کانوں سے نکالے جانے والے ہیروں کے متبادل لیبارٹری میں تیار کردہ ہیرے اتنا فروغ کیوں پا رہے ہیں؟

سنہ 2019 میں جنوری کی ایک سرمئی صبح میگھن مارکل لندن کی ایک سڑک پر نظر آئیں، وہ کسی میٹنگ میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں۔ انھوں نے سمارٹ کوٹ اور اونچی ایڑی والے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ تاہم یہ اُن کا لباس نہیں تھا جس نے دنیا کی توجہ حاصل کی، بلکہ یہ ان کے کانوں کے بندے تھے جن میں لیبارٹری میں تیار کردہ ہیرے جڑے تھے۔

اِن ہیروں کو بنانے والی کمپنی ’کیمائی‘ کی شریک بانی سڈنی نیوہاس کہتی ہیں کہ وہ ہیرے جو میگھن نے پہن رکھے تھے انھیں لیبارٹری میں بنانے میں صرف پانچ دن لگے۔

سڈنی نیوہاس اور ان کے بزنس کی شریک بانی جیسیکا وارچ ہیرے کے کاروبار سے منسلک خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ دنیا میں ہیروں کے کاروبار کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے ’اینٹورپ‘ میں رہتی ہیں۔

نیوہاس کے والد ہیروں کی ایک دکان کے مالک ہیں۔ اُن کے دادا ’ڈی بیئرز‘ نامی کمپنی میں کام کرتے تھے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد انھوں نے ہیرے کے کاروبار کو مستقل پیشے کے طور پر اپنایا۔

اپنے خاندانوں کی روایات کو ترک کرتے ہوئے نیوہاس اور وارچ نے روایتی ہیروں کے کاروبار کو خیرباد کہا کیونکہ ان کے مطابق ان ہیروں کو زمین سے نکالنے کی ماحولیاتی اور انسانی قیمت ہوتی ہے۔

’ملینیئلز‘ اور اب ’جنریشن زی‘ (نوجوان طبقہ) جو کہ ہیروں سے مزین منگنی کی انگوٹھیوں کے بڑے خریدار تھے، اب روایتی ہیروں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور تقریباً 70 فیصد نوجوان طبقہ لیبارٹری میں بنائے ہوئے ہیرے کو خریدنے کا سوچتا ہے۔

لیبارٹری میں بنائے ہوئے ہیرے کیا ہیں اور کیا وہ واقعی روایتی ہیروں کا پائیدار متبادل ہیں؟

پہلے تو یہ یاد رکھیں کہ لیبارٹری میں بنایا گیا ہیرا بھی ہیرا ہی ہے اور یہ کیمیائی، مادی طور پر اور دیکھنے میں زیرِ زمین کانوں سے نکالے گئے قدرتی ہیرے سے مشابہت رکھتا ہے۔

ہیرے

قدرتی طور پر بننے والے ہیرے زمین کی تہوں کے بہت زیادہ دباؤ اور زمین کے اندر سو میل تک انتہائی درجہ حرارت میں وجود میں آتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ایک سے تین ارب سال پہلے بنے تھے جب زمین آج سے کہیں زیادہ گرم تھی۔

لیبارٹری میں بنائے گئے ہیرے بھی انتہائی زیادہ دباؤ اور گرمی میں بنائے جاتے ہیں لیکن وہ زمین کی تہہ کی بجائے مشین کے اندر بنتے ہیں۔

ہیرا بنانے کے دو طریقے ہیں۔ دونوں میں کام ہیرے کے ’بیج‘ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

لیبارٹری میں پہلا ہیرا ہائی پریشر (انتہائی دباؤ) ہائی ٹمپریچر (انتہائی زیادہ درجہ حرارت) کے نظام سے بنایا گیا تھا۔ اس نظام کو ’ایچ پی ایچ ٹی‘ کہا جاتا ہے جس میں بیج کو خالص گریفائٹ کاربن کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور پھر وہاں 1500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کر دیا جاتا ہے اور پھر ایک چیمبر میں اس پر 1.5 ملین پاؤنڈ فی مربع انچ کے حساب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

اور اس طرح ہیرا تیار ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں ہیرا بنانے کا ایک اور طریقہ دریافت ہوا ہے جسے کاربن ویپر ڈیپوزیشن (سی وی ڈی) کہتے ہیں۔

اس میں بیج کو ایک چیمبر میں ڈالتے ہیں جس میں کاربن سے بھری گیس موجود ہوتی ہے اور پھر اسے 800 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک گرم کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں گیسیں بیج کے ساتھ جڑنا شروع کر دیتی ہیں اور اس طرح ہیرا بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

لیبارٹری میں ہیرے بنانے کی ٹیکنالوجی نے حال ہی میں بڑی ترقی کی ہے جس کی مدد سے کمپنیاں اب اچھی کوالٹی کے ہیرے تیزی سے اور سستے داموں بنا سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لیبارٹری میں ہیرے بنانے والی کمپنیوں اور کانوں سے ہیرے نکالنے والی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بڑھ گیا ہے۔

ہیرے
،تصویر کا کیپشنلیبارٹری میں پہلا ہیرا ہائی پریشر (انتہائی دباؤ) ہائی ٹمپریچر (انتہائی زیادہ درجہ حرارت) کے نظام سے بنایا گیا تھا

اینٹورپ ورلڈ ڈائمنڈ سینٹر (اے ڈبلیو ڈی سی) کی طرف سے کمیشن کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جو ہیرا سنہ 2008 میں بنانے میں چار ہزار ڈالر فی قیراط خرچ آتا تھا اب وہ فقط 300 سے 500 ڈالر فی قیراط آتا ہے۔

ہیرے کی صنعت میں اب لیبارٹری میں ہیرے بنانے کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ہیرے کے خریدار نوجوان افراد کو یہ قیمت، شفافیت اور ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر پسند آ رہا ہےاور وہ اس کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں۔

اے ڈبلیو ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق اس کی مارکیٹ میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس میں مزید اضافہ ممکن ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ جوہری اب لیبارٹری میں بنے ہوئے ہیرے اپنی دکانوں میں رکھنے لگے ہیں۔

ماحولیاتی اثرات

کانوں سے نکالے جانے والے ہیروں کے کاربن فٹ پرنٹس کا پتا چلانے کا تو مکمل ڈیٹا موجود نہیں لیکن لیبارٹری میں ہیرے بنانے کے لیے جو توانائی درکار ہوتی ہے وہ کافی زیادہ ہے۔

ڈائمنڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (ڈی پی اے) کی طرف سے شائع کی گئی ہے ایک رپورٹ کے مطابق کانوں سے ہیرے نکالنے کے کام میں جتنی گرین ہاؤس گیسسز کا اخراج ہوتا ہے وہ لیبارٹری میں ہیرے بنانے سے تین گنا کم ہے۔ پر یہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ڈی پی اے دنیا کے تین بڑے ہیرے نکالنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے جن میں ڈی بیئرز، آلروسا اور ریو ٹنٹو بھی شامل ہے۔

تاہم لیبارٹری میں ہیرے بنانے والی کچھ کمپینوں کو امریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ماحول دوست کمپنیوں کے طور پر اس وقت تک نہ پیش کریں جب تک وہ اس دعویٰ کی تصدیق ڈیٹا کے ذریعے نہیں کر سکتیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایک قیراط ہیرا نکالنے کے لیے 250 ٹن زمین کو کھودنا پڑتا ہے۔ اور صرف سنہ 2018 میں 148 ملین قیراط ہیرے نکالے گئے تھے۔ آپ خود ہی اندازہ کر لیں کہ ماحول پر اس کا کیا اثر ہوا ہو گا۔ سنہ 2014 میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کانوں سے ہیرے نکالنے کے لیے لیبارٹری میں ہیرا بنانے کی نسبت دو گنا فی قیراط توانائی صرف ہوتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کان سے فی قیراط ہیرا نکالنے میں 57 کلو گرام کاربن کا اخراج ہوتا ہے لیکن لیبارٹری میں ہیرا بنانے سے چند گرام ہی خارج ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے اس رپورٹ پر بھی ایک سوالیہ نشان لگتا ہے۔

لیکن یہ اعداد و شمار ایک اور کمپنی ’ٹرکوسٹ‘ سے بہت کم ہیں جس نے ڈائمنڈ پروڈیوسرز ایسوی ایشن کی وہ رپورٹ بنائی تھی جس کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ انھوں نے لیبارٹری سے ہیرا بنانے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 510 کلو گرام فی قیراط اور کانوں سے نکالنے اور اسے پالش کرنے میں 160 کلو گرام فی قیراط بتایا ہے۔

ہیرے
،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق ایک قیراط ہیرا نکالنے کے لیے 250 ٹن زمین کو کھودنا پڑتا ہے

لیکن ہیروں کی کان کنی سے ہونے والا ماحولیاتی نقصان کاربن کے اخراج سے کہیں زیادہ ہے۔

کانوں سے ہیروں کو نکالنے کے عمل میں پانی کے وہ ذرائع بھی متاثر ہوتے ہیں جو مقامی افراد استعمال کرتے ہیں۔ یہ کان کنی میں تیزاب نما مادے کے لیک ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اور دراصل کان کے اندر ٹوٹے ہوئے پتھروں کے پانی کی سپلائی میں شامل ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

کینیڈا میں یونیورسٹی آف واٹرلو کی ایک تحقیق کے مطابق یہ کان کنی کی صنعت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ ایسڈ مائن ڈرینیج صرف ہیروں کی صنعت کا مسئلہ نہیں ہے، یہ کئی دھاتوں اور کوئلے کی کانوں میں بھی ہوتا ہے۔

کان کنی کی وجہ سے کینیڈا اور کئی دوسری جگہوں پر بھی ماحولیاتی تباہی ہوئی ہے۔ سنہ 2016 میں دی وال سٹریٹ جنرل میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈی بیئرز کمپنی کی ہیرے کی تلاش میں کینیڈا کی ایک جھیل خالی ہو گئی جس کی وجہ سے اس میں موجود 18 ہزار مچھلیاں مر گئیں۔ انڈیا میں ہیرے کی کان کنی کی وجہ وہاں موجود شیروں کی آبادی کو مزید دباؤ کا سامنا ہے۔

سو نہ تو لیبارٹری اور نہ کانوں سے ہیرا نکالنے والی صنعتیں بے داغ ہیں، لیکن کانوں سے ہیرا نکالنے کے ماحولیاتی اثرات پھر بھی زیادہ ہیں۔ ٹفنی کے چیف ایگزیکیٹیو مائیکل جے کوالسکی نے سنہ 2015 میں نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’دنیا میں بہت کم صنعتیں ایسی ہیں جن کے ماحولیاتی اور سماجی فٹ پرنٹ کان کنی سے زیادہ ہوں۔‘

یقیناً ہیروں کی کان کنی کے ماحولیاتی اور انسانی نقصانات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کئی ہیرے کی کانوں نے بہت کم اجرت پر اور غیر محفوظ حالات میں کان کنوں کو رکھا ہوا ہے۔

حتیٰ کہ جو ہیرے سنہ 2000 کے اوائل میں طے ہونے والے ’کمبرلے پراسس‘ کے مطابق نکالے گئے ہیں ان کا آغاز بھی شفاف نہیں۔ یہ عمل کانفلیکٹ ڈائمنڈ یا ہیروں کے جنگی استعمال کے متعلق تھا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم گلوبل وٹنس کے مطابق ’کانفلکٹ ڈائمنڈ کی تعریف جس طرح کمبرلے پراسس دیکھتا ہے وہ یہ ہے کہ ہیرا کسی مسلح گروہ کو فنڈ کرے جو کسی جائز حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہا ہو۔‘

گلوبل وٹنس کی ایک نمائندہ کا کہنا ہے کہ اس عمل میں بہت کمیاں ہیں۔

انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ کئی برسوں میں کانوں سے ہیرے نکالنے اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں تعلق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ’کمبرلے پراسیس اس کا محاسبہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

انھوں نے سنہ 2000 کی دہائی کے وسط کی مثال دی جب زمبابوے میں ہیروں کی دریافت کے بعد ہزاروں کان کن مارے گئے تھے۔ گلوبل وٹنس کی رپورٹ کے مطابق وہاں سے ملنے والے ہیرے کھلے عام دبئی اور اینٹورپ میں فروخت ہو رہے تھے۔

معاملہ بعد میں اس وقت مزید دھندلا ہو جاتا ہے جب پتھر کو کاٹ کر پالش کر لیا جاتا ہے اور پھر اس وقت یہ کمبرلے پراسس کے دائرہ اختیار میں نہیں رہتا۔ ہیرے مختلف جگہوں سے ہو کر کان سے دکانوں تک پہنچتے ہیں اور اکثر دوسرے ممالک سے برآمد کیے گئے ہیروں میں مل جاتے ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کمبرلے پراسیس کے سرٹیفیکیٹ کے باوجود بہت سی کمپنیاں یہ پتا ہی نہیں کر سکتیں کہ وہ جو ہیرے استعمال کر رہی ہیں وہ کہاں سے آئے ہیں۔

سنہ 2018 کی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق ’کوئی بھی کمپنی یہ شناخت نہیں کر سکی کہ اس کے تمام ہیرے کِن کِن انفرادی کانوں سے آئے تھے۔‘

لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تشویش ہے کہ لیبارٹری میں بنائے گئے ہیروں کی طلب معدنی ذرائع سے بھرپور ترقی پذیر مماک میں نوکریوں کے مواقع کم کر دے گی۔

بریڈ بروکس رُبن پہلے امریکی وزارتِ خارجہ کے کانفلکٹ ڈائمنڈز کے متعلق خصوصی مشیر تھے اور اب وہ ’دی سینٹری پراجیکٹ‘ کے ڈائریکٹر ہیں، جو افریقہ کے انتہائی جنگ زدہ علاقوں میں زیادتیوں کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

بریڈ بروکس پوچھتے ہیں کہ ’کیا یہ اخلاقی طور پر درست ہے کہ لوگوں کو ان ترقی پذیر ممالک کے ہیرے خریدنے سے منع کیا جائے جہاں لاکھوں لوگوں کے روزگار کا انحصار ان پر ہے؟

انسانی حوالے سے سوال ذرا گرہ دار ہے لیکن ماحولیاتی اثر کے حوالے سے لیبارٹری میں بنائے گئے ہیرے پھر بھی بہتر ہیں۔

زیورات کے لیے ہیرے مارکیٹ کا صرف 30 فیصد ہیں جبکہ باقی کھدائی، کاٹنے اور رگڑائی میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں لیبارٹری کے ہیرے کے ماحولیاتی فائدوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہیرے
،تصویر کا کیپشنکانوں سے ہیروں کو نکالنے کے عمل میں پانی کے وہ ذرائع بھی متاثر ہوتے ہیں جو مقامی افراد استعمال کرتے ہیں

ان کے صنعتی استعمال میں سے ایک آلودہ پانی کے ذرائع کی جراثیم کشی ہے۔ یہ ہیرے بنانے کے عمل کے دوران اس میں معدنیاتی بوران یا بورک ایسڈ کا غیر دھاتی عنصر شامل کرنا ہے تاکہ بوران سے بھرا ہیرا تیار کیا جا سکے جو بجلی کا موصل یا کنڈکٹر ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد ہیرے میں سے کرنٹ گزارنے سے یہ دوسرے زہریلے نامیاتی مرکبات کو آکسیڈائز کرتا ہے اور اس عمل کو منرالائزیشن کہتے ہیں، جو کہ بعد میں انھیں ایک بائیو ڈیگریڈایبل فارم میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

آڈا ڈائمنڈز کے چیف ایگزیکٹیو جیسن پیئن کہتے ہیں کہ لیبارٹری میں پیدا ہونے والے ہیرے مواصلات اور ٹرانسپورٹ میں بھی کاربن فٹ پرنٹس کافی کم کر سکتے ہیں۔

’ہیرا سب سے زیادہ جانا پہچانا سیمی کنڈکٹر ہے جو کہ سیلیکون اور دوسرے مادوں سے بہت بہتر ہے۔‘ اگر لیبارٹری میں بنائے گئے ہیرے کو ٹرانسسٹرز میں استعمال کیا جائے تو وہ بجلی بچاتے ہیں جو حرارت کی شکل میں پاور پلانٹ سے آلات تک پہنچتی ہے جیسا کہ ہمارے موبائل فون جب ہم ان کو چارج کرتے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ توانائی کے مطابق ہیروں کی مصنوعات ایسے نقصان کو 90 فیصد کم کرتی ہیں۔

ہیرے کی پتلی تہہ بھی پن چکی سے لے کر کاروں تک حرکت کرتے ہوئے مکینیکل پارٹس میں رگڑ کم کرتی ہے۔ کاروں کی کمپنی نسان نے جب اپنی کار کے انجن کے حصوں میں ہیرے کی فلم استعمال کی تو ان میں رگڑ 40 فیصد کم ہو گئی۔

پیئن کہتے ہیں کہ ’اس کے برعکس کانوں سے نکالے گئے ہیروں میں اس طرح کے استعمال کے لیے وہ صفائی نہیں ہے۔‘

جب بھی کانوں سے نکالے جانے والے ہیرے کی صنعت پر کوئی بُرا وقت آیا تو اس نے فوراً ہی اشتہارات کے ذریعے اپنا بچاؤ یقینی بنایا۔ یقیناً ہم میں سے کئی لوگ صرف ہیروں کے اس لیے مداح ہوں گے کہ سنہ 1947 میں ڈی بیئرز نے بہت ہی چالاکی سے اشتہارات کے ذریعے ان کی شاندار مشہوری کی تھی۔

کمپنی نے اس وقت رائج کلچر ہمیشہ کے لیے ہی بدل دیا جب اس نے کہا کہ ’ایک ہیرا ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، اور ہیرے کی انگوٹھی منگنی کا ایک ضروری جزو ہے۔‘

ہیرے

یہ خیال بھی کہ ہیرے بہت نایاب ہوتے ہیں ایک بہت سوچ سمجھ کر بنایا ہوا فریب ہے۔ حقیقت میں ہیروں کی بہت زیادہ سپلائی کی وجہ سے حال ہی میں ڈی بیئرز کو کہنا پڑا وہ اپنے کانٹریٹ شدہ خریداروں میں کمی لا رہا ہے۔ کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدوں پر اس سال ان کی مدت پوری ہونے کے بعد از سرِ نو نظر ثانی کرے گی۔

لیکن لیبارٹری میں بننے والے ہیروں کی مقبولیت بڑھنے کے ساتھ کانوں سے نکلنے والے ہیروں کی ری برانڈنگ کی کوششیں بار آور نہیں ہو رہیں۔

ان کی صنعت کو دنیا بھر میں سپلائی میں اضافے اور طلب میں کمی کا سامنا ہے خصوصاً چین میں جو کہ دنیا کی ہیروں کی دوسری بڑی منڈی ہے۔ وہاں سنہ 2019 میں ہیروں کی فروخت پانچ فیصد کم رہی ہے۔ لندن میں ہونے والی ایک میٹنگ میں برطانیہ کی نیشنل ایسوسی ایشن آف جیولرز کے چیف ایگزیکٹیو سائمن فوریسٹر نے بتایا کہ ’ہم صارفین کے عدم اعتماد کی وجہ سے بطور ایک صنعت مشکلات کا شکار ہیں۔‘

ڈی بیئرز نے بھی سنہ 2019 کے آخر میں کہا تھا کہ کم قیمتوں کی وجہ سے وہ بھی پیداوار میں 15 فیصد کمی کر رہے ہیں۔

نیوہاس کہتی ہیں کہ انھوں نے صارفین کے ماحولیاتی پائیداری اور سوشل ویلفیئر کے ایجنڈے میں اضافے کی وجہ سے اینٹورپ کے ماحول میں تبدیلی دیکھی ہے۔ ’جب میں جوان تھی تو وہ (اینٹورپ) بہت زیادہ متحرک تھا۔ سب کے لیے کاروبار پھیل رہا تھا۔ اب میں جب واپس جاتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ وہاں ماحول دوسرا ہے۔۔۔ اب وہاں پہلے کی نسبت کم پیسہ ہے۔‘

نیوہاس کا اپنے روایتی خاندانی کاروبار سے ہٹ کر لیبارٹری میں ہیرے بنانے کے زیادہ ہائی ٹیک کاروبار کی طرف جانا ہی اس تبدیلی کی ایک بڑی علامت ہے۔ میگھن مارکل جیسے گاہکوں کے ساتھ ان کا لیبارٹری میں ہیرے بنانے کا کاروبار چمک رہا ہے۔

نیوہاس کہتی ہیں کہ زیورات میں ہیروں کی اصلی قدر، چاہے وہ کانوں سے نکالے گئے ہوں یا لیبارٹری میں بنائے گئے ہوں، قیمتی یا نایاب ہونا نہیں ہوتی۔ ’یہ زیادہ جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔‘ انھوں نے اپنی گردن میں پہنے ہوئے سبز ہار کو انگلیوں سے سہلاتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلا زیور تھا جو میں نے اپنے لیے بنایا تھا۔‘

یہی وجہ ہے کہ جب تک ہیرے اپنی جذباتی اہمیت قائم رکھتے ہیں، جوہری انھیں بیچتے رہیں گے، چاہے وہ لیبارٹری میں بنائے گئے ہوں یا کانوں سے نکالیں گئے ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *