کالم میں ناغہ کیوں ہوتا ہے؟

سراج اورنگ آبادی بڑے آدمی تھے۔ خود بھی گریز پا تھے اور عمر نے بھی زیادہ مہلت نہیں دی۔۔ بیس برس کی عمر میں بیعت ہوئے۔ چالیس کے پیٹے میں شعر سے تائب ہو گئے اور باون برس میں رخصت ہو گئے۔ نہ جنوں رہا نہ پری رہی۔ سراج اورنگ آبادی نے خبر کو بے خبری کا عنوان دیا۔ آج کے پاکستان میں زندہ ہوتے تو سراج اورنگ آبادی کی بہت بھد اڑتی۔ ٹیلی وژن ان سے تقاضا کرتا کہ حضور بغیر سوچے سمجھے زبان کی مقراض سے پیچیدہ سیاسی اور معاشی مسائل کو کاٹتے ہوئے نکل جائیے۔ اخبار میں لکھتے تو ایک دن زید کی تعریف کرتے، دوسرے روز بکر کی ٹانگ لیتے اور تیسرے دن عمر کا قصیدہ کہتے۔ صحافت ہی پر موقوف نہیں۔ سیاست میں بھی سلیم احمد سے واسطہ پڑتا۔ عشق کے نام پہ کب ہم نے اٹھایا گھاٹا… (دوسرے مصرعے کی اشاعت کا اخبار متحمل نہیں ہو سکتا۔) سراج اورنگ آبادی نے خرد کی بخیہ گری اور جنوں کی پردہ دری کی منزلیں اس سلیقے سے بیان کیں کہ انسان کے کاسہ سر کا اعتبار بڑھ گیا۔ درویش کو یہ سہولت میسر نہیں۔ یہ اٹھارہویں صدی کا ہندوستان نہیں اور یہ بستی میر تقی میر کی دلی نہیں ہے۔ یہاں ساعت بدلنے کی مہلت کسے نصیب ہو۔ اک پل کی پلک پر دنیا بدل جاتی ہے۔ بدایوں کے علی افتخار جعفری نے کہا تھا۔ نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سر خواب / آنکھ لگنی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے۔ بیداری کا تسلسل مگر کسے میسر ہے۔ آنکھ کسی کمزور لمحے میں جھپک جاتی ہے۔ خواب کے کیف و کم میں معروض کے ٹہوکے سے چونک اٹھتے ہیں تو دنیا کو بدلا ہوا دیکھتے ہیں۔ اصحاب کہف کی حیرت ہماری روایت کا حصہ ہے مگر ان پر تو بتایا جاتا ہے کہ نیند میں صدیاں گزر گئی تھیں۔ ہم جگراتے کے ایسے ماتے ہیں جن کے بارے میں فراق نے کہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا تھی، غم تھا ترا، ڈھل چلی تھی رات۔ عاشق بٹالوی ایک شعر اکثر پڑھتے تھے۔ شاعر کا نام معلوم نہیں مگر ہمارا ہی دکھ بیان کیا تھا۔ کیا خاک جیے کوئی / شب ایسی، سحر ایسی۔ ایسے میں دودمان امروہہ کے پانچویں چراغ حیدر تقی حکم دیتے ہیں کہ کالم لکھو۔ حیدر تقی روزنامہ جنگ کا ادارتی صفحہ دیکھتے ہیں۔ سیدمحمد تقی کے فرزند ہیں۔ سید محمد تقی نے جون 99 میں رخصت لے لی تھی، اس لیے شاید نوجوان نسل ان سے آشنا نہ ہو۔ فلسفے کے منتہی تھے۔ نصف صدی کے قریب روزنامہ جنگ سے وابستہ رہے مگر اخبار میں قلم نویسی سید صاحب کی شناخت نہیں تھی۔ سر تا پا فلسفی کا دماغ پایا تھا۔ جمہوریت پسند تھے۔ معاشی مساوات کے علمبردار اور انسان کی تکریم کا عملی نمونہ تھے۔ اردو صحافت میں ادارتی صفحے کی جو کچھ آبرو بچ رہی ہے اس میں سید محمد تقی اور پھر ان کے صاحبزادے حیدر تقی کی چشم بینا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

حیدر تقی فہمائش کے کسی امکان سے قطعی ماورا ہیں۔ درویش کو ان کی شفقت نے اسیر کر رکھا ہے۔ انہیں کالم نہ لکھنے کی اطلاع دی جائے تو صحت کا حال پوچھ لیتے ہیں۔ کیوں نہ ہو، صحت زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ مشکل میں نہیں ڈالتے۔ صحت ذہنی پر سوال نہیں اٹھاتے۔ قوموں میں ذہن کی صحت دستور کی پاسداری اور قانون کی بالادستی سے نمو پاتی ہے۔ ان نکات سے روایت استوار ہوتی ہے۔ اقدار کی عمارت اٹھتی ہے۔ ہماری روایت کا حال تو مصحفی نے بیان کیا۔ اب دیکھو تو قلعی سی ان کی ادھڑ گئی ہے/ تھا جن عمارتوں پہ دلی کی کام گچ کا۔ قانون کے لفظ کی تشریح ہو سکتی ہے۔ روایت کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ اقدار کی دہائی دی جا سکتی ہے لیکن جرم کا تجزیہ کیسے کیا جائے۔ سازش تو اندھیرے کی بخیہ گری ہے۔ اس کی ترکیب کیسے بیان کی جائے۔ ناگہانی افتاذ کی پیش بینی کیسے کی جائے۔ سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت دستور کی رسی چھوڑ کر خواہش کے خلا میں کرتب دکھانے پر کمر باندھ لیں تو کالم نویس کا دماغ مائوف ہو جاتا ہے۔ اب دیکھئے حالیہ ہفتوں میں ہم پہ کیا مشکل گزری ہے۔ دستور میں ایک سادہ سی شق 95 ہے جو واضح بیان کرتی ہے کہ ایوان زیریں کے ارکان اپنے جس رکن کو اعتماد کا ووٹ دیں، وہ قائد ایوان قرار پاتا ہے، وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتا ہے اور کابینہ تشکیل دیتا ہے۔ اگر ایوان کے ارکان اپنا اعتماد واپس لینے کا ارادہ کر لیں تو انہیں اس کی وجہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک مقررہ تعداد میں قوم کے منتخب نمائندے ایوان کے صدر نشین سے اجلاس بلانے کی استدعا کرتے ہیں اور عدم اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہیں۔ کل ملا کے سات روز کے دورانیے میں یہ تحریک ناکام ہو جائے تو حکومت برقرار رہتی ہے۔ کامیابی کی صورت میں وزیراعظم دائیں ہاتھ کی نشستوں سے اٹھ کے بائیں ہاتھ آ بیٹھتے ہیں۔ اسمبلی کی پانچ سالہ میعاد طے ہے۔ وزارت عظمیٰ کی مدت ایوان کے اعتماد سے مشروط ہے۔ ہماری تاریخ مگر اندھیرے اور اجالے کا کھیل ہے۔ پون صدی میں کل ملا کے کوئی پینتالیس برس ہم نے سرزمین بے آئین کی صورت بسر کئے ہیں۔ دستور کے بارے میں صاحبان اختیار کی گل افشانیاں ہم نے پڑھ اور سن رکھی ہیں۔ اسکندر مرزا نے اپنے ہی دستخط سے نافذ ہونے والے آئین کو دفتر بے معنی قرار دیا۔ ایوب خان نے اپنا ہی مرتب کردہ دستور مسترد کر دیا۔ ضیاالحق نے دستور کو بارہ صفحات کا کتابچہ قرار دیا۔ پرویز مشرف نے دستور کو ردی کی ٹوکری کے قابل بتایا۔ شاہد اورکزئی نام کے ایک صاحب نے عدالت عظمیٰ کی موجودگی میں دستور کی کتاب زمین پر پٹخ دی اور ابھی چند ہفتے قبل سربراہ مملکت نے الہامی صحیفے سے دستور کا تقابل کرتے ہوئے دستور کی بے حرمتی کی۔ ایسے میں برادر عزیز یاسر پیرزادہ تادیب کرتے ہیں کہ تم نے روز مقررہ پہ کالم کیوں نہیں لکھا۔ کالم کیسے لکھا جائے؟ دستور کی روشنی چلی جائے تو قلم کی روشنائی خشک ہو جاتی ہے۔