کائنات کے سب سے اہم سوالوں میں سے ایک حل کے قریب

ستارے، کہکشائیں، سیارے سبھی کچھ جو آج وجود میں ہے کائنات کی ایک انوکھی خصوصیت کی وجہ ہے۔

اس خصوصیت کی نوعیت آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ ہے جس کے تحت ’میٹر‘ یعنی مادہ ’اینٹی میٹر‘ پر حاوی ہے۔

اب جاپان میں ایک تجربے کے نتائج سے اس معاملے کو سلجھانے میں مدد ملے گی جو کہ سائنس میں دورِ حاضر کے سب سے بڑے سوالات میں سے ایک ہے۔

اس خصوصیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ میٹر اور اینٹی میٹر کے ذرات کیسے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔

ہمیں جو دنیا نظر آتی ہے، یا جسے ہم جانتے ہیں وہ سب مادہ یعنی میٹر ہے۔ میٹر کے بنیادی ذرات الیکٹرون، قوارکس اور نیوٹرینو ہوتے ہیں۔

تاہم دوسری جانب اس کے برعکس اینٹی میٹر ہوتا ہے۔ مادے میں پائے جانے والے ہر ذرے کا ایک مطابقت رکھنے والا اینٹی میٹر ذرہ ہوتا ہے۔

اس وقت کائنات میں اینٹی میٹر کے مقابلے میں میٹر کہیں زیادہ ہے۔ مگر ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔

’بگ بینگ‘ کے وقت برابر مقدار میں میٹر اور اینٹی میٹر وجود میں آیا ہوگا۔

CMB
کائنات میں 50 فیصد اینٹی میٹر کیوں نہیں ہے؟ یہ فلکیات کا ایک اہم سوال ہے کہ اینٹی میٹر گیا کہاں؟

یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے پروفیسر لی تھامپسن کہتے ہیں کہ ’جب پارٹیکل فیزیسسٹ (مادے کے ذرات کو جانچنے والے ماہرینِ طبیعیات) پارٹیکل ایکسلریٹرز میں نئے ذرات بناتے ہیں تو ہمیشہ جوڑی کی شکل میں سامنے آتے ہیں یعنی ’پارٹیکل‘ اور ’اینٹی پارٹیکل‘۔ ہر منفی چارج والے الیکٹرون کے لیے ایک مثبت چارج والا پوزیٹرون (جو کہ اینٹی میٹر میں الیکٹرون سے مطابقت رکھنے والا ذرہ ہے) بنتا ہے۔‘

’تو کائنات میں 50 فیصد اینٹی میٹر کیوں نہیں ہے؟ یہ ماہرین کے لیے ایک اہم سوال ہے کہ اینٹی میٹر گیا کہاں؟‘

جب بھی کوئی ذرہ اپنے اینٹی میٹر ذرے سے ملتا ہے تو وہ توانائی کے ایک فلیش میں تباہ ہو جاتے ہیں۔

بگ بینگ کے ابتدائی لمحات میں کائنات میں میٹر اور اینٹی میٹر ذرات کے وجود میں آنے اور تباہ ہونے کا جاری رہا ہو گا۔ مگر کسی اور طاقت یا عمل کی عدم موجودگی میں تو کائنات میں تو صرف تونائی باقی بچنی چاہیے تھی۔

یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر سٹیفان رمبولڈ کہتے ہیں کہ ’یہ کافی بورنگ ہوتا اور آج ہم یہاں نہ ہوتے۔‘

Andrei Sakharov
میٹر اور اینٹی میٹر میں یہ فرق ان تین شرائط میں سے ایک ہے جن کو 1967 میں روسی سائنسدان اینڈرے ساکروو نے میٹر اور اینٹی میٹر کے مختلف ریٹ پر بننے کے لیے ضروری ہونا قرار دیا تھا۔

تو آخر کیا ہوا؟

یہی سمجھانے میں جاپان کا یہ تازہ ترین تجربہ T2K مددگار ہوگا۔ T2K تجربہ جاپان کی کمیونکاندے نیوٹرینو آبزرویٹوری میں کیا گیا ہے۔

محققین نے یہاں کے پارٹیکل ڈیٹیکٹر کا استعمال کرتے ہوئے نیوٹرینوز اور ان سے مطابقت رکھنے والے ان کے اینٹی نیوٹرینوز کا مشاہدہ کیا جو کہ 295 کلومیٹر دور جاپان کے شہر ٹوکائی میں پروٹون ایلکسیلیٹر کمپلیکس میں پیدا کیے گئے۔ T2K سے مراد ہے ٹوکائی سے کمیونکاندے!

ProtoDune
پروفیسر سٹیفان رمبولڈ کہتے ہیں کہ 'اگرچہ قوارکس ذرات میں سی پی وائولیشن کافی عرصے سے تجرباتی طور پر تسلیم شدہ ہے، آج سے پہلے یہ نیوٹرینوز میں نہیں دیکھی گئی تھی۔'

جیسے جیسے وہ زمین میں سفر کرتے ہیں، ذرات اور ان کے اینٹی ذرات مختلف اور بدلتی خصوصیات دیکھاتے ہیں جنھیں فلیورز کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نیوٹرینوز اور اینٹی نیوٹرینوز کی مختلف خصوصیات کو سمجھنے سے پتا چل جائے گا کہ کائنات میں میٹر اینٹی میٹر سے اتنا زیادہ کیوں ہے۔ میٹر اور اینٹی میٹر میں اس فرق کو چارج کونجوکیشن اور پیریٹی ریورسال (سی پی) وائولیشن کہا جاتا ہے۔

یہ فرق ہی ان تین شرائط میں سے ایک ہے جن کو 1967 میں روسی سائنسدان اینڈرے ساکروو نے میٹر اور اینٹی میٹر کے مختلف ریٹ پر بننے کے لیے ضروری ہونا قرار دیا تھا۔

نو سال کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد سائنسدانوں کو پتا چلا ہے کہ نیوٹرینوز اور اینٹی نیوٹرینوز اپنی خصوصیات تبدیل مختلف طریقے سے کرتے ہیں کیونکہ سفر کے آغاز پر جس فلیور کے ساتھ وہ شروع ہوتے ہیں ان میں کچھ اختتام پر مختلف فلیور پر ہوتے ہیں۔

یہ فرق شماریاتی طور پر تھری سگما کی سطح تک پہنچتا ہے۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اتنا فرق دیکھا گیا ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سی پی وائولیشن ہوتی ہے۔

پروفیسر سٹیفان رمبولڈ کہتے ہیں کہ ’اگرچہ قوارکس میں سی پی وائولیشن کافی عرصے سے تجرباتی طور پر تسلیم شدہ ہے، آج سے پہلے یہ نیوٹرینوز میں نہیں دیکھی گئی تھی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: