کابینہ نے متنازع سوشل میڈیا قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے گزشتہ سال متعارف کرائے گئے متنازع ڈیجیٹل میڈیا قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملائکہ بخاری نے ڈان ڈاٹ کام کو تصدیق کی کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 (پیکا) کے سیکشن 37 (غیر قانونی آن لائن مواد) کے تحت بنائے گئے قوانین میں کابینہ نے ترامیم کو منظور کر لیا ہے۔

ترمیم شدہ قوانین کے مطابق غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانا اور مسدود کرنا (طریقہ کار، نگرانی اور حفاظت) رولز 2021 کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو قانون نافذ ہونے کے تین ماہ کے اندر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ رجسٹر ہونا ہو گا۔

اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ انہیں اسی دورانیے میں پاکستان میں مقیم ایک بااختیار تعمیلی افسر اور شکایتی افسر بھی مقرر کرنا ہوگا جنہیں سات دنوں کے اندر شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا۔

قوانین سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ بھی ہدایت کرتے ہیں کہ وہ قوانین کے لاگو ہونے کے چھ ماہ کے اندر پاکستان میں ایک دفتر قائم کریں جس کا مقام ترجیحی طور پر پاکستان میں ہو، اس سے قبل قوانین کے تحت کمپنیوں کو نو ماہ کے اندر اپنے دفاتر قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید یہ کہ پی ٹی اے سروس فراہم کرنے والے یا سوشل میڈیا کمپنی کو آن لائن مواد ہٹانے یا اس تک رسائی روکنے کے لیے 24 کے بجائے 48 گھنٹے دے گا۔

اگر سروس فراہم کرنے والا ادارہ یا سوشل میڈیا کمپنی مخصوص وقت کے اندر مواد ہٹانے، رسائی کو روکنے یا اس کی تعمیل میں ناکام رہی تو پی ٹی اے کارروائی کا آغاز کر سکتا ہے۔

اس میں 48 گھنٹوں کے اندر عدم تعمیل کی تحریری وضاحت طلب کرنے کے لیے نوٹس بھیجنا بھی شامل ہے۔

اگر سروس فراہم کرنے والا نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہتا ہے تو پی ٹی اے اس طرح کے سروس فراہم کرنے والوں کی سروسز میں ایک مدت کے لیے تنزلی کر سکتا ہے۔

قواعد کے تحت پی ٹی اے کو مکمل آن لائن انفارمیشن سسٹم کو بلاک یا بلاک کی ہدایات کے اجرا یا 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔

ترمیم شدہ قواعد پاکستان کے گزٹ میں شائع کیے جائیں گے جس کے بعد وہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے موجودہ قوانین کا حصہ بن جائیں گے۔

شدید ردعمل

نومبر 2020 میں منظور شدہ سوشل میڈیا رولز کو ڈیجیٹل حقوق کے نمائندوں، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز آف پاکستان اور ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر قواعد میں ترمیم نہ کی گئی تو پاکستان میں اپنی سروسز میں بند کردیں گے کیونکہ ان قواعد و ضوابط کے تحت ان کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

قوانین کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا تھا، درخواست پر ایک سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت قواعد پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔

مارچ میں وزیر اعظم عمران خان نے متنازع سوشل میڈیا قوانین کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین وزارتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی نے قواعد اگست تک تیار کیے تھے اور انہیں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی سے 23 ستمبر کو منظور کر لیا گیا تھا۔

تاہم انٹرنیٹ کمپنیوں نے ترمیم شدہ قانون کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ زیادہ پریشانی کا سبب بننے والی دفعات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے ڈان کو بتایا کہ ایشیا انٹرنیٹ کولیشن اور اس کی رکن کمپنیاں مجوزہ نظرثانی اور قوانین پر مایوسی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی مہینوں تک انڈسٹری کی جانب سے بار بار آرا دیے جانے کے باوجود مسودے کے قواعد میں اب بھی متعدد پریشان کن دفعات شامل ہیں۔

error: