کابل ایئر پورٹ کے قریب راکٹ حملے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب ایک علاقے سے راکٹ حملے کیے گئے ہیں تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ راکٹ کس نے فائر کیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ راکٹ پیر کی صبح کابل کے سلیم کاروان محلے میں آکر گرے، دھماکوں کے بعد فائرنگ بھی کی گئی لیکن یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کس نے کی ہے۔

عینی شاہدین نے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے تین دھماکوں کی آواز سنی اور پھر آسمان میں ایک روشنی اٹھتے دیکھی۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد لوگ اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے نظر آئے، امریکی حکام نے رائے کے لیے درخواستوں کا فوری طور جواب نہیں دیا۔

امریکی فوجی کارگو طیاروں نے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد بھی ایئر پورٹ سے انخلا جاری رکھا۔

وائٹ ہاؤس نے ایک جاری بیان میں کہا کہ حکام نے امریکی صدر جو بائیڈن کو کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر راکٹ حملے سے آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'صدر کو بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر آپریشنز بلا تعطل جاری ہیں اور ان سے ان کے حکم کی دوبارہ تصدیق کی گئی کہ کمانڈر زمین پر ہماری افواج کی حفاظت کے لیے جو بھی ضروری ہو اسے کرنے کو ترجیح دینے کی اپنی کوششوں کو دوگنا کریں'۔

امریکی حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز ایک امریکی ڈرون حملے میں افغانستان کے دولت اسلامیہ (آئی ایس) سے وابستہ 'متعدد خودکش حملہ آوروں' کو لے جانے والی گاڑی کو اڑا دیا گیا تھا اس سے قبل کہ وہ کابل کے ایئرپورٹ پر جاری فوجی انخلا پر حملہ کر سکے۔

ایک افغان اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں تین بچے بھی ہلاک ہوئے۔

امریکا منگل تک افغانستان سے نکل جائے گا، تب تک امریکا ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد افغانیوں اور غیر ملکیوں کو دو ہفتوں سے جاری ایئر لفٹ کے آپریشن کو ختم کرنے اور اپنی آخری فوجیں واپس بلانے کے لیے تیار ہے جس سے طالبان کے ساتھ امریکا کی طویل ترین جنگ ختم ہو جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا جس میں تقریبا 100 ممالک کے ساتھ ساتھ نیٹو اور یورپی یونین نے دستخط کیے تھے۔

اس بیان میں کہا گیا کہ انہیں طالبان کی طرف سے 'یقین دہانی' کروائی گئی ہے کہ سفری دستاویزات والے لوگ اب بھی ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

طالبان نے کہا کہ منگل کو امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد وہ عام سفر کی اجازت دیں گے اور وہ ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔

تاہم کئی افغان، طالبان کی جانب سے ماضی میں روا رکھی گئی اس ظالمانہ حکمرانی کی طرف لوٹنے سے خوفزدہ ہیں، جس کے لیے وہ کبھی مشہور تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ائیر پورٹ کے باہر دولت اسلامیہ کے خودکش حملے میں 169 افغان اور 13 امریکی سروس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد امریکا نے ہفتے کے روز افغانستان میں ایک ڈرون حملہ کیا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ دولت اسلامیہ کی مقامی وابستگی رکھنے والے 2 ارکان کو ہلاک کردیا ہے، جو ماضی میں طالبان سے بھی لڑ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کے سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے طالبان سے معاہدے کے بعد افغانستان میں امریکی جنگ کے اختتام کے امکانات سامنے آئے تھے۔

اس معاہدے کے تحت افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا ہونا تھا، نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی افواج کے انخلا کے عزم کا اظہار کیا تھا اور رواں سال انہوں نے 11 ستمبر تک مکمل انخلا کا اعلان کیا تھا۔

تاہم امریکی افواج کے انخلا کا جہاں آپریشن جاری تھا وہیں طالبان نے اپنی پیش قدمیوں میں تیزی کردی تھی اور 15 اگست کو کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *