کابل: امریکی طیارے سے گر کر ہلاک ہونے والوں میں نوجوان افغان فٹ بالر بھی شامل

افغانستان کی اسپورٹس فیڈریشن کے مطابق دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی طیارے سے لٹکنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والوں میں نیشنل یوتھ ٹیم میں شامل افغان فٹ بالر بھی شامل تھے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اسپورٹس گروپس کے ساتھ مل کر کام کرنے والے سرکاری ادارے، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس آف افغانستان، نے رواں ہفتے کابل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے حادثے میں ذکی انوری کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

فیس بک پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ'ہزاروں افغان نوجوانوں کی طرح ذکی انوری ملک چھوڑنا چاہتے تھے لیکن وہ امریکی طیارے سے گرے اور ہلاک ہوگئے'۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق افغان فٹ بالر ذکی انوری کی عمر 17 برس تھی۔

اسپورٹس فیڈریشن اور افغانستان کی اولمپک کمیٹی کے میڈیا ریلیشنز کے سربراہ عارف پے مین نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ذکی انوری کا تعلق کابل میں ایک کم آمدن والے خاندان سے تھا اور انہوں نے اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے قومی فٹ بال ٹیم میں شامل ہونے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کی تھی۔

15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے اور صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑ جانے کے بعد ہزاروں افغان شہری ایئرپورٹ پر جمع ہوگئے تھے۔

بعدازاں 16 اگست کو ایک ہولناک ویڈیو میں سیکڑوں لوگوں کو امریکی ایئر فورس کے طیارے کے ساتھ بھاگتے اور کئی افراد کو اس کی ایک سائیڈ پر لٹکتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی 2 ویڈیو میں سی-17 کے اڑان بھرنے کے 2 لوگوں کو طیارے سے گرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

بعدازاں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر افراتفری کے بعد اڑان بھرنے والے امریکی فوج کے سی-17 کارگو طیارے کے پہیے میں انسانی اعضا پائے گئے تھے۔

امریکی ایئرفورس حکام نے یہ نہیں بتایا تھا کہ مذکورہ واقعے میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں لیکن کہا تھا کہ سروس 'شہریوں کی جانوں کے ضیاع' کی تحقیقات کررہی ہے۔

امریکی فضائیہ کی ترجمان این اسٹیفینک نے کہا کہ 'اس سے قبل کہ فضائی عملہ کارگو کو آف لوڈ کرتا طیارے کو سیکڑوں افغان شہریوں نے گھیر لیا تھا'۔

انہوں نے کہا کہ طیارے کے گرد تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے C-17 کے عملے نے جلد سے جلد ایئر فیلڈ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کو اندرن و بیرون ملک یہ وضاحت دینے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے کہ ان کی انتظامیہ طالبان کے فوری حملے کے لیے کیسے تیار نہیں تھی اور کس طریقے سے امریکی فوجی افغانستان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: