Site icon Dunya Pakistan

کائنات کے سب سے بڑے بلیک ہولز کے پراسرار وجود اور ارتقا کی دلچسپ کہانی

’ڈیلفینس دی ڈولفن‘ نامی تاروں کے بُرج کے وسط میں اور ’پیگاسس دی فلائنگ ہارس‘ نامی بُرج کے نیچے ایک قدیم پن چکی نما کہکشاں خلا میں دکھائی دیتی ہے۔

اربوں سالوں سے کہکشاں ’یو جی سی 11700‘ کے پھول کی پنکھڑیوں جیسے بازو خلا میں ایسے ہی گھومتے رہے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ اس دوران کتنے ہی قدرتی ٹاکروں اور ملاپ کے باعث دوسری کہکشاؤں کی وضع قطع ہی تبدیل ہو چکی ہے۔

ویسے تو کہکشاں ’یو جی سی 11700‘ کی پن چکی نما شکل خاصی خوش نما دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے وسط میں ایک دیوہیکل چیز بسی ہے۔ اس خوبصورت کہکشاں کے وسط میں اس کائنات کی سب سے پراسرار چیزوں میں سے ایک، ایک دیوہیکل بلیک ہول موجود ہے۔

عمومی طور پر بلیک ہولز سورج سے چار گنا بڑے ہوتے ہیں تاہم ان کے دیوہیکل رشتہ دار کروڑوں اور کئی اربوں گنا بڑے ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ تقریباً ہر بڑی کہکشاں کے وسط میں ایک دیو ہیکل بلیک ہول موجود ہے۔ تاہم کسی کو تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ وہاں کیسے پہنچے۔ اس بات کا پتہ چلانے کے لیے کہکشاں یو جی سی 11700 مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں دیوہیکل بلیک ہولز پر کام کرنے والی جونیئر محقق بیکی سمتھہرسٹ کا کہنا ہے کہ ’میں جن آئیڈیل کہکشاؤں پر کام کر رہی ہوں ان کی بہترین بل کھاتی وضع انھیں انتہائی خوبصورت بنا دیتی ہے۔ لیکن یہی خوبصورت کہکشائیں اس راز سے پردہ اٹھانے میں ہماری مدد کریں گی کہ یہ بلیک ہولز کیسے پھیل کر بڑے ہوتے ہیں۔‘

ایک ایسی چیز پر تحقیق انتہائی مشکل ہو جاتی ہے جو فطری طور پر اتنی زیادہ کثیف ہو کہ اس کے وسط سے روشنی بھی نہیں نکل سکتی۔

تاہم یہ دیو ہیکل بلیک ہولز اپنے آس پاس موجود اجسام پر جو اثرات ڈالتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے باعث زمان و مکان کی چادر (سپیس ٹائم فیبرک) میں بھی جو لہریں پیدا ہوتی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے کی نئی تکنیکیں ہمیں نئے شواہد فراہم کر رہی ہیں۔

بلیک ہولز روایتی انداز میں کیسے وجود میں آتے ہیں اور ہیئت میں کیسے بڑھتے ہیں اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

ٹوٹتے ستارے، جن کے پاس بقا کے لیے ایندھن نہیں بچتا وہ ایک سپر نووا بن کر پھٹ جاتے ہیں اور ان کا تمام مادہ سکڑ کر ایک چھوٹے سے حصے میں جمع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے یہ اتنے کثیف ہو جاتے ہیں کہ روشنی بھی ان کی شدید کششِ ثقل کے باہر نہیں نکل سکتی۔

بلیک ہولز کا تصور اب لگ بھگ ایک صدی سے موجود ہے اور مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کی ’تھیوری آف جنرل ریلیٹویٹی‘ یا عمومی نظریہ اضافیت سے معلوم ہوتا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ بلیک ہولز انتہائی سیاہ ہونے کے علاوہ اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز نگل لیتے ہیں۔ اُنھیں کائنات میں ایک ایسے ویکیوم کلینر کی طرح تصور کیا جاتا ہے جس کی فطرت میں تمام چیزوں کو نگل جانا ہے۔ چیزوں کو نگلتے نگلتے یہ اپنی جسامت میں بڑے ہوتے جاتے ہیں اور جسامت میں اضافے کے ساتھ بھوک میں اضافہ بھی شامل ہے۔

آپ یہی سوچیں گے کہ پھر تو یہ پراسرار نہ رہے اور یہ کہ دیو ہیکل بلیک ہولز سب سے قدیم اور سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے۔

تاہم حقیقت میں بلیک ہولز اپنی دیو جیسی شہرت کے برعکس کام کرتے ہیں۔ ان میں کسی چیز کو نگلنے کی صلاحیت حیران کن حد تک کم ہوتی ہے، چاہے ان کے ارد گرد بہت زیادہ ستارے ہی کیوں نہ ہوں۔ درحقیقت یہ مر چکے ستارے اتنی سست رفتار سے حجم میں بڑھتے ہیں کہ یہ صرف دیگر اشیا کو نگل کر ہی دیو ہیکل نہیں بن سکتے۔‘

سمیتہرسٹ کہتی ہیں کہ 'فرض کریں کہ بگ بینگ سے 20 کروڑ سال بعد بننے والے ستارے بلیک ہولز میں تبدیل ہو گئے۔ ان کے تباہ ہونے کے بعد بھی ان کے پاس تقریباً ساڑھے 13 ارب سال موجود تھے جس میں یہ بلیک ہولز سورج سے اربوں گنا بڑھ سکتے تھے، لیکن یہ وقت صرف دوسری چیزوں کو نگل کر حجم میں بڑا ہونے کے لیے بہت کم ہے۔‘

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کائنات اپنے وجود کے بعد ابتدائی مراحل میں تھی تو اس وقت بھی دیوہیکل بلیک ہولز موجود تھے۔

آسمان میں موجود کچھ سب سے چمکدار چیزیں دراصل کوئزارز ہوتے ہیں۔ یہ وہ قدیم ترین، انتہائی بڑی جسامت کے بلیک ہولز ہوتے ہیں جنھوں نے ختم ہوتی کہکشاؤں کے مرکز کو روشن کر رکھا ہوتا ہے۔

ان میں سے چند دیو ہیکل بلیک ہولز اس وقت سے موجود ہیں جب کائنات کی عمر صرف 67 کروڑ سال تھی اور سب سے قدیم کہکشائیں وجود میں آ رہی تھیں۔

بلیک ہول کے وسط میں کیا ہے، دور سے بیٹھ کر جائزہ لینے والے ماہرِفلکیات کے لیے یہ جاننا خاصا مشکل ہے۔ مگر دیو ہیکل بلیک ہولز کسی ستاروں بھری کہکشاں سے بھی زیادہ روشن ہو سکتے ہیں اور جیسے جیسے یہ اپنے اردگرد موجود اشیا نگلتے جاتے ہیں، ان میں سے گاہے گاہے الٹراوائلٹ شعاعیں بھی نکلتی ہیں۔

بلیک ہولز کی حدود دائرہ نما ہوتی ہیں جسے ’ایونٹ ہورائزن‘ کہا جاتا ہے۔ روشنی، توانائی اور مادے کے لیے ان کے لیے اس دائرے سے باہر نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔

یہاں زمان و مکان کی چادر سکڑ جاتی ہے اور جن قوانین کے تحت ہماری بقایا کائنات کام کرتی ہے، وہ سب کے سب ختم ہو جاتے ہیں۔

تاہم ایک گھومتا ہوا بلیک ہول اپنے ایونٹ ہورائزن کے عین باہر آس پاس موجود چیزوں کو گھومنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کا درجہ حرارت بھی بڑھا دیتا ہے۔ یہ درجہ حرارت ایک کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں پورے الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم پر محیط انتہائی تیز شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔

پیرس کے انسٹیٹیوٹ برائے ایسٹروفزکس میں بلیک ہولز پر تحقیق کرنے والی مارٹا وولونٹیری کہتی ہیں کہ ’کائنات میں بلیک ہولز سب سے زیادہ مؤثر انجنز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ مادے کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں اور اس دوران یہ 40 فیصد مؤثر ہوتے ہیں۔ اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے سوچیں کہ ہم کچھ بھی جلاتے ہیں چاہے وہ کاربن ہو یا کیمیائی توانائی یا ستارے خود، یہ سب بلیک ہول کی پیدا کی گئی توانائی کا انتہائی معمولی سا حصہ ہے۔‘

دیو ہیکل بلیک ہولز میں سائنسدانوں کی دلچسپی کی وجہ صرف توانائی کی مؤثر پیداوار ہی نہیں ہے۔ ان کا وجود اور ارتقا کہکشاؤں کے ارتقا سے جڑا ہے بلکہ ہماری پوری کائنات کی تاریخ اور ڈھانچے سے بھی۔ ان کے حوالے سے موجود سوالات کے جواب ڈھونڈ کر سائنسدانوں کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کائنات ویسی کیوں ہے جیسی یہ ہے۔

توانائی کا اخراج بہت سے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے بلیک ہولز اپنے اسرار سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

جب بلیک ہولز کا ملاپ ہوتا ہے یا وہ اپنے سے کم بھاری چیزوں جیسے کسی نیوٹرن ستارے سے ٹکراتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شعاعوں کو گریویٹیشنل ویوز یعنی کششِ ثقل کی لہریں کہا جاتا ہے۔ یہ لہریں خلا میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں اور انھیں پہلی مرتبہ زمین پر سنہ 2015 میں آلات کے ذریعے محسوس کیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے امریکہ میں لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹریز (لائیگو) اور اٹلی میں پیسا کے قریب ورگو فیسیلیٹی جیسی بڑی رصد گاہوں میں ان ٹاکروں کی وجہ سے پیدا ہونے والی لہروں کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔

مگر بھلے ہی یہ رصدگاہیں کئی کلومیٹر طویل آلات استعمال کرتی ہیں مگر ان کے ذریعے متوسط حجم کے بلیک ہولز کے بارے میں ہی معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔

’میکس پلینک انسٹیٹیوٹ فار ایسٹرونومی‘ میں گلیکٹک نیوکلائی ریسرچ گروپ کی سربراہ نیڈائین نیومائیر کہتی ہیں کہ ’لائیگو نے اب تک صرف سورج سے 150 گنا تک بڑے ستاروں کے ملاپ کا پتا چلایا ہے۔ ’درمیانے حجم کے بلیک ہولز‘ کہلائے جانے والے بلیک ہولز کے بارے میں اب بھی ڈیٹا کم ہے جو سورج سے 10 ہزار گنا زیادہ تک بڑے ہو سکتے ہیں۔ اور یہی بلیک ہولز انتہائی بڑے حجم کے بلیک ہولز کا نکتہ آغاز بنتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ درمیانے حجم کے بلیک ہولز گیس کے بڑے بادلوں کے آپس میں ٹکرانے یا پھر ستاروں کے آپس میں ٹکرانے کے باعث کائنات کے ابتدائی زمانے میں شاید پیدا ہوئے ہوں۔

کم عمر کائنات کے پرہجوم ماحول میں یکے بعد دیگرے ان درمیانے حجم کے بلیک ہولز کے درمیان ٹکراؤ ہوتے رہے، جبکہ ساتھ ہی ساتھ قریب موجود مواد بھی ان میں تیزی سے اکٹھا ہوتا گیا جس کی وجہ سے انتہائی بڑے حجم کے بلیک ہولز کی پیدائش ممکن ہوئی۔

لیکن اس کے باوجود اس نظریے میں کچھ مسائل ہیں کہ درمیانے حجم کے بلیک ہولز آگے چل کر انتہائی بڑے حجم کے بلیک ہولز کی وجہ بنے۔

کائنات اپنی ابتدا میں جہاں بہت چھوٹی تھی وہیں نہایت گرم بھی تھی۔ گیس کے بادل تابکار شعاعوں کی زد میں رہتے ہوں گے۔ نتیجتاً انھیں اتنی توانائی حاصل ہوتی ہو گی کہ ان کا خود ہی سے ٹکرا کر منہدم ہو جانا ممکن ہوتا ہو گا۔

اور بہت زیادہ کثیف کائنات میں بھی فزکس کے قوانین کسی بلیک ہول کے مادے کو جذب کرنے کی شرح کی حد متعین کرتے ہیں۔

وولونٹیری کہتی ہیں کہ انتہائی بڑے حجم کے بلیک ہولز سے متعلق تمام وضاحتوں اور نظریات میں کچھ نہ کچھ کمی بیشی ہے جس کی وجہ سے سائنسدان کسی حتمی جواب تک اب تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ تھیوریز جن میں ہم ’ڈائنامک پراسیسز‘ کی بات کرتے ہیں، یعنی کہ ایک بلیک ہول صرف ایک کے بجائے کئی ستاروں کے باعث بنتا ہے، وہ بھی ممکن ہیں، مگر پھر یہ مراحل نہایت مخِصوص حالات میں ہونے چاہییں۔‘

اُن کے مطابق ’قدیم بلیک ہولز‘ کے بارے میں بھی نظریات موجود ہیں جو شاید ستاروں کے وجود میں آنے سے قبل ہی وجود میں آ گئے ہوں اور بڑھ رہے ہوں، مگر یہ مکمل طور پر غیر معلوم علاقہ ہے۔ ہمارے پاس اب تک اس اُصول کو پرکھنے کے لیے کوئی مشاہداتی ثبوت نہیں ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اُنھیں ڈائنامیکل پراسیسز کی فزکس پسند ہے تاہم اُن کے مطابق اس تھیوری کے لیے یہ پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے کہ کوئی چیز سورج سے 1000 گنا بڑے حجم تک پہنچ سکتی ہے۔

’جب آپ ایسے کوئزارز کے بارے میں بات کریں جو کائنات کی عمر ایک ارب سال ہونے کے وقت سورج کے ارب گنا حجم تک پہنچ چکے تھے، تو آپ پائیں گے کہ ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔‘

وہ مانتی ہیں کہ انتہائی دیوہیکل بلیک ہولز کے وجود کی حقیقی کہانی اب بھی سامنے نہیں آئی ہے۔

’ہم جتنا زیادہ کریدتے ہیں، ہمیں اتنا زیادہ علم ہوتا ہے کہ ہماری پچھلی معلومات کے ساتھ کیا مسائل ہیں۔ اب بھی کوئی بنیادی چیز ہے جسے ہم نے نظرانداز کر رکھا ہے۔‘

نئی طرح کے مشاہداتی آلات نے ہماری فہم میں موجود خلا کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ورگو، لائیگو اور ان جیسی دیگر رصدگاہیں کائنات میں موجود بلیک ہولز کی جسامت، عمر اور محلِ وقوع کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ تفصیلی معلومات فراہم کر رہی ہیں۔

مگر اس سب ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے انتہائی بڑی جسامت کے بلیک ہولز کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں کو موجودہ آلات سے بھی زیادہ بڑے آلات چاہیے ہوں گے۔

اگلی دہائی میں ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) نے خلا میں لیزر انٹرفیرومیٹر سپیس اینٹینا (لیزا) لانچ کرنا ہے جو ایک تکون کی صورت میں پرواز کرنے والی تین سیٹلائٹس پر مشتمل ہو گا۔

اس تکون کی ہر طرف 25 لاکھ کلومیٹر طویل ہو گی اور یہ لائیگو اور ورگو کی ہی طرح کام کرے گا، مگر اس کی وسعت اسے موجودہ ٹیکنالوجی کی حدود سے دور موجود انتہائی بڑے بلیک ہولز سے آنے والی کششِ ثقل کی لہروں کا پتا چلانے میں مدد دے گی۔

اس حوالے سے پہلے ہی اشارے موجود ہیں کہ انتہائی بڑے بلیک ہولز سے آنے والی لہریں ہمارے آس پاس موجود ہیں۔

سنہ 2021 کی شروعات میں ماہرینِ فلکیات نے باقاعدگی سے روشنی کی شعاعیں خارج کرنے والے 45 چھوٹے ستاروں (پلسارز) سے آنے والی شعاعوں میں کچھ معمولی سے تضادات محسوس کیے۔

ویسے تو ان نتائج کی تصدیق ہونی ابھی باقی ہے مگر محققین کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی بڑے بلیک ہولز کے آپس میں ملاپ سے پیدا ہونے والی کششِ ثقل کی لہروں کے باعث ہو سکتا ہے۔

مگر بلیک ہولز کو دیکھنے کے مزید براہِ راست طریقے بھی موجود ہیں۔

ایونٹ ہورائزنز ٹیلی سکوپ نے حال ہی میں بلیک ہولز کی اولین تصاویر کھینچی ہیں جنھوں نے ان پراسرار اجسام سے پردہ ہٹایا ہے۔

ان تصاویر سے ان کی نوعیت اور ان کی میزبان کہکشاؤں کی مقناطیسیت اور کششِ ثقل پر ان کے اثرات کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

ایسٹروفزکس کے ماہرین اب کسی کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہولز کے گرد گھومنے والے ستاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتے ہیں اور مرکز میں موجود ان انتہائی بڑے اجسام کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اس طرح کے زیادہ تر مشاہدات کے لیے زمین پر موجود دوربینیں استعمال ہوتی ہیں جن میں 'ایڈاپٹیو آپٹکس' نامی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔

سائنسدان کسی چمکدار ستارے (یا انسان کی پیدا کی گئی لیزر شعاع) کا جائزہ لیتے ہیں جس سے اُنھیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ زمین کی فضا خلا سے آنے والی روشنی کو کتنا متاثر کر رہی ہے۔

اس کے بعد کمپیوٹرز کے ذریعے ٹیلی سکوپ کے شیشوں کی ساخت میں انتہائی باریک تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ فضا کے باعث ہونے متاثر ہونے والی تصویروں کو درست کیا جا سکے۔

نتیجتاً اربوں نوری سال کے فاصلے پر موجود کہکشاؤں کی نہایت تفصیلی تصاویر اور ان کہکشاؤں کے مرکز میں موجود بلیک ہولز کے بارے میں معلومات کا خزانہ حاصل ہوتا ہے۔

نیومائیر ایڈاپٹیو آپٹکس کی مدد سے کہکشاؤں کے مراکز کا جائزہ لینے والے اولین سائنسدانوں میں شامل تھیں۔

وہ کہتی ہیں: 'یہ دیکھ کر بہت ہی حیرانی ہوئی کہ آپ زمین پر بیٹھ کر خلا میں موجود ہبل سپیس ٹیلی سکوپ سے کہیں زیادہ صاف تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے بلیک ہولز میں موجود مادے کی مقدار کی پیمائش کا کام کیا ہے۔ یہاں ایک بہت واضح تعلق موجود ہے۔ کسی کہکشاں میں جتنا زیادہ مادہ ہوگا، اس کے مرکز میں موجود بلیک ہول اتنا ہی زیادہ بڑا ہوگا۔ کوئی وجہ ہے جس کے باعث یہ اجسام آہستہ آہستہ اپنے سائز میں بڑھتے ہیں۔ '

مگر یہ تعلق معلوم ہونے کے باوجود ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ کیا زبردست جسامت والی کہکشائیں بلیک ہولز کو جنم دیتی ہیں یا پھر بلیک ہولز ان کہکشاؤں کو پیدا کرتے ہیں۔

یہ دونوں آپس میں منسلک ضرور ہیں، لیکن اس تعلق کی نوعیت اب بھی ایک راز ہے۔

اس حوالے سے وضاحت کا ایک حصہ کہکشاؤں کے درمیان ٹکراؤ بھی ہو سکتا ہے۔

ہم جتنی کائنات دیکھ سکتے ہیں، اس میں کوئی 20 کھرب (دو ہزار ارب) کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں مگر اس کے باوجود تصادم ہوتے رہتے ہیں، جس کے باعث دو انتہائی بڑے مرکزی بلیک ہولز کا ملاپ ہونا اور مزید بڑا ہو جانا ممکن ہے۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انتہائی بڑے بلیک ہولز اسی طرح وجود میں آتے ہیں۔

جب نسبتاً چھوٹے بلیک ہولز ٹکراتے ہیں تو وہ بڑی مقدار میں توانائی خارج کرتے ہیں مگر ایسا صرف سیکنڈ کے کچھ حصے کے لیے ہی ہوتا ہے۔

اس دوران ان کی خارج کردہ توانائی اتنی روشن ہوتی ہے کہ آسمان میں موجود ہر چیز کو چندھیا دیتی ہے۔

اگر ہم ایسا ہی کوئی واقعہ انتہائی بڑے بلیک ہولز کے تصادم کا دیکھ سکیں تو یہ آسمان پر دیکھے گئے سب سے تباہ کُن واقعات میں سے ایک ہو گا۔

مگر جہاں سائنسدانوں کو اس حوالے سے شبہ ہے کہ انتہائی بڑے بلیک ہولز کا تصادم ہوتا ہے، وہیں شاید یہ بلیک ہولز کی نوعیت کے ایک پریشان کُن پہلو کی وجہ سے اتنا معمول کے مطابق نہ ہوتا ہو جتنا کہ ہم سوچ رہے ہیں۔

ایک دوسرے سے ٹکراؤ کی راہ پر گامزن بلیک ہولز ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے تیز سے تیز تر ہوتے جاتے ہیں، مگر بہت بڑے بلیک ہولز ایک پارسیک فاصلے (3.26 نوری سال) تک پہنچنے کے بعد کچھ ٹھہراؤ کے شکار ہو جاتے ہیں۔

اس مقام پر اُن کی گردش کی رفتار ان کے درمیان کشش کو برابر کر دیتی ہے، چنانچہ اُن کا ملاپ اس قدر سست ہو جاتا ہے کہ وہ کائنات کی موجودہ عمر کے دوران تو مکمل نہیں ہو سکتا۔

لیکن اس کے باوجود سائنسدانوں کو یقین ہے کہ ایسے بلیک ہولز کا ملاپ ہوتا ہے جس سے اس 'فائنل پارسیک پرابلم' کے حل کے لیے نئی تھیوریز کی ضرورت پیش آنے لگتی ہے۔

ایک دوسرے کے گرد گھومنے والے بلیک ہولز کو مزید پاس لانے کے لیے کوئی اضافی قوت یا توانائی درکار ہے۔

کائنات میں ایسی کہکشاؤں کی کوئی کمی نہیں جو ایک دوسرے سے مل کر بنی ہیں۔ اس میں ہماری اپنی کہکشاں یعنی ملکی وے گیلیکسی بھی شامل ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسا ضرور ہوتا ہے۔

جب کہکشائیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو اُن کے ستاروں، گیس کے بادلوں، تاریک مادے اور بلیک ہولز کے آپس میں ملنے سے اُن کے اصل ڈھانچے کی ہیئت تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہاں تک کہ ان کے درمیان معمولی سا ٹکراؤ بھی ہو تو ان کی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے جس سے اُن کا پتا چلانا ممکن ہو جاتا ہے۔

مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ یو جی سی 11700 جیسی کہکشاؤں کے مرکز میں موجود انتہائی بڑے بلیک ہولز ٹکراؤ سے نہیں بن سکتے۔ ان کی ساخت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا کبھی کسی دوسری کہکشاں سے ٹکراؤ نہیں ہوا ہے۔

بیکی سمیتھہرسٹ کہتی ہیں کہ ’میں اُن انتہائی نایاب کہکشاؤں کو منتخب کرتی ہوں جو اپنی پوری زندگی الگ تھلگ سے رہی ہوتی ہیں۔ ان کے بارے میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے وسط میں موجود بلیک ہول کبھی کسی دوسرے سے ٹکرا کر بڑے نہیں ہوئے ہیں۔‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی پیدائش کسی اور طریقے سے ہوئی ہوگی۔

سمیتھہرسٹ وقت میں پیچھے جا کر یہ دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ بلیک ہولز ابتدا میں کیسے ہوں گے کہ بڑے ہو کر اپنے موجودہ سائز تک پہنچے۔

اُن کے بہترین ماڈلز سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بلیک ہولز جو کائنات کی ابتدا میں ہی پیدا ہوئے اور جن کی جسامت سورج کے مقابلے میں ایک ہزار سے لے کر ایک لاکھ گنا تک زیادہ بڑی ہوتی ہے، وہ شاید کسی دوسرے بلیک ہول کو بڑا ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مگر یہ اعداد و شمار نیومائیر کے درمیانے سائز کے بلیک ہولز والے نظریے سے میل نہیں کھاتے۔ اس جسامت کے بلیک ہولز ممکنہ طور پر ستاروں کی موت کے باعث وجود میں نہیں آ سکتے۔

ایسٹروفزکس کے ماہرین اس امکان پر بھی غور کر رہے ہیں کہ انتہائی بڑے بلیک ہولز کہیں براہِ راست تاریک مادے سے تو وجود میں نہیں آتے۔ تاریک مادہ وہ پراسرار مادہ ہے جو کہکشاؤں کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے۔

مگر یہ ڈارک میٹر روشنی اور برقی مقناطیسی سپیکٹرم کی دیگر شعاعوں میں نظر نہیں آتا اور اس کے بارے میں ہماری فہم اب بھی ناکافی ہے۔ جب ہم بلیک ہولز اور ڈارک میٹر کے اسرار کو ملائیں تو فزکس مزید چیلنجنگ ہو جاتی ہے۔

بیکی سمیتھہرسٹ کہتی ہیں کہ ’اب بھی ایسا بہت کچھ ہے جو ہم نہیں جانتے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ بلیک ہولز صرف سپرنووا کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں تو یہ شاید ٹھیک نہ ہو، کیونکہ ہمیں اب بھی یقینی طور پر معلوم نہیں ہے۔ شاید وجہ بالکل مختلف ہو اور ہم نے اس بارے میں اب تک سوچا ہی نہ ہو۔ میں اس وقت کا انتظار کر رہی ہوں جب کائنات ہمیں اپنے جواب سے سرپرائز کرے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سائنس کے لیے ایک اچھا دن ہو گا۔‘

زیادہ جدید مشاہداتی آلات پر بھی کام جاری ہے۔ اس خزاں میں ناسا کا منصوبہ ہے کہ جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ لانچ کر دی جائے (تاہم اس وقت اس دوربین کا نام تبدیل کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے کیونکہ ناسا کے سابق ڈائریکٹر جیمز ویب نے ہم جنس پرست مخالف پالیسیوں کا نفاذ کیا تھا۔)

اس دوربین کا بے مثال سائز اور اس کے سینسرز کی صلاحیت اسے انتہائی بڑے بلیک ہولز کے جائزے کے لیے ایک قابلِ قدر آلہ بنا دیں گی۔

اس کے علاوہ جب لیزا مشن لانچ کیا جائے گا تو اس سے سائنسدانوں کو ایسے بلیک ہولز کے بارے میں اُن کی کششِ ثقل کی لہروں کے ذریعے جاننے کا موقع ملے گا۔

دیگر سائنسدان کروڑوں کہکشاؤں کے محلِ وقوع، ساخت، نقل و حرکت اور جسامت کے بارے میں کہیں زیادہ تفصیلی نقشے بنا رہے ہیں جس سے مشاہداتی اور نظریاتی، دونوں ہی قسم کے سائنسدانوں کو مدد ملتی ہے۔

بیکی سمیتھہرسٹ کہتی ہیں ’کام کی رفتار حیرت انگیز ہے۔ ہمارے پاس بلیک ہولز سے متعلق سو سال کی ریسرچ موجود ہے مگر کائنات کی 14 ارب سال کی عمر کے مقابلے میں یہ تمام رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ میں ایک سوال کی تلاش میں نکلتی ہوں تو پانچ مزید سوال پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

نیومائیر بھی سمیتھہرسٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ بلیک ہولز کے بارے میں حیران کُن دریافتوں سے شاید ایسے سوالات پیدا ہوں جو پہلے کسی نے نہیں پوچھے۔

’گذشتہ سو سالوں میں تکنیکی ترقی بہت حیران کن رہی ہے جس کے ذریعے یہ سب دریافتیں ممکن ہوئی ہیں۔ ہمیں اب کئی مسائل معلوم ہیں جنھیں ہم حل کرنا چاہتے ہیں مگر ہم ایسی بھی نئی چیزیں دیکھیں گے جو ہم نے تصور تک نہیں کی ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت زبردست بات ہے۔‘

Exit mobile version