کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے این آر او

تو کیا یہ سمجھا جائے کہ کالعدم تحریکِ طالبان ایک ’مغرب پرست غیر شرعی نظامِ جمہوریت‘ کے ستونوں پر کھڑی آئینی عمارت کی چھت تلے قائم حکومت کی رٹ تسلیم کر کے ہتھیار ڈال کر قومی سیاسی دھارے کا حصہ بن کر اپنی شدت پسند نظریاتی شناخت پر خود کش حملہ کرنے جا رہی ہے؟

اگر طالبان اور پھر طالبان سے بھی کہیں اوپر کے داعشی شدت پسند موجودہ نظریاتی و آئینی ڈھانچے سے مطمئن ہوتے تو دونوں تنظیموں کا وجود ہی کاہے کو ہوتا۔ آئینی دائرے میں تو ازقسم جمعیت علمائے اسلام اور جماعتِ اسلامی جیسی ملک گیر تنظیمیں علی الترتیب سو اور ستر برس سے سرگرم ہیں۔

جب میں سیر شکم ہوں، تب کوئی میرے آگے لذیذ ترین پکوان بھی رکھ دے تو کیا فائدہ۔

ایسے لمحے میں جب افغان طالبان کی حامی تنظیمیں اور افراد ایک جدید ترین کیل کانٹا بردار سپر پاور پر پلاسٹک کی چپلیں پہنے کلاشنکوف برداروں کی عظیم الشان فتح کے سحر میں مبتلا ہوں۔ انھیں اگر امریکہ سے کہیں کم تر کوئی طاقت مشروط معافی کی پیشکش کرے تو ان کے پیٹ میں ہنستے ہنستے بل پڑیں گے کہ نہیں؟

کسی گروہ کو محاذ جنگ پر واضح فوجی شکست دے کر کمر زمین سے لگا دینا اور پھر اپنی شرائط پر سمجھوتے کے لیے مجبور کرنا اور بات ہے اور محض اپنے علاقے سے عارضی طور پر پسپا کر کے اس پسپائی کو اپنی فتح اور ان کی شکست سمجھ کے ہتھیار ڈالنے کے عوض قومی دھارے میں شامل کرنے کی پیشکش کرنا اعلی درجے کی ’شیخ چلیت‘ ہے۔

مئی سنہ 2008 کا سوات امن معاہدہ کیا تھا؟ ٹی ٹی پی نے آپ کی ایک نہ مانی، پھر بھی آپ نے ان کی شرائظ پر پورا مالاکنڈ ڈویژن ان کی تشریح کردہ شریعت کی لیبارٹری قائم کرنے کے لیے ان کے حوالے کر دیا۔

تحریک طالبان پاکستان

اس کے بعد ٹی ٹی پی کیا چین سے بیٹھ گئی یا اس نے اس معاہدے کو ریاست کی کمزوری جان کر اسلام آباد کی جانب ایک آخری فاتحانہ قدم کے طور پر دیکھا۔ چنانچہ چند ماہ بعد ہی عسکری اسٹیبلشمنٹ کو آپریشن راہِ حق کے راستے پر آنا پڑا۔

ٹی ٹی پی کی قیادت تو مالاکنڈ سے افغانستان نکل لی اور نو لاکھ سواتی ’علاقہ صفائی‘ کے نام پر کئی ماہ کے لیے کیمپوں میں یا شہروں شہر دھکیل دیے گئے۔ یہی کچھ وزیرستانیوں کے ساتھ بیتی۔

سنہ 2008 میں افغان طالبان کے بارے میں دور دور تک تصور نہیں تھا کہ وہ ایک دن دوبارہ کابل پر قبضہ کر لیں گے۔ اس کے باوجود ان کی نظریاتی وارث ٹی ٹی پی نے سوات سے وزیرستان تک ریاستِ پاکستان کو ناکوں چنے چبوا دیے۔

وسعت اللہ خان کے دیگر کالم پڑھیے

وسعت اللہ خان کا کالم: بیس برس دریا میں بہہ گئے ہائے!

کیا موجودہ طالبان پچھلوں سے مختلف ہیں؟

وسعت اللہ خان کا کالم: رل تو گئے پر مزہ بہت آیا

ذرا سوچیے کہ آج جب کہ ان کے روحانی گرو پورے افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں، ٹی ٹی پی کے ایک عام مسلح کارکن کا حوصلہ کون سے آسمان پر ہو گا؟ اس وقت وہ سوائے اس کے کیا سوچ رہا ہو گا کہ اگر افغان طالبان یہ معجزہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔

جب تک افغان طالبان فتح مند نہیں ہوئے تھے، تب تک پاکستانی اسٹیبشلمنٹ کہتی رہی کہ ٹی ٹی پی پاکستانی حدود میں دراصل افغان اور انڈین انٹیلی جنس کی پشت پناہی سے سرگرم ہے۔

اب کوئی یہ بھی تو بتائے کہ پندرہ اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ کیوں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اب تو افغانستان میں نہ امریکہ ہے، نہ اشرف غنی، نہ این ڈی ایس اور نہ را۔

یہ کیسے ہوا کہ ٹی ٹی پی کی نظریاتی بیعت تو ملا عمر سے ملا ہبت اللہ تک آنے والے ہر امیر المومنین سے ہو اور کام وہ افغان اور انڈین انٹیلی جنس کے لیے کرتی رہی ہو۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔

اور اس کروڑوں روپے کی باڑھ کا اب کیا کرنا ہے جو پوری پاک افغان سرحد پر اس لیے لگائی گئی کہ دہشت گردوں کی آر پار آمدورفت روکی جا سکے۔

جس طرح آپ نے پندرہ اگست سے پہلے کی ہر افغان حکومت کو حوالگی کے مطالبے کے ساتھ مطلوبہ دہشت گردوں کی فہرست فراہم کی۔ کیا نئی طالبان انتظامیہ کو بھی ایسی کوئی فہرست تھمائی گئی ہے؟

آپ تو نئی افغان حکومت کو پوری دنیا سے تسلیم کروانے کے لیے چہار سمت بھاگ دوڑ کر رہے ہیں، تو کیا بدلے میں نئی افغان حکومت بھی آپ کی کوئی بات، کوئی مطالبہ، کوئی فرمائش تسلیم کرنے پر آمادہ ہے ؟

جتنے اتاولے آپ ٹی ٹی پی کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ہیں، کیا اس سے آدھی خواہش پارلیمانی حزبِ اختلاف سے بھی مفاہمت کی رکھتے ہیں؟

چلیں اچھی بات ہے کہ آئینی حزبِ اختلاف کو آپ بقولِ خود این آر او دینے کے لیے کسی قیمت تیار نہیں تو پھر ٹی ٹی پی کو این آر او دینے پر دل و جان سے رضاکارانہ کیوں آمادہ ہیں؟

کیا پاکستانی آئین اور جمہوری ڈھانچے کی حمایتی پارلیمانی حزبِ اختلاف کے جرائم ٹی ٹی پی کی اب تک کی کارروائیوں سے بھی زیادہ سنگین اور خطرناک ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: