کار تھروٹل کے بانی عدنان ابراہیم: ’دوستوں کو اپنے کاروبار کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمندگی ہوتی تھی‘

’جہاں تک مجھے یاد ہے میں انٹرنیٹ کا ہمیشہ سے گرویدہ رہا ہوں۔‘ کامیاب برطانوی ٹیک کاروباری شخصیت عدنان ابراہیم کی عمر محض 30 برس ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے اپنی نو عمری کے دن لندن کے نواحی علاقے سرے میں آن لائن کمیونٹی کا کاروبار کھڑا کرتے گزارے۔‘

وہ ’کار تھروٹل‘ نامی ویب سائٹ کے بانی ہیں۔ ان کی ویب سائٹ کاروں کے شائقین کو ایک دوسرے سے رابطے میں لاتی ہے۔ انھوں نے اپنے کاروباری ہنر کا اظہار نو عمری میں طالب علمی کے دور میں اپنے بیڈ روم سے ہی شروع کر دیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پیسے کمانے کے لیے انھیں انٹرنیٹ کی طاقت کا اندازہ پہلی بار 2005 میں ہوا تھا جب انھوں نے اپنے سکول کے ساتھیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے کلائی پر باندھے جانے والے ’رِسٹ بینڈز‘ بیچنے شروع کیے تھے۔

عدنان نے بتایا کہ ان دنوں ای بے پر رِسٹ بینڈز اصل سے دس گنا زیادہ قیمت پر بک رہے تھے۔ انھوں نے ای بے پر اپنا پہلا آکشن اکاوٴنٹ بنایا اور رِسٹ بینڈز بیچنے شروع کر دیے۔

'میں اپنی والدہ کو دکانوں پر بھیجتا تاکہ وہ مجھے زیادہ سے زیادہ رِسٹ بینڈز لا کر دیں۔' انھوں نے بتایا کہ ایک طالب علم ہونے کے اعتبار سے انھوں نے اس طرح اچھی خاصی رقم کما لی۔

سولہ برس کی عمر میں آئی پوڈ بیچنے کی کوشش میں ہونے والی ناکامی کے بعد انھوں نے آن لائن بلاگنگ شروع کی۔

انھوں نے بتایا کہ 'میرے ساتھ دھوکا ہو گیا تھا۔ ایک فرضی اکاوٴنٹ کی وجہ سے مجھے چند ہزار پاوٴنڈز کا نقصان ہو گیا۔'

اس اعتبار سے بلاگنگ بہت نفع بخش کام تھا۔ انھیں کاروں کا بہت شوق تھا، اس لیے انھوں نے مختلف کاروں کے بارے میں لکھنا شروع کر دیا، مگر انھوں نے اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا۔

عدنان نے بتایا 'میں ہر روز سکول سے گھر آنے کے بعد تھوڑا بہت لکھتا اور اسے شائع کرتا۔ اگلے روز دیکھتا کہ کتنے لوگوں نے اسے پڑھا اور 'ایڈ سینس' کلک سے میں نے کتنے پیسے کمائے۔'

عدنان ابراہیم، گھر بیٹھے پیسے، آن لائن بزنس، آن لائن کاروبار
،تصویر کا کیپشنسولہ برس کی عمر میں آئی پوڈ بیچتے ہوئے ہاتھ لگنے والی ناکامی کے بعد انھوں نے آن لائن بلاگنگ شروع کی

ایک مختلف زندگی

آہستہ آہستہ چند پینی سے وہ دس، بیس ، تیس ڈالر تک پہنچے اور پھر ہر ماہ چند ہزار ڈالر تک کمائی ہونے لگی۔ عدنان کو نظر آ رہا تھا کہ وہ ایک کامیاب آن لائن کاروبار کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔

آخر کار انھوں نے 18 برس کی عمر میں اس آن لائن کاروبار کو بیچ دیا اور ان کے والدین کو بھی اس بارے میں تب پتا چلا جب نوبت کاغذات پر دستخط کی آئی۔

عدنان نے بتایا 'یہ بہت عجیب بات تھی لیکن مجھے اچھا لگتا تھا کہ اس بارے میں کسی کو نہیں پتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ یہ بالکل ایسے تھا جیسے میں آن لائن ایک مختلف زندگی گزار رہا تھا۔'

عدنان نے اپنے آن لائن کاروبار کے بارے میں اپنے دوستوں کو بھی نہیں بتایا تھا۔

انھوں نے کہا 'میرے گھر والوں کے علاوہ میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ میں نے اس بات کو پوری طرح پوشیدہ رکھا۔'

انھوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں کسی حد تک شرمندگی محسوس کرتے تھے کہ وہ ایک دوسری زندگی بھی گزار رہے تھے جس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتا۔

عدنان کے بقول 'میں لکھتا تھا اور بلاگنگ کرتا تھا۔ مجھے خوف تھا کہ لوگوں کو اس بارے میں پتا چلے گا تو وہ کیا سوچیں گے۔'

سکول کی تعلیم ختم کر کے جب وہ کالج میں داخل ہوئے تو انھوں نے کار تھروٹل کا آغاز کیا۔ انھوں نے اس بارے میں بھی اپنے دوستوں کو نہیں بتایا۔

عدنان ابراہیم، گھر بیٹھے پیسے، آن لائن بزنس، آن لائن کاروبار
،تصویر کا کیپشنعدنان کے بقول انھیں خوف تھا کہ لوگوں کو اس بارے میں پتا چلے گا تو وہ کیا سوچیں گے

کالج کے دنوں میں وہ جن لڑکوں کے ساتھ رہتے تھے انھیں بھی پہلے برس کچھ نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کام کرتے ہیں۔ ایک برس بعد انھوں نے ساتھ رہنے والے لڑکوں کو اس بارے میں بتایا۔

صحافی اور مصنف ٹریور کلاسن ٹیک سٹارٹ اپ کمپنیوں اور تیزی سے کامیاب ہونے والی کمپنیوں کے بارے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھتے رہے ہیں۔ ان کے بقول پنپتی ہوئی کاروباری شخصیات میں اس طرح کی رازداری کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

انھوں نے بتایا 'ابتدائی دنوں میں اپنے کام کے بارے میں رازداری رکھنے کی کئی وجوہات ہیں۔'

کلاسن کے بقول اس کی ایک وجہ تنقید کا خوف ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا 'جب آپ کسی نئے آئیڈیا پر کام کرتے ہیں تو خاص طور پر آئیڈیا کو پوری طرح تشکیل دیے جانے سے قبل یہ ضروری نہیں کہ آپ کے دوست یا قریبی رشتہ دار اسے پسند کریں، ہو سکتا ہے انھیں آپ کا آئیڈیا مکمل طور پر سمجھ ہی نہ آئے۔'

عدنان نے اپنے دوستوں کو تب تک اس بارے میں نہیں بتایا جب تک انھیں یقین نہیں ہو گیا کہ ان کا کاروبار ایک دلچسپ موڑ پر ہے۔

انھوں نے کہا 'مجھے لگتا تھا کہ لوگ میرے کام کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ ان دنوں ٹیکنالوجی سے منسلک کاموں کے بارے میں مختلف رائے ہوا کرتی تھی۔ ڈیجیٹل دنیا سے تعلق تشویشناک سمجھا جاتا تھا۔'

انھوں نے اس لمحے کے بارے میں بتایا جب انھوں نے اپنے فلیٹ میں رہنے والے ساتھی کو 'کار تھروٹل' کے بارے میں بتایا۔

وہ کہتے ہیں 'میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں تمہیں کچھ خاص بات بتانے جا رہا ہوں۔ میری ایک ویب سائٹ ہے۔ مجھے یاد ہے اس نے کہا کہ تو کیا ہوا۔ اس کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔'

عدنان نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا جب ان کی مالیت لاکھوں میں نظر آنے لگی تھی، 'سنہ 2013 اور 2014 میں میرے کاروبار کی مالیت اور آمدنی ملین پاونڈز میں آنے لگی، یوٹیوب پر ہمارے 10 لاکھ سبسکرائبرز اور فیس بک پر 10 لاکھ مداح ہو گئے۔ ہم رفتار پکڑنے لگے تھے۔'

انھوں نے 2019 میں ڈینس پبلشنگ کو کار تھروٹل بیچ دی۔ تب تک ان کے ڈیڑھ کروڑ فالوورز ہو چکے تھے اور بات 2.5 ارب ویڈیو ویوز تک پہنچ گئی تھی۔

عدنان ابراہیم، گھر بیٹھے پیسے، آن لائن بزنس، آن لائن کاروبار
،تصویر کا کیپشنعدنان اب ایک ذہنی صحت سے متعلق ایپ کی کمپنی کے سی ای او ہیں

میڈیا میں تکنیکی امور کے ماہر ڈگلس مک کابے کہتے ہیں کہ آن لائن کاروبار کی لوگوں تک رسائی اور اس کے فالوورز اس کی کامیابی کا تعین کرتے ہیں۔

سال 2020 میں عدنان کا نام فوربز کے 30 برس سے کم عمر کی کامیاب شخصیات میں شامل تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں ان فیصلوں پر کوئی پچھتاوا نہیں جو انھوں نے ابتدائی دنوں میں کیے۔ لیکن انھیں یہ ضرور لگتا ہے کہ بہت سے مواقع ہاتھ سے نہیں جانے دینے چاہیے تھے۔

انھوں نے کہا 'مجھے لگتا ہے اتنی کم عمر میں آپ اکثر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔'

برطانیہ کے ہینلے بزنس سکول میں لیڈرشپ پروفیسر بین لیکر کہتے ہیں کہ 'کم عمر کے کاروباری رہنما اکثر اپنی کامیابی کو قبول کرنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ خود کو اس شخص کے طور پر نہیں دیکھ پاتے ہیں جسے اس کی کامیابی کے لیے اتنا سراہا جا رہا ہوتا ہے۔'

عدنان ابراہیم، گھر بیٹھے پیسے، آن لائن بزنس، آن لائن کاروبار

عدنان اب ذہنی صحت سے متعلق ایک ایپ کمپنی کے سی ای او ہیں جس کا نام ہے 'مائنڈ لیبز'۔ وہ گیبر زیتلاک کے ساتھ اس کاروبار کے شریک بانی ہیں اور وہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم جمانے کے خواہشمند نوجوان کاروباری افراد کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:

'کامیابی کا راستہ آسان نہیں ہے۔ راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں۔ آپ کو سمجھنا ہوگا کہ آپ غلطیاں بھی کریں گے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'ڈٹے رہنے کی خوبی بھی اہم ہے جس کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ کئی بار راستہ بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نہیں ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: