کابل: ایک جاسوس سے ملاقات

جونہی سیکورٹی اہلکار سونگھنے والے کتے کو ہمارے کیمرہ بیگ کے پاس لائے تو نجانے کیوں اس نے بیگ کو ٹٹولنا شروع کردیا اور ایک لمحے کے لئے اس پر بیٹھ بھی گیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ بیگ یا کیمرے میں کوئی دھماکہ خیزمواد موجود ہے۔ بیگ کی ایک بار پھر تلاشی لیتے ہوئے میرے کیمرہ مین شاہد احمد کو ہدایت کی گئی کہ وہ کیمرہ چلا کر دکھائے۔ شاہد نے ایسا ہی کیا۔ دوبارہ تلاشی لی گئی مگر بیگ میں کچھ ہوتا تو نکلتا۔ سیکورٹی اہلکار واضح طور پر پریشان تھے، ہوتے بھی کیوں ناں؟ افغانستان کے سب سے بڑے مزاحمتی رہنما احمد شاہ مسعود کو دو صحافیوں کے بھیس میں آئے القاعدہ کے کارندوں نے 8ستمبر 2011کو کیمروں میں چھپائے دھماکہ خیز مواد سے ہی قتل کیا تھا جس قوم کا رہنما ایسے مارا جائے اس کے سیکورٹی اہلکاروں کا کیمرے اور بیگ کے بارے میں کتے کے اشارے پر پریشان ہونا فطری تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ یہ اہلکار مجھے اور شاہد احمد کو صحافی کی بجائے پاکستانی خفیہ ایجنٹ ہی سمجھ رہے تھے۔

اس صورتحال میں مَیں نے کتے کی ممکنہ تھکاوٹ یا بھوک کا ذکر کیا تو ایک سیکورٹی اہلکاربولا ’’یہ این ڈی ایس کا کتا ہے، مکمل طور پر تربیت یافتہ، یہ غلط نہیں بتا سکتا‘‘۔ این ڈی ایس یعنی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی افغانستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کا نام ہے۔ کیمرہ مین شاہد احمد بولے لگتا ہے کہ آپ کا کتا بھارت سے تربیت یافتہ ہے، اسی لئے اس نے ہم دونوں پاکستانیوں کو پہچان لیا ہے۔ شاہد کے اس فقرے سے تناؤ زدہ ماحول میں کچھ قہقہوں کی آمیزش بھی ہو گئی۔ میں نے پیشکش کی کہ آپ کیمرہ اور بیگ رکھ کر اطمینان کر لیں، ہم آپ کے صاحب سے مل لیتے ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں نے اپنے واکی ٹاکی پر کسی سے دری زبان میں بات کی اور پھر نجانے کیا ہوا کہ ہمیں آہنی دروازوں والے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ مجھے اور شاہد احمد کو گھر کے تہہ خانے میں ایک بڑے ڈرائنگ روم میں لے جایا گیا۔ ہمیں چائے پیش کی گئی اور تھوڑی ہی دیر میں ایک مناسب قد و قامت اور گورے چٹے رنگ کا حامل 53سالہ رحمت ﷲ نبیل اپنے دو سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ دروازے پر نمودار ہوا۔

یہ این ڈی ایس کا سابق سربراہ اور افغانستان کا جاسوس تھا۔ نبیل سال 2010سے 2012اور پھر سال 2013سے 2015تک این ڈی ایس کا سربراہ رہ چکا ہے اور پاکستان مخالف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسے خفیہ ایجنسی چھوڑے کم و بیش پانچ سال ہو چکے ہیں اور اب وہ سیاست کے میدان میں اپنی قسمت آزمائی کررہا ہے مگر جیسے ہم کہتے ہیں ناں کہ

Once a journalist is always a journalist.

اسی طرح ایک بار کا جاسوس ہمیشہ ہی جاسوس رہتا ہے۔ نبیل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی چکر ہے۔ ہماری ملاقات شروع ہوئی تو اس کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ میرے پس منظر سے لے کر افغانستان آمد اور یہاں میری سرگرمیوں کے بارے میں سب جانتا تھا۔ میرے لئے یہ بات حیران کن نہیں تھی لیکن مجھے اصل دلچسپی یہ تھی کہ افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ دہشت گردی اور دیگر موضوعات پر کیا جانتے ہیں؟ جاسوسوں سے بات کرتے ہوئے چکنا رہنا پڑتا ہے کہ کہیں وہ آپ کو کچھ غلط تو نہیں بتا رہے۔ ادھر نبیل بھی حیران تھا کہ ایک پاکستانی صحافی نے آخر اس سے کیونکر رابطہ کیا کیونکہ ماضی میں کبھی اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا۔ میری دلچسپی مجھے اپنے کیمرہ مین کے ساتھ اس کے گھر پر لے آئی تھی۔

نبیل نے کھلے دل سے گفتگو کا آغاز کیا، وہ طالبان کے حوالے سے پاکستان پر اعتراضات اٹھا رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پر تو خود پاکستان مخالف کالعدم تحریک طالبان کی حمایت کا الزام ہے وہی ٹی ٹی پی جس کے کارندوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور میں 140سے زائد معصوم بچوں کا بہیمانہ قتل کیا۔ اس پر نبیل نے ایک دلچسپ کہانی سنائی اور بتایا کہ آرمی پبلک اسکول کے واقعہ کے بعد آپ کے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور جنرل رضوان کے ہمراہ یہاں صدر اشرف غنی سے ملنے آئے تھے، اس اجلاس میں مَیں بھی موجود تھا۔ جنرل راحیل شریف نے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اگر نبیل ہماری مدد کریں تو مذکورہ دہشت گرد پکڑے جا سکتے ہیں۔ نبیل نے فوری جواب دیا اور کہا کہ اگر اس معاملے میں ہمارے ملوث ہونے کا کوئی ایک بھی ثبوت دیدے تو میں خود کو کسی بھی عدالت میں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اس نے اس اجلاس کے حوالے سے بتایا کہ ’’میں نے کہا تھا کہ ہمارا نظام پاکستان سے مختلف ہے، ہمیں ہمارا صدر برطرف بھی کر سکتا ہے اور یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم اپنے سربراہ حکومت کی بات نہ مانیں یا اسے دھوکہ دیں۔

میں نے نبیل سے پوچھا کہ آپ بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھی پناہ دیتے رہے ہیں تو وہ بولا، کوئی رفیوجی (مہاجر) کے طور پر یہاں رہ رہا ہو تو الگ بات ہے لیکن ہم کسی کو سپورٹ نہیں کرتے۔ پاکستان کو ہمیشہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘‘را’’ کے بارے میں تحفظات رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرتی ہے، اس حوالے سے وزارتِ خارجہ کئی بار بیان بھی دے چکی ہے۔ نبیل نے این ڈی ایس پر اِس الزام کی بھی تردید کی تاہم میرے سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ اس نے اپنے دور میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘‘را’’ کے سربراہ سے کم و بیش چار ملاقاتیں کیں جبکہ پاکستانی آئی ایس آئی کے سربراہوں سے تین ملاقاتیں کی ہیں۔ پوچھا کہ دونوں ملکوں میں مسائل کا حل کیسے ہوگا؟ نبیل نے کہا کہ پاکستان میں نواز شریف نیک نیتی سے مسائل حل کرنا چاہتے تھے مگر انہیں ہٹا دیا گیا، اس کا خیال تھا کہ تجربہ کار سیاستدان سارے معاملات سمجھتے ہیں وہی، مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ ہم کچھ دیر اور مختلف موضوعات پر بات کرتے رہے، ہماری ملاقات شک کے ریگزاروں سے نکل کر باہمی احترام کے نخلستان میں داخل ہوئی اور پھر ملاقات کا وقت ختم ہو گیا۔

جب میں شاہد کے ہمراہ نبیل کے گھر سے نکلا تو میری نظریں دروازے پر موجود کتے کو ڈھونڈ رہی تھیں کہ اتنے میں وہاں تعینات سیکورٹی اہلکار میرے پاس آیا اور اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتانے لگا کہ جس کتے نے ہم دونوں پاکستانیوں کی شناخت کی تھی اسے ایک میڈل مل چکا ہے، میں نے کہا تو پھر؟ اس نے کہا کہ ’’میں کل اسے دوسرا میڈل دلوا رہا ہوں‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: