کارو کاری رسم ہے صدیوں پرانی

"دعاعلی"

کارو کاری رسم ہے صدیوں پرانی
پر سبھی خاموش ہیں
میری میّا جنم تو نے ہی دیا ہے مجھ کو لیکن
تو بھی اب خاموش ہے
میری میّا میں تو جنموں کی ہوں باندی
اور نہ جانے کتنے جنموں سے سبھی خاموش ہیں
بول کچھ تو چپ یہ کیسی لگ گئی ہے
اس قدر تو کس لیے خاموش ہے ؟
میں قریباً 19 سال سے اندرون سندھ سے وابستہ ہوں. میں نے اکثر کاروکاری اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے مظالم کے بارے میں سنا اور پڑھا کہ فلاں لڑکی کو مار دیا گیا، فلاں کو مار دیا گیا. اس ضمن میں امیری غریبی کا لحاظ کم ہی دیکھا گیا ہے، بس جہالت ایک ایسی شے ہے جو ان واقعات کے پیچھے مشترک وجہ ہے. میری کتاب "لمحہ لمحہ کرچیاں" میں بھی اس موضوع کو سامنے رکھا گیا ہے. مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ……
پاکستان کے چاروں صوبوں میں یہ رسم پائی جاتی ہے لیکن اس کے خلاف کبھی کسی این جی او نے آواز اٹھائی ہے نہ کسی قانون ساز ادارے نے کارروائی کی ہے۔اس غیر انسانی، غیر قانونی،غیر اسلامی اور گھنائونی رسم کے ماننے والوں کے خیال میں اس طرح کا قتل نہ صرف جائز بلکہ اچھا عمل سمجھا جاتا ہےسیاہ کاری ،کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے۔مذکورہ نام ایک دوسرے کے مترادف ہیں جو مختلف علاقوں میں بولی جانےوالی زبانوں کے مطابق بنائے گئے ہیں۔بلوچستان میں اسے ”سیاہ کاری“ کہا جاتاہے جس کا معنی بدکاری ،گنہگار ہے۔ سندھ میں اسے ”کاروکاری“ کہا جاتا ہے کاروکامطلب سیاہ مرد اور کاری کا مطلب سیاہ عورت ہے۔ پنجاب میں” کالا کالی“ اور خیبرپختون خواہ میں ”طور طورہ“ کے نام سے مشہور ہے۔
جب کے سندھ کی ثقافت میں عام لوگ اپنی بیٹیوں کو امڑ یا ماں کہتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں اور اسی عزت کو کاری کر کے مار دینے میں ذرا بھی نہیں چوکتے تو پھر کس لیے اسے امڑ یا ماں کہا جاتا ہے جب کہ عورتوں کو ما ں یا بہن نہیں ملکیت سمجھا جاتا ہے اور موت کے گھاٹ اتارتے وقت وہ امڑ یا ما ں نہیں دیکھتے ہر رشتے کو بھلا دیتے ہیں روتی بلکتی ،بہنیں ،یا بیٹیاں اپنی عزت کی ناموس کی خاطر قربان کر دی جاتی ہیں
ان روتی بلکتی آنکھوں میں ہزاروں سوال ہوتے ہیں کہ ہمارا جرم کیا تھا جو یوں ہمیں زندہ درگو کیا جارہا ہے
ماں کی روتی بلکتی اآنکھیں کوئی نہیں دیکھ پاتا
اور ووہ ہر رشتے کو بلائے طاق رکھ کر موت کی ابدی ننید سُلا دی جاتی ہیں اور اس بات پر بہت فخر محسوس کیا جاتا ہے کہ ہم نے غیرت کے نام پر خود اپنی ہی بہن ،بیٹی کا گلا گھونٹ کر مار دیا ،زندہ ہی دفنا دیا ۔ ان کو ذبح کرنے اور فروخت کرنے جیسے اقدامات رسوم و روایات کے نام پر کیے جاتے ہیں
ہرسال دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں ہزاروں عورتوں کو ان ہی کے عزیز و اقارب کی جانب سے خاندان کی عزت و آبرو کے تحفظ کے نام پر قتل کیا جاتا ہے
دیہی معاشرے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ قبائلی اور جاگیردارانہ نظام میں عورت کی حیثیت ثانوی ہوتی تھی اور عورتوں کو مال مویشی ہی سمجھا جاتا تھا۔ ان قدیم معاشروں میں مرد دشمن کو سزا دینے کے لیے اپنی ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کو قتل کرا کے پھر اپنے دشمن کو قتل کرتے تھے اور عزت کے نام پر سزا سے بچ جاتے تھے۔ پھر ایسے معاملات پر قبائلی جرگوں میں فیصلہ ہوتا تھا۔ ان جرگوں کی خاص بات یہ ہوتی تھی کہ اس میں عورت کی کوئی نمایندگی نہیں تھی
جب اسلام میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں دونوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں تو جب دونوں سزا کے مرتکب ہوتے ہیں تو سزا دونوں کو ہی ملنی چاہیے نہ کہ صرف عورت کومگر یہاں معاملہ ذرا دوسرا ہے سزا صرف عورت کو دی جاتی ہے مرد کو نہیں مرد کو راتوں رات فرار کر دیا جاتا ہے اور عورت کو کاری کرکے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے اور اگر مرد کی مالی حیثیت کو دیکھتے ہوئے سزا مختلف تجویز کی جاتی ہے اگر مرد اورعورت غریب، ان پڑھ اور پسماندہ ہیں آن دا اسپاٹ ان کو سزا دی جاتی ہے عورت کوغیرت کے نام پر قربان کر دیا جاتا ہے مرد کو معاف کر دیا جاتا ہے بدلے میں مرد سے اس کی حثیثت کے مطابق معاوضہ وصول کر لیا جاتا ہے یا (سنگ) لیا جاتا ہے سنگ یعنی کے مرد اپنی جان کے عوض تین لڑکیاں بدلے میں عورت کے ( اگر عورت شادی شدہ ہے تو )سسرال والوں کو دی جاتی ہیں اور ان لڑکیوں سے مرد کا بل واسطہ یا بلا واسطہ ان کا اختیار ختم ہوجاتا ہے اب ان لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جائے وہ پوچھنے کا حق کھو چکے ہوتے ہیں بدلے میں دی ہوئی لڑکیوں کے ساتھ کچھ اچھا سلوک روا نہیں رکھا جاتا لڑکیوں کی عمریں 7 سال،دس سال،یا تین سال کبھی کبھار تو جو پیدا بھی نہیں ہوئی ہوتی وہ بھی ان کے نام کر دی جاتی ہیں۔ بے شک ان کے خاندان کا مرد 40 سال کا ہو یا 50 سال کا وہ اس سات سال کی بچی سے شادی کر لیتا ہےکبھی کبھی یہ سوچتے ہوئے میری روح کانپ اٹھتی ہے
اس پرانی ظالمانہ رسم پر
کیوں یہ سب خاموش ہیں
کس لیے باندی بنا کر رکھا جاتاہے مجھے
نہ غلطی کچھ ہو میری
نہ ہو میرا کچھ قصور
کس لیے بے موت مارا جارہا ہے پھر مجھے
کارو کاری رسم ہے صدیوں پرانی
پر سبھی خاموش ہیں
آہیں میری سن نہ پائیں
سب کے سب خاموش ہیں
کیا ہمارے اندر انسانیت ختم ہوچکی ہے جو ہم اتنا ظلم دوسروں پر کرتے ہیں یا ہونے دیتے ہیں ہم بھی سزا کے اتنے ہی مستحق ہیں جتنا کہ سزا دینے والا اگر لڑکی کنواری ہے تو (لڑکی کے گھر والوں کو تین سنگ اورمعاوضہ دینا ہوتا ہے ) سو میں سے کوئی ایک لڑکا مر جاتا ہے وہ بھی اس صورت میں جب وہ غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہو
پاکستان کو خواتین پر تشدد کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے رائیٹرز فاونڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق جو دنیا کے پانچ ممالک اتنہائی خطرناک ہیں ان میں سےا یک پاکستان بھی ہے۔ پہلے نمبر پر افغانستان ، دوسرا کانگو تیسرا پاکستان چوتھا بھارت اور پانچواں صومالیہ کا ہے آرٹیکل 19 کے تحت اگر بات کی جائے تو افسوس کی بات ہے کہ ہم کن ملکوں کے ساتھ کھڑے ہنں جو مسائل پاکستان کی عورت کو ہر لیول پر فیس کرنے پڑتے ہیں اور ہم ان سے لاعلم ہیں
ایک ہی قبیلے کا معاملہ ہو تو اس قبیلے کے سردار ہی فیصلہ کرتے تھے جو دونوں فریقوں سے رقم لینے کے بعد جرگہ منعقد کرتے تھے اور دو قبائل یا زیادہ کے درمیان تنازعہ ہو تو پھر ان قبائل کے سردار اور عمائدین مل کر فیصلہ دیتے تھے۔ مگر عورتوں کو ان جرگوں میں شرکت کی اجازت نہیں تھی ۔ یوں ہمیشہ مردوں کی بالادستی برقرار رہتی تھی۔ قدیم معاشروں میں تو یہ غیر قانونی معاملات چلتے تھے تاہم جدید معاشروں میں جہاں تحریری آئین موجود ہو قانون کے ذریعے عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہوں، وہاں عزت کے نام پر قتل سماج کی ساخت کی عکاسی کرتا ہے
لیکن جب تک کوئی مرد وعورت بدکاری کے حقیقی جرم کا ارتکاب نہیں کرتا ، اس وقت تک اس کو بدکاری کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ حتیٰ کہ کنوارے مرد وعورت اگر زناکاری بھی کرلیں تو شریعتِ اسلامیہ میں اُن کی سزا، قتل کی بجائے سو کوڑے اور جلاوطنی سے زیادہ نہیں۔
جس جرم کی سزا قرآن وسنّت نے مقرر کر دی ہو، اس کی جگہ از خود دوسری سزا مقرر کردینا چاہے وہ کم ہو یا زیادہ،ایک مسلمان کے لیے ایسا رویہ اختیار کرنا ناجائز ہے۔نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

"کلمہ طیبہ کا اقرار کرنے والے کسی مسلمان کا خون بہانا تین صورتوں کے سوا جائز نہیں: قصاص، شادی شدہ زانی، دین سے نکل کر ارتداد کی راہ اختیار کرنے والا
تاریخ کی کتابیں شاہد ہیں کہ انگریزوں کی آمد کے بعد برصغیر میں عورتوں کے قتل کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے ستی کی رسم پر پابندی لگادی تھی۔ ممتاز ہندو رہنما راجہ رام موہن رائے نے ہندوؤں میں ستی کی رسم کے خلاف مہم چلائی تھی۔ پھر سندھ کے انگریز کمشنر چارلس نیپئر نے کاروکاری کی رسم کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا تھا۔
انھوں نے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ سندھ میں عورتوں کو جس بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے اس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ چارلس نیپیئر کا کہنا تھا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھیڑ بکریوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انگریز حکمراں کے اس فیصلے کے بعد انڈین پینل کوڈ میں عزت کے نام پر قتل کو سزا کا مستحق قرار دیا مگر اس قتل کی دفعہ کو دفعہ302 کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا۔
خواتین کے تحفظ اور عزت کے نام پر قتل کو روکنے کے لیے بہت سے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ ان اقدامات میں عزت کے نام پر قتل کو دفعہ 302 کے دائرہ میں لانا بھی ضرورت ہے اور دیت کے قانون کے تحت وارداتوں کے معاف کرنے پر قاتل کی رہائی کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ کیونکہ بہت سے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ ایک خاندان میں باپ بیٹی کو قتل کرتا ہے تو اس کی بیوی ماں کی حیثیت سے اس کو معاف کردیتی ہے، یوں قاتل چند ماہ بعد ہی دندناتے پھرتے ہیں
حکومتِ پاکستان نے اس سلسلے میں فوری پیش قدمی کرتے ہوئے، Criminal Law (Amendment) Act,
کے نام سے ترمیمی ایکٹ منظور کیا تھا
پرویز مشرف نے 4 جنوری 2005ء کو دستخط ثبت کرکے اسے کتابِِقانون کا حصہ بنا دیا جس میں ''جرائم غیرت کو کارو کاری جیسی رسومات وغیرہ تک وسیع کرتے ہوئے، اس کے مرتکب کو اسلامی قانون قصاص ودیت کی عمل داری سے باہر کر دیا گیا۔ اس میں ورثا کے لیے معافی کا حق سلب کرتے ہوئے، ریاست کو مقتول کا سرپرست بننے کی راہ اپنائی گئی اور سزا کو 15 سال سے بڑھا کر 25 سال قید کردیا گیا۔ بوقتِ ضرورت عدالت قتل غیرت کو، حرابہ یعنی فساد فی الارض اور دہشت گردی کے تحت بھی سماعت کرسکتی ہے۔اس کے لیے اعلیٰ پولیس افسران کی خدمات لینے کے علاوہ ، عدالتِ عالیہ صوبائی حکومتوں کے بھی اختیارات استعمال کرسکتی ہے
اس جیسے واقعات کی روک تھام شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں کیوں کر ممکن ہے؟
پاکستانی معاشرہ اس وقت جس المیہ سے دوچار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت عوام کے سماجی اور دینی رجحانات کو مدنظر رکھ کر قانونی اقدامات نہیں کررہی
عورت اس بربریت اور غیر انسانی معاشرے میں پیدا ہوئیں۔کوئی بھی معاشرہ اپنی خواتین کو پیچھے چھوڑ کر عزت اور عظمت کے میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔عورت کسی بھی مہذب معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔وہ معاشرے کا آدھا حصہ ہیں ۔ ۔
اس رسم کا غلط استعمال بھی بہت عام ہے۔ لوگ اپنے کسی دشمن کو تنہا پا کر مار دیتے ہیں اور پھر اپنے ہی خاندان کی کسی عورت کو جو بڑھیا یا بچی بھی ہو سکتی ہے، کو مار کر دشمن کی لاش کے نزدیک ڈال دیتے ہیں اور بیان دیتے تھے کہ انہیں غلط کام کرتے دیکھا گیا تھا اس لیے غیرت میں آ کران دونوں کو مار دیا گیا۔ عورتوں کے قتل کے جتنے واقعات ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ ہر قتل، قتلِ غیرت ہی ہوکبھی خاندانی دشمنی،تقسیم میراث وغیرہ دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں
محمد علی جناح کا قول ہے کہ " کوئی قوم اپنی خواتین کے بغیر ترقی کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتی۔
روحیل ورنڈ بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن اور سوشل انٹرپرینیئر ہیں۔ ٹائمز آف یوتھ میگزین کے سی ای او ہیں- ورلڈ سمٹ ایوارڈ کے جیوری ممبر اور سفیر ہیں۔
نسانی حقوق کے ادارے Human Rights Commission کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں عورتوں کو ان کے والدین، بھائیوں اور شوہروں نے محض عزت کے نام پر قتل کیا۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیم ’’عورت فائونڈیشن‘‘ کی تحقیق کے مطابق ہر سال عورتوں کے قتل کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے
پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود غیرت کے نام پر قتل یا کارو کاری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سندھ پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں پولیس نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کے تعاون سے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف آگہی مہم شروع کی ہوئی ہے تاکہ پولیس اہلکاروں کو بھی اس جرم کی حساسیت کا اندازہ ہو سکے۔اس کے باوجود اب تک کوئی روک تھام نہیں ہوسکی
ملک میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کی صورتحال تب تک تبدیل نہیں ہوگی جب تک عورت کو ملکیت سمجھنے کا تصور تبدیل نہیں ہوگاناصر اسلم زاہد
جسٹس ناصر اسلم زاہد کہتے ہیں کہ قانون سازی میں سے اگر غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ملزم بچ نکلتے ہیں تو ان کے خلاف فساد فی العرض کی شق تین سو گیارہ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں تاکہ انہیں قصاص و دیت کے حوالے سے معافی نہ مل سکے
کاروکاری کے جتنے واقعات ہو رہے ہیں ان کے مصدقہ اعداد و شمار جمع کرنا خود ایک مسئلہ ہے، اس کی دو تین وجوہات ہیں ایک تو سندھ پولیس میں کمپیوٹرائیزڈ ڈیٹا کلیکشن کا کوئی نظام نہیں، جو اعداد وشمار ہیں ان کا بنیاد ایف ائی آر ہے جس میں کئی مرتبہ لوگ غلط بیانی کرتے ہیں اور حقائق چھپاتے ہیں
پولیس افسران کو تربیت فراہم کرنے والے شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ کاروکاری اخلاقی یا بدکاری کا مسئلہ نہیں اگر ایسا ہوتا تو یہ پوری دنیا میں ہوتا، یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ وہ علاقے جہاں قبائلی اور جاگیرداری روایت ہیں اور قدامت پسند لوگوں کا اثر ہیں کاروکاری کے واقعات ہوتے ہیں اور یہ واقعات ان گھرانوں میں ہوتے ہیں جو غریب، ان پڑھ اور پسماندہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو وہاں قابض قوتیں اپنی طاقت کا ذریعہ بناتی ہیں۔ جب کبھی کسی گاؤں میں کارو کاری کا واقعہ ہوتا ہے وہاں پولیس کمزور اور ریاست کی عمل داری نہیں ہوتی، اس لیے متاثرین اور ملزم مقامی قبائلی سردار سے رجوع کرتے ہیں جس سے اس کی سماجی اتھارٹی بنتی اور اس کو وہ سیاسی بنیادوں پر بھی استعمال کرتا ہے۔
شہاب اوستو کے مطابق جب کاروکاری میں دوسرے قبیلے کے لڑکے کو قتل کیا جاتا ہے تو مارنے والوں کو مخالف قبیلے سے پولیس، ریاست یا عدلیہ بچا نہیں سکتی اسے صرف سردار بچاتا ہے اس طرح سے وہ ملزم اس کی ذاتی ملکیت بن جاتا ہے اور وہ اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے
بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں کاروکاری کے قتل نہایت افسوسناک امر ہے۔ بغیر غسل و کفن کے خواتین کی تدفین انتہائی افسوسناک فعل ہے۔ کاروکاری، ونی اور سوارا کے نام پر سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بے گناہ خواتین کا قتل ایک انسانی المیہ ہے
کچھ سال قبل سندھی اخبارات میں سندھ کے مختلف گاؤں کے مضافات میں ان قبرستانوں کے بارے میں تفصیلات شایع ہوئیں جہاں کاری قرار دی جانے والے عورتوں کو بغیر کفن اور نمازِ جنازہ پڑھائے بغیر دفن کردیا جاتا تھا۔
پاکستانی معاشرے میں قبائلی رسوم ورواج کے زیر اثر ، خواتین پر ہونے والے مظالم کی شریعتِ اسلامیہ میں کوئی گنجائش نہیں ، اور بعض دیگر جرائم کے سلسلے میں قانون کو خود ہاتھ میں لے کر دی جانے والی سزا کی بھی اسلام مخالفت کرتا ہے۔ ہمارے مسائل کی وجہ شریعتِ اسلامیہ کی تعلیمات سے ناواقفیت اور اس کا احترام نہ کرنا ہے، وگرنہ شریعتِ محمدیہ میں ہر ہر جرم کے ساتھ عین پورا پورا انصاف موجود ہے۔مردو زَن دونوں ہی اللہ ارحم الرّاحمین کی اشرف مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ دونوں کے حقوق کے پورے محافظ ہیں۔
اسلام میں ہر جرم کی سزا اُس کی نوعیت و شدت کے مطابق دی جاتی ہےکہ یہی عدل وانصاف کا تقاضا ہے
شاید سندھ کا فاتح سر چارلس نیپئر وہ پہلا اور آخری حکمران تھا جس کے دور میں سندھ میں کاروکاری ختم ہوگئی تھی کسی بھی مسئلے کے خلاف بل کا پاس ہونا اور بل پر عمل در آمد کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان کی تاریخ قانون سازی کے نتیجے میں منظور ہونے والے بلوں سے بھری پڑی ہے۔ چاہے پھر وہ کارو کاری کے خلاف پاس ہونے والا بل ہو یا پھرعورتوں کو ہراساں کرنے کا بل ہم صرف بل پاس کروا سکتے ہیں اس رسم کو اب تک روک نہیں پائیں اس ظالمانہ رسم کے خلاف کتنے ہی ادارے کام کر رہے ہیں پر پھر بھی ہر سال اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے آخر کب تک ایسا ہی ہو گا اور کب تک ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے ؟
کیوں نہ بولوں
کس لیے میں چپ رہوں
بین کرتی ہیں میری آہیں
سب کے سب خاموش ہیں
بارہا مجھ کو رلایا
اور تڑپایا گیا
قتل مجھ کو کر دیا
بے غیرتوں نے جھوٹی غیرت کے لیے
یا کبھی زندہ جلایا
حادثے کے نام پر
پھر بھی سب خاموش ہیں
کوئی دکھ میرا جانے
کوئی تو دکھڑا سنے
ظلم کا سورج بھی تھک کر ڈوب جاتا ہے کبھی
چاند بھی مغموم ہو کر بادلوں میں منہ چھپاتا ہے کبھی
پھر بھی سب خاموش ہیں
سب ہی پتھر کے ہوں جیسے بت یہاں
چارہ گر کوئی نہیں
اے خدا انصاف مانگوں کس سے میں بہر خدا
مجھ کو سولی پر چڑھایا
اور کبھی زندہ جلایا
کچھ بتاؤ ہو اگر میری خطا
کس لیے چھینٹےلہو کے ہیں
درو دیوار پر
کس لیے چپ ہیں سبھی آزار پر
کس لیے چیخیں تھک کر سو گئیں
کس کی سانسیں یوں منوں مٹّی میں میں آخر کھو گئیں؟
دفن ہیں یا سو گئیں ؟
صدیوں کے چہرے پہ جتنے داغ تھے سب کیا ہوئے؟
کس نے ان کو پوچھ ڈالا ؟
کوئی ہے جو اس دعا کا دے جواب ؟
چپ رہو گے یوں ہی آخر کب تلک؟
بولتے کیوں کچھ نہیں؟
سب کے سب خاموش ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *