا انقلاب

میوزیم
،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ ژنگ خہ کے بحرے بیڑے میں شامل کشتیوں کے سامنے کولمبس کی کشتیاں بہت چھوٹی تھیں

13ویں صدی تک چین کے بیشتر حصوں پر منگولوں کا قبضہ تھا۔ وقت کے ساتھ جب منگولوں کی بد نظمی، بدعنوانی اور زیادتیاں بڑھنا شروع ہوئیں تو چین کی مقامی قوم حاننی (ہنز) کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ان حالات میں مِنگ خاندان کے کسانوں نے منگول حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دی اور چین کے اِس حصے پر قبضہ کر لیا۔ ان کی بغاوت اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اُس وقت چین کے اس خطے میں فصلیں تباہ ہوئی تھیں اور قحط پیدا ہو گیا تھا۔

مِنگ خاندان کے کسان جنگجو ’ہونگ وُو‘ نے 1368 میں منگولوں کے حمایت یافتہ یوآن خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے اپنی بادشاہت قائم کر لی۔ ہونگ وُو پیشے کے لحاظ سے ایک کسان تھے۔ یوآن خاندان کے زمانے کے کئی تاجر اور علما نے نئے خاندان کی حکومت سے تعاون کیا جن میں مسلمان ماہرین بھی شامل تھے جو چین کے اس خطے میں آباد ہو چکے تھے۔

برمنگھم یونیورسٹی کے قدیم چینی تاریخ کے پروفیسر یوہانس لوٹزے اپنی ایک تصنیف میں 1368 سے 1453 کے دور کے حالات پر کی جانے والی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ ہونگ وُو کے جرنیلوں میں دس مسلمان بھی تھے۔

بعض تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ مِنگ خاندان کا پہلا شہنشاہ خفیہ طور پر مسلمان تھا تاہم کئی مؤرخین نے اس بات کو مسترد کیا ہے۔ ہنگ وُو کی ایک بیوی مسلمان تھی جبکہ اس نے اپنی ایک بیٹی وسطی ایشیا کے (بعض روایات کے مطابق سمرقند) کے علم الافلاک کے ماہر محمد شیحی سے بیاہی تھی۔

لیکن مِنگ خاندان کو کچھ مسلمان جرنیل اور علما تو سابق حکمران خاندان یوآن کے ترکے میں ملے تھے اور کچھ انھوں نے خود بھرتی کیے۔

ژنگ خہ کا نمایاں ہونا

ہونگ وو کا انتقال سنہ 1398 میں ہوا لیکن اُس کی وصیت کے مطابق اُس کا جانشین اُس کے پوتے جیان وین کو بنایا گیا۔ تاہم جلد ہی وہ نااہل ثابت ہوا اور اس کی گرفت کمزور پڑنے لگی۔ اُس نے کنفیوشسزم کے حامی درباریوں کے ذریعے اپنی طاقت بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اُس کے چچا ژو ڈی نے اُس کے خلاف بغاوت کر دی۔

بغاوت میں اُس کے مسلمان سپاہی اور جرنیل دلیری سے اُس کے لیے لڑے اور بالآخر وہ کامیاب ہوا اور یونگ لی کے لقب کے ساتھ وہ شہنشاہ بن گیا۔ اور یہاں سے ایڈمرل ژنگ خہ کی عظمت کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

جب 10 برس کی عمر میں یوحنّان میں ژنگ خہ کو جنسی صلاحیت سے محروم کیا گیا تو اُسے ژو ڈی کے حرم خانے میں ایک ملازم کے طور پر رکھا گیا تھا۔ تاہم ژو ڈی کے ہاں کام کرنے کی وجہ سے زنگ خہ کو بہتر تعلیم و تربیت، انتظامی امور کی سمجھ اور فنِ سپاہ گری سیکھنے کا اچھا موقع ملا۔ وہ تیزی سے ترقی پاتا ہوا ایک گھریلو ملازم سے آج کے عہدے کے لحاظ سے ژو ڈی کا (جو ابھی شہنشاہ نہیں بنا تھا) چیف آف سٹاف بن چکا تھا۔

یعنی ژنگ خہ مِنگ خاندان کے تیسرے شہنشاہ ژو ڈی یا یونگ لی کے بادشاہ بننے سے پہلے ہی سے اُس کے معتمدِ خاص بن چکے تھے۔ یونگ لی کی اپنے بھتیجے شہنشاہ جیان وین کے خلاف بغاوت کے وقت ماہو نے اپنی دلیری کے جوہر دکھائے تھے اس پر نئے شہنشاہ نے اُسے ’ژنگ خہ‘ کا لقب دیا تھا۔

زنگ خہ نے بچپن میں اپنے والد اور دادا سے ان کے حج کے سفر کے قصے سُنے تھے۔ اس لیے اُسے حج کی کہانیاں متاثر کرتی تھیں۔ اُس زمانے کے ’ہوئی‘ مسلمانوں کی روایات کے مطابق وہ چینی زبان کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں کا بھی علم رکھتا تھا۔ ژنگ خہ نے شاہی تعلیمی ادارے ’نانجینگ ٹائیگژو‘ سے تعلیم حاصل کی تھی۔

بحری مہمات کا آغاز

سنگاپور میں میوزیم میں ژنگ خہ کی کشتی کا نمونہ
،تصویر کا کیپشنسنگاپور کے ایک میوزیم میں موجود ژنگ خہ کی کشتی کا نمونہ

’میپنگ دی چائنیز اینڈ اسلامک ورلڈز‘ میں مصنف ہینو ہی بتاتے ہیں کہ ژنگ خہ کے ایک سفر کے دوران ان کے ایک ساتھی اور مسلمان مترجم ’ما ہُوان‘ نے لکھا کہ ’یونگ لی کی بادشاہت کے گیارہویں برس، عظیم الشان اوتار اور شہنشاہِ معظم نے ایک شاہی حکمنامہ جاری کیا کہ شاہی نمائندہِ خصوصی، عزت مآب ژنگ خہ خزانوں سے بھرے بحری بیڑے کو بحرِ مغرب (بحرِ ہند) لے کر جائیں اور غیر ممالک میں شاہی فرمان سنائیں اور انھیں شاہی انعامات سے نوازیں۔‘

مِنگ خاندان کے ریکارڈ کے مطابق خزانوں سے بھری ہر کشتی 400 فٹ (122 میٹر) لمبی اور 160 فٹ چوڑی (50 میٹر) تھی۔

تاہم حالیہ برسوں میں ماہرین نے انجنیئرنگ کے نقطہ نظر سے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔ چلیں اگر یہ بھی کہہ لیا جائے کہ یہ 60 سے 70 میٹر لمبی تھیں تب بھی یہ غیر معمولی تھیں۔ مہم جو کولمبس کی سب سے بڑی کشتی کی لمبائی 18 میٹر سے کم تھی۔

’میپنگ دی چائنیز اینڈ اسلامک ورلڈز‘ میں مصنف ہیونو ہی کہتے ہیں کہ جس طرح کولمبس کو ہنری دی نیویگیٹر نے بحری مشن کے لیے متاثر کیا تھا، اِسی طرح ژنگ خہ کو ایک چینی سیاح وانگ ڈایوآن نے متاثر کیا تھا۔

لیکن کرسٹوفر کولمبس کے بحری سفروں میں کئی قسم کے فرق تھے۔ چین کے اِس ایڈمرل نے اپنے پہلے سفر کا آغاز سنہ 1405 میں کیا تھا جبکہ کولمبس نے اس کے 87 برس بعد اپنی مشہور کشتی سانتا ماریہ پر اپنا سفر شروع کیا تھا۔ ژنگ خہ نے کُل ملا کر بچاس ہزار کلومیٹر کا سفر کیا، تیس ممالک کی بندرگاہوں میں گیا اور 28 برس میں سات بڑی بحری مہمات کیں۔

تاہم سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ ژنگ دنیا کو چین کی عظمت دکھانا چاہتا تھا جبکہ کولمبس ایک نیا راستہ ڈھونڈنے کے لیے نکلا تھا اور وہ ایک نئی دنیا میں پہنچ گیا۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ زنگ خہ یورپین مہم جو کرسٹوفر کولمبس سے پہلے امریکہ پہنچ گیا تھا لیکن مؤرخین کی ایک بڑی تعداد اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتی۔

شہنشاہ کے بحری جہازوں نے اُس وقت کی معلومات کے مطابق پوری دنیا کا سفر کرنا تھا اور چینی ’بادشاہت کی عظمت‘ سے دیگر اقوام کو آگاہ کرنا تھا اور انھیں چینی روحانیت اور اقدار سے روشناس کرانا تھا۔ ماہرین کے مطابق چین کی یہ سفارتی کوششیں یورپی بحری سیاحوں سے اپنی ہیّت میں کافی مختلف تھیں: چین نے اپنا اثر و رسوخ تجارت اور انعامات و اکرام سے بڑھایا جبکہ یورپ نے جنگوں اور حملوں کے ذریعے دیگر علاقوں کو فتح کیا۔

شہنشاہ یونگ لی نے ایڈمرل ژنگ خہ کو ایک بہت بڑے بحری بیڑے کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ سنہ 1405 میں جب ژنگ خہ نے پہلا بحری سفر کیا تھا تو اُس کے پاس 317 بحری جہاز تھے اور اس کے ساتھ سفارتی، فوجی، تجارتی اور دیگر خدمات کے لیے افرادی قوت تقریباً 28 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

ژنگ خہ کے اپنے مرکزی جہاز پر بادبانوں کو سہارا دینے کے لیے نو مستول لگے ہوئے تھے۔ بحری سفر کے دوران اتنی بڑی تعداد کا انتظام اتنی باریکی کے ساتھ منظم کیا جاتا تھا کہ ایک بھی جہاز دوسرے سے ٹکراتا نہیں تھا۔ یہ بحری جہاز ایک بیضوی شکل میں حرکت کرتے تھے۔ بڑے سائز کے جہاز مرکز میں ہوتے تھے اور چھوٹے جہاز باہر کے دائرے کی جانب ہوتے تھے۔

چونکہ ژنگ خہ مسلمان تھا اور چین کی مغربی دنیا سے بہت زیادہ واقف تھا اور اُسے کئی ایک ایرانی اور عرب تاجروں کی خدمات بھی حاصل تھیں، اس وجہ سے شہنشاہ کا اُسے اس بڑے مشن کی ذمہ داری دینا ایک قدرتی امر تھا۔ اُس نے بحری راستوں کا بہت گہرا مطالعہ کیا، علم الافلاک کے ماہرین کے ذریعے سمندر کے راستوں کو سمجھنے کا علم بھی حاصل کیا، اس علم میں مسلمان پہلے ہی کمال حاصل کر چکے تھے۔

بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے شپ بلڈنگ کی صنعت کو اپنی زیرِ نگرانی تعمیر کرایا۔ مقناطیسی قطب نما بھی بنوایا جو کہ اُس وقت ایک جدید ٹیکنالوجی تھی۔ کئی کئی مستولوں کے جہاز بنائے گئِے۔

یہ بظاہر اس سوت تک لکڑی سے بنائے گئے تاریخِ انسانی کے سب سے بڑے جہاز تھے۔ ان چینی جہازوں میں مختلف منزلیں بنائی گئی تھیں۔ ژنگ خہ کے بحری بیڑے کے باقی جہازوں میں، جو کہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے، ہزاروں کی تعداد کے عملے کی غذا، پانی، خدمت گزاروں کا عملہ، گھوڑے، توپ و تفنگ، ریشم اور دیگر قیمتی پارچاجات، چینی مٹی کے قیمتی برتن، سنہری روغن، لاکھ اور شراب سے بنے ہُوئے برتن، چائے، کالی مرچیں، سونا چاندی، لوہے سے تیار کرہ اشیا تھیں جو کہ دور دراز ممالک کے حکمرانوں کو تحفے میں دی جاتی تھیں۔

یہ تحفے برونائی، انڈونیشا، جاوا، سماٹرا، ملاکا کے سلطانوں، ویت نام، بنگال، اور سری لنکا کے راجاؤں، انڈیا کی معروف بندرگاہوں، کالی کٹ، کوچن اور مالابار کے حکمرانوں، خلیج فارس کے منہ پر ہُرمُز نامی بندرگاہ کے حکمرانوں، یہاں تک کے بندرگاہوں سے دور ایران کے مختلف علاقوں کے حکمرانوں، ترکی کی ابھرتی ہوئی عثمانیہ سلطنت کے عہدیداروں، یمن کے علاقے میں حضرموت اور عدن کی بندرگاہوں کی مقامی حکومتوں، موغادیشو، موزمبیق، مالدیپ کے حکمرانوں کو دیے گئے۔

غرض کے بحرِ ہند کی کوئی ساحلی حکومت ایسی نہیں تھی جس سے ژنگ خہ نے براہِ راست خود یا اُس کے بیڑے کے کسی اعلیٰ اہلکار نے رابطہ نہ کیا ہو۔

بعض مؤرخین نے ژنگ خہ کے جہازوں کا جدہ تک جانے کا ذکر کیا ہے جہاں ژنگ خہ اور اُس کے ساتھی مکہ و مدینہ تک پہنچے ہیں۔ مؤرخین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا اُنھوں نے حج کیا تھا یا نہیں۔ تاہم اگر حالات اور ژنگ خہ کی اپنی زندگی کا اندازہ لگایا جائے تو کوئی سبب نہیں ملتا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ جائیں اور عمرہ یا حج نہ کریں۔

وہ تو بچپن سے اپنے باپ اور دادا سے حج کی کہانیاں سنتا تھا جنھوں نے، بقول مؤرخین، اُس کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان چینی جہازوں نے صومالیہ اور حبشہ کے ساحلی علاقوں سے بھی رابطہ کیا تھا۔

ژنگ خہ نے قدیم دور کے جنوبی چین کے سمندر سے عرب اور چینیوں کے دریافت شدہ تجارتی بحری راستوں کے ذریعے بحرِ ہند، خلیج فارس، بحرِ احمر اور مشرق افریقہ کے ساحلوں تک کا سفر کیا۔ ان راستوں کا کل ملا کر فاصلہ دس ہزار میل بنتا تھا جن پر ژنگ خہ نے سنہ 1405 سے لے کر سنہ 1433 کے دوران سات مرتبہ سفر کیا تھا۔

ژنگ خہ کی آخری مہم

مجسمہ
،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ 62 برس کی عمر میں ژنگ خہ کی وفات اپنی آخری بحری مہم سے واپسی کے دوران جہاز پر ہی ہوئی تھی

1424 میں شہنشاہ یونگ لی کا انتقال ہو گیا تھا اور نیا بادشاہ ایک برس بعد ہی انتقال کر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یونگ لی کا پوتا بادشاہ بنا تو اُس کی بحری مہمات میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے ژنگ خہ کو ساتویں اور آخری بحری مہم کے لیے چھٹی مہم کے دس برس بعد اجازت دی۔ ساتویں مہم کا 1431 میں آغاز ہوا اور یہ سنہ 1433 میں مکمل ہوئی۔

کہا جاتا ہے کہ 62 برس کی عمر میں ژنگ خہ کا اس ساتویں مہم سے واپسی کے دوران بحری جہاز پر ہی انتقال ہو گیا تھا۔ ژنگ خہ کی قبر اُس وقت کے چینی دارالحکومت نانجِنگ میں بنائی گئی تھی جو آج بھی موجود ہے۔

تین زبانوں میں ژنگ خہ کا پیغام

چین میں ژنگ خہ کو تقریباً بھلا دیا گیا تھا۔ لیکن بیرون ممالک رہنے والی چینی کمیونیٹیز نے اُس کی یاد کو پھر سے زندہ کیا ہے، جس کی خاص وجہ جنوبی مشرقی چین کی بندرگاہیں ہیں جہاں اُس نے کبھی اپنے سفر کے دوران کئی یادگاریں چھوڑی تھیں۔ ان بندرگاہوں میں سے چند پر اُس نے لاٹیں (پتھر کے کتبے) تعمیر یا نصب کروائی تھیں جن پر مِنگ خاندان کے بادشاہ کے اُن ممالک کے لیے خیر سگالی کے پیغامات کُندہ کیے گئے تھے۔

اُن ہی لاٹوں میں سے ایک سری لنکا کی ایک بندرگاہ گیل سے سنہ 1911 میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئی تھی جو آج بھی وہاں کے مقامی میوزیم میں محفوظ ہے۔ یہ لاٹ یا پتھر کی سِل پر کندہ کیا گیا کتبہ تین زبانوں میں مِنگ شہنشاہ یونگ لی کے پیغام پر مشتمل ہے۔

اس لاٹ پر چینی زبان اور تامل زبان میں کندہ پیغامات اب بھی پڑھے جا سکتے ہیں لیکن فارسی زبان کا کافی سارا حصہ مِٹ جانے کی وجہ سے پڑھے جانے کے قابل نہیں رہا ہے۔ تاہم ایک محقق خواجہ محمد احمد نے کسی اور کی تحقیق کے لیے اس لاٹ پر درج فارسی تحریر کو پڑھنے کی کوشش کی اور وہ چند الفاظ ہی پڑھ سکے کیونکہ باقی ماندہ تحریر کافی شکستہ تھی۔ انھوں نے جو پڑھا وہ کچھ اس طرح تھا:

بادشاہ معظم ۔۔۔۔۔ شاہی حکمنامہ کے ذریعے ۔۔۔۔۔۔۔ مِنگ نے اظہار عقیدت کے لیے بھیجا ہے ۔۔۔۔ تاکہ مدد حاصل ہو سکے اور ۔۔۔۔۔۔ برائے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ معجزات ۔۔۔۔۔۔ بھیجے گئے ہیں ۔۔۔۔۔ جو معلوم ہیں ۔۔۔۔۔ جو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ زرق برق اشیا ۔۔۔۔ خوشبو دینے والی اگر بتیاں۔۔۔۔۔۔ پھولوں کے گلدستے ۔۔۔۔۔ چراغوں کے لیے تیل ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحائف آپ کا تعاون حاصل کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔۔۔۔ اسلام کی روشنی۔۔۔۔۔ تحائف کی تفصیل درج ذیل ہے۔۔۔۔۔۔ سونا ایک ہزار مثقال۔۔۔۔۔۔ چاندی پانچ ہزار مثقال۔۔۔۔۔

اس طرح چند اور اشیا کی تفصیل بھی موجود ہے۔

بحری قزاقی

A Chinese and a Kenyan flag flutter above the excavation site
،تصویر کا کیپشنکینیا میں کھدائی کے دوران ایک کشتی کی باقیات ملی تھیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی افریقہ میں دلچسپی بہت پُرانی ہے

ژنگ خہ کے متعلق سری لنکا کے مؤرخین کے حوالے سے رائل ایشیاٹِک سوسائٹی، ہانگ کانگ کے ایک محقق لورنا دیو راجا نے اپنے مقالے میں کہا ہے کہ اُس نے سیلون (سری لنکا) کی بندرگاہ سے واپس جاتے ہوئے وہاں کے راجہ اور اُس کے پورے خاندان کو اغوا کیا تھا اور اُنھیں چین میں شہنشاہ یونگ لی کے دربار میں پیش کیا تھا۔

اُس کی وجہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سیلون کے راجہ الاکیشواڑا نے ژنگ خہ کو 1405 میں اغوا کرنے کی کارروائی کی تھی جو کہ ناکام ہو گئی تھی۔ تاہم یونگ لی نے سیلون کے راجہ کو معاف کر دیا تھا، لیکن سیلون میں وہاں کے زعما کو ایک نیا راجہ بنانے کا کہا تھا۔

اُسی طرح سماٹرا کے سلطان زین العابدین کی حکومت کا اُس کے ایک رشتہ دار سکندر نے تختہ الٹ دیا تھا تو لورنا دیو راجا کے مطابق، سلطان زین العابدین نے شہنشاہ یونگ لی سے مدد مانگی تھی۔ شہنشاہ نے ژنگ خہ کو حکم دیا تھا کہ غاصب کو سزا دی جائے۔

ژنگ خہ نے سماٹرا پر چڑھائی کی اور سکندر کو گرفتار کر کے شہنشاہ یونگ لی کے دربار میں پیش کیا تھا۔ شہنشاہ نے اِس مرتبہ غاصب سکندر کو سزائے موت دی اور خطے کے حکمرانوں کو مِنگ خاندان کی فوجی مدد اور حمایت کے عزم کا پیغام بھیجا تھا۔

ان دو فوجی مہمات کے علاوہ ایسے کسی تصدیق شدہ واقعے کا ذکر نہیں ملتا ہے جس کی وجہ سے ژنگ خہ کی مہمات پر بحری قزاقی کا الزام لگایا جائے۔

ممنوعہ شہر

مِنگ خاندان کی حکومت نے ژنگ خہ کے بحری تجارتی مہمات کی وجہ سے کافی منافع بھی کمایا تھا جس کی وجہ سے شہنشاہ کو اتنے مالی وسائل حاصل ہو گئے کہ اُس نے ’ممنوعہ شہر‘ کی تعمیر کا حکم دیا۔ یہ وہی ممنوعہ شہر ہے جو بعد میں بیجنگ کے نام سے مشہور ہوا اور اب چین کا دارالحکومت ہے۔

انہی مہمات سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کی وجہ سے چین میں ایک بڑی نہر بھی کھودی گئی جس کا زرعی اور تجارتی فائدہ ہوا۔ مؤرخین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دو بڑی تعمیرات ژنگ خہ کی مہمات کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

317 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے کو جلا دیا گیا

تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ کامیابیاں شدت کے ساتھ حسد کے جذبات بھی پیدا کر دیتی ہیں، شاید ایسا ہی ژنگ خہ کے ساتھ ہوا۔

شہنشاہ یونگ لی کے 1424 میں انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ہونگژو بادشاہ بنا۔ لیکن وہ اس کے بعد صرف ایک برس زندہ رہا۔ 1425 میں ہونگژو کا بیٹا ژوانڈو بادشاہ بنا۔ ژوانڈو 1435 تک بادشاہ رہا اور مجموعی طور پر ایک کامیاب بادشاہ نہیں تھا۔ سنہ 1433 میں وہ اس آخری مہم کے بعد 317 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے کو جلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مؤرخین کے پاس اِس دور کی بہت کم معلومات ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اتنی سرمایہ کاری کے بعد مِنگ خاندان کے چین نے بحری مہمات کا خاتمہ کیوں کیا؟

چین کی بحری تجارت کیوں ختم ہوئی؟

نقشہ

تاریخی شواہد کی عدم موجودگی میں اب محققین دیگر عوامل کی مدد سے تجزیے کر کے ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے رہتے ہیں جن میں سری لنکا کے ایک بائیں بازو کے محقق اور سکالر کمار ڈیوڈ کا تجزیہ اہم ہے، جس میں وہ سازشی نظریات کی بجائے مادی عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ چینی بحری مہمات زیادہ دیر کیوں نہ چل سکیں باوجود اس کے کہ اُن کے پاس وسائل بہت زیادہ تھے اور کیوں یورپی بحری مہمات کو فروغ ملا جب کہ اُن کے پاس چین جتنی طاقت نہ تھی؟ چین ایک بہت بڑی بحری طاقت بنا لیکن بعد میں اُس کی مہمات کا خاتمہ ہو گیا۔ پندرہویں صدی میں یورپ میں کوئی بڑی بحری طاقت نہیں تھی لیکن وہاں کی بحری مہمات نے اُس کے ممالک کو مالا مال کر دیا۔

دیگر نظریاتی اور جغرافیائی عوامل کے ساتھ کمار ڈیوڈ نے جو بڑی وجہ بتائی ہے وہ یہ کہ یورپ میں بحری مہمات شروع ہوئیں تھیں تو وہاں ایک بڑا مرکینٹائل (تاجر) طبقہ وجود میں آ چکا تھا جو اپنے اپنے معاشروں کی ایک بڑی طاقت تھا۔ جبکہ اُسی دور میں چین میں ایسا طاقتور طبقہ موجود نہیں تھا، ساری طاقت ایک جاگیردارانہ شاہی نظام کے پاس تھی۔ جب بادشاہ یا دربار نے محسوس کیا یا اُن کا مُوڈ بنا ایک فیصلہ ہو گیا اور کسی اور بات کا دل چاہا تو ایک نیا فیصلہ لے لیا۔ اس بنیادی فرق کی وجہ سے یورپ کی مرکینٹائل طبقے نے بیرونی مہمات میں نہ صرف سرمایہ کاری کی بلکہ حکومتوں پر اس کے فروغ کے لیے زور بھی ڈالا۔

قدیم چین میں مرکینٹائل کلاس کا ایسا طاقتور طبقہ موجود نہیں تھا۔ مؤرخین اُس زمانے کے چین کے سماجی نظام میں کاروباری یا مرکینٹائل کلاس کو نچلا طبقہ قرار دیتے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ مرکینٹائل طبقہ کوئی پیداوار تو کرتا نہیں ہے اس لیے ان کی کوئی خدمات نہیں ہوتی ہیں۔

ژنگ خہ کی مہمات کی پانچ صدیوں کے بعد آج چین میں ایک طاقتور مرکینٹائل طبقہ موجود ہے۔ اس میں مِنگ خاندان کے بعد ٹنگ خاندان کی تقریباً سوا تین سو برس کی حکومت کا تو کوئی کردار نہیں ہے، البتہ 1911 کے چینی انقلاب نے سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کو متعارف کرایا۔ بعد میں کمیونسٹ پارٹی کے 1948 کے انقلاب نے جاگیردارانہ نظام کو تہ و بالا کیا۔

آج کا چین

15th Century Chinese coin found in Mambrui
،تصویر کا کیپشنکینیا میں کھدائی کے دوران 15ویں صدی کا ایک چینی سِکہ بھی ملا تھا

لیکن چین میں مرکینٹائل کلاس کے فروغ پانے، اور اس کے طاقتور بننے اور پھر چین کو ایک بڑی اقتصادی طاقت بننے میں جہاں کمیونسٹ پارٹی کے اندر کا ارتقا کار فرما ہے وہیں بیرونی سرمایہ کاری (خاص کر امریکی سرمایہ کاری) کا بھی ایک اہم کردار ہے۔

اب چین کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی طاقت کا قدرتی تقاضہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ملک میں انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے منصوبے بنائے، جو کہ بہت تیزی سے بن رہے ہیں، بلکہ بیرون ملک پورے خطے میں بھی ایک وسیع سطح کا انفراسٹرکچر کھڑا کرے۔ ان حالات میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کو دنیا بھر کے اقتصادی ماہرین ایک توصیفی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

امریکہ کے اقتصادی امور کے دو پروفیسر، یونیورسٹی آف میساچیوسٹ امرہسٹ کے پال مسگریو اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی کے ڈینیئل نیکسن تسلیم کرتے ہیں کہ چین کے بی آر آئی منصوبوں کی دنیا بھر میں تعریفیں ہو رہی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز اِسے ’چین کی کھربوں ڈالروں کی سفارت کاری‘ کہتا ہے۔ بروکنگز انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں سے ساڑھے چار ارب افراد براہ راست مستفید ہوں گے جو عالمی سطح پر 21 کھرب ڈالرز کی مجموعی پیداوار میں اضافہ کریں گے۔

دیگر ادارے اسے عالمی تاریخ کی سب سے زیادہ وسیع و عریض اقتصادی اور عسکری سلطنت بھی کہتے ہیں۔ تاہم دونوں پروفیسر وضاحت کرتے ہیں کہ عموماً لوگ بی آر آئی کو سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھانا سمجھتے ہیں جبکہ اس میں ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سمندری راستوں اور وہاں کی بندرگاہوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

اس وقت کئی مبصرین چین کی اس نئی سرمایہ کاری کو عالمی تجارت اور سیاست پر قبضہ کرنے کی ایک کوشش کہہ رہے ہیں تاہم یہ پروفیسر اِسے مغرب کی ’سنسنی خیزی‘ کہتے ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ اس منصوبے کو پُرشکوہ کہتے ہوئے اِسے تاریخی طور پر مثبت حوالوں سے یاد کرتے ہیں جن میں ایک نام ہے ژیں چیاں کا جس نے قدیم دور میں چین، فارس اور روم کو ملانے والی شاہراہِ ریشم تعمیر کی تھی، اور دوسرا نام ژنگ خہ کا لیا تھا، جس کا ذکر یہاں ہو رہا ہے۔

شی جن بنگ نے ژیں اور ژنگ کا تذکرہ ’دوستی کے ایلچی‘ کہہ کر کیا ’جو کاروانوں میں یا اپنے جہازوں میں خزانے لے کر جاتے تھے اور جنھوں نے مشرق و مغرب کے درمیان رابطے قائم کیے۔‘

اشتراک اور تعاون کا فن

کس عزم و ہمت کا مالک ہو گا وہ بچہ جِس کے والد اور دادا کو قتل کیا گیا ہو، اُس کے سامنے اُس کے خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ہو، اُسے جنسی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے اور پھر فاتح فوج کا شہزادہ اُسے اپنے گھر میں ملازم رکھ لے، لیکن وہ صرف دو دہائیوں کے بعد اُسی شہزادے کا سپہ سالار اور پھر اپنے وقت کی دنیا کی سب سے بڑے بحری طاقت کا سربراہ بن کر سات بڑی بڑی بحری مہمات لے کر نکلے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے بزنس مینیجمنٹ کے ایک پروفیسر، ہم سِن ہُون اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے اِس شخصیت کے ایک ایسے پہلو کو اُجاگر کرتے ہیں جس پر اِس سے پہلے بہت کم بات کی گئی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’نہ صرف آج کے بزنس لیڈرز اس سے حالات میں ہر قسم کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کی ترغیب حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کے قائدین جیو پولیٹکل سٹریٹیجی کے لیے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

پروفیسر ہم سِن ہُون کی تصنیف ’آرٹ آف کولیبوریشن‘ (اشتراک کا فن) میں اُس چینی ایڈمرل پر ریسرچ کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ وہ کس طرح اپنے بادشاہ کو مہنگے ترین بحری سفر کے لیے خزانے کھول دینے کے لیے راضی کرتا ہے، کس طرح وہ اپنی مہم جوئی اور کار جوئی کی بدولت ناممکنات کو ممکن بنا دیتا ہے اور کس طرح بغیر جنگ کیے بحرِ ہند کی تیس بندرگاہوں سے تجارت کرتا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے یہ پروفیسر کہتے ہیں کہ ژنگ خہ نے دراصل چین کے ایک بہت ہی پرانے فلسفے کے مدمقابل ایک نیا فلسفہ پیش کیا تھا جس میں وہ خود تو کامیاب رہے تھے لیکن دنیا اُس وقت تک اس کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ چین کے قبل مسیح کے دور کے فلسفی سن ٹزُو کے 'فنِ جنگ‘ کو ژنگ خہ کے 'فنِ اشتراک' کے مقابلے میں لاتے ہیں۔ اُن کے خیال میں ’شاید ماضی میں دنیا میں باقی رہنے کے لیے صرف جنگ ایک دفاع تھا جو مکر و فریب کا فن تھا۔‘

فنِ اشتراک

تاہم پروفیسر ہم سِن ہون کی نظر میں آج کی دنیا، آج کی تجارت اور آج کا باہمی اشتراک خاص کر ڈیجیٹل دنیا میں جہاں ہر کام الیکٹرونیکلی ہو رہا ہے، جنگ پر بھروسہ کرنا خطرناک ہے کیونکہ جنگ میں کوئی بھی فاتح ہو، نقصان تو سب کا ہو گا۔

اِس لیے پروفیسر ہُون کہتے ہیں کہ آج کی دنیا کو باہمی اشتراک، ہر ایک کا فائدہ، انصاف اور تعاون کے اصولوں پر چلنا ہو گا۔ اس نظریے کو وہ ’فن اشتراک و تعاون‘ کہتے ہیں، جس کا عملی مظاہرہ پندرہویں صدی میں ان کے مطابق چین کے مسلم ایڈمرل ژنگ خہ نے کیا تھا۔

پروفیسر ہم سِن ہون کی کتاب ’آرٹ آف کولیبریشن‘ کے پیش لفظ میں ’انٹرنیشنل ژنگ خہ سوسائٹی‘ کے صدر ڈاکٹر تان تا سین نے سنہ 2012 میں لکھا تھا کہ بارک اوبامہ نے امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد دنیا میں آزادی اور جمہوریت کی زیادہ سے زیادہ ضرورت پر اصرار کیا تھا۔

اس وجہ سے وال سٹریٹ نے یہ نوٹ کیا تھا ’اوبامہ ثقافت کو پالیسی میں نمایاں جگہ دے کر ژنگ خہ کی پالیسی کی جانب جھکاؤ رکھتے نظر آ رہے ہیں، جو ژنگ خہ نے چھ سو برس پہلے کیا تھا۔‘

error: